بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم
017 دَرس--5 ستمبر 2024 | بروز: جمعرات 30 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
( 17 واں سبق)
سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں قبول ہو۔
17واں مراقبہ فنافی الشیخ
کے بارے آج کی گفتگو ہے ۔
فنا فی الشیخ راہِ فقر کے عظیم الشان مقامات میں سے ہے۔ فنا فی الرسول ﷺ ہو کر رسولِ پاکﷺ کو پا لینے اور فنا فی اللہ بقاباللہ ہو کر اللہ کی پاک ذات کو اپنی ذات میں حق الیقین سے پا لینے سے قبل فنا فی الشیخ کی منزل طے کرنا ناگزیر ہے۔ راہِ فقر کے طالبوں کے لیے فنا فی الشیخ کا مقام ہمیشہ سے بہت پُرکشش لیکن پُراسراریت کا حامل رہا ہے کیونکہ شیخ (مرشد) ان کو اپنے سامنے جیتے جاگتے گوشت پوست کے وجود کے ساتھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کے وجود میں فنا ہونے کا تصور طالب کے وہم و فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ لیکن طالب میں مرشد کے شدید عشق کا جذبہ اسے شیخ کی ذات میں فنا ہونے کے لیے دن رات بے چین و بے قرار بھی رکھتا ہے۔ فقر میں سب سے مشکل کام اور ہر جدوجہد کا حاصل فنا فی الشیخ ہی ہے۔ شیخ چونکہ پہلے ہی فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے مقام پر ہوتا ہے اس لیے فنا فی الشیخ کے مقام تک رسائی کے بعد فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا کچھ خاص مشکل نہیں رہتا۔ اصل ہمت اور کوشش فنا فی الشیخ کے مقام تک پہنچنے کے لیے ہی کی جاتی ہے۔
خدمت ِ مرشد، جو فنا فی الشیخ کی طرف پہلا قدم ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ((سورہ النسائ۔59)
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت۔69)۔
ذکر ودعا
المحی یااللہ
الٰہی الحب محبوبِ الٰہی
الٰہی الحب امین الاولیاء
؎مقام شوق تیرے قدسیوں کے بس میں نہیں انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیادہ
فنا فی الشیخ حقیقتاً کیا ہے؟
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سر سے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
یہ مرتبہ مرشد کے شدید عشق، قرب، محبت اور جان توڑ اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔
طالب ِ صادق کا مرشد کامل سے تعلق اس قول کے مطابق ہوتا ہے لَحْمُکَ لَحْمِیْ وَ دَمُکَ دَمِیْ ترجمہ: ’’میرا گوشت تیرا گوشت، میرا خون تیرا خون‘‘۔ وہ مرشد کامل کے عشق میں سوختہ رہتا ہے، اپنی جان کو مرشد پر قربان کر دیتا ہے، سوزشِ عشق سے اس کا دل چاک چاک ہو جاتا ہے۔
جب تک مرشد سے اس قدر شدید عشق نہ ہوگا طالب کی اپنی ہستی فنا ہوگی اور نہ ہی اس میں مرشد کی ذات آئے گی۔ جس طالب کو مرشد سے ’’عشق‘‘ نہ ہوگا وہ مرشد پر اپنی ہستی لٹا دینے سے بھی دریغ کرے گا اور اطاعت میں بھی کمی و کوتاہی رہ جائے گی۔ پس فنا فی الشیخ کے اعلیٰ ترین مقام تک رسائی مشکل ہو جائے گی اور جو فنا فی الشیخ کی ابتدائی منزل تک نہ پہنچ پائے گا اس کا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا ناممکن ہے یعنی طالب کی اللہ کی ذات کو پانے کی آرزو کبھی تکمیل کو نہ پہنچ سکے گی۔
فنا فی الشیخ کے اس ابتدائی مقام پر طالب کو آیت ِ مبارکہفَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (البقرہ۔115) ترجمہ: ’’تم جدھر دیکھو گے تمہیں اللہ کا چہرہ دکھائی دے گا‘‘ کے مصداق ہر طرف مظہر ِ الٰہی مرشد کامل اکمل کے مبارک چہرے کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے قلب میں بھی آیت ِ مبارکہوَفِیْ اَنْفُسِکُمْ ترجمہ: ’’(اللہ) تمہارے اندر ہے‘‘ کے مطابق مرشد کامل کا چہرہ اور وجود دکھائی دیتا ہے۔ طالب کسی لمحے اور کسی پل بھی تصورِ شیخ سے خالی نہیں ہوتا۔ ہر وقت اسے اپنے مرشد کامل کا نورانی وجود اپنے اردگرد محسوس ہوتا ہے۔ یہ نورانی وجود نہ صرف ہر لمحے شیطان سے اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اپنے وجود کے احساس کے ذریعے اسے ہر طرح کے ظاہری و باطنی گناہ سے روکے رکھتا ہے۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:عارف ہر گھڑی دو آنکھوں سے متردد رہتا ہے۔ (الفتح الربانی)
یہ حقیقت ہے کہ راہِ سلوک پر سفر کے آغاز میں طالب مرشد سے اتنا شدید عشق نہیں کر پاتا کیونکہ ابھی اس کے دل میں اس کے دنیاوی رشتوں ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد وغیرہ کی محبت بھی موجود ہوتی ہے لیکن ذکر و تصور ِ اسم ِ اللہ ذات اور مرشد کی لگاتار صحبت سے آہستہ آہستہ اس کا دل فانی محبتوں سے آزاد ہوتا جاتا ہے اور مرشد کامل اکمل، جو مظہر ِ ذاتِ حق تعالیٰ ہے، کا حقیقی عشق اسے حاصل ہونے لگتا ہے بشرطیکہ اس کا مرشد کامل اکمل ہو اور طالب کو اس کا کامل یقین بھی ہو۔ مرشد کے شدید عشق کے حصول سے قبل طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم ’توحید ِ مُطلب‘ تک ضرور بالضرور پہنچے۔
جان لو کہ فنا فی الشیخ کے ابتدائی مراتب یہ ہیں کہ طالب صورتِ شیخ کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو اگر شیخ کامل ہو تو طالب کے وجود میں قلب کو زندہ کر دیتا ہے اورنفس کو مار دیتا ہے اور طالب کے وجود سے تمام ہوا و ہوس نکل جاتی ہے۔ اور اگر شیخ ناقص ہو تو وہ طالب کے وجود میں نفس کو زندہ اور قلب کو مار دیتا ہے۔ جس سے طالب کے وجود میں مردار کی طلب پیدا ہو جاتی ہے اور وہ مردار کا طالب کتا بن جاتاہے۔ پس معلوم ہوا کہ شیخ ِ کامل کا طالب فنا فی الشیخ کے مراتب تک پہنچتا ہے۔ جسے شیخ ِ کامل نوازتا ہے اس طالب کا مرتبہ ایک ہی بار میں اپنے مرتبہ کے برابر بنا دیتا ہے۔ ایسے طالب کو فنا فی الشیخ کہتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)
اگر کوئی صورتِ شیخ میں فنا ہو اور وہ گناہوں کی طرف رجوع کرے تو شیخ کی صورت مانع ہو جاتی ہے اور قوت کے ساتھ گناہ و شہوات کے غلبہ سے باز رکھتی ہے۔ جب صاحب ِ صورتِ فنا فی الشیخ سوتا ہے تو وہ صورت توفیق ِ الٰہی سے اس کی رفیق ہوتی ہے اور ہاتھ پکڑ کر توحید و معرفت ِ اِلَّا اللّٰہُ میں غرق کر دیتی ہے اور اگر صاحب ِ صورتِ فنا فی الشیخ مراقبہ میں ہو تو وہ صورت ہاتھ پکڑ کر اسے مجلس ِ محمدیؐ میں لے جاتی ہے اور منصب و مراتب دلاتی ہے۔ یہ باطن صفا فنا فی الشیخ طالب کے مراتب ہیں۔
وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی (20:47،سورہ طٰہٰ)
ترجمہ: اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔
تصورِ شیخ کی اسی کیفیت کے متعلق حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
؎کی ہویا جے بت اوڈھر ہویا، دل ہرگز دور نہ تھیوے ھُو سَے کوہاں تے میرا مرشد وسدا، مینوں وِچ حضور دِسیوے ھُو
یعنی اگرچہ میرے مرشد کامل کا جسم مجھ سے دور ہے لیکن میرے دل سے ہرگز دور نہیں ہے۔ میرا مرشد سینکڑوں میل دور رہتا ہے لیکن وہ تو ہمیں عین حضور دکھائی دیتا ہے۔
حضور امین ملت خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے خانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ می تربیتی مجلس میں یہ بتایا تھا کہ :جب طالب صادق (سالک) فنا فی الشیخ کے اس ابتدائی درجہ میں ترقی کرتا ہے تو تصورِ شیخ اس پر اس قدر غالب آجاتا ہے کہ نماز اور رکوع و سجود میں بھی اس کی نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ ایسے میں کچھ طالب گھبرا جاتے ہیں اور اسے شرک خیال کر کے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے اس مسئلے کو بڑے اچھے انداز میں حل فرمایا ہے۔ آپؒ کے ایک مرید نے آپؒ کو خط لکھا کہ اس کا تصورِ شیخ اس حد تک غالب آچکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے اور اگر فرضاً نفی کرے تو بھی حقیقتاً نفی نہیں ہوتا یعنی نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب میں لکھا ’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحب ِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے۔ تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (شیخ) مسجود الیہ ہے مسجود لہٗ نہیں (یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے)۔ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی)۔ اس قسم کا ظہور سعادت مندوں کو ہی میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اسے پہچاننے کے لیے) اپنا وسیلہ جانیں اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں نہ کہ اس بدنصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو (اللہ تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کے وسیلے سے) بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلہ ٔ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔‘‘
(مکتوب نمبر30۔ دفتر دوم، حصہ اوّل،صفحہ101)
جان لو کہ تصورِ شیخ بے حد کثرت سے کرنے سے وجود میں غیب الغیب سے ایک صورتِ نور پیدا ہوتی ہے جو کبھی
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتے ہوئے ذکر ِ اللہ میں مشغول ہوتی ہے اور
کبھی وہ صورت روز و شب تلاوتِ قرآن اور آیات حفظ کرنے میں مشغول ہوتی ہے اور
کبھی وہ صورت علم ِ فضیلت بیان کرتی ہے اور نص و حدیث، تفسیر، مسائل ِ فقہ اور فرض، واجب، سنت، مستحب کے علم کے ذریعے سنت ِ محمدی کو بجا لانے اور
ربّ کے حضور پیش ہونے کے فرض آداب سکھاتی ہے اور
کبھی وہ صورت ذکر ِ اللہ میں غرق ہوتی ہے اور
کبھی وہ صورت وجود کے اندر بلند آواز سے
سِرِّھُوْ، سِرِّ ھُوْ، ھُوَ الْحَقُّ، لَیْسَ فِی الدَّارَیْنِ اِلَّا ھُوْ
پکارتی ہے جو طالب کو سنائی دیتی ہے اور
کبھی وہ صورت ماضی، حال اور مستقبل کے احوال ایک ساتھ بتاتی ہے اور اکثر وہ صورت رات دن نماز میں مشغول رہتی ہے اور طاعت و بندگی سے کبھی بھی فارغ نہیں رہتی۔ اور وہ صورت ہر لمحہ شریعت کی نگہداری کرتی ہے۔ اگر طالب سے کوئی خطا، غلطی یا غیر شرعی امر واقع ہو جائے یا پھر کفر، شرک، بدعت یا گناہ کا کوئی جملہ اس کے منہ سے ادا ہو جائے تو وہ صورت نفس کو ملامت کرتے ہوئے محاسبہ کے لیے مغلوب کرتی ہے اور نفس سے کہتی ہے کہ پڑھو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حدیث:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ بِالْفَنَآئِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ بِالْبَقَآئِ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔
نفس فنا فی الشیخ کے مراتب پر پہنچ کر ہی خدا کو پہچانتا ہے۔ یہ صورت جب وجود میں غائب ہو جاتی ہے تو وجود گناہوں سے تائب ہو جاتا ہے۔ یہ صورت صرف صفائے قلب سے حاصل ہوتی ہے۔
توحید ِ مُطلب
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ توحید ِ مُطلب کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
اپنے شیخ کی جانب یکسوئی، اس سے انتہا درجہ کی محبت اور جان و مال سے بھی زیادہ اسے عزیز رکھنا اور یہ سمجھنا کہ گو دنیا میں ہزاروں لاکھوں بزرگ ہوں مگر میرا مطلب میرے ہی شیخ سے حاصل ہوگا اور میرے فتح ٔباب کی کنجی میرے ہی شیخ کے ہاتھ میں ہے، توحید ِ مُطلب کے نام سے موسوم ہے۔ اخذ ِ فیضان کے لیے توحید ِ مُطلب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جب تک اپنے شیخ کے ساتھ اس نوع کی یکسوئی کا تعلق پیدا نہ ہوگا اخذ ِ فیضان نہ ہو سکے گا۔
دوئی بمذہب ِ عشاقِ معنوی کفر است خدا یکے و پیمبر یکے و پیر یکے
ترجمہ: حقیقی عشاق کے مذہب میں دوئی کفر ہے۔ اللہ بھی ایک ہے، پیغمبر بھی ایک ہے اور پیر ِ کامل بھی ایک ہے۔ (سرّ ِ دلبراں)
توحید ِ مُطلب تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ طالب اپنے نفس اور شیطان سے جہاد کرے جن کا سب سے بڑا وار یہ ہے کہ وہ طالب کے دل میں مسلسل یہ وسوسے ڈالتے رہتے ہیں کہ ان کا پیر کامل نہیں ہے، یا یہ کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہ غلط ہے، ان کا پیر انہیں گمراہ کر رہا ہے۔ یا کبھی والدین، شریک ِ حیات یا اولاد کی محبت کی طرف طالب کی توجہ مبذول کروا کر مرشد سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی مالی و معاشی مسائل میں الجھا کر حق سے دور رکھتے ہیں، ایسے میں طالب ِصادق پر جہاد بالنفس لازم اور واجب ہو جاتا ہے جسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جہادِ اکبر قرار دیا ہے۔ طالب اگر اپنی پوری قوت اور ہمت سے ان وسوسوں سے لڑے اور اپنی توجہ کسی صورت بھی اپنے مرشد سے نہ ہٹنے دے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی بد خیال کو اپنے دل میں جگہ دے تو جلد ہی کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ وسوسوں کی حالت میں طالب کو کثرت سے ذکر ِ اسم ِ اللہ ذات کرنا چاہیے اور سورۃ الناس کے ورد کے طور پر اللہ سے مدد اور پناہ طلب کرنی چاہیے ان وسوسے ڈالنے والوں کے خلاف خواہ وہ جن شیطان ہوں یا انسان شیطان۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی شیطان جن شیطان سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ طالب کے پیارے رشتہ داروں کی صورت اختیار کر کے اس کو اللہ سے دور کرتا ہے۔ کبھی والدین کی صورت میں آکر کہتا ہے کہ تم کس راہ پر لگ گئے ہو، چھوڑو یہ کام اور نوکری اور گھربار پر توجہ دو، کبھی بیوی تو کبھی اولاد کی صورت میں آکر طالب کی توجہ اللہ سے ہٹا کر اپنی طرف پھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی عام لوگوں کی صورت میں، جو بلاوجہ مرشدین ِ کاملین کے متعلق گستاخانہ گفتگو کر کے طالب کو ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں طالب ِ صادق کو چاہیے کہ وہ ہوشیار رہے اور ان لوگوں میں چھپے شیطان کے وار کو پہچانے ورنہ کبھی منزل نہ پا سکے گا۔
مرشد تو تمام صحابہ کرامؓ بھی رکھتے تھے پھر دوسرے کون ہوتے ہیں کہ مرشد سے روکیں۔ پس معلوم ہوا کہ مرشد سے وہ شخص روکتا ہے جس کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی طلب و معرفت نہیں، جس کا دل مردہ ہے اور جس کے نفس نے اسے معرفت ِ الٰہی اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے روک رکھا ہے حالانکہ تعلیم و تلقین و دست ِ بیعت اور ہدایت و ولایت ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سلسلہ چار پیروں اور چودہ خانوادوں سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔
اگر گیتی سراسر باد گیرد
چراغِ مقبولاں ہرگز نمیرد
چراغی را کہ ایزد بر فروزد
ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد
ترجمہ: اگر تمام جہان طوفان کی زد میں آ جائے تو بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول لوگوں کے چراغ نہیں بجھیں گے۔ جن چراغوں کو اللہ نے خود روشن کیا ہو اس پر جو بھی پھونک مارے گا وہ اپنی داڑھی خود جلائے گا۔
جو شخص صاحب ِ شریعت مرشد سے روکتا ہے وہ ہدایت ِ الٰہی سے محروم رہتا ہے کیونکہ مرشد طالب کو ذکر ِ اللہ کی راہ پر چلاتا ہے اور ذکر ِاللہ کے بغیر انسان حقیقی مسلمان نہیں ہوتا خواہ عمر بھر قرآن و تفسیر پڑھتا رہے یا نماز و علم ِ فقہ پڑھتا رہے کیونکہ ابتدا سے انتہا تک مسلمانی کی بنیاد ذکر ِ اللہ ہے۔
اگر طالب میں اللہ کو پانے کی سچی لگن ہے تو اُسے چاہیے کہ ہر رکاوٹ اور شیطانی وسوسوں کے باوجود مرشد سے اپنا تعلق استوار رکھے، اس سے کسی صورت بدگمان ہو کر دور نہ ہو۔ ظاہری طور پر والدین، اولاد، گھربار کے تمام فرائض احسن طریقے سے پورے کرے اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑے۔ نہ کسی سے بحث و تکرار کرے، نہ الجھے اور نہ کسی کی باتوں میں آکر اپنا راہِ حق کا راستہ چھوڑے، خاموشی سے باطن میں اپنی توجہ اپنے مرشد اور ذکراللہ کی طرف رکھے، دل میں آنے والے وسوسوں کو شدت سے رد کرے۔ خود کو یقین دلائے کہ میری طلب سچی ہے مجھے تو صرف اللہ کو پانے کی آرزو ہے، میرا اللہ خود میرا راہنما ہے، وہ مجھے کیسے گمراہ ہونے د ے سکتا ہے، اس نے ضرور مجھے کامل مرشد کے در تک پہنچایا ہوگا کیونکہ اس کا وعدہ ہے:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت۔69)۔
ترجمہ: ’’اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے‘‘
اپنی ہمت اور توکل اور فضل ِ الٰہی سے جب وہ ان وسوسوں سے رہائی پائے گا تو جلد توحید ِ مُطلب تک پہنچ جائے گا جس کے بعد اس کے فنا فی الشیخ کے سفر کا آغاز ہوجائے گا۔
توحید ِ مُطلب پر پہنچنے کے لیے ایک اور انتہائی ضروری بات خدمت اور اطاعت ِ مرشد ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
ترجمہ: ’’اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور اس کی جو تم میں سے اولی الامر ہو‘‘ (سورہ النساء۔59)۔
اس آیت میں اولی الامر سے مراد وہ کامل اکمل مرشد ہے جو فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہو، جس کا قدم قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہو اور جو حقیقتاً اللہ کا خلیفہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب ہو کیونکہ صرف اسی کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوگا۔ بعض لوگ اولی الامر سے مراد دنیاوی حکمران بھی لیتے ہیں حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاوی حکمرانوں کے نہ اعمال اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف سے دئیے گئے احکام اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں۔ جس کا حکم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے متصادم ہو وہ ہرگز اولی الامر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ مرشد کامل اکمل ہی وہ حقیقی اولی الامر ہے جس کی اطاعت کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔
پس مرشد وہ ہے جو شروع میں ہی بلا رنج و ریاضت معیت ِ مولیٰ کا اعلیٰ خزانہ حاصل کر لے۔ ایسے مرشد کو اسم ِ اللہ کے مشاہدے میں غرق رہنے والا صاحب ِ حق الیقین مرشد کہتے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے قال و اعمال و احوال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قال و اعمال و احوال جیسے ہو جاتے ہیں اور قالِ محمدی کلامِ الٰہی قرآن اور حدیث ہے۔ اعمالِ محمدی نماز ہے اور حالِ محمدی خلق باخلق ہے۔ الغرض اس کے تمام احوال احوالِ محمدی کے مطابق ہو جاتے ہیں اور احوالِ محمدی استغراقِ نور ’’اللہ‘‘ ہے۔
مرشد کی خدمت اور اطاعت حقیقتاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت اور اطاعت ہوئی اور بلاشبہ اس سے حاصل ہونے والا فیض والدین، حکام، افسران یا دیگر لوگوں کی اطاعت سے ملنے والے ثواب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ درحقیقت مرشد کا درجہ روحانی باپ کا ہے کیونکہ اس کی بدولت طالب کی روح کو حیات حاصل ہوتی ہے، وہی طالب کی روح کا رازق بھی ہوتا ہے۔شیخ قلب و روح و شریعت کو زندہ کرتا ہے ، نفس و شہوت و ہوا و طمع و حرص اور بدعت کو مار دیتا ہے۔‘‘ ظاہر و باطن میں طالب جس لمحے مرشد سے بد ظن ہوتا ہے اسی لمحے مردود ہو جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسے فوراً استغفار کرنا چاہیے۔
مبارک ہو بروز حشر پریشان نہیں ہوگے۔۔۔۔۔
جن لوگوں کی نظر میں جسم کی اہمیت روح سے زیادہ ہے ان کے لیے ان کے جسمانی والدین کی اطاعت زیادہ اہم ہوگی لیکن جو لوگ جانتے ہیں کہ جسم فانی ہے اور ان کی اصل حقیقت ان کی روح ہے جس کو موت نہیں اور جسے سب جزا و سزا بھگتنا ہے، وہ اپنے روحانی والد یعنی مرشد کامل اکمل کی خدمت و اطاعت کو جسمانی والدین کی خدمت و اطاعت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ سورۃ عبس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخْیْہِ۔ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہِ۔ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیْہِ۔ (سورہ عبس۔34-36)
ترجمہ: اس ( قیامت کے) دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا اور اپنی ماں اور باپ سے (بھی) اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھی)۔
کیونکہ ان لوگوں کی محبت اور اطاعت نے اسے اللہ سے محبت اور اس کی اطاعت سے روکے رکھا، ان جسمانی رشتوں کو نبھانے کی خاطر اس نے اپنے روحانی رشتے کی پرواہ نہ کی البتہ جس نے روح اور روحانی رشتے کو نبھانے کی فکر و پرواہ کی، اسے نبھانے کے لیے تگ و دو کی اس کی روح روزِ قیامت پریشان حال نہ ہوگی۔ اللہ کی اطاعت اور اللہ سے محبت کے لیے ضروری ہے کہ اولی الامر مرشد کامل کی اطاعت اور خدمت کی جائے جس کی اطاعت کا حکم اللہ نے اپنی اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے ساتھ دیا ہے۔
اے طالب صادق (سالک)فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ۔ ان مراتب تک پہنچنے کے لیے مرشد سے عشق ضروری ہے۔ اسے فقر میں عشق ِمجازی کہا جاتا ہے اور عشق ِمجازی ہی عشق ِحقیقی تک راہنمائی کرتا ہے۔ عارفین یا فقرا کاملین کے نزدیک عشق ِ مجازی (عشق ِ مرشد) کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشق ِ حقیقی (اللہ تعالیٰ کے عشق) تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشق ِمجازی کسی عورت کے مرد اور مرد کے کسی عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے۔ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ راہِ فقر میں عشق ِ مجازی سے مراد عشق ِمرشد ہے۔ عشق ِمجازی (عشق ِمرشد) کے لیے عام سلاسل میں یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لیے کہا جاتا ہے بلکہ آج کل تو کچھ سلاسل یا پیروں نے باقاعدہ اپنی تصاویر بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ طالب (مرید) ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے، اس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہو سکتا ہے اور آج کے پُرفتن دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے، پھر یہ شرک اور بت پرستی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ تو انسانی جبِلّت ہے کہ وہ جس کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے اُسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔
طالبوں کے تین مراتب ہوتے ہیں:
(1) مرتبہ فنا فی الشیخ ۔ جب طالب (مرید) شیخ (مرشد) کی صورت کا تصور کرتا ہے تو جس طرف نظر کرتا ہے اُسے شیخ (مرشد) نظر آ تا ہے۔
(2) دوسرا مرتبہ فنا فی اسمِ محمد ہے۔ جب طالب صورتِ اسمِ محمد کا تصور کرتا ہے تو جس طرف بھی نگاہ کرتا ہے اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نظر آتی ہے۔
(3) تیسرا مرتبہ فنا فی اللہ کا مرتبہ ہے۔ جب طالب ’’اسمِ اللہ ذات‘‘ کا تصور کرتا ہے تو نفس مرجاتا ہے اور جس طرف بھی دیکھتا ہے اُسے انوارِ اسمِ اللہ ذات کی تجلیات نظر آتی ہیں۔ اسے مرتبہ لامکاں کہا جاتا ہے اور طالب اپنی خودی ختم کرکے اِن تجلیات میں فنا ہو کر فنا فی اللہ ہوجاتا ہے۔
یاد رکھیں راہِ فقر میں مشکل ترین مرحلہ فنا فی الشیخ ہی ہے۔ اگر شیخ کامل ہے تو وہ پہلے ہی فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور فنا فی اللہ ہوگا۔ اگر طالب فنا فی الشیخ ہوجائے تو اُسے دوسرے مراتب طے کرتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ اگر مرشدسروری قادری صاحبِ مسمیّٰ نہ ہو تو اِن تین مراتب کو طے کرتے کرتے سالہا سال لگ جاتے ہیں پھر بھی طالب ان مراتب کی حقیقت تک نہیں پہنچ پاتا۔
فنا فی الشیخ سب سے اعلیٰ اور مشکل مرتبہ ہے فقر میں۔ اس میں ظاہری نزدیکی یا ظاہری دوری معنی نہیں رکھتی۔
فقر میں سب سے مشکل کام فنا فی الشیخ ہے۔ مرشد کی حیات میں طالب عشق کی بدولت باطن میں فنا فی الشیخ کے مقام پر فائز ہوتا ہے اور مرشد کے وصال کے بعد اس کی صورت، سیرت، اقوال، افعال، عادات و خصائل مرشد کی مثل ہو جاتے ہیں اور وہ سر سے قدم تک مرشد کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔
اتباع سے مراد ظاہری و باطنی کامل اتباع ہے صرف ظاہر کی اتباع نامکمل ہے۔ باطن میں فنا فی اللہ بقا باللہ تک پہنچنا کامل اتباع ہے۔
.png)
No comments:
Post a Comment