صفحات

Friday, September 27, 2024

26 واں مراقبہ حقیقتِ کعبہ -جمعہ 27 ستمبر 2024- 22 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

      

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

28  دَرس--27ستمبر 2024 | بروز: جمعہ 22 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


درسِ تصوّف 






مراقبہ حقیقتِ کعبہ
(26واں سبق)
نیت مراقبہ حقیقت کعبہ ربانی
 فیض می آید از ذات بیچون کہ مسجود جمیع ممکنات است و منشاء حقیقت کعبہ ربانی است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو   تمام ممکنات کی مسجود اور حقیقت کعبہ ربانی کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح
یہ مقام عظمت و کبریائی کا مقام ہے۔ اس جگہ سالک بیبت و جلال کے دریا میں ڈوب جاتا ہے۔ اور جب فنا و بقاء حاصل ہوتی ہے تو وہ ممکنات کی توجہ اپنی طرف دیکھتا ہے۔

حقیقت کعبہ حق سبحانہ تعالی کی عظمت و کبریائی کے ظہور کو کہتے ہیں ۔ جو درحقیقت مسجودلہ، جميع الممکنات (عالم آثار یعنی دنیا میں جتنے روح موجود ہیں اصطلاح تصوف میں انہیں ممکن کہا جاتا ہے اس کی جمع ممکنات ہے)ہے اس مقام میں سالک کوعظمت و کبریائی کی تجلی شہود ہوتی ہے ۔ جس کا تعلق ذات مجردہ سے ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ دریائے ہیبت و جلال خداوندی میں غرق ہو جا تا ہے ۔ اس مقام میں حقائق الہیہ کی نسبت عالی سالک کے ادراک میں آ جاتی ہے ۔ جو کمالات ثلاثہ ( کمالات نبوت، رسالت ، اولوالعزم انبیاء علیھم السلام ) کے مقابلہ میں لطیف تر اور بہت ہی بے رنگ ہے جب کمالات ثلاثہ میں سالک کو فنا و بقاء حاصل ہوتی ہے ۔ اور ان مقامات کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتا ہے ۔ تو اس کا اخلاق حمیدہ ہو جا تا ہے اور سالک کے وجدان میں ایک قسم کی ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کے باعث مقامات فوقانی کا بھی اسے ادراک ہو جا تا ہے ۔ مرتبہ کمالات اولو العزم علیھم السلام کے بعد سالک کو حقیقت کعبہ کی سیر نصیب ہوتی ہے ۔ سالک کو جب فناء و بقا حاصل ہوتی ہے ۔ تو وہ سمجھتا ہے کہ تمام مخلوق میری ہی عبادت کر رہی ہے ۔ جیسے اگر کسی بادشاہ کے پاس کوئی خادم کھڑا ہوا اور جو بھی در بارشاہی میں آئے اور بادشاہ کو سلام کرے تو خادم کو ایسا معلوم ہوگا کہ سب آنے جانے والے اسی کو سلام کر رہے ہیں۔ اس مقام میں سالک کا بھی یہی حال ہوتا ہے ۔ کہ تمام مخلوق اس کی عبادت میں مشغول ہے ۔ حالانکہ وہ عبادت ذات تبارک و تعالی کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ سلام بادشاہ کے لیے ہوتا ہے ۔ سالک کواللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ممکنات کی توجہ اپنی طرف نہ سمجھے ورنہ سخت گمراہی ہو گی ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسماء وصفات اور اعتبارات کو بھی باوجود کمال محرم راز ہونے کے اس شان سے متصف ہونے کا دخل نہیں ۔

اس مقام میں سالک پر دائمی ذاتی تجلیات ہوتی ہیں ۔ جس سے اسکی نسبت باطنی میں بے حد ترقی ہوتی ہے ۔ حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں کہ کاملین کو حضور پر نو ﷺ کے طفیل اپنی عظمت و کبریائی سے روشناس کر کے بارگاہ قدس کا محرم بنایا جا تا ہے ۔ جس کے باعث ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ پیش آتا ہے۔ جوانبیاءعلیھم السلام کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ خانہ کعبہ جو بظاہر ہمارا قبلہ اور مسجودلہ ہے۔ یہ اسی حقیقت کعبہ کا صوری ظلی مظہر ہے ظاہر ہے کہ صورت کو حقیقت کے ساتھ اور ظل کو وصل کے ساتھ ایک نسبت ہوتی ہے ۔لہذا جو چیز ہمارے لیے قبلہ حقیقی اور مسجودلہ ہے وہ کعبہ صوری نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت ہے جو ذات بے چون و بے چگون ہے اور اس مقام کعبہ سے مناسبت اور تعلق رکھتی ہے۔ اس مقام میں براہ راست ذات الہی سے فیض حاصل ہوتے ہیں لیکن اس بلند و بالا مقام کا حصول پیر ومرشد کی توجہ کے بغیر ناممکن ہے ۔




Wednesday, September 25, 2024

25 واں مراقبہ انبیاء اولوالعزم - جمعرات 26 ستمبر 2024- 21 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

     

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

27  دَرس--26ستمبر 2024 | بروز: جمعرات 21 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


درسِ تصوّف 


سورۃ الاحقاف ، آیت35، پارہ26

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ‎﴿٣٥﴾‏

تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں گے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ

 اگر چہ تمام انبیاء اپنے مقام پر عزم و حوصلہ کے مالک تھے، تاہم جن انبیاء کو شریعت دی گئی ہے، انہیں اولو العزم انبیا ء کہتے ہیں۔ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ ہیں۔

Tuesday, September 24, 2024

24 واں مراقبہ کمالاتِ رسالت -بدھ 25 ستمبر 2024- 20 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

28  دَرس--25ستمبر 2024 | بروز: بدھ 20 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


درسِ تصوّف 


مراقبہ کمالاتِ رسالت 

(24واں سبق)


نیت مراقبہ کمالات رسالت
فیض می آید از ذات بیچون کہ منشاء کمالات رسالت است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  کمالات رسالت  کی منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح
نوٹ :ہیئت وحدانی (تمام لطائف اور جسم)والے مراقبات میں سالک حضور اخفی میں رکھے۔ یہ مقام انبیاء اور مرسلین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور تجلی دائمی کا درجہ دوم ہے۔ اس مقام پر سالک کو لطائف عشرہ ،تصفیہ نفس کے بعد مقامات فوقانی میں ایک ہئیت حاصل کرتے ہیں۔ جسے ہئیت معدنی کہتے ہیں۔ یہاں پر قرآن مجید کی تلاوت اور نماز کی کثرت سے ان کمالات اور دیگر حقائق میں ترقی ہوتی ہے۔  

سیر کمالات نبوت کے بعد اگر تائیدالہی یاوری کرتی رہے تو سا لک کو کمالات رسالت کی سیر نصیب ہوتی ہے ۔ یہ مقام کمالات نبوت کے مقابلہ میں اللہ تعالی سے زیادہ قریب ہے ۔ جس طرح نبوت اور رسالت میں فرق ہے اس طرح کمالات نبوت اور رسالت کے مراتب/مقامات میں بھی فرق ہے۔ رسالت کا مرتبہ درگاہ خداوندی میں نبوت کے مقام سے ایک قدم آگے ہے ۔ جیسے تمام انبیاء کرام علیھم السلام میں مرسلین کا درجہ بلند ہے ۔ اسی طرح دوسرے مقامات کے مقابلہ میں کمالات رسالت ایک مقام خاص ہے اور اس کا فیضان بھی تمام مقامات سے زیادہ ہے اور انوار و برکات بھی نہایت لطیف اور مصفی اور منزہ ہیں اس مقام میں اس ذات سے جو کمالات رسالت کا منشاء ہے بواسطہ حضرت پیر و مرشد سالک کی ہیئت وحدانی پرفیض آتا ہے ۔ سالک کے لطائف خمسہ عالم امر قلب کی صفائی روح کی تجلی تخلیہ سر اور فنا و بقا خفی اخفی کے بعد ایک خاص صورت اختیار کر لیتے ہیں اس مقام مقدسہ سے سلوک کے مقام کے اختتام تک فیض ہوتا ہے۔

ہیئت وحدانی کو یوں سمجھئے جیسے کوئی شخص معجون بنائے تو پہلے دواؤں کی صورت الگ الگ ہوتی ہے ۔ مگر جب معجون تیار ہو جا تا ہے ۔ تو اس کی لذت اور صورت و خواص اور ہی ہو جاتے ہیں اس طرح سالک کے لطائف خمسہ عالم امر اور لطائف عالم خلق ایک دوسری شکل وصورت اختیار کر کے عروج حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس مقام میں تمام بدن کو عروج ونزول اور جذب نصیب ہوتا ہے ۔اس کا معاملہ صرف فضل الہٰی پر منحصر ہے وہ ذات جسے چاہے عطا کر دے اور جس پر یہ نوازش ہوتی ہے اس پر کمالات نبوت سے زیادہ انوارات کی بارش ہوتی ہے ۔

ولایت صغری میں تجلیات ظلال اسماء وصفات کے ساتھ بعد عروج ولایت کبری میں تجلیات اسماء وصفات کے ساتھ یہ سیر وابستہ تھی جو ایمان شہودی کے مراتب ہیں ان مدارج سے بدرجہ کمال عروج ہونے پر معاملہ سیر سالک ذات بحت سے وابستہ ہوا جو ایمان حقیقی کام مرتبہ ہےجومثل خورشید خاور ہے۔ جو فلک نبوت پر طلوع ہوتا ہے ۔ جبکہ ایمان شہودی مثل بَدرِ کامل ہے جو آسمانِ ولایت پر چمکتا ہے، مقامِ کمالاتِ رسالت میں ذوق وشوق کے بجائے بے مزگی و بے آرامی اور حلاوت وصل کے بجائے ملال اور ناکامی سالک کے حصے میں آتی ہے ۔اس لیے جناب رسول اللہﷺ ہمیشہ فکرمنداورغمگین نظر آتے تھے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کان رسول اللہ ﷺ دائم الحزن و متواصل الفكر ترجمہ: رسول اللہﷺ ہمیشہ غمگین اور فکر مند رہتے تھے۔ اس پر دلیل ہے جب سالک مراقبہ کمالات رسالت سے فیض حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اپنے علم سے بہرہ ور فرما کر اپنا اور اپنے انبیاء ومرسلین علیہم السلام کا نائب بنا کرلوگوں کو ہدایت دینے والا اوراپنی عظمت سے واقف کرانے والا بناتا ہیں ۔


23 واں مراقبہ کمالات نبوت -منگل 24 ستمبر 2024- ۱۹ ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

26  دَرس--24ستمبر 2024 | بروز: منگل 19 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


درسِ تصوّف 




مراقبہ کمالاتِ نبوت
(23  واں سبق)
نیت مراقبہ کمالات نبوت
 فیض می آید از ذات بیچون کہ منشاء کمالات نبوت است بہ عنصر خاک من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو کمالات نبوت کی منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے    عنصر خاک  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح
یہ مراقبہ سیر اسم الباطن کا نقطہ عروج ہے۔ اور تجلی دائمی کا درجہ اول ہے۔ سالک اسماء و صفات سے گزر کر ذات میں سیر کرتا ہے۔ کمالات نبوت کا عنصر خاک پر اثر ہوتا ہے۔ یہاں حضوری بے جہت حاصل ہوتی ہے۔ بے قراری، بے تابی اور شوق سب رخصت ہو جاتے ہیں۔ یقین کامل راسخ ہوجاتا ہے۔ یہاں وصول ہے حصول نہیں ۔خوب یاد رہے کہ یہ مقام، مقام انبیاء ہے۔ انبیاء کی اتباع کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

مرتبہ کمالات نبوت وہ دولت کبری اور نعمت عظمی ہے کہ اس مقام کی ذرہ بھر سیر جمیع مقامات ولایت صغری و کبری و علیاء سے زیادہ بہتر اور اعلی ہے ۔ اس مقام عالیہ کی خصوصیات حضور بے جہت، یقین تمکین اور تسکین ہیں ۔ یہاں سابقہ کیفیات مثلا ذوق وشوق و بیتابی و شدت طلب زائل ہو جاتے ہیں ۔آیت کریمہ
لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘-وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ(سورۃ الانعام ، آیت103)
آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہی ہر باریک چیز کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔

کے مصداق اس مقام پر تمام علوم و معارف مفقود اور باطن کے تمام حالات بے شناخت ہوجاتے ہیں ۔
حقیقت ایمان واتباع شریعت محمدی ﷺ کمال وسعت نسبت باطن ، بے کیفی ، حیرت اور اپنی نسبت سے لاعلمی اس مقام کی خصوصیات میں یہاں وصول ہی وصول ہے حصول نہیں ۔ اس مقام میں تجلیات ذاتی بے پردہ اسماء و صفات وغیرہ سے سابقہ پڑتا ہے ۔ یہاں اس خیال سے مراقبہ کرتے ہیں کہ اس ذات بحت ( ذات بحت سے ذات حق تعالی کا تمام اسماء و صفات اور شیونات و اعتبارات سے مبراومنزہ ہونا مراد ہے ) سے جو کمالات نبوت کا منشاء ہے بواسطہ میرے حضرت پیر ومرشد میرے عنصر خاک پر مع عناصر ثلاثہ فیض آ تا ہے ۔ خاص طور پر یہ فیضان عنصر خاک ہی کو نصیب ہوا ہے ۔ لطائف خمسہ عالم امر و دیگر عناصر اسی خاک کی بدولت اس سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔اس سے عنصر خاک کے مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں وہ جس قدر پست واقع ہوا ہے ۔ اسی قدر اس کی قدرومنزلت اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک ارفع و اعلی ہے ۔ اور عنصر خاک کے سواکسی لطیفہ عالم امر یا کوئی ذاتی تجلی مقدر نہ ہوئی۔

ولایت سہ گانہ
سالک جب ولایت علیاء کے فیضان و انوار سے مشرف ہو کر مرتبہ کمال پر پہنچتا ہے تو بفضل الہٰی اس پر کمالات نبوت کا مقام کھلتا ہے جو نہایت ارفع واعلی مقام ہے ۔ اس مرتبہ کے ولی کو اعلی درجہ کے کمالات حاصل ہوتے ہیں جن کا پورے طور پر احاطہ وادراک کر نا ولایت صغری و کبری وعلیاء کے اولیاءاللہ کے لیے دشوار ہوتا ہے ۔ اس مرتبہ کی نسبت سے لاعلمی کی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل سالک کی نسبت ولایات سے تھی جہاں اس کو اسماء وصفات وشیونات میں فنا و بقا کا مرتبہ حاصل تھا۔ اور مرتبہ کمالات نبوت سے بالکل بے بہرہ تھا سا لک کی قوت ادراک ایسی بھی کہ نسبت مر تبہ ذات بحت ( ذات بحت سے ذات حق تعالی کا تمام اسماء و صفات اور شیونات و اعتبارات سے مبراومنزہ ہونا مراد ہے ) (وہ مرتبہ جس میں ذات کےساتھ کوئی اعتبار نہیں) کو سمجھ سکے ۔اس لیے یہاں کی نسبت کا ادراک اس کے لیے دشوار ہے ۔ کمالات نبوت کا مقام انبیاءعلیھم السلام کے لیے مخصوص ہے اس مقام کے معارف انبیاء کرام علیھم السلام کی شریعتیں ہیں یہ جانِ کائنات ﷺ کےتابعین کو کمال اتباع کی برکت سے بطور وراثت نصیب ہوتا ہے ۔ اس مقام پر شیخ کامل واکمل کی تو جہات اور طالب کی استعداد کے مطابق جلوہ حق تجلی فرماتا ہے۔ جو معاملہ یہاں پیش آتا ہے وہ مشاہدہ ولایات کے مقابلہ میں رؤیت کے مانند ہوا کرتا ہے ۔ اگر چہ وہ رؤیت نہیں ہوتی اس لیے کہ وعدہ دیدار تو آخرت ہی سے متعلق ہے۔
غرضیکہ اس مقام میں سید المرسلین جانِ کائنات ﷺ کی اتباع کے سبب اللہ تبارک و تعالی سے ایک خاص رابطہ پیدا ہو جا تا ہے ۔ البتہ جب اس مقام کی بلندی و بے رنگی کا پورا پورا کشف ہوتا ہے تو سالک کی حیرانی بڑھ جاتی ہے کہ اس سے پہلے بھی یہ مقام اس کی نظروں کے سامنے تھا اور اس قدرقریب ہونے کے باوجوداس کے نظر نہ آنے کی کیا وجہ تھی ۔ کہ اپنے مقصود کی تلاش میں بھٹکتے رہے ۔ اس مقام میں ترقی کے لیے قرآن مجید کی باادب با ترتیل تلاوت اور قیام وقرأت کی طویل ادائیگی اور مسنون اذکا رانتہائی مفید اور ترقی بخش ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ مراقبہ کمالات نبوت میں عنصر خاک پرفیض لیتے ہیں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خاص کی خاصیت انتہائی عجز و انکساری ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام اعتبارات وتعینات انسانی سے بالا تر مقام حاصل کرتا ہے ۔ ان خصائل کے حامل انبیاء کرام علیھم السلام ہیں بایں وجہ کمالات نبوت سے فیض حاصل کرایا جا تا ہے ۔ تا کہ سالک میں بھی انہیں خصائل کا پر تو ظاہر ہو۔




Sunday, September 22, 2024

معراج العاشقین - 24 واں درس تصوف اتوار 22 ستمبر24/ 17 ربیع الاوّل 1446ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

25  دَرس--22ستمبر 2024 | بروز: اتوار  17 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 




معراج العاشقین

(تیسرا)









Saturday, September 21, 2024

معراج العاشقین - 23 واں درس تصوف جمعہ 21 ستمبر24/ 15 ربیع الاوّل 1446ھجری---DARS E TASSWUF CLASS 23


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

23  دَرس--21ستمبر 2024 | بروز: جمعہ  15 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مقامات
شریعت۔ واجب الوجود تن جسمانی۔ شریعت کشتی ہے
طریقت ۔ ممکن الوجود مثالی تن ۔ طریقت ایک سمندر ہے موجیں مار رہا ہے۔ کیونکہ کشتی چلانے کے لئے سمندر چاہئیے ۔ تاکہ                                 شریعت کی کشتی میں بیٹھ کر عالم ارواح کی سیر کرسکے ۔
حقیقت ۔۔ممتنع الوجود یعنی روح مطلق (جو شکل و صورت سے مبرّا ہے)
معرفت۔۔عارف الوجود
ان رموز پر سیر حاصل گفتگو سماعت کیجئے اور اپنی روحوں کو مزید منور فرمائیے بتوجہ مرشد کریم۔
دعا گو
طہ امینی


معراج العاشقین

(دوسرا)


Sunday, September 15, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 22--- 15 SEPTEMBER 2024 --- 10 RABI UL AWAL 1446H

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

22  دَرس--15ستمبر 2024 | بروز: ہفتہ  10 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 


مراقبہ اسمِ باطن

(22  واں سبق)

 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ

نیت مراقبہ اسم الباطن

 فیض می آید از ذات بیچون کہ مسمی بہ اسم باطن است کہ منشاء ولایت علیا است و ولایت ملاءالاعلی است بمفہوم این آیۃ کریمہ.

 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ. بعناصر ثلاثہ من کہ آب وباد ونار است بواسطہ پیران کباررحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو اسم باطن کے ساتھ موسوم ہے اور منشا ولایت علیا ہے جو ولایت ملا الاعلی  ہے اور اس آیہ کریمہ کے مطابق(وہی اول  وہی آخر  ظاہر و باطن ہے اور وہی ہر شے کو جاننے والا ہے )عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے  میرے  تین عناصر پانی ہوا اور آگ میں فیض  آتا ہے۔

گذشتہ نشستوں کا خلاصہ پیش خدمیت ہے کہ جن میں ہم سے یہ جانا اور مشق کی سعادتوں سے ہمکنار ہوئے ، اللہ ہمیں اپنے محبوبین کے وسیلے سے استقامت عطاء فرمائے۔ آمین۔

خلاصہ بحوالہ  (راحت القلوب فوائد الفود، شمس العارفین،عمدۃ السلوک) مراقبہ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جس کے تحت بندے کے دِل کی نگرانی ہوتی رہتی ہے۔ ہر مراقبے کا مدعا اور منشا یہ ہوتا ہے کہ غیر  ﷲ دل میں نہ آنے پائے۔ مراقبے کے باعث نفسانی اور شیطانی خطرات سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔ مراقبہ وہ ذریعہ خاص ہے جو طالب کو مولا تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے مراقبہ کو مشاہدہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مراقبہ دل کی نگہبانی کو کہتے ہیں۔ مراقبہ ایک نگہبان ہے جو غیر حق رقیب مثلاً خطراتِ نفسانی، خطراتِ شیطانی، امراضِ پریشانی اور ماسویٰ ﷲ کسی چیز کو دل میں نہیں آنے دیتا۔

مراقبہ میں انسان پرروحانی اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ صاحب ِ مراقبہ ﷲ کے نور کا مشاہدہ کرتا ہے‘ دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک لمحہ بھی تجلیاتِ ذات کے مشاہدہ اور دیدار سے نہیں رکتا۔ خواہ ظاہر میں لوگوں سے بات چیت ہی کیوں نہ کرتا ہو اور دنیاوی زندگی میں مصروف کیوں نہ رہتا ہو۔ اسے باطن میں ہمیشہ دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔

حضرت سلطان باھو  ؒ  فرماتے ہیں:

 مراقبہ خدا کی محبت کا نام ہے اور یہ مقام ’’حی ّ و قیوم لازوال‘‘ میں استغراق کا راہنما ہے اس کے ذریعہ مقامِ ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا‘‘ (موت سے قبل مر جانا) حاصل ہوتا ہے۔ مراقبہ سے آدمی صاحب ِ مشاہدہ حضورِ حال احوال اور سِرّ اسرار کی سیر سے واقف ہوتا ہے اور مجلس ِ محمد رسول اﷲ ﷺکی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

مراقبہ کا طریقہ 

مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے ذکر و فکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ ذکر قلبی اور کسی اسماء الحسنیٰ کا بھی ہو سکتا ہے اور کسی آیت کا بھی اور اسم ِ اللہ ذات کا تصور بھی ہو سکتا ہے۔ ذکر‘ فکر اور تصور اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ پھر مراقب کو آنکھیں بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ ﷲ علیہ مزید فرماتے ہیں اس سلسلہ میں فرماتے ہیں(عین الفقر):

مراقبہ کئی طرح کا ہوتا ہے مثلاً مراقبہ ذکرو فکر، مراقبہ حضور ، مراقبہ فنا فی الشیخ، مراقبہ فنا فی ﷲ،مراقبہ فنا فی ھو، مراقبہ فنا فی فقر، مراقبہ فنا فی محمد رسول ﷲ ﷺ، مراقبہ فنا فی نفس ،مراقبہ فنا فی نودنہ (99 اسماء الحسنیٰ) یہاں آپ کو حضرت بابا فریدالدین گنج شکر  ؒ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں:

ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ ایک پہاڑ پر پہنچے وہاں غیب سے آواز آئی کہ اے محمد مسعود محبّ بننا چاہتا ہے یا محبوب؟ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کِیا یا اِلٰہی محبّ کا مرتبہ زیادہ ہے یا محبوب کا؟ حکم ہُوا محبّ کا محبوب جب محبّ میں فنا پاتا ہے تو باقی محبوب ہی رہ جاتا ہے یہ درجہ کمال ہے اس واسطے میں آپ کی توفیق سے اسی درجہ میں آپ کے صراطِ مستقیم پر قدم رکھنا چاہتا ہوں، حکم ہُوا کہ اس راستہ میں اِمتحانات شدید ہوتے ہیں چانچہ اسی بارے آیت سپارہ دوم میں آ چکی ہے،  

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(پ 2 سورۃ البقرہ آیت 155)

اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سُنا ان صبر والوں کوحضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ نے عرض کی کہ بَشِّرِ الصّابِرین الزَّاھِدِین    کی خوشخبری بھی آپ ہی عطا کریں گے کیونکہ آپ کی توفیق سے صراطِ مسقیم میں قدم رکھ دیا ہے اس وقت اس پتھر کو جس پر آپ رحمتہ اللّہ علیہ کھڑے تھے حکم ہُوا کہ اس کا چمڑا گوشت سے اُتار لو چنانچہ اس پتھر کی سل نے آگے پیچھے سے چِمٹ کر تمام گوشت سے پوست اُتار لیا پِھر ہاتف سے آواز آئی اے محمد مسعود تم کو کہا ہے کہ اس راستہ میں آزمائشیں بہت ہیں اب بھی ہٹ جاؤ عرض کِیا اب تو آپ کی توفیق سے اندھوں کی مثل تھوڑا سا سوراخ ہونے پر لاٹھی کے وسیلہ کے بغیر رواں ہو گیا ہوں اور آگے ہی چلوں گا پِھر حکم ہُوا کہ اس کے گوشت میں کنکر مارو چنانچہ آپ رحمتہ اللّہ علیہ اس پر بھی صابر و شاکر رہے پِھر جانوروں کو حکم ہُوا کہ اس کے بدن کا گوشت نوچ لو چنانچہ انہوں نے سب گوشت نوچ لیا اِس پر بھی اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ رٰ جِعُونَ کے حکم سے مطمئن رہے اور اس پر کمال رحمت اور عنایت سے فردیت کے مقام اور نودنہ نام جو مشہور ہیں عطا ہونے کی خوشخبری حاصل ہوئی اور بطورِ عجز کے اس شعر کو بابا جی فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ نے اپنی آپ بیتی میں بیان کِیا ہے

؎فریدا تن سُکّا پنجر تِھیا تلیاں کُھونڈیں کاگ اجے سُ ربّ نہ بَو ہڑیو دیکھ بندّے کے بھاگ

اے فرید رحمتہ اللہ علیہ جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا ہاتھ پاؤں کے تلوؤں سے کوّا ماس نوچ رہا ہے اتنی جدوجہد اور دنیاوی لذّتوں سے دوری کے باوجود بھی اگر ربّ ساتھ نہ دے تو پھر بندّے کی قسمت ہی قصوروار ٹھہرے گی۔

(شرح دیوان فرید گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ المعروف فیضان الفرید رحمتہ اللّہ علیہ۔صفحہ 548-549)

تو میں بات عرض کررہا تھا کہ مراقبہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے حضرت سلطان باھو  ؒ فرماتے ہیں؛ ’’باطنی تحقیقات کی رُو سے وہ مراقبہ کہ جس میں باطل شیطانی‘ خطراتِ نفسانی اور حادثاتِ دنیا فانی سے پیدا ہونے والے وہمات نہ پائے جاتے ہوں اور ذکر و فکر و کلماتِ تسبیح کے ذریعے بالکل صحیح ہو، یہ ہے کہ 

جب طالبِ ﷲ باطن کی طرف متوجہ ہو کر تصورِ اسم ِاللہ ذات سے مراقبہ شروع کرے تو اُسے چاہیے کہ 

پہلے تین بار ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْم‘‘ 

تین بار درود شریف، 

تین بار آیۃ الکرسی، 

تین بار ’’سَلٰمٌ قف  قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِیْم‘‘

 تین بار چاروں قل شریف،

 تین بار سورۃ فاتحہ،

 تین بار استغفار، 

تین بار کلمہ ٔ تمجید اور

 تین بار کلمہ ٔ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا  ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھ لے 

اور پھر اپنی نظر اسم ِ اللہ  ذات اور اسم محمدﷺپر ٹکا دے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے مجلس انبیا و اولیا ﷲ اور معرفت اِلَّا اللّٰہ کی نیت کر لے تو مرشد کامل بے شک اپنی رفاقت میں اُسے حضورِ مجلس میں پہنچا دے گا۔ (مجالسۃ النبی خورد ) 




تشریح

اس مراقبہ میں ولایت کبری اور اسم باطن کی سیر شروع ہوتی ہے۔ اس کو ولایت علیا اور ولایت ملا ئکہ علیہم السلام بھی کہتے ہیں۔ اس مقام میں سوائے عنصرخاک کے باقی عناصریعنی پانی، ہوا اور آگ مورد فیض ہوکرتکمیل پاتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ ولایت صغری اور ولایت کبری کی سیراسم الظاھر میں تھی جبکہ ولایت علیا کی سیر اسم الباطن میں ہے۔ ان میں فرق یہ ہے کہ سیر اسم الظاھر میں تجلیات اسمائی وصفاتی ہیں۔ جبکہ سیراسم الباطن میں اگر چہ تجلیات اسماء و صفات ہی ہیں لیکن ان کے ساتھ تجلی ذات بھی پردہ ہائے اسماء و صفات میں موجود ہوتی ہے۔ اس مقام میں سالک کے اجزائے جسم پاک وصاف ہوجاتے ہیں، عناصر ثلاثہ کے رذائل صفات حمید ہ میں بدل کر منور ہوجاتے ہیں تو سالک کو پرواز کے دو پر عنایت ہوتے ہیں ۔ ایک اسم الظاھرکاجو ولایت کبری کی انتہا ہے اور دوسرا اسم الباطن کا جو ولایت علیا کی انتہا ہے۔ سالک کو اس مرتبہ میں تجلیات اسماء وصفات الہی سے گزر کر تجلیات ذات اقدس (جوحقیقی مقصود ہے) کی سیر کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مقام میں ذکر تہلیل، نوافل، قیام اور قرآت کی طوالت ترقی بخش ہوتے ہیں۔ اور رخصت شرعی کا اختیار کرنا بھی غیر مستحسن ہے۔ چونکہ یہ ولایت ملائکہ کی ہے لہذا ملکیت کے ساتھ جس قدر زیادہ مناسبت ہوگی ، اتنی جلد ترقی میسر ہوگی۔ اس ولایت سے سالک کے تمام بدن میں وسعت و فراخی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور لطیف احوال سارے جسم پر وارد ہوتے ہیں۔ خصائل رذیلہ کو دفع کرنا اور خالق عناصر کی طرف متوجہ رہ کر حصول فیض کرنا اس مراقبہ کا، ما حاصل ہے۔

ولایت صفری اور ولایت کبری اسم الظاہر کے سیر وسلوک میں تھے۔ اس کے بعد اسم الباطن میں ولایت علیاء کی سیر شروع ہوتی ہے۔ اس کا نام ولایت ملائکہ کرام علیہم السلام بھی ہے اس مقام میں عنصر خاک کے علاوہ عناصرثلا ثہ آگ ، ہوا اور پانی پر فیض کا ورود ہوتا ہے ۔ جاننا چاہیے کہ سیر اسم الظاہر تجلیات اسمائی وصفاتی تھے اور سیر اسم الباطن میں تجلیات اسماء وصفات کے ساتھ تجلی ذات بھی پردہ ہائے اسماء وصفات میں مخفی ہوتی ہے۔ ان ولایتوں، ولایت صغری ، ولایت کبری اور ولایت علیا یا ولایت ملائکہ کی مثال ظاہر و باطن جیسی ہے ۔ اگر ولایت صغری پوست ہے تو ولایت کبری مغز ہے ۔ اگر ولایت کبری پوست ہے تو ولایت علیا مغز ہے ۔اسی دائرہ میں عناصر ثلاثہ کی فنا و بقا ہوتی ہے۔اس مقام میں سالک ایسی تجلیات میں سیر کرتا ہے جواسماء وصفات وذات سے ملی ہوئی ہیں۔

سالک کے عالم امر کے لطائف ( قلب، روح ، سر،خفی ، اخفی ) متقی ہو جائیں اور عالم خلق سے نفس کا تزکیہ ہو جائے اور عناصر ثلاثہ (آگ، ہوا، پانی ) کے رذائل اوصاف حمیدہ میں تبدیل ہو کر منور ہو جائیں اور عنصر خاک کی پاکیزگی و صفائی ہو چکے کہ ہمہ وقت تمام اجزاء لطائف کے ہمراہ ہے تو اس وقت سا لک کو دو پر سیر اور پرواز کے لیے عطا ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک سیر اسم الظاہر کا ہے جو ولایت کبری کی انتہا ہے اور دوسرا سیر اسم الباطن کا ہے جو ولایت علیاء منتہی ہے۔ سالک اس مقام میں تجلیات کی سیر کے قابل ہو جا تا ہے ۔ اس مقام میں ذکر تہلیل و نوافل قیام وقرات کے طول سے ترقی پاتے ہیں ۔ اور رخصت شرعی کا اختیار کرنا غیر مستحن ہوتا ہے۔ بلکہ عزیمت پر عمل کرنا اس مقام میں ترقی بخشتا ہے راز یہ ہے کہ رخصت پرعمل کر نا بشریت کی طرف کھینچتا ہے اور عز یمت پر عمل کرنا ملکیت کے ساتھ نسبت قائم کرتا ہے کیونکہ یہ ولایت ملائکہ کرام علیہم السلام کی ہے اس لیے یہاں ملکیت کے ساتھ جس قدر مناسبت ہو گی اتنا ہی جلد ترقی حاصل ہوگی ۔

اس مقام میں سالک کا باطن اسم الباطن سے مسمی و مصداق ذات اقدس تبارک وتعالی کا مظہر بن جا تا ہے ۔ اس ولایت سے سالک کے تمام بدن میں وسعت وفراخی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور جسم پرلطیف احوال کا ورود ہوتا ہے۔ اخفا اوراسرار کے لائق رموز سالک کے ادراک میں آتے ہیں بلکہ ارباب کشف رویت ملائکہ کرام سے بھی مشرف ہوتے ہیں ۔ الغرض مراقبہ اسم الباطن بھی عناصر ثلاثہ کے اعتبار سے علم الہی سے ہے اس مراقبہ کا مقصودعناصر ثلاثہ کی کیفیات میں انانیت وریاء جیسے رذائل کو دفع کرنا اور خالق عناصر کی طرف متوجہ رہ کر فیض حاصل کرنا ہے ۔




Friday, September 13, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 21--- 12 SEPTEMBER 2024 --- 7 RABI UL AWAL 1446H


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

21  دَرس--11ستمبر 2024 | بروز: جمعرات  07 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ اسمِ ظاھر
(21  واں سبق)
 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ

نشست اوّل



نشست دوئم

مراقبہ اسمِ ظاھر

(21  واں سبق)

 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ

نیت مراقبہ اسم الظاہر

 فیض می آید از ذات بیچون کہ مسمّی بہ اسم ظاہر است بمفهوم این آیۃ کریمہ. ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ. خاص بلطیفہ نفسی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو اسم ظاہر کے ساتھ موسوم ہے اور اس آیہ کریمہ کے مطابق  ُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ(وہی اول  وہی آخر  ظاہر و باطن ہے  اور وہی ہر شے کو جاننے والا  ہے  ) عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے  خاص لطیفہ نفسی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

اگر چہ ولایت کبری(مرتبۂ اولیٰ میں جو ولایتِ عامہ تھی بشرطِ ایمان وہی مرتبۂ ثانیہ میں تقویٰ کی شرط سے ولایتِ خاصہ پر فائز ہو جاتی ہے، اس کو ولایتِ کبریٰ بھی کہتے ہیں) سے تزکیہ نفس حاصل ہو جاتا ہے اور تمام برائیاں اور خصائل رذیلہ نیکیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن فخروغرور اور رعونت ابھی باقی ہوتی ہے۔ ان کو یہ مراقبہ  ختم کردیتا ہے اور سالک میں سیر آفاقی(سیر دو قسم پر ہے سیر آفاقی اور سیر انفسی آفاق سے مراد کائنات ہے اور انفس سے مراد اپنی ذات ہے آفاق اور انفس کے درمیان اجمال و تفصیل کا فرق ہے دونوں اللہ تعالی کی نشانیوں کے محل و منظر ہیں سلوک سیر انفسی کا نام ہے اور جذبہ سیر آفاقی کا نام ہے ) کی تکمیل کردیتا ہے۔

ولایت کبری کے مراقبات میں مزید قوت پیدا کرنے کے لیے اسم الظاہر(الظاہر اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الظاہر کے معنی ہیں ہر چیز پر غالب آنے والا ۔اس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں اللہ تعالیٰ کائنات میں اپنے وجود کے اعتبار سے سب سے زیادہ ظاہر ہے جس پر کثرت سے دلائل ہیں ) کا مراقبہ کرایا جا تا ہے ۔ کیونکہ ولایت صغری اور ولایت کبری کے تمام مراتب ظاہریت حق سبحانہ تعالی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب کے سب تجلیات اسم الظاہر کے مظاہر ہیں ۔ اس مراقبہ کا تعلق بھی علم الہی سے ہے۔

اللہ تبارک و تعالی نے جب اپنے اجمالی علوم کا ظہور دینا چاہا تو اسم الظاہر کی تجلی فرمائی اس سے کائنات ظہور میں آئی ، آثار وافعال الہیہ کے ظہور کا مقام دنیا ہے۔ ان آثار کی نفی کرنا اور ان سے ما لک آثار حقیقی کا پتہ چلا نا اس مراقبہ کا مقصود ہے۔ اس مقام میں سالک اسم الظاہر کے انوار سے منور ہو کر مظاہر الہیہ سے واقف ہوتا ہے اس مقام میں اسماء وصفات کی تجلیات کا ورود ہوتا ہے ۔ اور اس مراقبہ میں لطیف نفس مع دوائر ثلاثہ و قوس فیض کا ذریعہ ہیں ۔ سالک کو اس مراقبہ کے ذریعے سیر آفاقی کے لیے ایک پر یا بازو حاصل ہوتا ہے ۔مختصرا مراقبات لطیفہ نفس کے بعد اسم الظاہر کا مراقبہ نسبت باطنی میں بڑی قوت اور وسعت کا موجب ہوتا ہے۔

دوائر ثلاثہ  کےمراقبات میں اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ غیر اللہ کی محبت دل سے دور کردے وہ ذات محبت اختیاری میں غیر کی شرکت پسند نہیں کرتی کیونکہ یہ 

شرک فی المحبت ہے۔

برلبش قفل است و در دل راز ہا                 لب خموش و دل پر از آواز ہا

  دل میں تو راز بھرے ہیں لیکن لیوں پر قفل ہے دل آوازوں سے بھرا ہوا ہے اور لب خاموش ہیں ۔


تمام اشیاء میں تجلّی اسم الظاھر کے ظہور کا مفہوم

حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔

اثنائے راہ سلوک میں حق تعالیٰ اسم ظاھر کی تجلی سے اس قدر جلوہ گر ہوا کہ تمام اشیاء میں خاص تجلی کیساتھ علیحدہ علیحدہ ظاہر ہوا"

اس مضمون کو سمجھنے کیلئے درج ذیل حقائق پیشِ نظر رہنے چاہئیے!

*طریقِ سلوک میں جب سالک کا مراقباتِ اسماء و صفات سے گزر ہوتا ہے تو سالک کیلئے چار اسماء یا چار صفات کی سیر بنیادی ارکان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ

ان مراقبات میں آیتِ مبارکہ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِن ُ کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور ان اسماء و صفات پر غور و تدبر سے سالک پر ان کے اسرار و انوار منکشف ہوتے ہیں۔ خاص کر اسم ٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ سالک کے روحانی عروج کیلئے دو پر یا دو بازو ہیں جن کے ذریعے عالم قِدس کیطرف پرواز ہوتی ہے۔

صوفیاء کے نزدیک اسم ٱلظَّـٰهِرُ کی تجلیات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور محیط ہے اور ہر شے سے اسکے جلوے ظاہر ہورہے ہیں اور اسم ٱلْبَاطِنُ کی تجلیات سے یہ راز کھلتا ہے کہ وہ ہر شے کی ذات سے بھی اس شئی کے زیادہ قریب ہے ان دونوں اسموں کی سَیر سے سالک کو یقین ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اتنا ظاہر ہے کہ ہر چیز کا وجود اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے اور ذرّے سے لیکر آفتاب تک سب کچھ اسکے وجود کی شہادت دیتا ہے اور باطن اتنا ہے کہ قُرب کے باوجود ہر شے اسکے حقیقت کے اِدراک سے عاجز و قاصر ہے۔


برگِ درختانِ سبز در نظر ھوشیار ھر ورق دفتریست معرفتِ کردگار (شیخ سعدی ؒ)

(ترجمہ:سبز درختوں کے پتے بھی دانشمند کی نظر میں ایسے ہیں کہ ایک ایک پتا خدا کی معرفت کا دفتر ہے)


سیر اسماء و صفات

صوفیہ کرام کے مطابق سیرِ اسماء و صفات کے مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے

وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا(الاعراف ۱۸۰)

(ترجمہ: اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرواور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو)


اسماءِ الحُسنیٰ

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات تو لامُتناھی ہیں لیکن ان سب کا مرجع نناوے اصولِ متناہیہ کیطرف ہے انہیں اسمائے حسنیٰ سے تعبیر کیاجاتا ہے۔


امہات اسماء

اسماء حُسنیٰ کا مرجع آٹھ اصولوں کی جانب ہے جنہیں امہات اسماء کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین نتیجتاً ان تمام اسماء کا مرجع ایک اصل کی جانب ہے اور وہ اسم اللہ ہے جو جامع ہے جمیع اسماء الٰہیہ کا اور شامل ہے جمیع صفاتِ الٰہیہ کو۔


احصائے اسماء

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدً مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ اَلْجَنَّۃَ(ابن ماجہ ص ۲۷۴)

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے نناوے ۹۹ اسماء ہیں جس نے انکا احصاء کرلیا وہ جنت میں داخل ہوا۔

یہاں احصائے اسماء سے مراد اسمائے حق تعالیٰ سے متحقق اور متخلق ہونا ہے صرف ان اسماء کا وظیفہ کرنا اور انکا تلفظ یا تکرار یا شمار مراد نہیں۔



دائرہ اسماء

دوائرِ محبت میں پہلا دائرہ اسماء کا ہے۔ سالک مبتدی جب مسمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تو اسم سے ہی اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے۔ اس دائرے میں سالک کو معرفتِ ذات بواسطہ اسماء کی تعلیم دی جاتی ہے۔


دائرہِ صفات

دوسرا دائرہ صفات کا ہے۔ اس دائرے میں سالک صفات کے پرتو سے فیض یاب ہوتا ہے اور کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صنعت کے نمونے اسکی صفات کے مَظہر نظر آتے ہیں۔ اس دائرے میں معرفتِ ذات بواسطہ صفات کی تربیت دی جاتی ہے۔


دائرہِ ذات

تیسرا دائرہ ذات کا ہے۔ اس دائرے کی وسعت لامحدود ہے ۔ اس میں نہ اسماء پیش نظر ہوتے ہیں نہ صفات بلکہ اس میں معرفتِ ذات بلاواسطہ اسماء و صفات کا سبق دیا جاتا ہے۔


سیرِ دوائر

حضرت امام ربّانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔

سَیر در اسم الظاھر سیر در صفات است بے آنکہ درضمنِ آنھا ذات ملحوظ گردد تَعَالیٰ و تَقَدَّسَ و سَیر در اسم الْبَاطن نیز ھرچند سَیر در اسماء است اما در ضمن آنھا ذات تعالیٰ ملحوظ است و آن اسماء در رنگ سِپَر ھا اند کہ روپوش حضرت ذات تعالیٰ و تقدس گشتہ مثلاً در صفتُ العلم ذات تعالیٰ اصلاً ملحوظ نیست و در اسمُ العلیم ملحوظ ذات است تعالیٰ در پس پردہِ صفت زیراکہ علیم ذاتے است کہ مُراد را علم است۔ 

فَالسَّیْرُ فِی الْعِلْمِ سَیْرٌفِی الْاِسْمِ الظَّاھِرِ وَالسَّیْرُ فِی الْعَلِیْمِ سَیْرٌُُ فِی الْاِسْمِ الْبَاطِنِ وَقِسُ عَلیٰ سَائِرَ الصِّفَتِ وَالْاَسْمَاءِ 

(۳۔دفتر اوّل مکتوب ۲۶۰)

ترجمہ: اسم الطاھر کی سیر صفات میں ہے بغیر اس بات کے کہ اس ضمن میں ذات ملحوظ ہو اور اسم الباطن کی سیر بھی اگرچہ اسماء میں ہے لیکن اس کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے اور یہ اسماء ڈھالوں کیطرح ہیں جو حضرت ذات کے حجابات ہیں مثلاً صفت علم میں ذات ملحوظ نہیں لیکن اس کے اسم علیم میں پردہ صفت کے پیچھے ذات ملحوظ ہے کیونکہ علیم ایک ذات ہے جس کی صفت علم ہے پس علم میں سیر اسم الظاہر کی سیر ہے اور علیم میں سیرِ اسم الباطن کی سیر ہے باقی تمام اسماء و صفات کا حال اسی قیاس پر ہے۔


مراقبہ اسم الظاھر

مراقبہ اسم الظاھِر میں منشاء فیض وہ ذات حق تعالیٰ ہے جس کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم مبارک "الظاھِرُ" ہے۔ اسکا موردِ فیض لطیفہ نفس (مع لطائفِ خمسہ) ہے۔ اس مراقبے میں سیر اسماء و صفات کی تجلیات میں ہوتی ہے بغیر ملاحظہ ذات تعالت و تقدست کے پس سالک کی سیر تجلیاتِ صفات میں مظاہر اسم الظاھر کی سیر ہے اور سالک کی سیر اسماء صفاتیہ میں مظاہر تجلیات اسم الباطن کی سیر ہے۔



تجلیّاتِ اسماء و صفات لاتعداد ہیں اور حضور سرور عالمﷺ کے مراتِب مشاہدات بھی بے شمار ہیں۔

شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ اسم الظاھِرُ کی تجلیات مشاھدہ فرماتے اور شہودِ ذات کے مرتبے میں اسم الباطِنُ کی بے کیف تجلیّات سے فیضیاب ہوتے۔ عورت کا وجود شہودِ ممکنات کا مرتبہ ہے، خوشبو اور نماز شہودِ ذات کا مرتبہ ہے، کیونکہ خوشبو روائح طیبّہ سے ہے اور اس کا تعلق نفسِ الٰہی اور ریحُ الرحمان کے ساتھ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ اِنِّیْ لَاَجِدُ نَفْسَ الرَّحْمَانِ مِنْ ھَاھُنا--(ذکرہ السیوطی فی الجامع الکبیر و اشارالی الیمن یہ روایت ان الفاظ میں بھی ملتی ہے انی لاجد نفس الرحمٰن من قبل الیمن (تفسیرِ کبیر ص۶ ج ۲۳ فتوحاتِ مکیّہ ص ۲۱۷ ج ۱) ---  (ترجمہ: میں خوشبو میں رحمٰن کو پاتا ہوں)

اور نماز رویتِ الٰہی، مشاھدہ ذات اور معراج المومنین کا مقام ہے جیسا کہ حدیثِ احسان میں ہے:

 اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ (بخاری ص ۱۲ ج ۱، مُسلم ص ۲۹ ج ۱)

 (ترجمہ: اللہ کی ایسے عبادت کر جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے)

یہی وجہ ہے کہ شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ نے عورت کو اور شہودِ ذات کے مرتبے میں خوشبو اور نماز کو محبوب قرار دیا جب آپ شہودِ ممکنات (مشاہدہِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ) سے فارغ ہوتے تو لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتُُ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکُُ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِّیٌ مُرْسَلُ

(قال الامام السخاوی علیہ الرحمۃ (المتوفی ۹۰۴ھ) لی مع اللہ وقتُُ لایسعُ فیہ ملکٌ مُقربٌ ولانبی مرسل یذکرہ المتصوفۃ کثیراً وھو فی الرسالۃ القشیریہ لٰکن بلفظ لی وقت لایسعنی فیہ غیر ربّی۔ ویشبہ ان یکون معنیٰ ماللترمذی ولابن راھویۃ فی مسندہ عن علیٰ فی حدیث طویل کان ﷺ اذا اٰتیٰ منزلہ جزاً دخولہ ثلاثۃ اجزاء جزا لِلّٰہِ تعالیٰ و جزاَ لاھلہ و جزاً لنفسہ ثم جزاہ بینہ و بین الناس المقاصد الحسنہ ص ۲۵۸، شمائلِ ترمذی ص ۲۴)

ُ (ترجمہ: میرا اللہ کے ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی نبی مرسل کی) کے مرتبہِ شہودِ ذآت (مشاھدہ تجلیّات اسم الباطِنُ) میں مصروف ہوجاتے لیکن چونکہ آپ جامع شہودِ تجلیّات تھے لہٰذا ایک ہی وقت میں تجلیّاتِ متعددہ سے لطف اندوز رہتے۔ آپ کا ظاھِرِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ اور باطنِ تجلیّات اسم الباطِنُ سے شاد کام رہتا۔

؎اُدھر اللہ سے واصل اِدھر مخلوق میں شامل خواص اس بزرخِ کُبریٰ میں ہے حرفِ مشدّد کا

روشن بات

*حدیثِ مذکور میں حُبِّبَ (بلفظ مجہول) فرمایا گیا ہے یعنی یہ تین اشیاء میرے لئے محبوب بنائی گئیں ثابت ہوا کہ فی الحقیقت حضورﷺ کی محبت تو صرف ذاتِ حق سے ہے باقی محبتیں مصلحتًا آپ پر مسلّط کی گئیں۔

*نیز فرمایا مِنْ دُنْیَاکُمْ تمہاری دنیا سے "معلوم ہوا کہ خود حضور صﷺ حقیقت کے اعتبار سے اس دُنیا میں سے نہیں بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہیں اور یہ دُنیا آپ کے نُور سے مخلوق ہوئی جیسا کہ حدیث میں ہے۔

اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللہِ وَ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُّوْرِی (شرح قصیدہ خرپوتی)

(ترجمہ: میں خدا کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے)

اسی طرح امام ربانی قدّس سرّہ نے ارشاد فرمایال

ھرچند بدقّتِ نظر صحیفہ ممکناتِ عالم را مطالعہ نمودہ می آید وجودِ آنسرور آنجا مشہود نمی گردَّد (دفتر سوئم مکتوب ۱۰۰)

(ترجمہ: جسقدر بھی باریک نظری کے ساتھ ممکناتِ عالم کے صحیفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے حضور ﷺ کا وجودِ مبارک عالم ممکنات میں دکھائی نہیں دیتا)

اسی مکتوبِ گرامی میں چند سطور کے بعد آپ فرماتے ہیں:

وچوں وجودِ آنسرور عَلَیْہِ وَعَلَیٰ اٰلِہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ در عالم ممکنات نباشد بلکہ فوق این عالَم باشد ناچار اُورا سایہ نبود۔

(ترجمہ: جب حضور سرورِ عالم ﷺکا وجود مبارک عالمِ ممکنات میں سے نہیں بلکہ اس عالم سے بلند ہے تو لازماً آپ کے جسم مبارک کا سایہ نہیں ہوسکتا) حضرت امام ربانی قدس سرّہ نے سرورِ عالم ﷺکا سایہ نہ ہونے کی دو ۲ وجہیں بیان فرمائی ہیں۔

پہلی وجہ یہ کہ آپ کا وجود مبارک عالمِ مُمکنات سے بلند ہے اور شمس و قمر کا نظام ممکنات سے وابستہ ہے

بود  برتر ز انجم و افلاک زاں نیفتاد سایہ اش بر خاک

(ترجمہ: ستارے اور آسمانوں سے اونچے تھے اسلئے انکا سایہ خاک پر نہیں پڑتا تھا)

دوسری وجہیہ ہے کہ آپ کا وجودِ مبارک نور ہونے کی بنا پر تمام ممکنات سے لطیف ہے لہٰذا آپ کے جسم مبارک کی اعلیٰ لطافت کی وجہ سے آپ کا سایہ کیسے ہوتا؟ کیونکہ سایہ جسم سے زیادہ لطیف ہوتا ہے اور آپکا جسم مبارک سائے سے بھی زیادہ لطیف تھا۔

*واضح ہو کہ آپ کے لئے دُنیا میں صرف تین ۳ چیزیں محبوب بنائی گئیں اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی ذاتِ مبارکہ مظہرِ کمالاتِ ثلاثہ ثابت و ظاہر ہوجائے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمالاتِ بشری ملکی اور حقّی کے جامع ہیں۔

عورتوں کے لباس میں آپ کے بشری کمال کا اظہار ہوا اور نماز کی صورت میں آپ کے ملکی کمال کا مظاہرہ ہوا اور خُوشبو کے رنگ میں آپ کا حِقّی کمال ظاہر کیا گیا۔ 

وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ

رَبَّنَا لَا تُئَواخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَانَا

اسم الظَّاھِرُ کی تجلی کا ظہور کھانے ، پینے اور پہننے کی چیزوں میں الگ الگ ہوا جوعمدگی اور خوبی لذیذ و پُرتکلف کھانے میں تھی وہ کسی اور کھانے میں نہ تھی اور میٹھے پانی میں بھی دوسرے پانی (کھاری) کے مقابلہ میں یہی فرق تھا بلکہ ہر لذیذ و شیریں چیز میں خصوصیاتِ کمال میں سے اپنے اپنے درجے کے مطابق الگ الگ ایک خصوصیت تھی۔ یہ خادم اس تجلّی کی خصوصیات کو بذریعہ تحریر عرض نہیں کرسکتا۔ اگر آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو شائد عرض کرسکتا۔

شرح

کھانے پینے کی پُرتکلّف اور لذیذ اشیاء میں دوسری عام اشیائے خورد و نوش سے زیادہ تجلی اور لطافت کا معلوم ہونا اور میٹھے پانی سے لیکر پھیکے اور کڑوے پانی تک میں بھی فرق محسوس کرنا اس وجہ سے ہے کہ اشیاءِ ممکنات عدم سے ظہور میں آئی ہیں اور عدم سراسر ظلمت، کدورت اور کڑواھٹ سے متہم ہے اس لئے جب عدم نے ظلالِ صفات کے پَرتَو سے وجود کا لباس پہنا تو ان تجلیاتِ ظلالِ صفات سے اشیائے ممکنات میں حُسن و خوبی اور لذت و حلاوت کی خصوصیات پیدا ہوئیں لیکن چونکہ لذیذ کھانے اور میٹھے پانی میں اِنعکاس زیادہ تھا اور غیز لذیذ و کڑوی اشیاء میں انعکاس کی کمی یا زیادتی اور ان کے درجات و استعدادات کے اِختلاف کی بنا پر مشہود ہوئیں (واللہ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ)




Wednesday, September 11, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 20--- 11 SEPTEMBER 2024 --- 6 RABI UL AWAL 1446H



بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

20  دَرس--11ستمبر 2024 | بروز: بدھ  06 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبۂ قوس

(  20 واں سبق) 





اپنی ذات Innerسے واقفیت حاصل کرنے اور روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے مسلسل مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہماری باطنی صلاحیتیں آہستہ آہستہ سامنے آتی ہیں اور ہم سیڑھی بہ سیڑھی چڑھتے ہوئے اپنی ذات کا عرفان حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ہم کوئی ہنر یا فن حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کسی صلاحیت کو بیدار کرنا ہمارے پیش نظر ہوتا ہے تو کسی قاعدے کلیے کے تحت اس کی مشق کرتے ہیں۔ مسلسل مشق کے نتیجے میں صلاحیت بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور بالآخر ہم اس فن میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔ مثلاً ہم مصوری سیکھنا چاہتے ہیں تو کسی استاد کی نگرانی میں کاغذ پر لکیریں بناتے ہیں اور ان لکیروں کی ترتیب سے کوئی شکل بن جاتی ہے۔ شروع شروع میں پنسل ارادے کا ساتھ نہیں دیتی۔ لکیروں کی لمبائی، چوڑائی اور قوس صحیح نہیں بنتے لیکن مشق کے نتیجے میں ہم اپنے ارادے کے مطابق متناسب خطوط بنانے پر قادر ہو جاتے ہیں۔

نیت مراقبہ دائرہ قوسی

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو کہ اصل اصل اصل اصلِ اسماء و صفات  ہے اور دائرہ قوسی ہے  اور اس آیہ کریمہ کے مطابق(وہ اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ ان سے محبت  رکھتا ہے  )   مجھے دوست رکھتی ہے اور میں اسے دوست رکھتا ہوں عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے  خاص لطیفہ نفسی  میں فیض  آتا ہے۔

اس مراقبہ کا مفہوم بھی آیت مذکورہ یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہُ سے لیا گیا ہے


قوس جو اصل یا بطون ہے دائر ہ ثالث کا ، اس میں بھی سالک مراقبہ محبت مفہوم آیت شریفہ، دوست رکھتے ہیں ہم اللہ تعالی کو اور وہ دوست رکھتا ہے ہم کو، کے مفہوم کے مصداق اس طرح کرتا ہے کہ اس ذات پاک سے جو قوس ولایت کبری کا منشاء ہے بواسطہ لطیفہ نفس مع دوائر ثلا یقوس حضرت پیر ومرشد کو فیض آتا ہے ۔ پیران کبار رحمۃ اللہ یھم اجمعین سے بواسطہ پیر ومرشد سالک کو فیض حاصل ہوتا ہے ۔ اس مراقبہ میں سا لگ کا لطیفہ نفس مع دوائر ثلاش وقوس و لطائف خمسہ عالم امرفیض کا سبب ہیں ۔ اس مراقبہ میں سالک کو تمام اور مکمل نسبت حبیت حاصل ہوتی ہے اور یہ تمام عالم ارواح سے تعلق رکھتا ہے ۔ چونکہ عالم ارواح میں حضور پرنورسید المرسلین ﷺ کا اسم مبارک احمد ﷺ ہے اس لیے اس مراقبہ میں سالک مقام محبوبیت احمدی ﷺ سے مناسبت پیدا کر کے ذات باری تعالی سے فیض یاب ہوتا ہے ۔


یہ تینوں دوائر جو ایک دوسرے کے اصول یا بطون ہیں ۔ دو حقیقت حق سبحانہ تعالی کے ان اعتبارات سے تعلق رکھتے ہیں جوشیونات وصفات الہیہ کا مظہر ہیں یہ قوس نفس کا وہ مقام ہے جونفس ملہمہ کے بعد حاصل ہوتا ہے جسے نفس رحمانیہ کہا گیا ہے ۔ مراقبات ولایت کبری جوانبیاء کرام علیہم السلام کی ولایت ہے اس میں تہرے دائرے مراتب نفس لوامہ مطمئنہ ،ملہمہ کو ظاہر کرتے ہیں ۔ قوس سے یہ رمز ظاہر ہوتا ہے کہ قوس تحتانی سے مراد حضور سید المرسلین ﷺ کانفس مبارک ہے ۔ شب معراج میں جب آپ ﷺ کو کمال قرب و وصال باری تعالی نصیب ہوا تو قوس فوقانی کی تکمیل ہوکر دائر مکمل ہو گیا یہ مقام حضور پر نو ﷺ کے نفس مبارک ہی کا ہے جہاں الے کو بدرجہ کمال قرب و وصال خداوندی نصیب ہوا۔


جیسا کہ ارشاد ہے: فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى(9)سورہ النجم

 ترجمہ: پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے تو دوکمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم ۔

ولایت کبری کی سیر کے پورے ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس وقت تک فیوض و برکات کے حصول کا جواحساس سالک کو دماغ سے ہوتا تھا۔ اب سینہ سے اس کا تعلق ہو جا تا ہے ۔ اس لیے اس مراقبہ میں شرح صدر، نصیب ہوتا ہے ۔ اور قضا و قدر کے احکام بلا چون و چرا قابل قبول ہو جاتے ہیں اور سا لک مقام رضا کی طرف تیزی سے عروج کرتا ہے ۔


دل غیر سے پاک ہو تو یہی دل  انسان کا کعبہ بن جاتا ہے ۔۔۔

حکم یہ تھا کہ عبادت کرتے وقت گھر میں تصویر نہ ہو 

تو لوگوں نے اس گھر سے مراد یہ لے لیا کہ جس میں ہم رہتے ہیں۔۔۔

۔لیکن مزہ تب آیا جب جواب صوفیاء نے دیا کہ حدیث قدسی ہے کہ "میں نہ آسمانوں میں سماتا ہوں نہ زمیں میں سماتا ہوں بلکہ بندہ مومن کے دل میں سماتا ہوں " جب اللہ کی سمائی ہمارا دل ہے تو مطلب کہ اسکا گھر ہے یہ جسکے بارے میں کہا گیا کہ کوئی تصویر نہ ہو سوائے محبوب کہ۔۔۔۔۔۔

اسلیے گھر میں تصویر ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس دل میں نہ ہو


حیران ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح تم 

حا لا نکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم






Tuesday, September 10, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 19 ---SESSION 2--- 10 SEPTEMBER 2024 --- 5 RABI UL AWAL 1446H

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

019  دَرس--10ستمبر 2024 | بروز: منگل  05 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

(دوسری نشست)

مراقبہ فنافی اللہ

(  19 واں سبق)




تصوف کی ایک بہت مشہور و معروف اصطلاح ’فنا فی اللہ‘ ہے۔ اس کی تشریح انتہائی پیچیدہ اور پرخطر ہے۔ ’فنا فی اللہ‘ کی وضاحت کے لیے مختلف نظریے وجود میں آئے، جن میں   ’وحدت الوجود‘ اور ’وحدت الشہود ‘   سرِ فہرست ہیں۔

اگر فنا فی اللہ کو سادہ طریقے سے بیان کیا جائے تو یہ ذاتِ حق (اللہ تعالیٰ) کے مشاہدے میں خود کو فنا کردینے کا عمل ہے یہاں تک کہ اپنی ’خودی‘ (ذات یا نفس) فنا ہوجائے اور ہمیشہ باقی رہنے والی صرف اور صرف خدا کی ذات ہی باقی رہ جائے۔

قرآن کریم ہم کو  ’فنا للہ‘ کی تعلیم دیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے خدا کے لیے اپنی خواہشات، جذبات، شہوات، رجحانات، تعصبات اور مفادات سب کچھ قربان کردینا۔

قرآن کے مطابق اسلام کے لفظی معنی اطاعت اور سپردگی کے ہیں۔ جب کہ عبادت کا مفہوم خدا کے سامنے انتہائی عاجزی، تذلل اور پستی اختیار کرنا ہے۔ اور ان دونوں مفاہیم کا خلاصہ ہے ’فنا للہ‘۔

انسانی جسم میں موجود أرواح اور پرندے:

فنا کئی قسم کی ہے ایک فنا تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کے وجود میں بہت سے روحیں رکھی ہیں پانچ آپ کے سینہ میں اور ایک روح آپ کے دماغ میں رکھی ہے اور ایک ہے آپ کا لطیفہ نفس، ان ساری روحوں کے آگے پیچھے شیاطین کے جال ہیں اور یہ آپکا امتحان ہے کہ ان شیاطین کے جال کو ختم کر کے ان روحوں تک اللہ کا نور پہنچا کر انہیں بیدار کریں ۔ آپ کے سینے میں اللہ نے چار پرندوں کو بھی رکھا ہے ان چار پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں جو سینے کی مخلوقوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ، قرآن مجید میں ان پرندوں کے حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے

اِس واقعے کو پارہ 3 سورۃُ البقرۃ کی آیت نمبر260 میں اللہ پاک نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ-قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ-قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ-  ۳ ، البقرۃ : ۲۶۰)

اور جب ابراہیم نے عرض کی : اے میرے رب!تو مجھے دکھادے کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے فرمایا : کیا تجھے یقین نہیں؟ ابراہیم نے عرض کی : یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے اللہ نے فرمایا : تو پرندوں میں سے کوئی چار پرندے پکڑلو پھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلو پھر ان سب کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔



 کہ اللہ نے ان کے سینے کے چاروں پرندوں کو نکال کر پاک کیا ۔ مور ، کبوتر، کوا اورمرغ یہ چار پرندے ہمارے سینے کے لطائف کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالی نے مرغ کو لطیفہ قلب کے ساتھ باندھا ہوا ہے ، اللہ کے فرمان کے مطابق مرغ شہوت کا نشان ہے، لہذا آپ دیکھیں کہ مرغ کتنی رغبت سے کھایا جاتا ہے، یہ مرغ انسان کے دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے، مرشد کامل کی نظروں سے اس مرغ کی گردن کٹتی ہے پھر ہی وہ مرغ ، مرغِ بسمل کہلاتا ہے ۔امیر خسرو کے کلام میں مرغ بسمل کا ذکر ملتا ہے آپ فرماتے ہیں

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

اب اس مرغ کی آدھی گردن نور سے کٹ جاتی ہے تو وہ بسمل بن جاتا ہے یعنی تڑپتا رہتا ہے اور اس میں تڑپ محبت آجاتی ہے، نور سے پہلے یہ مرغ دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے جب گردن کٹ جائے گی تو یہ مرغ دل میں اللہ کی تڑپ ڈالتا ہے۔ اسی طرح لطیفہ سری کے ساتھ مور ہے اور ان سب پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں ، کسی کے ساتھ تکبر کسی کے ساتھ حسد، کسی کے ساتھ حرص و عناد ہے، کسی کے ساتھ بغض ہے ، یہ تمام برائیاں آپ کی شخصیت کا حصہ نہیں ہیں لیکن یہ انسان میں آئی اس لیے ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو آپ کے سینے میں امتحان کے طور پر رکھا ہے۔آپ کہیں گے میں نے تو کوئی پرندے اپنے اندر نہیں دیکھے وہ پرندے اپنے جسموں میں اڑ رہے ہیں لیکن ان کی روحوں کو اللہ نے آپ کے جسموں میں رکھا ہے، جب آپ کے لطائف تجلی کی زد میں آتے ہیں اس وقت یہ پرندے پاک ہو جاتے ہیں اور روحانی دم درود میں آپ کے مدد گار بن جاتے ہیں ۔فرض کیا کسی نے دور دراز سے دم کا کہا اگر ہم وہاں نہ جا سکیں تو ان پرندوں کو کہتے ہیں تو وہ دو چار دن اس بندے کے سینے میں رہنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور اس کی روح کو تندرست کر کے واپس آ جاتے ہیں ، یہ باقاعدہ روحانی نظام کے تحت ہوتا ہے۔انسان میں جو روحیں ہیں ان میں کوئی بری چیز نہیں ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی برابر بھی غرور ہوا وہ جنت کے لائق نہیں ہے۔ اب انسان کی فطرت میں تو یہ برائی ہے ہی نہیں ، یہ تکبر ان پرندوں کی وجہ سے دل میں آیا ہوا ہے، جو مومن بن چکا ہو گا اس کے دل سے یہ تمام چیزیں نکل چکی ہوں گی ناں ، اب وہ تکبر ایک کلو ہو یا رائی برابر ہو اس میں یہ تکبر ہوگا ہی نہیں لیکن جس نے اپنی ان روحوں کو چھیڑا ہی نہیں ، صرف جسمانی طور پر ہی عبادتوں میں لگے رہے تو اللہ کے یہاں ان کی کوئی گارنٹی ہی نہیں ہے۔جس نے روحوں کو منور کر لیا ان ہی کے یہ پرندے بھی پاک ہو گئے اور پھر جب ان کا لطیفہ نفس بھی منور ہو گیا تو لطیفہ نفس ، امارہ سے لوامہ اور لوامہ سے نفس الہامہ اور الہامہ سے مطمئنہ ہو گیا ، اس کے بعد اس نے قربانی دی تو وہ جو نفس امارہ کا ایک وجود تھا اس کے اوپر اللہ کا جلال پڑا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تو اس کو کہتے ہیں اس نے اللہ کی خاطر جان دے دی۔


“جو روحانیت سے واقف نہیں ہوتے نہ ہی اس قابل ہوتے ہیں ان کو کہتے ہیں تم حج پر جاؤ تو جانور کی قربانی دو لیکن صوفی اپنے نفس کی قربانی دیتا ہے تو جب وہ اپنے امارہ نفس کی قربانی دیتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس میں انانیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس میں تکبر نہیں رہتا۔جب لطیفہ انا پر لگے ہوئے شیطانی پردے “یاھو ” کی گرمی سے پھٹ جائیں ، جب تمام لطائف اور ان کے ساتھ چمٹے ہوئے پرندے پاک ہو جائیں ، قلب کے جالے ہٹ جائیں ، نفس قربان ہوجائے اور لطیفہ انا کے پردے ہٹ جائیں سب پاک ہو جائیں اوراب صرف نور وہاں رہ جائے تو ولیوں کے لیے یہی مقام فنا ہے”


فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مقام:

چھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ اللہ کا دیدار کر لیتے ہیں تو ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ واپس زمین پر جائیں ، جب اللہ ان کو کہتا کہ اب تو زمین پر چلا جا تو ان ولیوں کی روح میں زلزلہ سا بپا ہو جاتا ہے، روح منتشر ہونے لگتی ہے ، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ چل تو پھر ادھر آ جا اور تو اکیلا مت جا میں بھی تیرے ساتھ چلتا ہوں پھر اللہ تعالی اپنی ذات سے نکلے ہوئے عکس یا تو جثہ توفیق الہی ، یا طفل نوری کو اس ولی کے ساتھ زمین پر بھیجتا ہے ، وہ خود ادھر ہی ہے لیکن اس نے اپنا کوئی عکس اس ولی کے ساتھ نیچے بھیج دیا ۔اللہ کا وہ عکس جب جسم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے وہ تمہارے لطیفہ نفس کے جثوں کو کہتا ہے مجھ سے بغل گیر ہو تو لطیفہ نفس کے جثے اس کے جلال کی تاب نہ لا کر جل جاتے ہیں ، اب یہ نفس فنا ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کا عکس تمہارے قلب کے جثوں کو بولتا ہے کہ مجھ سے بغل گیر ہوجاؤ تو قلب کے جثے بھی تاب نا لا کر جل جاتے ہیں ۔اب اس کا قلب بھی فنا ہو گیا پھر رب کا وہ عکس تمہاری روح کے جثوں کو بولتا ہے مجھ سے گلے ملو تو وہ بھی تاب نہ لا کر جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں جب اس بندے کے سارے لطائف جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں تو وہ بندہ فنا ہو گیا اب پھراس کی روح کی جگہ وہ خود بیٹھ جاتا ہے، حدیث بھی ہے کہ


وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” إن الله تعالى قال : من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته ولا بد له منه ” . رواه البخاري

مشکوة شریف ۔ جلد دوم ۔ ذکراللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان ۔ حدیث 787

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، يَكْرَهُ المَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ(رواہ البخاری حدیث نمبر 6502)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔

یعنی میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ پھر زبان اس کی ہوگی کلام اللہ کا ہوگا ۔

 گفتہ او گفتہ اللہ بود۔۔۔۔گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود۔۔۔

 آواز بندے کے حلق سے نکلے گی لیکن اس زبان سے نکلنے والا کلام اللہ کا ہو گا ۔حضور پاک نے جب کفار کی طرف ریت پھینکی تو اللہ نے کہا یہ تیرا نہیں میرا ہاتھ ہے۔

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ(سورة الانفال آیت نمبر 17)--- اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔

حضور پاک ﷺکو یہ بھی کہا۔۔۔۔من عن ابی قتادۃ قال ،قال رسول اللہ :من رآنی فقد رأی الحق۔“یعنی :حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،آپ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :  جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا ۔“(مشکوۃ المصابیح،جلد02، صفحہ 35، مطبوعہ کراچی )

سمجھانے کے عرض کررہا ہوں۔ راعنی فقد را الحق، جا کر یہ کہہ دو کہ جس نے تجھے دیکھا اس نے مجھے دیکھا ۔

تیرے تمام لطائف کا جل جانا ہی فنا ہونا ہے،اور جب تیرے اندر کی تمام روحوں کا جل جانا اور اس کے عکس اور اس کے نقش کا تجھ پر قابض ہو جانا بقا کی منزل ہے ۔ اسی کو” بقا باللہ ” کہتے ہیں ۔علامہ اقبال نے فرمایا کہ جب تک تو مجھ میں جلوہ گر نہ ہوا تھا اس وقت تک ہی میرا وجود تھا جب تو مجھ میں جلوہ گر ہو گیا تو اب میں نہیں ہوں ۔”میں ” تو اس باطل کا نام ہے جو تیرے آنے سے پہلے تھا، جب تو آیا تو باطل مٹ گیا ، تو ہی تو ہو گیا ، یہ ہے موحد کا ہونا اور یہ ہے توحید کی روح۔

میں جب ہی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

فنا فی اللہ کے برعکس کوئی مافوق الفطرت فلسفہ نہیں بلکہ عقل و فطرت پر مبنی ایک انتہائی سادہ اور مربوط نظریہ ہے۔ انسان جب زبان سے خدا کی توحید کا اقرار کرلیتا اور خود کو اس کے سپرد کردیتا ہے تو اگلے ہی لمحے اس کے مشاہدات اور تجربات اسے بتادیتے ہیں کہ اس کا معاملہ ایک انتہائی طاقتور ہستی کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ اپنے اندر سے سرکشی کی خواہش کو فنا کردیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ خدا ہی تمام خزانوں کا مالک ہے تو وہ اپنا مال خدا کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہی خداوند تنہا کارخانۂ قدرت چلارہا ہے تو وہ بے اختیار سجدے میں گر کر اپنے فخر و تکبر کا استیصال کردیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کے گناہوں پر سزا دینے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے تو وہ اپنیاندر سے گناہوں کی خواہش کو کچل ڈالتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں کی خواہش کو خدا کی ہدایت کے تابع کرتا ہے، اپنے کانوں کی سماعت کو اس کے احکام کے تحت لاتا ہے، اپنی زبان کی گویائی کو اس کے منشا کے مطابق بناتا ہے، اپنے دماغ کے خیالات اور دل کی سوچ کو اس کی اطاعت کے تحت لاتا اور اپنی زندگی کی ہر ہر ساعت ربِ کائنات کے اشارے اور پسند پر گزارتا ہے۔

فنا للہ کا یہ عمل محدود نہیں۔ کیونکہ یہ خدا کے لیے ہے، اس لیے لامحدود ہے۔ انسان اپنی خواہشات کو فنا کرتے کرتے ارتقا کے منازل طے کرتا رہتا ہے، وہ مسلم سے مؤمن اور مؤمن سے صدیق و شہید کے درجات حاصل کرتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے خدا کے مقربین کا درجہ مل جاتا ہے۔ لیکن تب بھی وہ خود کو خدا کا غلام ابن غلام ہی سمجھتا ہے۔

’فنا فی اللہ‘ کے مدارج غیر حقیقی ہیں جب کہ ’فنا للہ‘ کے مدارج حقیقی۔ ’فنا للہ‘ کا تصور انسان میں تواضع، فروتنی، اطاعت، للٰھیت، صبر، استقامت، توکل ، تسلیم و رضا اور ہمیشہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں رہنا جیسی عمدہ صفات پیدا کرتا ہے جب کہ ’فنا فی اللہ‘ کا نظریہ انسان کا منتہائے مقصود اس کو قرار دیتا ہے کہ وہ قطرے کے سمندر میں مل جانے کی طرح خدا کی ذات میں ضم اور فنا ہوجائے۔

فنا للہ ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کی تعلیم قرآن و سنت میں بہت تفصیل سے موجود ہے۔ اور اگر کسی کو فنا للہ کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ پیغمبر عربی کی سیرت کا مطالعہ کرے۔ یہ مطالعہ بتادے گا کہ کیسے نبی برحق نے اپنی پوری زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری کی، ہمیشہ عجز و انکساری کا اظہار کیا، صبر کیا، ثابت قدم رہے، ہمیشہ خدا پر توکل اور بھروسہ کیا، ہر مشکل میں اُسی کی پناہ اور امان ڈھونڈی۔ اپنی خواہشات کو خدا کی منشا کے تابع رکھا اور خدا کی سچی بندگی کیا ہوتی ہے، پوری زندگی اس کا بہترین نمونہ بنے رہے۔


جب عارف باللہ واصل فنا فی اللہ فقیر اسم اللہ کا نقش تصور سے اپنے دل پر لکھ لیتا ہے تو وہ دیکھتاہے کہ اس کا جسم اسمِ اللہ میں غرق ہو کر غائب ہو گیا ہے اور جسم کے بجائے اسمِ اللہ ظاہر ہو گیا ہے تو وہ ظاہرو باطن کا ہر مشاہدہ اسمِ اللہ ہی سے کرتا ہے- پھر اس کے وجود میں ذکر اذکار کی لذت باقی نہیں رہتی اور نہ ہی سوزشِ اسمِ اللہ کی وجہ سے ذکر اذکار میں اُس کا دل لگتا ہے- وہ جس طرف بھی دیکھتا ہے اسے اسمِ اللہ ہی نظر آتا ہے خواہ وہ اسمِ اللہ کی طرف نہ بھی دیکھے- اسے اللہ کے سوا کوئی چیز پسند نہیں آتی - اسے ہر چیز کے مغز و پوست میں (اسمِ )اللہ ہی (اسمِ )اللہ نظر آتا ہے اور وہ کامل صاحب ِغنایت ہو جاتا ہے- اس کا نفس قلب بن جاتا ہے، قلب روح کی صورت اختیار کر لیتا ہے ، روح سرّ بن جاتی ہے، سرّ خفی بن جاتا ہے، خفی اَنا میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اَنا مخفی میں ڈھل جاتی ہے- اِسے (منازلِ سلوک میں ) توحید ِمطلق (کا مقامِ مُشاہدہ) کہتے ہیں- یہاں پر پہنچ کر ابتدا انتہا بن جاتی ہے کہ ابتدا نور ِتوحید ہے جس سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہوا- نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روح پیدا ہوئی اور روح سے نورِ روشنائی، اسم، جسم ، قلب، نفس، قالب، مطلب، مطالب اور وجودِ اربعہ عناصر پیدا ہوئے -

توحید (کے اَنوار) کا مُشاہدہ لاہوتی ہے:-

’’مشاہدہ پندرہ قسم کا ہے، چودہ قسم کا مشاہدہ ناسوت (مقامِ دنیا) کے چودہ طبقات کا مشاہد ہے اور پندرہویں قسم کا مشاہدہ دونوں جہان سے بالا تر لاھوت لامکان کا مشاہدہ ہے- لاھوت عین ذات(کے اَنوار) کا مقام ہے جہاں فقط توحید ِباری تعالیٰ ہے- ہر ایک مقام کی شرح الگ الگ ہے- چنانچہ تسبیح ِزبان و نفس و قلب و روح و چاند و سورج و جن و فرشتے و شیطان و آگ و ہوا و پانی و مٹی و صورتِ شیخ کے مشاہدہ کی یہ چودہ اقسام ناسوتی ہیں جبکہ پندرھویں قسم کا مشاہدہ مقامِ فنا فی اللہ بقا باللہ ذات کا مشاہدہ ہے جو سراسر توحید ہے- یہاں پر فقر کی تکمیل ہو جاتی ہے اور فرمایا گیا ہے -: ’’ جب فقر کامل ہو تا ہے تو اللہ ہی اللہ ہوتا ہے‘‘ (یعنی ہر طرف انوارِ الٰہی ہوتے ہیں ) -جب طالب اللہ مقامِ توحید (کے اَنوار) میں غرق ہو جاتا ہے تو ناسوت کے جملہ چودہ مقامات سے الگ ہو جاتا ہے-‘‘

توحید فنا فی اللّٰہ کو صرف اللّٰہ کی خبر ہوتی ہے:-

’’اہل ِفنا فی اللہ کا نفس نہیں ہوتا جیسا کہ لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَایَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ

یعنی میر ے لئے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مُقَرَّب فِرِشتے یا مُرْسَل نبی کی گنجائش نہیں۔

(کشفالخفاء،ج2،ص156،حدیث:2157، مدارج النبوۃ،ج 2،ص623،جواہر البحار،ج4،ص265)

اس حدیث ِنبویﷺ سے ظاہر ہے-

چنانچہ رابعہ بصری  سے پوچھا گیا-:

’’نفس و شیطان و دنیا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ آپ نے جواب دیا-:

’’ مَیں توحید ِفنا فی اللہ میں اِس قدر غرق ہوں کہ مجھے نفس کی خبر ہی نہیں اور نہ ہی مجھے شیطان و دنیا کی خبر ہے-‘‘

فنافی اللّٰہ فقیر کیسے بنتا ھے :-

’’اہل ِ مراقبہ کی انتہا دریائے ژرف کا اِستغراق ہے- دریائے ژرف کیا ہے؟ دریائے ژرف دریائے توحید ہے جو ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے موجزن رہتا ہے- جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے اس میں غوطہ لگاتا ہے وہ تارکِ دنیا فنا فی اللہ فقیر ہو جاتا ہے-‘‘

توحید فنا در فنا ہونا ہے:-

’’جب تک تو فنا در فنا نہیں ہو جاتا خدا تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا- جس طرح چینی یا شکر میں پانی ملا کر آگ پر پکا لیں تو اس کا نام حلوہ ہو جاتا ہے، پھر اس کا نام چینی و شکر یا پانی نہیں رہتا، اِسی طرح چینی یا شکر توحید کی مثل ہے، پانی بندے کی مثل ہے اور حلوہ معرفت و صاحب ِ وصال غرق فنا فی اللہ بقا باللہ فقیر کی مثل ہے-‘‘


محبتِ الٰہی کے ذریعے معاشرتی نفرتیں مٹائی جاسکتی ہیں:-

’’نقل ہے کہ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری سے خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا-:

 ’’اے رابعہ! کیا تو مجھ سے محبت رکھتی ہے؟ ‘‘

حضرت رابعہ نے عرض کی-:

’’اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی ممکن ہے کہ مَیں آپ سے محبت نہ کروں؟

ہاں البتہ میرا دل محبت الٰہی میں اِس قدر محو ہے اور مَیں توحید ِفنا فی اللہ میں اِس قدر غرق ہوں کہ مجھے دوستی و دشمنی کی خبر تک نہیں رہی-‘‘

اَنوارِ توحید میں مستغرق کو دائمی حیات نصیب ہوتی ہے:-

’’اگر بارہ ہزار صاحب ِدعوت و صاحب ِورد وظائف و تسبیح خوان جمع ہو جائیں تو ایک ذاکر کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے- اگر بارہ ہزار ذاکر جمع ہو جائیں تو ایک صاحب ِمذکور الہام کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے، اگر بارہ ہزار صاحب ِ مذکور الہام جمع ہو جائیں تو ایک صاحب ِاستغراقِ مراقبہ کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے، اگر بارہ ہزار صاحب ِاستغراقِ مراقبہ جمع ہو جائیں تو ایک فنا فی اللہ فقیر کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے کہ غرق فی التوحید مؤحِّد کو دونوں جہان میں دائمی حیات نصیب ہوتی ہے اور ...... - اللہ بس ما سویٰ اللہ ہوس- ‘‘


ذکرومراقبہ کا طریقہ

سلطان المشائخ  حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء  ؒنے فرمایا، ہر وہ سانس جو باہر آتا ہے ،وہ ایسا گوہرِ نفیس ہے کہ قیامت تک اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔رات دن ،مہینے اور سال گزرجاتے ہیں، ہمیں اس پر غور کرنا چاہیئے کہ ہم نے اتنے کثیر دنوں اور راتوں میں کیا کام کیئے، لیکن عام آدمی جب ہمہ تن مستغرق ہوکر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں تو اُکتا جاتے ہیں اور یہی اُکتا جانا عبادت سے بے رغبتی کا سبب ہوتا ہے، لیکن اسی نیت کے ساتھ اگر صاحب ِ ورد  اپنی عبادت کو کچھ ہلکا کرے اور کسی سے تھوڑی دیرکیلئے ہم نشینی کرے تو اس کا یہ عمل اور وقت بھی عبادت میں شمار ہوگا، لیکن اگر نیت یہ نہ تو اس کے دونوں عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔(سیرالاولیاء)

{مراقبۂ قلب}سلطان المشائخ   ؒنے فرمایا ، اصل کام دل کا مراقبہ ہے کہ وہ اعضاء کی تمام عبادتوں پر راجع (کارگر)اور مؤثر ہے۔مراقبہ مشائخ ِ طریقت کی اصطلاح میں دل میں جمالِ حق کو دیکھنا ہے اور قلب کا عمل مخفی ہوتا ہے۔چنانچہ وہی جانتا ہے کہ میں کیا کررہا ہوں اور کیا دیکھ رہا ہوں۔لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے کار ہے،لیکن حقیقت میں وہ کام میں لگا ہواہے۔(سیرالاولیاء)

{ذکرِ خفی}پھر فرمایا کہ ذکرِ خفی ،مراقبے سے70 درجے بالاتر ہے، کیونکہ بزرگوں نے کہاہے کہ مراقبہ دل سے جمالِ حق کو دیکھنا ہے،لیکن ذکرِ خفی حق تعالیٰ کا علم ہے جو بندے کے ظاہر وباطن پر طلوع ہوتاہے۔ اور اس عالم میں بندے کو شعور ہوتاہے، اس دیکھنے کا اور علم کا،لیکن جب یہ رؤیت (دیکھنا)اور علم بندے کے دل پر 

غالب آجاتے ہیںتو شعور سے بے شعور ہوجاتاہے، اس کو ذکر خفی کہتے ہیں۔

قاضی محی الدین کاشانی  ؒ  نے سلطان المشائخ   ؒ سے پوچھا کہ مرید کو حق تعالیٰ ،جناب یا اکٹھے؟فرمایا کہ ان کو جمع بھی کیا جاسکتا ہے اور علیحدہ علیحدہ بھی۔جب و ہ ان سب کو  اکٹھا کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ سمجھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے اور پیغمبر ﷺ اس کے دائیں جانب اور بائیں جانب اُس کے پیر (مرشد/شیخ) اور جو حرکات و سکنات اس سے ظاہر ہو رہی ہیں اور جو خطرہ (شک ،وسوسہ)اس کے دل میں گزر رہاہے، حق تعالیٰ د اس کو دیکھتا اور جانتا ہے۔(سیرالاولیاء)


{…ذکر کے آداب…}

حضرت شیخ نصیر الدین محمود ؒ نے فرمایا کہ ذکر کے وقت دونوں ہاتھ دونوں زانوؤں پر رکھے اور کہے لا الہ الا اللہ۔ لا الہ الا اللہ کہتے وقت سر کو ہلائے پھر لا الٰہ کہنے کے وقت بائیں جانب سر کو لے جائے اور یہ تصور کرے کہ جو چیز سوائے حق تعالیٰ کے ہے اُسے میں نے اپنے دل سے باہر نکال دیا ہے، پھر سر کو دا ہنی طرف لے جائے اور الااللہ کہے اور تصور کرے کہ میں دل سے حق تعالیٰ کا اثبات کررہاہوں اور اس طریقے پر ذکر اس وقت تک کرتارہے کہ اپنے دل کے ذکر کی آواز اپنے کان سے سنے۔

بعض درویش ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کی زبان خاموش رہتی ہے اور اُن کا دل ذکرِ حق میں مشغول رہتا ہے، جسے وہ اپنے کان سے سنتے ہیں۔

سلطان المشائخ  حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ نے فرمایا کہ ذکر کے وقت پہلے 3 بار 

لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہے۔ چوتھی مرتبہ مُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہ ۔

 پانچویں بار لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ۔ چھٹی بارمُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہ۔ 

نویں بار لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ۔ دسویں بار مُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہ کہے۔

حضرت خواجہ امیر خورد کرمانی  ؒ نے سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ مشائخ کے نزدیک پسندیدہ ذکر  لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ   اور  اَللّٰہ ہے، لیکن ہمارے مشائخ نے  لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ  کو پسند کیا ہے،اور شیخ ابو سعید ابن 

الخیر ؒ نے صرف اَللّٰہ کو پسند کیاہے۔