صفحات

Tuesday, September 3, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 14 --- 2 SEPTEMBER 2024 --- 27 SAFAR 1446H

    بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

013  دَرس--02 ستمبر 2024 | بروز: پیر  27 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 





مراقبہ لطیفہ خفی
اور تجلیات صفات سلبیہ کا فیض
     اس کی نیت یوں کی جاتی ہے کہ یا الہی تجلیات صفات سلبیہ کا وہ فیض جو آپ نے آنحضرت سانٹا پیلم کے لطیفہ خفی سے حضرت عیسی علیہ اسلام کے لطیفہ خفی میں القاء فرمایا تھا پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ نفی میں بھی القا فرما دے۔“
تو اس جگہ پر سالک کو صفات سلبیہ کا فیض حاصل ہوتا ہے ۔ صفات سلبیہ کا فیض حاصل ہونے کی علامات یہ ہے کہ بندے کے اندر سے بشری صفات سلب ہو جاتی ہیں اور اس میں ملکوتی صفات آجاتی ہیں۔ اس مقام پر ہمارے بعض بڑوں نے کہا: 

يُطْعِمُنِى وَيَسْقِینی ، 
رب ہی مجھے کھلاتا ہے ، رب ہی مجھے پلاتا ہے،

 اس لیے کہ ان کی بھوک ہی ختم ہو جاتی ہے۔ایک بزرگ کا ایک پنڈت کے ساتھ مناظرہ تھا۔اس پنڈت نے تو کھانے کا مقابلہ کرنے کے لیے کہا تھا ، مگر حضرت ہمیں یہ نے فرمایا تھا کہ کھانے کا اگر مقابلہ کرنا ہے تو کسی سانڈ سے کرو، چالیس دن کے لیے تمہیں اور مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا جائے پھر چالیس دن کے بعد دروازہ کھولا جائے ۔بزرگ یہ کو یقین تھا کہ میں چالیس دن بغیر کھائے پیے رہ سکتا ہوں ۔ احادیث مبارکہ میں وارد ہے کہ قرب قیامت میں ایک وقت آئے گا کہ ایمان والے سبحان اللہ پڑھیں گے اور ان کی بھوک ختم ہو جائے گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو یہ نعمت عطا فرمادیں گے ۔ ان کے اندر سے بشریت کے تقاضے نکال لیے جائیں گے۔ اس لیے ہمارے اکثر مشائخ کا کھانا پینا بالکل کم ہو جا تا تھا، ساری ساری راد عبادت کرتے ہیں، مگر تھکنے کا نام نہیں لیتے تھے ۔ ان میں روحانی قوت آجاتی ہے۔
حضرت خواجہ سراج الدینؒ  حج پر تشریف لائے ، تیرہ دن مکہ مکرمہ میں رہے، نہ کھایا، نہ پیار نہ پیشاب، نہ پاخانہ ۔ پوچھنے پر فرمایا کہ میں کالا کتا اس پاک دیس کو کیسے ناپاک کروں؟ تیرہ دن کے بعد حج کر کے واپس چلے گئے ۔ اللہ اکبر۔اللہ رب العزت فرشتوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ دیکھو ! یہ ہیں تو بشر لیکن جب اپنے نفس کو ماریں گے اور اپنی اصلاح کریں گے تو میری صفات سے اس طرح منور ہو جا ئیں گے کہ فرشتو ! تم سے بھی یہ بازی لے جائیں گے۔
 بقول شاعر فرشتوں کو دکھانا تھا ، بشر ایسے بھی ہوتے ہیں! ۔۔۔اس لطیفہ خفی کے سبق پر انسان میں یہ صفات آجاتی ہیں، پھر کھانے پینے کی بھی
اس کو محتاجی نہیں رہتی ۔ چنانچہ ہمارے بعض بزرگوں کے حالات زندگی میں ہے کہ وہ فرماتے تھے : ” میں تو سنت سمجھ کے کھاتا ہوں، ورنہ مجھے کھانے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔ “  اصل میں ان میں یہ ملکوتی صفات آجاتی تھیں ۔ ایسے موقع پر سالک کو سلبی تو جہات ملتی ہیں لہذا وہ کسی کمال کا انتساب اپنی ذات پہ نہیں کرتا ۔ امام ربانی مجد والف ثانی ہییے نے لکھا ہے کہ سالک اپنے آپ کو فاسق ، فاجر اور کافر فرنگ سے بھی بدتر سمجھے ۔ وہ بات اس سبق یہ آکر سمجھ میں آتی ہے۔

مشاربات کے اسباق
کہ جب سالک کوئی کمال اپنی طرف منسوب ہی نہیں کرنا ، سب اپنے سے اچھے نظر آنے ہیں، سب بہتر لگتے ہیں۔ حضرت مجددالف ثانی میں یہ نے یہاں تک فرمایا کہ سالک اپنے آپ کو کا فر فرنگ سے بھی بدتر سمجھے ۔ پڑھنے والے کو یہ بات عجیب لگتی ہے۔ لیکن اس سبق کو کرنے کے بعد اس میں کوئی عجب چیز نظر نہیں آتی اس لیے کہ کمال سب کمال والے کا ہے ۔

No comments:

Post a Comment