صفحات

Tuesday, October 8, 2024

28 واں مراقبہ حقیقتِ صلٰوۃ -ہفتہ 28 ستمبر 2024- 23 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

30  دَرس--28ستمبر 2024 | بروز: ہفتہ 23 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 



مراقبہ حقیقتِ صلٰوۃ

(28واں سبق)

part-2

نیت مراقبہ حقیقت صلوۃ

 فیض می آید از کمال وسعت بیچون حضرت ذات کہ منشاء حقیقت صلوۃ است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی  وسعت کمال سے جو حقیقت صلوۃ  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

        اس مقام میں سالک کو دو جزء میسر آتے ہیں ۔ ایک حقیقت قرآن اور دوسرا حقیقت صلوة ۔ اس مراقبہ میں حدیث آن تعبد الله كانک تراہ کے مضمون کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ اور اس کی طرف حدیث شریف الصلوۃ معراج المومنین میں ارشاد ہے۔ اور حدیث شریف اقرب ما يكون العبد من الرب في الصلوة اور قرة عيني في الصلوة میں اسی کی وضاحت ہے۔ سالک اس مقام میں نہایت منہمک ہوجاتا ہے اور اس کوقرب خاص حاصل ہوتا ہے خاص کر سجدہ کی حالت میں کیونکہ اس میں فنائے محض حاصل ہوتی ہے۔  

        نماز ایک رابطہ قدسی ہے جو عبد کو معبود سے ملاتا ہے ۔ اور انوار ربو بیت و معبودیت مطلق سے عبد واصل کو مالا مال کرتا ہے ۔معبود بیت کے ساتھ عبدیت کا لطیف تعلق اور سربستہ راز اور اس مرتبہ کی رفعت و بے مثالی اس مقام سے ظاہر ہوتی ہے ۔اور پتہ چلتا ہے کہ بارگاہ احدیت سے جناب نبی کریمﷺ کو عبدہ کے خاص خطاب سے کیوں مخاطب فرمایا گیا تھا۔ اور سرور کونین ﷺ کی ہرادا سے کس طرح کمال عبدبیت کا ظہور ہوتا تھا۔ یہ عبدیت نماز کامل ہی سے نصیب ہوتی ہے۔

        مرتبہ حقیقت قرآن مجید کی سیر کے بعد اللہ کے فضل سے سالک مقام حقیقت صلوۃ میں سیر حاصل کرتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالکوں کے سیر قدمی کی انتہا ہے ۔ اس مقام میں سالک پر نماز کی حقیقت کھلتی ہے۔ اور انوار و برکات کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ اسے حق سبحانہ تعالی سے انتہائی قربت حاصل ہوتی ہے ۔ جس میں اللہ اور بندہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا۔ اس مقام کی وسعت و بلندی احاطہ تحریر سے باہر ہے ۔اس لیے کہ حقیقت کعبہ ربانی اس مقام کا ایک جزو اور حقیقت قرآن مجید دوسرا جزو ہے۔

        یہ نماز ہی ہے جو بندگان الہی کے لیے بطور تحفہ عالم قدس سے محبوب خدا ﷺ کے سفر معراج کی یادگار ہے ۔ اور مقام قرب محمدی ﷺ واحمدی ﷺ سے بھیجی گئی ہے ۔ اس سے اس کی جامعیت اور مقبولیت کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ تحفہ کس کا ہے ۔ کس مقام سے آیا ہے ۔ اور کون لایا ہے ۔ امام الطریقت حضرت امام مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ نماز تمام عبادات کی جامع ہے ۔اور جزو ہے عبادات کا جس نے کل کا حکم پیدا کر لیا ہے ۔ جامعیت کیوجہ سے اور یہ دیگر تمام اعمال قرب سے برتر ہوگئی ہے ۔ اس لیے حضور پرنو ﷺ نے فرمایا: الصلوۃ معراج المومنین اور     أقرب ما يكون العبد من ربي في الصلوة آنحضرتﷺ کی کامل اتباع کرنے والوں کو اس دولت کا بہت زیادہ حصہ نماز میں نصیب ہو جا تا ہے ۔ اگر نماز کا حکم نہ ہوتا تو چہرہ مقصود کو بے نقاب کون کرتا ۔ اور طالب کو مطلوب کی طرف کون رہنمائی کرتا۔ مومنوں کے حق میں معراج کا مقام نماز ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور معراج کی حقیقت رویت الٰہی ہے جس سے شب معراج میں آنحضرت ﷺ اس عالم سے اس عالم میں پہنچ کر مشرف ہوئے تھے۔ جس سالک نے اس حقیقت مقدسہ سے کچھ بھی سکون حاصل کیا ہے وہ نماز میں اپنے محبوب حقیقی کا جلوہ دیکھتا ہے۔ درمیان میں کوئی حجاب حائل نہیں ہوتا۔اور نمازی اپنے محبوب معبود حقیقی کے دیدار کی خوشی میں والہانہ طور پر نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو جا تا ہے ۔ تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں جہاں سے بیگانہ ہوکر اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہوا اللہ تبارک وتعالی کے حضور میں پہنچ جا تا ہے ۔ اور بارگا ہ جل جلالہ کی عظمت و کبریائی کے مدنظر خود کو ذلیل و نا چیز خیال کر کے محبوب حق پر قربان ہو جاتا ہے اور قرات کے دوران وجودموہوب سے جو عالم ناسوت کے لائق ہے موجود ہوکر حق تعالی سے متکلم اور مخاطب ہوتا ہے ۔ اس وقت سالک کی زبان شجر موسوی بن جاتی ہے ۔ جب رکوع میں غایت درجہ کا خشوع ہوتا ہے تو اور زیادہ قرب کے ساتھ ممتاز ہو جاتا ہے ۔ تسبیح کہتے ہوئے ایک خاص کیفیت سے حظ اٹھاتا ہے ۔ تو حمد وثناء کرتا ہوا قومہ کرتا ہے اور دوبارہ اللہ تبارک و تعالی کے حضور میں کھڑا ہو جا تا ہے ۔ کہ قیام سےسجدہ میں جانا موجب کمال عجز وانکسار ہے ۔جبین عجز و نیاز رو بروئے مالک حقیقی اور سر عبودیت مقصود حقیقی کے سامنے رکھ کر طالب وصل ہوتا ہے کہ ساری نماز کا خلاصہ سجدہ ہی ہے۔


            جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ سجدہ کرنے والا اللہ تعالی کے دونوں قدموں میں سجدہ کرتا ہے ۔ چونکہ قرب سجدہ سے خیال تھا کہ مطلوب حقیقی کا وصل میسر آیا۔ اس لیے اللہ اکبر کہتا ہوا جلسہ میں بیٹھ گیا۔ کہ اللہ تعالی اس سے برتر ہیں کہ میں ان کی کامل طور پر عبادت کر سکوں اور پوری طرح معبود حقیقی کا قرب حاصل کر سکوں ۔ پھر دوبارہ سجدہ کرتا ہے تا کہ اور زیادہ قرب حاصل کروں ۔اس کے بعد تشہد بیٹھ کر اس نعمت قرب کے احسان و اکرام پر جناب باری تعالی میں شکر بجالاتا ہے ۔ کلمہ شہادت پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سارا قرب توحید و رسالت کی تصدیق اور اقرار کے بغیر ناممکن ہے پھر درور شریف اس لیے پڑھتا ہے کہ یہ تمام نعمتیں آنحضرت ﷺ کے طفیل حاصل ہوئی ہیں ۔ اور درود ابراہیمی اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ ادائے نماز کے وقت محبوب حقیقی کے ساتھ خلوت میسر آتی ہے ۔ ہم نشینی خاص خصوصیت کے ساتھ صرف حضرت سید نا ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے اس لیے اس مقام کی نسبت درودابراہیمی علیہ السلام پڑھ کر حاصل کرتا ہے ۔ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اہل دنیا کے اوزان کے ذرہ ذرہ کے برابر آخرت میں اجر وثواب سے نوازے جائیں گے۔ لیکن نماز کا اجران سے کہیں زیادہ ہوگا۔


مراقبہ کی حقیقت کے بارے میں
حضرت خواجہ باقی بالله رحمتہ الله علیہ سے کسی نے سوال کیا "حضور، مراقبہ کسے کہتے ہیں؟
آپ نے جواب میں ایک آسان طریقہ فرمایا،
آپ نے فرمایا : "محبوب کی آمد کے وقت، سراپا انتظار میں رہنا ہی مراقبہ ہے۔
پوچھا گیا کہ : آپ کو یہ طریقہ کیسے ملا ؟
آپ نے فرمایا : "میں نے ایک مرتبہ بلّی کو شکار کرتے دیکھا تھا، کہ جب بلّی شکار کے لئے تیار ہو جائے تو پھر وہ اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے اور دو کو اٹھا لیتی ہے، سانس کو روک لیتی ہے، وزن برابر کر لیتی ہے، نہ سانس کو حرکت دے، نہ مزاج میں جُنبش آئے، نگاہ ایک مرکز پر رہتی ہے۔
جونہی شکار نظر آے، چشمِ زدن میں جھپٹ کرپکڑ لیتی ہے۔
تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ : یہ دو عالم سے بے نیاز ہو کر اپنے شکار کے لئے اتنی منہمک ہو جاتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتی ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ دو عالم سے بے نیاز ہو کر اسی کا ہو رہنے کا نام انتظار (مراقبہ) ہے۔
مراقبہ کرنا ہو تو آنکھ بند کرو، کیونکہ یہ ایک ایسا دروازہ ہے کہ ہر شئے اس میں سے اندر چلی جاتی ہے، اور جو چیز اندر جائے گی مزاج بدلے گا۔
دل کے اس دروازے کو بند ہی کرو کہ کوئی شے اندر ہی نہ آئے، روک لو سانس، اپنا قابو کر لو مزاج۔
اب یار کی آمد کا وقت ہے دروازے پر نظر رکھو کہ کب کُھلتا ہے کہ وہ اندر آجائے
اور مجھے غافل پا کر واپس چلا جائے۔

صوفیاء مراقبہ ایسے ہی وقتوں پر کرتے ہیں کہ کوئی آواز دینے والا بھی نہ ہو، پچھلے پہر سرجھکا کر بیٹھ جاتے ہیں۔


 اولیائے کرام کی نماز اور اسباقِ سلوک
دولتِ قدمبوسی عطاء ہوئی 2رجب ۱۴۲۰؁ھ/12 اکتوبر 1999
 بمقام خیابانِ نظامی5A 9/10ناظم آباد، کراچی 
 بموقع یومِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ 
عزیر اسد بھائی کے والد محترم نے (اقبال صاحب) سُوال کیا کہ  اولیائے کرام کی نماز کا 
کیا حال ہوتا ہے۔
آ پ نے  یہ گوہرنایا ب عطاء فرمائے کہ
 جس وقت حالتِ قیام میں ہوتے  ہیں تو چھٹا سبق(مقام نفس) جاری کرتے ہیں۔
 اور جس وقت رکوع  میں ہوتے ہیں تو پہلا سبق(مقام قلب) جاری  کرتے ہیں ۔
اور جس وقت رکوع سے اُٹھتے ہیں تو دوسرا سبق(مقام روح)  جاری کرتے ہیں ۔اور پھر
 رکوع سے سجدے میں جاتے ہیں تو تیسرا سبق (مقام سری) جاری کرتے ہیںا ور جس وقت
 پہلے سجدے سےسر اُٹھاتے ہیں یعنی دونوں سجدوں کے درمیان، اس وقت یہ ذکر دل ہی دل میں جاری کریں’’  رَبِّ اغْفِرْلِیْ‘‘   تو پانچواں  سبق (مقام اخفیٰ)جاری کرتے ہیں  
اور دوسرے سجدے میں چوتھے سبق(مقام خفی) کو جاری  کرتے ہیں اور 
پھردوسری رکعت کیلئےجب کھڑے ہوتے تو سلطان الاذکار (ساتواں سبق)کو جاری کرتے ہیں۔
اس کے علاہ التحیات میںبھی  ساتویں سبق(سلطان الاذکار) کو اور
 اس کے بعددرود شریف کوپانچویں سبق(مقام اخفیٰ) سے جاری کرتے ہیں۔










No comments:

Post a Comment