صفحات

Friday, October 25, 2024

33 واں مراقبہ حقیقتِ احمدی ﷺ - جمعہ 3 اکتوبر 2024- 28 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

36  دَرس--04اکتوبر 2024 | بروز: جمعہ 28 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 


مراقبہ حقیقتِ احمدی ﷺ

(33واں سبق)


نیت مراقبہ احمدی صلی اللہ علیہ وسلم

فیض می آید از ذات بیچون کہ محبوب ذات خود است و منشاء حقیقت احمدیست علیہ السلام بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو اپنی ذات کی خود  محبوب ہے  اور حقیقت احمدی  علیہ السلام  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح مراقبہ احمدیﷺ

مرتبہ مقدسہ حقیقت محمدی کے بعد  وصول سالک مرتبہ حقیقت احمدی  میں ہوتا ہےیہ مقام محبوبیت ہے۔ لیکن اس کا تعلق روحی ہے۔ اور اس کو  دائرہ  محبوبیت صرفہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پربھی درود پاک مذکورہ  کی کثرت کی جائے۔   

مرتبہ خلت یعنی محبوبیت صفائی کا حسن و جمال ظاہری سے تعلق ہے۔ اس مرتبہ حقیقت احمدی میں محبوبیت ذاتی کا انکشاف ہوتا ہے محبوبیت ذاتی سے یہ مراد ہے کہ محبوب کی ذات ہی ذات کمال و شدت محبت کی موجب ہو یہاں محبوبیت صفاتی کے برخلاف ذات محبوب میں وہ آن و ادا ظاہر ہوتی ہے جس پر محبوبیت صفاتی بھی فدا ہے. یہ ایک ذوقی کیفیت ہے جب تک ذوق پیدا نہ ہو یہ کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی۔

حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور پر نورﷺ کے دو مبارک نام ہیں ۔محمدﷺ اور احمدﷺ ان دونوں اسماء مبارک کی صراحت قرآن پاک میں اس طرح موجود ہے ۔محمد رسول اللہﷺ اور دوسرے مقام پر و مبشرا برسول ياتي من بعدي اسمه أحمد . ان دونوں اسمائے مبارکہ کی شان جدا جدا ہے شان محمدی ﷺ کا تعلق اگر چہ محبوبیت ہی سے ہے لیکن اس میں محبت کا امتزاج بھی ہے۔ محبوبیت خالص نہیں اور شان احمدی ﷺ اعلی و ارفع ہے شان محمدی ﷺ سے اور خالص محبوبیت کا مقام ہے ۔ اس لیے محب کو مرغوب تر ہے ۔ کہ مطلوب سے قریب تر ہے ۔محبوب محبوبیت میں جس قدر کامل ہوگا اس قدرمحب کی نظر میں زیادہ عزیز ہوگا

مزید برآں فرمایا کہ حقیقت احمدی ﷺ اور حقیقت کعبہ بعینہ ایک ہی ہیں ۔ حقیقت کعبہ کا تعلق حقائق الہیہ سے ہے اور حقیقت احمد ﷺ حقائق انبیاء علیہم السلام سے ہے۔ بزرگ اولیاء اللہ نے اس کی تصدیق یوں فرمائی ہے کہ جب سیر نظری اس مقام کی کھلی تو امام ربانی رحمہ اللہ تعالی علیہ کا بیان عالی شان درست نظر آیا۔ کیونکہ ظہور حقیقت کعبہ میں جو کبریائی اور عظمت ہے یہی خاصہ محبوبیت کا ہے اورمحبوبیت ومسجودیت دونوں آنحضرتﷺ کے شایان شان ہیں ۔ مقام خلت یعنی محبوبیت صفاتی کا تعلق ظاہری حسن و جمال سے ہے۔ حقیقت احمدی ﷺ میں محبوبیت ذاتی کا کشف ہوتا ہے ۔ محبوبیت ذاتی سے مراد یہ ہے کہ محبوب کی ذات ہی کمال و شدت محبت کا سبب ہو۔ یہاں ذات محبوب میں وہ شان وادا ظاہر ہوتی ہے جس پر محبوبیت صفاتی بھی قربان ہے ۔ یا ایک ذاتی کیفیت ہے اور ذوق کے بغیر مجھ میں نہیں آتی ۔ فناء و بقاء دوقسم کی ہے ۔ ایک وہ جو ولایت کے درجات طے کرتے ہوئے سالک کو حاصل ہوتی ہے۔ اس میں بشری صفات ختم نہیں ہوتی جبکہ حقیقت احمدی ﷺ میں سالک کو جوفناء و بقاء نصیب ہوتی ہے ۔ اس میں صفات بشری معدوم اور جسم روح کی مماثلت پیدا کر لیتا ہے ۔اس مقام پر بھی بند ہ بندہ ہی رہتا ہے ۔ البتہ ذات پاک جل شانہ کے قریب تر ہو کر معیت ذاتی سے مشرف ہو جا تا ہے ۔محبت ذاتی فناء کی علامت ہے اور فناء سے مراد غیر اللہ کا فراموش ہو جاتا ہے ۔ جب سالک مکمل فناء حاصل کر لیتا ہے تو وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے ۔ جس طرح اللہ تعالی نے حضور پاک ﷺ کو اپنی محبوبیت کے جذب سے جسد مبارک کے ساتھ معراج کرایا اسی طرح ہر سالک کواسی جذب سے اس کی حیثیت کے مطابق عروج عطا فرماتے ہیں ۔



Thursday, October 24, 2024

32 واں مراقبہ حقیقتِ محمدی ﷺ - جمعرات2 اکتوبر 2024- 27 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

35  دَرس--02اکتوبر 2024 | بروز: جمعرات 28 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ حقیقتِ محمدی ﷺ

(32واں سبق)


نیت مراقبہ حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 فیض می آید از ذات بیچون کہ محب ذات خود است و محبوب ذات خود است منشاء حقیقت محمدیست علیہ السلام بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  اپنی ذات کی محب اور محبوب  اور حقیقت محمدیہ  علیہ السلام  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری  ہیئت وحدانی  میں فیض آتا ہے۔

تشریح حقیقت محمدی

یہ حقائق کی اصل ہے حقیقت حقائق ہے اور دیگر حقائق خواہ انبیاء علیہم السلام کی ہوں یا ملائکہ کی حقیقت الحقائق کے سامنے ظلال کی مانند ہے اس کے اوپر کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تعین اول کے دائرہ کا یہ مرکز ہے سب سے افضل اولیاء محمدی المشرب کےسلوک کی یہ انتہاء ہے یہ جناب سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے ساتھ تعین جسدی کا مقام ہے۔ یہ مقام محبیت ومحبوبیت ہے۔اور کائنات کا ذرہ ذرہ انہی دو کے ساتھ وابستہ ہےکسی کی شان محبیت اور کسی کی شان محبوبیت کے ساتھ  البتہ حقیقت محمدیہ ان سب کی جامع ہے  اس مقام پر اس درود شریف کی کثرت کی جائے۔ 

اللهم صلي على سيدنا محمد و آله وأصحابه أفضل صلواتک عدد معلوماتک و بارك وسلم

محمدی المشرب تمام مراتب کا جامع ہے اس میں سالک متخلق باخلاق اللہ ہو جاتا ہے اس ولایت کو ولایت حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور سالک کو محمدی المشرب کہتے ہیں۔جب سالک مقام حقیقت محمدی ﷺ میں فناء و بقاء بدرجہ اتم حاصل کر لیتا ہے تو حبیب خداﷺ کے ساتھ ایک خاص قسم کی رابطہ تعلق قائم ہو جا تا ہے ۔ اور سالک بطفیل سید عالم ﷺ کامل مشابہت کے مرتبہ پر پہنچتا ہے اور تابع ومتبوع دونوں کے ایک ہی چشمہ سے سیراب ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اس مقام کے راز بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ان حالات میں آنحضرتﷺ سے ایک خاص محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اور حضرت مجدد الف ثانی کا قول واضح ہو جاتا ہے کہ خدائے عز وجل کو میں اس لیے دوست رکھتا ہوں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کا خدا ہے ۔ یہ قول حضرت مجددالف ثانی نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفور جذبات محبت میں فرمایا ہے اور اس مقام کی خصوصیات دینی اور دنیاوی معاملات میں بلکہ جملہ حرکات وسکنات میں نبی کریمﷺ کی کامل اتباع ہے ۔ صحا بہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہر شعبہ زندگی میں سید المرسلین حضور پرنورﷺ کی مکمل واکمل اتباع کیا کرتے تھے ۔اس اتباع سنت نبویﷺ کی برکت اور فیضان تھا کہ حضرت حنظلہ فرماتے ہیں آنحضرتﷺ کی مجالس مبارک میں جب جنت و دوزخ اور دیگر غائبات کا ذکر ہوتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہم ان غائبات کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔

سالک پر اس مرتبہ میں یہی کیفیات اور واردات ہوتی ہیں ۔ یہ مقام آنحضرتﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔ اور آپ ﷺ کی اتباع کامل کی بدولت عطا ہوتا ہے ۔اس مقام میں صحبیت اور محبوبیت کا امتزاج ہے اس لیے سالک سے بھی آثار فریفتگی ومحبت ظاہر ہوتے ہیں ۔محب ومحبوب خود اللہ تبارک و تعالی کی ذات سے انس و حبت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے لیے یہ مراقبہ کرایا جا تا ہے ۔ اس مراقبہ کی بدولت سا لک محب ومحبوب بن جا تا ہے ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مقام جامع حقائق انبیاء اور جامع کتب آسمانی کے اسرار کا ہے اگر میں محمد ﷺ کے معنے اس جگہ بیان کروں تو ظاہر عالم والے جن کو اس حقیقت سے حصہ نہیں ملا کیا کہیں گے ۔ اور بے علم صوفی مشرک ہو جائیں گے ۔اے دل یہ حال ہے قیل و قال نہیں اسے اندر ہی رکھ ۔اہل کو دے نااہل سے چھپا۔

اس مقام میں جس کو رسوخ ہو وہ بواسطہ اتباع پیغمبر آخر الزمان آنحضور ﷺ کے ہے ایسے لوگوں کی مجلس بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی مجلس جیسی ہوتی ہے ۔ جو رسول اللہﷺ کے اردگرد حاضر رہتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین فرماتے ہیں کہ جس وقت ہم محفل مقدس رسول اللہﷺ میں حاضر ہوتے تھے تو اس وقت ہماری یہ حالت ہوتی تھی کہ گویا ہماری آنکھیں خدا تعالی کو دیکھ رہی ہیں ۔

اس مقام کا یہ حال ہے کہ مقام بے مثل و بے مثال ہے اور کمال یہ ہے کہ اس مقام کے لیے بھی پیرومرشد ہی کی نظر باطن صفا بیک جنبش نظر مقامات طے کر اسکتی ہے ۔ الا ماشاء اللہ۔

Wednesday, October 16, 2024

31 واں مراقبہ حقیقتِ موسوی علیہ السلام - بدھ 1 اکتوبر 2024- 26 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

34  دَرس--30 ستمبر  2024 | بروز:  پیر 27 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 


مراقبہ حقیقتِ موسوی علیہ السلام

(31واں سبق)

نیت مراقبہ حقیقت موسوی علیہ السلام

فیض می آید از ذات بیچون کہ محب ذات خود است منشاء حقیقت موسویست علیہ السلام بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو اپنی ذات کی محب  اور حقیقت موسوی  علیہ السلام  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔


تشریح حقیقت موسوی

حضرت موسی علیہ السلام کی ایک ظاہری شکل و صورت اورایک حقیقت ہےحقیقت کا اظہارید یضاء(ہاتھ کا سورج کی طرح چمکنا) عصائے موسی علیہ السلام (اژدہا بننا)اللہ سے ہمکلام ہونا

  مرتیہ حقیقت ابراہیمی( جس میں اللہ تعالیٰ کا اپنی صفات سے محنت کرنے کا ذکر تھا) کی سیر کے بعد سالک کو مرتبہ حقیقت موسوی کی سیر کرائی جاتی ہے یہ مقام محبت ذاتیہ( جس میں اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات سے محنت کرنے کا ذکر ہے) کا مقام ہے۔ اور بہت سے پیغمبران علیہم السلام حضرت موسی کلیم الله علیہ السلام کی وساطت سے اس مقام پر پہنچے ہیں۔ یہاں نیاز و بے نیازی کی اداؤں کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں پر درج ذیل درود پاک تین ہزار کی تعداد میں پڑھنا موجب اجر و برکت ہے. اللهم صل على محمد واصحابه و على جميع الأنبياء والمرسلين خصوصا على کلیمک موسی علیہ السلام

            اللہ تعالی کی شان حبیت یعنی اپنی ذات سے محبت و دوستی جو حقیقت موسوی کے نام سے موسوم ہے اس مقام میں بھی عجیب وغریب کیفیات بقوت تمام سالک کے باطن پر وارد ہوتی ہیں اور سالک کو اللہ تعالی کے ساتھ کمال درجہ محبت ہوتی ہے اسی کمال محبت کا تقاضا تھا کہ جناب موسی علیہ السلام نے عرض کیا

رب ارنی أنظر إليك۔

ترجمہ: اے میرے پروردگار تو مجھے اپنی ذات کا جلوہ دکھا تا کہ میں تیری طرف دیکھوں ۔

محب صادق سید نا موسی علیہ السلام کو شوق دیدار الہی نے بے چین و بے قرار کر رکھا تھا۔ کہ کسی طرح اپنے محبوب حقیقی کا دیدار پردہ ذات مطلق کے بغیر ہونا چاہیے۔ کیونکہ انوار و شیونات کے پس پردہ  اس ذات سے شرف تکلم کی وجہ سے حقیقی دیدار کا شوق تھا اور ذات باری تعالی کا ارشاد ہوتا ہے

لن ترانی۔ ترجمہ: اے موسی تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔

اس میں راز یہ تھا کہ ذات مطلق کا دیدار محبوب ذات مطلق سید المرسلین آنحضورﷺ کے لیے مختص ہو چکا تھا۔ اور ذات مطلق سے ہم کلام ہونا حضرت موسی علیہ السلام کا حصہ مقرر تھا۔ جس سے آپ علیہ السلام بہرہ ور تھے ۔ عادت اللہ کے تحت اس میں تبدیلی ممکن نہ تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام کی طرف سے مسلسل اصرار اور اظہار محبت کے جواب میں چالیس دن کو ہ طور پر گزارنے کا حکم آیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی تعمیل کے بعد اللہ تبارک وتعالی نے انگوٹھے کے پورے برابر اپنی ذات کی تجلی کوہ طور پر فرمائی جس کے دیکھتے ہی حضرت موسی علیہ السلام جذب محبت الہی میں بے ہوش ہو گئے ۔ اور کوہ طور تجلی کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ حضرت موسی علیہ السلام کی حب ذات کا ثبوت ہے ۔

ہر محبت جاں نثار پر لازم ہے کہ سوائے محبوب حقیقی کے کسی اور کے ساتھ دلی تعلق نہ بڑھائے کہ کمال محبت کا یہی تقاضا ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام مقام محب ذات خاص پر فائز ہیں جس خوش نصیب کو چاہتے ہیں یہ مقام نعمت عظمے عطا فرما دیتے ہیں اس مقام میں سالک کامل رضا و تسلیم کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔ بلکہ اسے مصائب و مشکلات میں بھی وہی لذت نصیب ہوتی ہے۔ جو آرام و آسائش میں ہوتی ہے ۔



Tuesday, October 15, 2024

30 واں مراقبہ حقیقتِ ابرھیم علیہ السلام - پیر 29 ستمبر 2024- 25 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

32  دَرس--30ستمبر 2024 | بروز: پیر 25 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ حقیقتِ ابرھیم علیہ السلام

(30واں سبق)



نیت مراقبہ حقیقت ابراہیمی علیہ السلام

فیض می آیداز ذات بیچون کہ محب صفات خود است و منشاء حقیقت ابراہیمی علیہ السلام است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  اپنی صفات کی محب  اور حقیقت ابراہیمی  علیہ السلام  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔


تشریح

  مراقبہ معبودیت صرفه پر حقائق الہیہ کی سیر ختم اور مراقبہ حقیقت ابراہیمی سے حقائق انبیاء علیهم السلام میں سالک کی سیر شروع ہوتی ہے حقائق الہیہ میں سالک  کی ترقی محض فضل الہی پر مبنی تھی یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفورمحبت پر موقوف ہے ۔

یہ مقام بہت بلند ہے۔ یہاں تمام انبیا علیہم السلام ملت ابراہیم علیہ السلام پر مامور ہیں۔ اس جگہ درود ابرا ہیمی زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہئے۔

یہ حقیقت ابراہیمی کا مقام ہے اس مقام کے بہت سے انوار و اسرار ہیں اس مقام عالی شان میں اللہ تعالی کی ذات سے خاص انس و قرب اس طرح پیدا ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالی اپنی ذات کو دوست رکھتا ہے ۔ ویسے ہی اپنی صفات و افعال کو بھی دوست رکھتا ہے ۔ کمالات صفاتی اور محبوبیت اسمائی کا ظہور حضرت ابراہیم علیہ السلام میں ہے یہاں سا لک حقیقت ابراہیمی اور مقام خلت کی سیر کرتا ہے ۔ اسی انس وموانست کا ظہور حقیقت ابراہیمی میں ہوا ۔ اس لیے آپ کو لقب خلیل اللہ رکھا گیا۔ یہ مقام نہایت عجیب وغریب اور کثیر البرکات ہے ۔اس مقام کی نسبت کمالات ثلاثہ(کمالات نبوت ۔کمالات رسالت ۔کمالات اولوالعزم) سے بھی زیادہ بلند و بالا تر اور وسیع ولطیف ہے ۔ جمیع انبیاء کرایم علیھم السلام اس مقام میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے تابع ہیں ۔ یہاں تک کہ آنحضرتﷺ کو بھی اتباع ابراہیمی کا حکم دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اتبع ملت ابراهيم حنيفا سے ثابت ہے اور درودابرا ہیمی اس پر شاہد ہے ۔ درودابراہیمی کی کثرت اس مقام میں ترقی بخش ہے ۔

اس مقام کے سالک کو اللہ جل شانہ کے ساتھ ایسا انس پیدا ہوتا ہے کہ وہ غیر اللہ کی طرف رخ نہیں کرتا اگر چہ وہ اسماء وصفات الہیہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ نہ ہی وہ غیر سے مدد طلب کرنا پسند کرتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود میں ڈالا جا رہا تھا۔ آپ منجنیق سے چھوٹ چکے تھے۔ اور آگ میں گرنے کے قریب تھے کہ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کیا ابراہیم علیہ السلام میری مدد کی ضرورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تم خود آئے ہو یا کسی کے حکم پر جواب ملا کہ میں خود آیا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اللہ تعالی سے عرض کروں آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی کو میرے اس حال کی خبر ہے ۔اس لیے اس کی بھی ضرورت نہیں تم میری راہ سے ہٹ جاؤ ایسے نازک وقت میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت قرب وانس کا پتہ چلتا ہے۔ بالاخر آپ آگ میں جھونک دیئے جاتے ہیں ۔  آتش نمرود نے گلزار ابراہیمی علیہ السلام کی شکل اختیار کر لی سالک کو اس مقام میں اسی نسبت ابرا ہیمی علیہ السلام سے فیض حاصل ہوتا ہے ۔ اس عالی مقام میں جو کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دوسرے مقامات میں کیفیت و خصوصیت حاصل نہیں ہوتی ۔ اگر چہ فضل جزوی ہوتا ہے ۔ اور اس مقام میں محبوبیت صفاتی جلوہ گر ہوتی ہے اور حقیقت محمدی ﷺ واحمدی ﷺ میں محبوبیت ذاتی ہے۔ محبوبیت صفاتی مثل خط و خال اور قد و عارض ہے اس لیے اس مقام میں زیادہ بے رنگی نہیں جبکہ ذاتی محبوبیت کا مقام بہت بلند ہے ۔




Friday, October 11, 2024

29 واں معبودیت صرفہ -اتوار 29 ستمبر 2024- 24 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

31  دَرس--29ستمبر 2024 | بروز: اتوار 24 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ معبودیت صرفہ

(29واں سبق)



نیت مراقبہ معبودیت صرفہ

فیض می آید از ذات بیچون کہ منشاء معبودیت صرفہ است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے جو معبودیت صرفہ کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

  حقائق الہیہ کے مرتبہ ثالثہ حقیقت صلوۃ کی سیر کے بعد سالک کو اس مرتبہ عالی میں سیر کرائی جاتی ہے۔  یہ وہ مقام ہے جہاں روحانی سیر قدمی(بنفس نفیس) ختم ہوجاتی ہے کیونکہ وہ عبودیت کے مقام حقیقت صلوۃ تک تھی اورروحانی سیرنظری(دکھانے والی سیر) باقی رہتی ہے۔سیر قدمی وصول قدمی کا نام ہے۔ اور ذات اگر صورت مثالیہ ( اس جیسی صورت دودھ اور علم حق میں یہ مناسبت ظاہر ہے کہ دودھ جسم انسانی کے لئے بہترین نافع غذا ہے، اسی طرح علم حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو روح کے لئے بہترین اور نافع ترین غذا ہے۔)میں نظر آئے تو اس کو سیرنظری کہتے ہیں۔ اس مقام میں کلمہ طیبہ کے چاروں معنی کامل طور پر حاصل ہوتے ہیں یعنی 

(1) لامعبود إلا الله (کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے)

(2) لا مقصود إلا الله(کوئی مقصود نہیں سوائے اللہ کے) 

(3) لا موجود إلا اللة(کوئی موجود نہیں سوائے اللہ کے)

(4) لامطلوب إلا الله  (کوئی مطلوب نہیں سوائے اللہ کے)

حقیقت صلوۃ کی سیر کے بعد سالک کو معبودیت صرفہ (وہ ذات خالص جو بغیر شرکت اسماء و صفات ہے)کے عالی مقام میں سیر کرائی جاتی ہے۔ یہاں راس خیال سے مراقبہ کیا جا تا ہے ۔ کہ اس ذات سے جو معبودیت صرفہ ہے بواسطہ حضرت پیرومرشد میرے بیئت وحدانی(لطائف عالم امر  عالم  خلق بعد تصفیه قلب تحلیه روح تخلیہ سر فنا و بقا خفی اخفی و تزکیه نفس و طهارت عناصرار بعہ مجموعی طور پر ایک خاص صورت و حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کو ہیئت وحدانی کہا جاتا ہے۔) پرفیض آتا ہے ۔ اس مقام میں روحانی نظری سیر ہوتی ہے۔ چنانچہ معراج کی رات رسول اللہﷺ کوقف یا محمد ﷺ (اے محمد ٹھہر جایئے)کا حکم دیا گیا وہ اس طرف اشارہ کرتا ہے ۔یہ سیر قدمی کی انتہا ہے۔ یہاں ذات اقدس کے وجوب و تجرد اور تنزیہ کا آغاز ہوتا  . یہی وہ مقام ہےجہاں کلمہ طیبہ لا إله إلا الله کی حقیقت اور غیر اللہ کی نفی ثابت ہو کر بجز معبود حقیقی کسی اور کا عبادت نہ ہونا پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے۔ سرکلمہ لا معبودالا اللہ کا ظہور پا تا ہے ۔ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے معنی مبتدیوں کے لیے لامقصودالا اللہ متوسلین کے لیے لا معبودالا اللہ اور منتہیوں کے لیے لامشھو دالا اللہ معلوم ہو جاتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادت کا حق سوائے اللہ تبارک وتعالی جل شانہ کے اور کسی کو حاصل نہیں اگر چہ وہ اسماء وصفات الہیہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس مقام پر ہرقسم کے شرک کی جڑ ختم ہو جاتی ہے ۔ معبودیت صرفہ میں سا لک محسوس کرتا ہے ۔ کہ اب تک اس پر جن تجلیات کا ظہور ہو چکا ہے یہاں معاملہ اس سے کہیں اعلی وارفع ہے ۔

سالک کو مشاهده  تجلیات اسماء و صفات و ذات سے جمیع مراقبات میں بہرہ ور ہونے کےبعد معبودیت صرفہ یعنے خالص ذات سے اکتساب فیض کا مراقبہ کرایا۔ جاتا ہے. اس مقام مقدس میں ترقی وحدت بصر کا نام ہے ۔ اور اس میں کثرت نوافل ترقی کا سبب ہے ۔ یہ حقائق الہیہ کی سیر کا آخری مقام ہے اس مرتبہ عالیہ کا حصول پیرومرشد کی توجہ کے بغیر محال ہے۔

از درون شو آشنا و از برون بیگانه وش           این چنین زیبا روش کم می بود اندر جہاں

  باطن میں آشنا اور بہ ظاہر بیگانہ ایسی اچھی روش والے دنیا میں بہت کم ہیں 



Tuesday, October 8, 2024

28 واں مراقبہ حقیقتِ صلٰوۃ -ہفتہ 28 ستمبر 2024- 23 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

30  دَرس--28ستمبر 2024 | بروز: ہفتہ 23 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 



مراقبہ حقیقتِ صلٰوۃ

(28واں سبق)

part-2

نیت مراقبہ حقیقت صلوۃ

 فیض می آید از کمال وسعت بیچون حضرت ذات کہ منشاء حقیقت صلوۃ است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی  وسعت کمال سے جو حقیقت صلوۃ  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

        اس مقام میں سالک کو دو جزء میسر آتے ہیں ۔ ایک حقیقت قرآن اور دوسرا حقیقت صلوة ۔ اس مراقبہ میں حدیث آن تعبد الله كانک تراہ کے مضمون کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ اور اس کی طرف حدیث شریف الصلوۃ معراج المومنین میں ارشاد ہے۔ اور حدیث شریف اقرب ما يكون العبد من الرب في الصلوة اور قرة عيني في الصلوة میں اسی کی وضاحت ہے۔ سالک اس مقام میں نہایت منہمک ہوجاتا ہے اور اس کوقرب خاص حاصل ہوتا ہے خاص کر سجدہ کی حالت میں کیونکہ اس میں فنائے محض حاصل ہوتی ہے۔  

        نماز ایک رابطہ قدسی ہے جو عبد کو معبود سے ملاتا ہے ۔ اور انوار ربو بیت و معبودیت مطلق سے عبد واصل کو مالا مال کرتا ہے ۔معبود بیت کے ساتھ عبدیت کا لطیف تعلق اور سربستہ راز اور اس مرتبہ کی رفعت و بے مثالی اس مقام سے ظاہر ہوتی ہے ۔اور پتہ چلتا ہے کہ بارگاہ احدیت سے جناب نبی کریمﷺ کو عبدہ کے خاص خطاب سے کیوں مخاطب فرمایا گیا تھا۔ اور سرور کونین ﷺ کی ہرادا سے کس طرح کمال عبدبیت کا ظہور ہوتا تھا۔ یہ عبدیت نماز کامل ہی سے نصیب ہوتی ہے۔

        مرتبہ حقیقت قرآن مجید کی سیر کے بعد اللہ کے فضل سے سالک مقام حقیقت صلوۃ میں سیر حاصل کرتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالکوں کے سیر قدمی کی انتہا ہے ۔ اس مقام میں سالک پر نماز کی حقیقت کھلتی ہے۔ اور انوار و برکات کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ اسے حق سبحانہ تعالی سے انتہائی قربت حاصل ہوتی ہے ۔ جس میں اللہ اور بندہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا۔ اس مقام کی وسعت و بلندی احاطہ تحریر سے باہر ہے ۔اس لیے کہ حقیقت کعبہ ربانی اس مقام کا ایک جزو اور حقیقت قرآن مجید دوسرا جزو ہے۔

        یہ نماز ہی ہے جو بندگان الہی کے لیے بطور تحفہ عالم قدس سے محبوب خدا ﷺ کے سفر معراج کی یادگار ہے ۔ اور مقام قرب محمدی ﷺ واحمدی ﷺ سے بھیجی گئی ہے ۔ اس سے اس کی جامعیت اور مقبولیت کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ تحفہ کس کا ہے ۔ کس مقام سے آیا ہے ۔ اور کون لایا ہے ۔ امام الطریقت حضرت امام مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ نماز تمام عبادات کی جامع ہے ۔اور جزو ہے عبادات کا جس نے کل کا حکم پیدا کر لیا ہے ۔ جامعیت کیوجہ سے اور یہ دیگر تمام اعمال قرب سے برتر ہوگئی ہے ۔ اس لیے حضور پرنو ﷺ نے فرمایا: الصلوۃ معراج المومنین اور     أقرب ما يكون العبد من ربي في الصلوة آنحضرتﷺ کی کامل اتباع کرنے والوں کو اس دولت کا بہت زیادہ حصہ نماز میں نصیب ہو جا تا ہے ۔ اگر نماز کا حکم نہ ہوتا تو چہرہ مقصود کو بے نقاب کون کرتا ۔ اور طالب کو مطلوب کی طرف کون رہنمائی کرتا۔ مومنوں کے حق میں معراج کا مقام نماز ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور معراج کی حقیقت رویت الٰہی ہے جس سے شب معراج میں آنحضرت ﷺ اس عالم سے اس عالم میں پہنچ کر مشرف ہوئے تھے۔ جس سالک نے اس حقیقت مقدسہ سے کچھ بھی سکون حاصل کیا ہے وہ نماز میں اپنے محبوب حقیقی کا جلوہ دیکھتا ہے۔ درمیان میں کوئی حجاب حائل نہیں ہوتا۔اور نمازی اپنے محبوب معبود حقیقی کے دیدار کی خوشی میں والہانہ طور پر نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو جا تا ہے ۔ تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں جہاں سے بیگانہ ہوکر اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہوا اللہ تبارک وتعالی کے حضور میں پہنچ جا تا ہے ۔ اور بارگا ہ جل جلالہ کی عظمت و کبریائی کے مدنظر خود کو ذلیل و نا چیز خیال کر کے محبوب حق پر قربان ہو جاتا ہے اور قرات کے دوران وجودموہوب سے جو عالم ناسوت کے لائق ہے موجود ہوکر حق تعالی سے متکلم اور مخاطب ہوتا ہے ۔ اس وقت سالک کی زبان شجر موسوی بن جاتی ہے ۔ جب رکوع میں غایت درجہ کا خشوع ہوتا ہے تو اور زیادہ قرب کے ساتھ ممتاز ہو جاتا ہے ۔ تسبیح کہتے ہوئے ایک خاص کیفیت سے حظ اٹھاتا ہے ۔ تو حمد وثناء کرتا ہوا قومہ کرتا ہے اور دوبارہ اللہ تبارک و تعالی کے حضور میں کھڑا ہو جا تا ہے ۔ کہ قیام سےسجدہ میں جانا موجب کمال عجز وانکسار ہے ۔جبین عجز و نیاز رو بروئے مالک حقیقی اور سر عبودیت مقصود حقیقی کے سامنے رکھ کر طالب وصل ہوتا ہے کہ ساری نماز کا خلاصہ سجدہ ہی ہے۔


            جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ سجدہ کرنے والا اللہ تعالی کے دونوں قدموں میں سجدہ کرتا ہے ۔ چونکہ قرب سجدہ سے خیال تھا کہ مطلوب حقیقی کا وصل میسر آیا۔ اس لیے اللہ اکبر کہتا ہوا جلسہ میں بیٹھ گیا۔ کہ اللہ تعالی اس سے برتر ہیں کہ میں ان کی کامل طور پر عبادت کر سکوں اور پوری طرح معبود حقیقی کا قرب حاصل کر سکوں ۔ پھر دوبارہ سجدہ کرتا ہے تا کہ اور زیادہ قرب حاصل کروں ۔اس کے بعد تشہد بیٹھ کر اس نعمت قرب کے احسان و اکرام پر جناب باری تعالی میں شکر بجالاتا ہے ۔ کلمہ شہادت پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سارا قرب توحید و رسالت کی تصدیق اور اقرار کے بغیر ناممکن ہے پھر درور شریف اس لیے پڑھتا ہے کہ یہ تمام نعمتیں آنحضرت ﷺ کے طفیل حاصل ہوئی ہیں ۔ اور درود ابراہیمی اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ ادائے نماز کے وقت محبوب حقیقی کے ساتھ خلوت میسر آتی ہے ۔ ہم نشینی خاص خصوصیت کے ساتھ صرف حضرت سید نا ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے اس لیے اس مقام کی نسبت درودابراہیمی علیہ السلام پڑھ کر حاصل کرتا ہے ۔ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اہل دنیا کے اوزان کے ذرہ ذرہ کے برابر آخرت میں اجر وثواب سے نوازے جائیں گے۔ لیکن نماز کا اجران سے کہیں زیادہ ہوگا۔


Thursday, October 3, 2024

27 واں مراقبہ حقیقتِ قرآن مجید -جمعہ 27 ستمبر 2024- 22 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

29  دَرس--27ستمبر 2024 | بروز: جمعہ 22 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 



PART-1

PART-2

مراقبہ حقیقتِ قرآن مجید

(27واں سبق)

نیت مراقبہ حقیقت قرآن مجید
 فیض می آید از وسعت بیچون حضرت ذات کہ منشاء حقیقت قرآن مجید است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  حقیقت  قرآن مجید  کی منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح
اس مقام پرقرآن مجید کے اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن پاک کا ایک ایک حرف مطالب و معانی کا دریا نظر آتا ہے۔ بسا اوقات تمام قالب انسانی مثل زبان بن جاتا ہے۔ لذت تلاوت حاصل ہوتی ہے۔ خداوند قدوس سے راز ونیا کی باتیں ہوتی ہیں۔  

حقیقت قرآن مجید ذات تبارک و تعالی کے صفت العلم سے تعلق رکھتی ہے ۔ جو ظہور عالم سے خدائے تعالی کو حاصل تھا۔ حقیقت کعبہ کی سیر ختم ہونے کے بعد سالک اس مقام مقدسہ کی سیر سے مشرف ہوتا ہے۔ حقیقت قرآن مجید سے مراد حضرت ذات کی بے چونی و بے کیفی کی وسعت وفراخی کا ابتدائی مرحلہ ہے ۔اور حضرت ذات سبحانہ تعالی کی وسعت اس مقام سے مشہود ہوتی ہے ۔ یعنی وہ حالات و کیفیات ظاہر ہوتے ہیں جو وسعت سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ قرآن مجید کے مخفی راز اس مقام سے آشکار ہوتے ہیں ۔ کلام اللہ کا ہر حرف معرفت اور علم وفضل کا بحر بے کنار معلوم ہوتا ہے ۔ جو کعبہ مقصود کا موصل ہے ہر حرف سے بجلی کی چمک عرش مجید تک پہنچتی ہے اور اس بجلی کے نور سے سالک کو عالم ملکوت، عالم جبروت اور عالم لاہوت کی سیر نصیب ہوتی ہے ۔ اور اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں سے کلام فرماتے ہیں اور سالک کو بھی شرف تکلم نصیب ہوتا ہے ۔ قرآن مجید کی تلاوت سے اس مقام پر سالک کے لیے عجیب وغریب اسرار و رموز کا کشف ہوتا ہے ۔مختلف واقعات کی حقیقت اور اوامر و نواہی کے محل وقوع ظاہر ہوتے ہیں ۔حق سبحانہ تعالی کی قدرت و حکمت کے گوہر ہائے گرانمایہ آشکار ہوتے ہیں بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے پند و نصائح اورقصص و حکایات انبیاء علیھم السلام اور احکام شریعت کے ارشادات کے معارف اور حقائق سالک پر منکشف ہوتے ہیں ۔ بوقت تلاوت قرآن مجید سالک کی زبان شجرہ موسوی کا حکم رکھتی ہے ۔ سالک کا تمام قالب زبان کے مثل ہو جا تا ہے۔ گویا زبان قاری سے حق سبحانہ تعالی کلام فرماتے ہیں اور یہاں قدرت کاملہ اور اسرار بالغہ ظہور میں آتے ہیں ۔ اس مقام میں سالک کو اس درجہ بلندی نصیب ہوتی ہے کہ حقیقت قرآن کی نسبت سب پر غالب رہتی ہے ۔ اور کمالات نبوت(بہت سے کمالات میں سےمعصوم ہونا وحی الہی اور علوم غیب کمالات نبوت ہیں) و رسالت اولوالعزم(اولو العزم رسول پانچ ہیں وہ یہ ہیں۔1: حضرت نوح علیہ السلام2: حضرت ابراہیم علیہ السلام3: حضرت موسی علیہ السلام4: حضرت عیسی علیہ السلام5: حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ ) اور نسبت حقیقت کعبہ سب نیچے رہ جاتے ہیں ۔

قرآن مجید عالم بالا میں کہیں نور اور کہیں نور علی نور ہے ۔ اس کی موجودہ صورت حالات عالم ناسوت کی ضرورت کے تحت ہے ۔ انوار قرآن مجید کے انکشاف کی علامت یہ ہے کہ سالک کے باطن پر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے ۔ اور اس پر احکام الہی کے اسرار و رموز اورا وامرونواہی ظاہر ہوتے ہیں ۔

حضرت مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ مرتبہ علیا حقیقیت کعبہ ربانی کے بعد ہر مقام پر حقیقت قرآن کا بیان ہے ۔ کعبہ معظمہ بحکم قرآن مجید قبلہ آفاق ہوکر دولت مسجودیت سے مشرف ہوا ہے۔

انسان جس طرح علم الہی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اسی طرح قرآن مجید کے رموز و مطالب کے احاطہ کرنے سے معذور ہے۔ اس لیے اس مراقبہ میں سالک پران باطنی کیفیات کے وارد کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس مرتبہ مقدسہ میں حروف مقطعات متشابہات قرآنی کے اسرار سا لک پر کھلتے ہیں ۔ اگر چہ یہ مرتبہ آنحضرت ﷺ کے لیے مختص ہے لیکن آپ ﷺ کی اتباع کامل کے باعث آپ ﷺ کے پس خودرہ میں سے سالک کو بھی کچھ حصہ مل جا تا ہے ۔ جو اس کی انتہائی خوش بختی کا موجب ہے۔