صفحات

Monday, November 4, 2024

35 واں مراقبہ لاتعین - جمعہ5 اکتوبر 2024- 021 ربیع الثانی 1446ھھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

39س--05کتوبر 2024 | بروز: اتوار021  ربیع الثانی  1446ھ |معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 




مراقبہ لاتعین

(35واں سبق)

نیت مراقبہ لا تعین

 فیض می آید از ذات مطلق بیچون کہ موجود است بوجود خارجی و منزہ است از جمیع تعینات بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات مطلق  باری تعالیٰ  کی طرف سے  جووجود خارجی کے ساتھ موجود اور تمام  تعینات سے مبراء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

وضاحت:

یہ مراقبہ لاتعین ہے۔ لاتعین مرتبہ ذات بحت(خالص) سے عبارت ہے۔لا تعین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ذات مطلق سے فیض حاصل کیا جاتا ہے جو تعینات سے مبرا اور پاک ہے یہ مقام بھی حضور سرور کائنات ﷺ سے مخصوص ہے۔ اور یہ سیرصفات ثمانیہ، ان کے وصول اور ذات بحت میں ہوتی ہے۔

لعجز عن دَرَك الذاتِ ادْرَاكَ  وَالْقَوْلُ بِدَرُكَ الذَّاتِ إِشْرَاك

ذات حق کے ادراک سے عاجز ہونا ہی ادراک ہے اور ادراک ذات حق کا دعوی شرک ہے۔

یہاں سیر قدمی کی گنجائش نہیں اگر کسی پر فضل الہی ہو جائے تو سیر نظری میسر ہو گی یہ مقام بھی حضور کے خصائص میں سے ہے

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرب الٰہی کے بعض لمحات ایسے بھی گزرتے تھے کہ آپ بجزذات حق کے کسی کو نہ پہچانتے تھے۔ چنانچہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ اس وقت خاص معیت اور قرب کی تجلیات میں محو تھے، غلبہ حضور مع الحق کہ یہ عالم تھا کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو پہچان نہ سکے اور دریافت فرمایا کہ من انت؟ تو کون ہے؟ عرض کیا انا عائشہ میں عائشہ ہوں۔ پھر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ پہچانا لہٰذا پھر دریافت کیا من عائشہ؟ عائشہ کون؟ عرض کیا بنت ابی بکر ابوبکر کی بیٹی پھر بھی آپ کو اس حالت میں افاقہ نہ ہوا اور دریافت فرمایا من ابوبکر؟ ابوبکر کون ہیں؟ عرض کیا ابن ابی قحافہ ابو قحافہ کے بیٹے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا من ابو قحافہ؟ ابو قحافہ کون؟ تب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر دہشت اور خوف کا غلبہ ہوا اور چپکے سے واپس ہوگئیں۔ پھر جب آپ کو اس حالت سے افاقہ ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے سب ماجرا کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

لی مع اللہ وقت لا یسعنی فیہ ملک مقرب ولا نبی مرسل۔

 لِي مَعَ اللَّهِ وَقْتٌ لا يَسَعُ فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ ، وَلا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ 

عجلونی، کشف الخفاء، 2 : 226

’’(اے عائشہ!) مجھ پر اللہ کے قرب و معیت میں کبھی کبھی ایسا خاص وقت آتا ہے کہ اس میں نہ تو مجھ تک کسی نبی مرسل کی رسائی ہو سکتی ہے اور نہ کسی مقرب فرشتے کی۔‘‘


لى مع الله وقت لا يسعنى فيه ملك مقرب ولا نبى مرسل (اللہ تعالی کے ساتھ میرا ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی فرشتہ  مقرب اورنبی مرسل کودخل نہیں اسی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کے طفیل بعض ۤپ کے امتیوں کو بھی اس خوان نعمت سے الش عطا ہوا ہے

اگر پادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ  سبلت مکن

 ترجمہ: اگر بڑھیا کے در پر آئے سلطان تو اے خواجہ نہ ہو ہرگز پریشان

اس سے حضور ﷺ کی عظمت نمایا ں ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺکے نمک خوار اور الش خوار(بچا ہوا کھانا) بھی اس دولت سےمشرف ہوتے ہیں

یہ وہ مقام ہے جو بے نام و نشان اور بے وہم و گمان ہے ۔ اس مقام میں صرف ذات مطلق کی خاص تجلی جلوہ گر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ مقام ذات بحت ہی کے لیے مختص ہے اور امت محمدیﷺ کے اولیائے کاملین کو اتباع نبویﷺ کے باعث یہاں سیر نظری نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ سیر قدمی روحانی کی ممانعت ہے اس لیے سیر نظری روحانی کی اجازت ہے۔ چونکہ ذات جل شانہ کی کوئی انتہا نہیں اور بیچاری نظر محدود ہونے کے سبب حیران و سرگرداں ہے ۔ یہ مقام خاص حضور سید الکونین ﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔

اس مقام میں اس طرح مراقبہ کرتے ہیں کہ اس ذات سے فیض آ تا ہے ۔ جوتعینات سے مبرا ومنزہ ہے۔ پیرومرشد کے واسطے سے میری ہیئت وحدانی پرفیض آ رہا ہے ۔ سالک کو اس مقام سے جوفیض حاصل ہوتا ہے ۔ وہ فہم وفراست سے بالاتر ہے ۔ جب سالک کے لطائف سبعہ کا تزکیہ ہو جائے اور اس کے جسم نے روح کی مماثلت اختیار کر لی ہو اور ایک وجود سے مشرف ہو گیا ہوتو جناب رسول اللہﷺ کی کامل اتباع اور حضرت پیرومرشد کی توجہات بابرکات کے باعث ایک حد تک فیض لاتعین کے شرف سے مشرف ہوتا ہے ۔ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقام لاتعین وہ مقام محبت ہے جس میں اللہ تعالی صرف اپنی ذات سے محبت کرتا ہے ۔ اس مقام کے اعتبار سے وہ: إن الله لغنى، عن العالمين۔ ترجمہ یعنی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے غنی ہے۔

یہی کبریائی اور استغنا کا منشاء و مدعا ہے ۔اس کمال بے نیازی سے تمام مقر بین بارگاہ ذو الجلال میں ہمہ وقت لرزاں

 وتر ساں رہتے ہیں ۔ سب درگاہ جلالت میں فضل و کرم کی امید پر سر تعلیم خم کیسے ہوئے ہیں ۔ بلکہ محبوب خدا ﷺ بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں آپ کا بندہ ہوں آپ کے بندہ اور بندی کا بیٹا ہوں اور میری جان آپ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اس طرح ذات لاتعین سے کسب فیض کر کے سالک اپنے آپ کو ان انوارات و تجلیات کے پرتو کی وجہ سے کائنات عالم میں لاتعین محسوس کرتا ہے۔

دادیم ترا از در مقصود نشانے : گرما نرسیدیم شاید تو مرسی

آپ کو ہم نے در مقصود کا کچھ پتہ دیدیا ہے۔ اگر ہم نہ پہنچ سکیں شاید آپ پہنچ جائیں

  اللهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ وَحُبِّ مِنْ يُحْيِكَ وَحُبِّ عَمِلَ  تُقَرِّبُ إِلى حُبِّکَ يَا ارحم الراحمين

 اے اللہ ہمیں اپنی محبت عنایت فرما اور  اُن لوگوں کی محبت ہم کو عنایت فرما جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت ہم کو عنایت فرما جو کہ تیری محبت کا ذریعہ بنے اپنی رحمت سے یا ارحم الراحمین۔

میرے مالک و مرشد کا عطاء فرمودہ ذکر

 *اِنِّیْ اُحِبِّکَ

 حُبًّا شَدِیْدًا

یَاحَبِیْبِیْ 

یَارَبِّیْ

خاص دعا كرني هوتو     يا اللہ     ورنه 

یَارَبِّیْ





No comments:

Post a Comment