صفحات

Thursday, October 24, 2024

32 واں مراقبہ حقیقتِ محمدی ﷺ - جمعرات2 اکتوبر 2024- 27 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

35  دَرس--02اکتوبر 2024 | بروز: جمعرات 28 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ حقیقتِ محمدی ﷺ

(32واں سبق)


نیت مراقبہ حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 فیض می آید از ذات بیچون کہ محب ذات خود است و محبوب ذات خود است منشاء حقیقت محمدیست علیہ السلام بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  اپنی ذات کی محب اور محبوب  اور حقیقت محمدیہ  علیہ السلام  کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری  ہیئت وحدانی  میں فیض آتا ہے۔

تشریح حقیقت محمدی

یہ حقائق کی اصل ہے حقیقت حقائق ہے اور دیگر حقائق خواہ انبیاء علیہم السلام کی ہوں یا ملائکہ کی حقیقت الحقائق کے سامنے ظلال کی مانند ہے اس کے اوپر کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تعین اول کے دائرہ کا یہ مرکز ہے سب سے افضل اولیاء محمدی المشرب کےسلوک کی یہ انتہاء ہے یہ جناب سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے ساتھ تعین جسدی کا مقام ہے۔ یہ مقام محبیت ومحبوبیت ہے۔اور کائنات کا ذرہ ذرہ انہی دو کے ساتھ وابستہ ہےکسی کی شان محبیت اور کسی کی شان محبوبیت کے ساتھ  البتہ حقیقت محمدیہ ان سب کی جامع ہے  اس مقام پر اس درود شریف کی کثرت کی جائے۔ 

اللهم صلي على سيدنا محمد و آله وأصحابه أفضل صلواتک عدد معلوماتک و بارك وسلم

محمدی المشرب تمام مراتب کا جامع ہے اس میں سالک متخلق باخلاق اللہ ہو جاتا ہے اس ولایت کو ولایت حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور سالک کو محمدی المشرب کہتے ہیں۔جب سالک مقام حقیقت محمدی ﷺ میں فناء و بقاء بدرجہ اتم حاصل کر لیتا ہے تو حبیب خداﷺ کے ساتھ ایک خاص قسم کی رابطہ تعلق قائم ہو جا تا ہے ۔ اور سالک بطفیل سید عالم ﷺ کامل مشابہت کے مرتبہ پر پہنچتا ہے اور تابع ومتبوع دونوں کے ایک ہی چشمہ سے سیراب ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اس مقام کے راز بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ان حالات میں آنحضرتﷺ سے ایک خاص محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اور حضرت مجدد الف ثانی کا قول واضح ہو جاتا ہے کہ خدائے عز وجل کو میں اس لیے دوست رکھتا ہوں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کا خدا ہے ۔ یہ قول حضرت مجددالف ثانی نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفور جذبات محبت میں فرمایا ہے اور اس مقام کی خصوصیات دینی اور دنیاوی معاملات میں بلکہ جملہ حرکات وسکنات میں نبی کریمﷺ کی کامل اتباع ہے ۔ صحا بہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہر شعبہ زندگی میں سید المرسلین حضور پرنورﷺ کی مکمل واکمل اتباع کیا کرتے تھے ۔اس اتباع سنت نبویﷺ کی برکت اور فیضان تھا کہ حضرت حنظلہ فرماتے ہیں آنحضرتﷺ کی مجالس مبارک میں جب جنت و دوزخ اور دیگر غائبات کا ذکر ہوتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہم ان غائبات کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔

سالک پر اس مرتبہ میں یہی کیفیات اور واردات ہوتی ہیں ۔ یہ مقام آنحضرتﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔ اور آپ ﷺ کی اتباع کامل کی بدولت عطا ہوتا ہے ۔اس مقام میں صحبیت اور محبوبیت کا امتزاج ہے اس لیے سالک سے بھی آثار فریفتگی ومحبت ظاہر ہوتے ہیں ۔محب ومحبوب خود اللہ تبارک و تعالی کی ذات سے انس و حبت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے لیے یہ مراقبہ کرایا جا تا ہے ۔ اس مراقبہ کی بدولت سا لک محب ومحبوب بن جا تا ہے ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مقام جامع حقائق انبیاء اور جامع کتب آسمانی کے اسرار کا ہے اگر میں محمد ﷺ کے معنے اس جگہ بیان کروں تو ظاہر عالم والے جن کو اس حقیقت سے حصہ نہیں ملا کیا کہیں گے ۔ اور بے علم صوفی مشرک ہو جائیں گے ۔اے دل یہ حال ہے قیل و قال نہیں اسے اندر ہی رکھ ۔اہل کو دے نااہل سے چھپا۔

اس مقام میں جس کو رسوخ ہو وہ بواسطہ اتباع پیغمبر آخر الزمان آنحضور ﷺ کے ہے ایسے لوگوں کی مجلس بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی مجلس جیسی ہوتی ہے ۔ جو رسول اللہﷺ کے اردگرد حاضر رہتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین فرماتے ہیں کہ جس وقت ہم محفل مقدس رسول اللہﷺ میں حاضر ہوتے تھے تو اس وقت ہماری یہ حالت ہوتی تھی کہ گویا ہماری آنکھیں خدا تعالی کو دیکھ رہی ہیں ۔

اس مقام کا یہ حال ہے کہ مقام بے مثل و بے مثال ہے اور کمال یہ ہے کہ اس مقام کے لیے بھی پیرومرشد ہی کی نظر باطن صفا بیک جنبش نظر مقامات طے کر اسکتی ہے ۔ الا ماشاء اللہ۔

حقیقت محمدیہ ﷺ

حقیقت محمدیہ ، اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ذات کا پہلا تعین نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوا۔ حقیقتِ انسانی کی اصل حقیقتِ محمدی ہے۔ حق تعالیٰ نے سب سے پہلا تنزل حقیقتِ محمدی میں فرمایا۔ صوفیہ کرام کی اصطلاح میں ذات باعتبار تعین اول حقیقت محمدی کہلاتی ہے۔ مظہر حقیقی احدیت ، حقیقت محمدی ہے اور باقی تمام مراتب موجودات ، مظہر حقیقت محمدی ہیں۔

تمام ذوات خلق میں انائے مطلق اوراس کے توابعات (وجود ، علم، نور ، مشہود) کی نسبت  یکساں ہے لیکن فرق اطلاقیت کے ظہور کا ہے ۔ ذوات انسانیہ میں یہ ظہور بہ نسبت ذوات اشیاء کے زیادہ ہے ۔ اسی وجہ سے انسان کو مظہر ذات کہا جاتا ہے اور دیگر ذوات اشیاء کو مظہر اسماء

اب افراد انسانیہ میں حضور صلی الہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مظہر اتم ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انا اور اس کے اعتبارات کا ظہور یہاں کامل ہے ۔ اسی لیئے ذات حق کی تجلی اول کو حقیقت محمدیہ کہتے ہیں، جو یہی مرتبہ وحدت ہے۔

سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت اللہ تعالی کا وہ نور ہے جواسماء  و صفات کے ظہور سے پہلے چمکا۔ زمان ومکان کی تخلیق سے پہلے درخشاں ہوا ۔ باعتبار تخلیق آپ اول المخلوقات ہیں اور باعتبار ظہور خاتم النبیین ۔
یعنی بلحاظ تخلیق کے آپؐ اول اور بلحاظ ظہور کے آپؐ آخر ہیں۔ بلحاظ حقیقت آپ خلق اول، تعین اول،برزخِ کبریٰ، اور رابطہ بین الظہور والبطون ہیں۔ اَوَّل ُمَا خَلَقَ اللہُ نُورِی یعنی پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے۔
‌كُنْتُ ‌أَوَّلَ ‌النَّبِيِّينَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ .
میں عالم آفرینش میں تمام انبیاء سے پہلے ہوں اور عالم ظهور و بعثت میں ان سب سے آخر میں ہوں

حضور ہی کے نور سے کل کائنات کی تخلیق ہوئی ، حضور ہی جملہ کا ئنات کی اصل ہیں ۔ حضور ہی خلاصہ موجودات ہیں۔ حضوری وجہ وجود کائنات ہیں۔ حضور ہی ان اسماء و صفات الہی کا اجمال ہیں جن کا ظہور کا ئنات کی تفصیل میں ہوا ، چنانچہ اسی نور سے شمس وقمر روشن ہوئے ۔ اسی نور سے عرش وکرسی قائم ہوئے ۔ اسی نور سے لوح و قلم کو قیام ملا۔ اسی نور سے آسمانوں کو ایستادگی نصیب ہوئی ۔ اسی نور سے بزم گیتی سجائی گئی۔

ہونہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو

چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو ہھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو

برم توحید بھی دنیا ہی نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے

نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

اسی نور سے تاروں میں روشنی آئی۔ اسی نور سے کلیوں کو چٹک اور پھولوں کو مہک ملی۔ اسی نور کے جمال سے جنت آراستہ کی گئی ۔ اسی نور کے جلال سے دوزخ بھڑکائی یہی نور قلب آدم میں نور بن کے اترا ۔ یہی نور صلب آدم میں خیر البشر ین کے ٹھہرا اسی نور کی وجہ سے آدم مسجود ملائک بنے اور پھر اسی نور کے ظہور کی خاطر زمین پر اتارے گئے ۔ بالآخر یہی نور، یہی حقیقت محمدیہ ، صورت محمدیہ میں جلوہ گر ہوئی جو شریعت محمدیہ یا ذات محمدیہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت نوریت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت بشریت حقیقت صورت نہیں ، صورت حقیقت نہیں۔ پھر دو نہیں حقیقت کو حقیقت کہو، صورت کو صورت ، نوریت کو نوریت کہو اور بشریت کو بشریت ۔ دونوں کی خصوصیات الگ الگ اور دونوں کے لوازمات جدا جدا ۔ پانی کی حقیقت ہائیڈروجن اور آکسیجن۔ پانی کی صورت شے سیال ، ہائیڈروجن اور آکسیجن سے آپ غسل نہیں کرسکتے۔ پانی سے کر سکتے ہیں ۔ برف کی حقیقت پانی ، شے سیال اور برف کی صورت ٹھوس شے ۔ پانی کو توڑ نہیں سکتے ۔ برف کو توڑ سکتے ہیں ۔  .

حق تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نور بھی کہا ہے اور بشر بھی ۔ ایک مسلمان کے لیئے حضور کی نوریت اور بشریت دونوں کو تسلیم کرناضروری ہے ۔ حضور نور ہیں پورے خصائص نوریت کے ساتھ اور حضور بشر ہیں پورے لوازم بشریت کے ساتھ ۔ حضور کی جہت نوریت اور جہت بشریت دونوں برحق ہیں ۔ آپ کی کسی ایک جہت کو تسلیم کرنا اور دوسری کا انکار کر دینا نص قرآنی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نوریت کے متعلق نص قرآنی ہے :

 قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ

 بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن اور واضح کتاب آچکی ہے۔ 

 اور بشریت کے متعلق نص قرآنی ہے

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ 

: میں تو بس تمہارے ہی جیسا اک بشر ہوں  میری طرف وحی کی جاتی ہے

نوریت اور بشریت میں مغایرت ضرور ہے لیکن تضاد نہیں کہ ایک محل میں دونوں کا اجتماع محال ہو ۔ قرآن وحدیث سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں جہتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں ۔

بہ اعتبار بشریت     وَأَيُكُمْ مِثلي؟ إنِّي ‌أَبِيتُ يُطْعِمُنِي  رَبِّي ويَسْقِينِي

میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں میری شب گزاری اپنے رب کے پاس ہوتی ہے وہ مجھے کھلاتا ہے ، وہ مجھے پلاتا ہے ۔

اور بہ اعتبار بشریت : جنگ خندق میں فاقوں کے سبب شکم مبارک پر دو دو پتھر بندھے تھے

به اعتبار نوریت : فرمایا کہ کُنتُ نَبیّاًٍٍ وَ آدَمُ بَینَ المَآء ِوَلطِّینِ۔ یعنی میں نبی تھا جبکہ آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔

اور به اعتبار بشریت : عمر شریف چالیس برس کی ہوئی تو غار حرا میں نبوت وبعثت سے سرفراز فرمائے گئے۔

به اعتبار نوریت : اوتیت علم الأولين والآخرين

مجھے اولین و آخرین تمام کا علم دیا گیا ہے ۔
اور به اعتباربشریت وَمَآ أَدۡرِي مَا يُفۡعَلُ بِي وَلَا بِكُمۡ

میں تو  یہ بھی نہیں جاننا کہ میرے ساتھ کیا کیاجائے گا اور تمہارے ساتھ کیا

به اعتبار نوریت :لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَایَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ

حق تعالیٰ کے ساتھ میرا اک وقت ایسا بھی ہوتا ہے جس میں کسی فرشتہ مقرب اور کسی نبی مرسل کی تک سمائی نہیں ہوتی ۔

بہ اعتبار بشریت قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌۚ
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔

یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ صوفیہ کرام نے وحدت کو حقیقت محمدیہ کہا ہے ، ذات محمدیہ نہیں کہا۔ ذات محمدیہ اور حقیقت محمدیہ دو بالکل جدا چیزیں ہیں ۔ حقیقت محمدیہ کا ظہور تجلی اول میں ہوا جو اول ما خلق الله نوری سے ظاہر ہے اور ذات محمدیہ کا ظہور آج سے چودہ سو برس قبل مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ کی صلب اور حضرت آمنہ کی کوکھ سے ہوا ۔ اگر حقیقت محمدیہ اور ذات محمدیہ کو خلط ملط کر دیا گیا تو یہ اختلاط کفر و شرک تک پہنچا دے گا ۔ ذات محمدیہ معلوم ہے اور حقیقت محمدیہ عالم ۔ ان کو ایک قرار دینا معلوم کو عالم اور عالم کو معلوم عبد کو رب اور رب کو عبد قرار دینا ہوگا ، ممکن کو واجب اور واجب کو ممکن کر دینا ہو گا، جو کھلا کھلا کفر ہے۔

لقد كفر الذين قالوان اللہ ھو السيح ابن مريم یقینا وہ کافر ہو گئے جنھوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح بن مریم ہے

ذات مسیح ، ذات حق نہیں۔ ذات محمد بھی ذات اللہ نہیں۔ اگر ذات محمدیہ کو حقیقت محمد یہ یا حقیقت محمدیہ کو ذات محمدیہ سمجھ لیاگیا تو یہ ایک افسوسناک مغالطہ ہو گا۔ اسی فریب میں مبتلا ہو کر جہلاء نے راہ ادب چھوڑی۔ فرق مراتب مٹایا ۔ ان نازک مسائل پر بر سر منبر گفتگو کی ۔ عامتہ المسلمین کو الجھنوں میں مبتلا کیا ۔ ضلوا و اضلوا کے مصداق خودبھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔

مرتبہ وحدت یا حقیقت محمدیہ کو نورمحمد ی بے شک کہا جا سکتا ہے۔ اس کی توجیہ بھی وہی ہے جو حقیقت محمدیہ کی ہے۔ چونکہ ذات محمد ی کامل اور اکمل ہے اس لیئے نور کامل کا (جو انائے مطلق کا ایک اعتبار ہے) اس پر ظہور ہوتا ہے اور پھر اسی نور کامل سے اشیا ءکی تخلیق ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نور محمدی سے اشیاء کی تخلیق ہوئی ہے۔ انا من نور الله و کل شئی من نوری(میں اللہ کے نور سے ہوں اور ہر شی میرے نور سے ہے) کا یہی مفہوم ہے۔ بعض حضرات صوفیہ نے عین الاعیان یا مربوب  اعظم کو حقیقت محمد یہ کہا ہے اور بعض عین الاعیان اور تجلی اعظم کے مرکب کو حقیقت محمدیہ کہتے ہیں ۔



جانِ کائنات ﷺ کانام نامی ( محمدﷺ) ،  اُس بے انتہا نعمت (درود سے) جو اللہ تعالیٰ حقیقتِ محمدیﷺ پر نازل فرما رہا ہے،  اُس سے فیض سمیٹتا ہے اور بانٹتا ہے۔ لہذا ، جب ہم اس نام کی تعریف کرتے ہیں اور اس نام کو یاد کرتے اور پکارتے ہیں تو  ان کا محمدی لباس ہمارے اوپر زیب تن ہونے (اوڑھایا جانے) لگتا ہے اور ہمارے کردار کو کامل بناتا ہے۔ جیسے کہ مرشد کریم امین الاولیاء حضور خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے بعد از فجر کے معمولات میں درود  و اذکار تلقین فرمائے۔مرشد کے تعلیم کردہ اذکار اور سلطان الاولیاء کےرازسے ہیں۔

نوٹ: میرے مالک ومرشد حضور امین الاولیاءخوجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی کو عطاء فرمودہ درود

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَبِیْٓبِ الْحَبِیْبِ وَاٰلِہٖ وَسَلِّمْ

جیسا کہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺنے  طریقۂ اذکار سکھائے کہ  کیسے ( اوراد  پڑھنے ہیں ) ، اُس (بارگاہِ)حضور میں کیسے تسبیح کی جائے اور داخل ہوا جائے۔  (اُن کی نمازیں ) ہماری نماز جیسی (محض) تقلیدی نہیں، اُن کی نمازیں اُن کی پوری روحانیت کے ساتھ خدا کے حضور، زمان و مکاں کے سمندروں سے ہوتی ہوئیں، نور کے سمندروں میں داخل ہوتی ہوئیں، سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکے ، قلب و روح میں داخل ہوتی ہیں۔ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک سے بارگاہِ الہٰی  میں داخل ہوتی ہیں۔

ان کے اوراد میں سے سب کچھ (سب وظائف ) جسکی  تلاوت کی جاتی ہے اس درجہ سے ہیں ۔ جب ہم محض ان کی  پیروی( تقلید) ہی کرتے ہیں تو ہمیں اسی درجے کی ان ساری برکتوں سے نوازا جاتا ہے ۔اسی لیے ہم کہتے ہیں ، "یا ربی میں کچھ بھی نہیں ہوں ، میری کوئی اوقات  نہیں ، مجھے اپنے شیوخ کا لباس لینے دیجئے انھوں نے مجھے جو اوراد و وظائف دیے ہیں مجھے اُن کی نیت میں رہنے دیجیئے۔ میں کیا نیت کر سکتا ہوں؟ میں تو کچھ بھی نہیں سمجھتا یاربی میں اُن کی نیت کی بنیاد پر (عمل) کر رہا ہوں۔  جو اُن کی نیت تھی،  اِن اذکار، اِن اوراد ، اِن آداب کی ، یا ربی  مجھے اُس کا لباس پہنا دیجیے۔ 

جس وقت آپ  مرشد کا عطا کردہ ذکر  حق اللہ الصمد  اور اللہ ھو صل اللہ پر آتے ہیں تو یہاں ایک محمدی لباس ہے جو روح کو پہنایا جا رہا ہے جو ہمیں اس محمدی جنت میں لے جاتا ہے۔ اور ہمیں محمدی شکل دے رہا ہے کہ ایک ایسی شکل ہے جس میں آپ  سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکی صورت اور شبیہہ میں ہیں۔  یہ خدمت جو اولیاءاللہ کرتے ہیں ، وہ یہ نہیں مانگتے کہ یا ربی ہم صرف یہی خدمت کریں گے بلکہ ہم ہمیشہ دائمی خدمت میں رہنے کا سوال کرتے ہیں کہ جب ہماری ملازمت اور ہمارا کام اس زمین پر ختم ہوگا ، تو اولیا اللہ نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب اُن کو سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکی یہ شکل اور یہ شبیہ عطا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی تخلیق شدہ تمام کائناتوں میں سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی حقیقت کی نمائندگی کرنے کیلئے بھیجے گا۔ تاکہ ،  وہ ہمیشہ پیارے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی خدمت میں رہیں۔یعنی ہماری یہ زندگی اور ہماری ہستی،یہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔یہ درجات کبھی ختم نہیں ہوتے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لامحدود طور پر کھولے(ظاہر کرے) گا، وہ ناقابل تصور چیز ہے۔

صرف اپنے اسلام کو   (قبول کرنا)  ہی منزل نہ رکھنا کہ اوہ میں  نے یہ راستہ قبول  کر لیا۔ نہیں ، نہیں۔ یہ اسلام کنڈرگارٹنkindergarten (بچوں کی کلاس ) تھی ۔ یوں کہو ، یاربی مجھے ایمان تک پہنچنا ہے اور مقام الایمان یہ ہے کہ آپ نے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺسےاپنی ذات سے بڑھ کر محبت کرنی ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ اسلام کی منزل سے نہیں بلکہ مقام الایمان سے تعلیم دیتے ہیں۔کہ آپ کو ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں آپ نبی کریم جانِ کائنات ﷺسے اپنی ذات  سے بڑھ کر محبت کرتے ہوں۔ تب ان تمام حدیثوں کی سمجھ آتی ہے  جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ’میں نہ جنت میں ہوں ،نہ میں زمین پر ہوں ، میں اپنے بندے کے دل میں ہوں۔

میری زمین اور میرے آسمان مجھے اپنے اندر نہی سمو سکتے ، لیکن میرے مومن بندے کا دل مجھے اپنے اندر سمو لیتا 

ہے۔"(حدیث قدسی ، امام الغزالی کی الاحیاء)

عبدیت(بندگی) کو حاصل کرنے والی صرف سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی حقیقت اور روح ہے۔لہٰذا ، جب ہم اپنی ذات سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں تو اس طرح (محبت) حاصل ہوتی  ہے۔ کسی نے پوچھا کہ ، "ہم رسول اللہ ﷺکی محبت کو کیسے حاصل کریں گے؟" درود شریف پڑھ کر۔ آپ ﷺسے محبت کر کے۔اس مقام کو کیسے حاصل کیا جائے؟ بہت آسان ہے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺسے محبت کر کے۔اگر آپ جانِ کائنات محمد الرسول اللہ ﷺسے محبت کرتے ہیں تو آپ حضور ﷺکی نعت پڑھنا ،نبی اکرمﷺ پر درود شریف پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوچنے لگتے ہیں کہ میں ایک (محفلِ) میلاد کیسے مناؤں گا ، میں کیسے میلاد شریف میں مدد کر سکتا ہوں۔ میں اپنی زندگی میں (سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺ کیلئے ) کیا  کچھ کروں گا جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا،  میری سانسوں کو (کیسے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں استعمال کروں گا) ، یا ربی ، ابھی مجھے مرنے کی ضرورت نہیں ، میرے پاس ابھی بھی کچھ کرنے کی صلاحیت ہے کہ اس عظیم مقام تعظیمِ نبیﷺکے اظہار کیلئے کچھ کر سکوں، دنیا کو بتانے کیلئے کہ اس بے حد عظیم خوبصورت ذاتﷺ کی شان کیا ہے  جسے  آپ نے تخلیق کیا ہے، یاربی ،  مجھے ایسا کرنے کیلئے  زندگی عطا کیجئے اور اپنی زندگیوں میں اس مشن کو مکمل کرنے کیلئے۔ یہی (مشن) ہماری ساری  زندگی کو میٹھا کر دیتا ہے ۔یہ خوبصورت کام کر کے ، اب وہ رسول اللہﷺ کاقُرب اور نظر حاصل کر رہے ہیں۔ جب آپ یہ درود پڑھ رہے ہیں اور یہ عمل کر رہے ہیں تو نبی کریمﷺ دیکھ رہے ہیں۔ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی نظرِ کرم اور نگاہِ عنایت ہی ہمارے وجود کی مٹھاس ہے۔

اگر آپ مراقبہ کر رہے ہیں اور اگر آپ ذکر میں ہیں ، تفکر میں ڈوبے ہیں اور آپ رونے لگتے ہیں تو ، یہ رونا اس لئے ہے کہ نبی کریمﷺ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ رونا اس لئے ہے کہ نبی کریمﷺ آپ کی طرف نظر فرما رہے ہیں۔ جب بھی نبی اکرم ﷺ کی نظر روح پر پڑتی ہے ، روح بے انتہا اشک(آنسو) بہاتی ہے۔ ایک (وجہ ) اسکا عشق اور محبت  ہے  کہ وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی شاہی توجہ اس پر نگاہ ڈال رہی ہیں۔

اور دوسری (وجہ)  اس کی ناکامی ہے۔ میں شرمسار ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میں نے ابھی تک وہ سب کچھ نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے اور جو کچھ میں  کر سکتا ہوں۔ اور اس حقیقت میں بے حد افسوس اور رنج ہے۔ تو ، یہ ایک خوبصورت رونا ہے ، یہی وہ خوبصورت عشق ہے جس کو وہ ان تمام نعتوں اور ان تمام نشیدوں میں بیان کرتے ہیں۔ یہ نعتیں ان تعلیمات کی تصدیق کے لئے تھیں۔ ان کی ساری زندگی اس حسن کو ظاہر (تشہیر) کرنا تھا۔ اس خوبصورتی سے ملبوس ہونے، اس حُسْنْ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے تو پھر وہ نبی اکرمﷺ کے اس سمندر میں بہہ رہے ہیں۔ آپﷺ کی نظر اِن پر ہے ، انھیں سجاتی ہے  ، برکت دیتی ہے  ،ان کی روحوں کو اُس نور میں کھینچتی ہے۔ جب ان کی روحیں نور میں داخل ہو رہی ہیں اللہ تعالیٰ  صورت کی طرف نہیں دیکھتا  ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی شکل و شباہت کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ مومن کے دل کی طرف دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طریقت (روحانی سلسلے)آتے ہیں اور دلوں کے بارے میں بات کرتے ییں۔ کوئی سوچتا ہے ، ’’ اوہ ، میں غم کے ان اوقات میں اللہ سے دعا نہیں کر سکتا۔ ’’ جو چاہے دعا کریں، آپ جس کو چاہیں پکار سکتے ہیں۔ اللہ دل کی طرف دیکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے اولیاء اللہ آ کر کامل ہونا سکھاتے ہیں۔

اگر آپ کو ایسی کوئی دعا چاہئے جو (بارگاہِ الہٰی میں) مقبول ہو تو آپ کا کسی ایسے دل میں ہونا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اہم ہے۔ جب اللہ تعالیٰ، سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک پر نگاہ فرماتا ہے تو ، کیا آپ کا نام وہاں ہے؟ کیا آپ نے ایسا کچھ کیا جس پر سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی توجہ حاصل ہوئی ، صرف چاول کا ایک دانہ ہی کیوں نہ ہو، وہ خلق العظیمﷺ ہیں ، یہاں تک کہ سرسوں کے ایک بیج کو بھی بے حساب نہیں چھوڑتے۔ کیا آپ اس محبت کے لئے چاول کا ایک دانہ ، اس محبت کے لئے پانی کا ایک قطرہ لے کر آئے ہیں؟ تب آپ کو دیا جائے گا ۔آپکا نام قلب(میں)، قلبِ محمدی (ﷺ)میں لکھا ہوا ہے۔

میرے تمامی یارانِ طریقت ،اگر آپ وہاں نہیں پہنچے تو ، کیا آپ نے محمدیون کے دل میں کچھ کیا ہے؟ وہ جن کے نام نبی کریمﷺ کے قلبِ مبارک میں نقش ہیں۔ اور سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺنے انھیں زمین پر پھیلا دیا کہ یہ میرے اولی الامر ہیں۔یہ میرے عاشقین ہیں ، یہ میرے احباب ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات کو بہت سے نام(القاب) عطا کیے ہیں۔ وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ وہ عاشقین ہیں ، تمام محبت کرنے والے ہیں ، کچھ اُولُو الاَلْباب(صاحبان عقل، عقل رکھنے والے، دانا لوگ)۔ دروازے والے،دربان۔ ان کے پاس اس دروازے کی حقیقت  کی چابی ہے جب نبی کریمﷺ بیان فرماتے ہیں کہ میں (ﷺ)شہر ہوں اور علی علیہ السلام بابُ ھُو ۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلَىٌ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ مِنْ بَاْبُهَا.”

میں علم کا شہر ہوں اور امام علی علیہ السلام اس کا دروازہ / دربان ہیں ، لہذا جو شخص شہر سے (کچھ)چاہتا ہے وہ اسکے دروازے / دربان سے لے جائے"۔ (صحیح حدیث امام ترمذی کی الاوسط سے)

 تو ، مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس یہ تمام مختلف القابات ہیں۔ کیا آپ کا نام ان کے دلوں میں سے کسی پر لکھا ہے؟اعمالِ حسنہ اور نیک اعمال اور اچھی خصوصیات کی وجہ سے؟ اور یہی طروق(روحانی سلاسل) کا راز بن گیا۔کہ اپنا  نام کسی اچھے مقام پر لکھے جانے کے لیے کچھ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ   دل/قلب کی طرف دیکھتا ہے ، وہ اپنے بندوں کی شکل و صورت کی طرف نہیں دیکھتا۔وہ ان کے دل/قلب کی طرف دیکھتا ہے۔ کہیے میں صرف یہ نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ  میرے دل کی طرف نگاہ فرمائے۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرا نام سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک میں دیکھےگا،اور اگر یہ آہستہ آہستہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے دل میں  (لکھا)جا رہا ہے۔

  تو میں چاہتا ہوں کہ یہ سارے اہل بیتِ اطہار کے دل میں رہے کہ ہم ان کے لئےعقیدتوں کے پھول لائے۔ ہم نے ان سے محبت کا اظہار کیا۔ ہم ایک ایسے دن میں ان کا نام(ذکر) بلند کرتے ہیں جس میں(لوگ) اِن کے نام بھول چکے ہیں۔ ہم ان کے نام(اسمائے گرامی)کو عام اور شائع کرتے ہیں کہ ان ناموں کو فراموش نہ کرو۔ یہ وہ نام ہیں جو آپ کو جہنم اور یوم المحشر سے بچاتے ہیں جب ہمارے پاس پکارنے کو کوئی نہیں ہوگا ، یا ربی! میں ایک عقیدت کا پھول لایا ، میں ایک عقیدت کا پھول لایا ہوں، میں ایک عقیدت کا پھول لایا ہوں، کہ میں اپنی نماز کے ساتھ نہیں کرسکتا ،میری نماز پھینک دی گئی ہے یا ربی میں ان کیلئے  عقیدت کا پھول  لایا۔ جب وہ دعا مانگتے ہیں ، تو وہ پکارتے ہیں ، کہتے ہیں ، ‘میں مشکل میں ہوں اور میں بیمار ہوں ، میں ٹھیک نہیں ہوں۔ براہِ کرم مجھ تک پہنچیں ، مجھے نجات عطا کریں۔ میں کسی بھی چیز کے قابل نہیں ہوں لیکن میں ایک عقیدت کا پھول لے کر آیا ہوں۔ میں نے آپ کے نام کی اشاعت اور تشہیر عزت و محبت کے جھنڈے کی طرح کی تاکہ یہ کبھی بھی زوال پذیر نہ ہو(بےتوقیر نہ ہو) کیونکہ نبی کریم ﷺاِن سے پیار کرتے ہیں۔ ہم خود سے زیادہ ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہم کم سے کم کیا کر سکتے ہیں؟ ان کا نام محبت کے ساتھ پھیلائیں اور وہ آپ تک پہنچیں گے، وہ آپ تک پہنچیں گے اور وہ کہتے ہیں کہ اس محبت کی وجہ سے ہم آپ سے ہر مشکل کو دور کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں اس دن یاد کیا جب کوئی یاد نہیں رکھتا تھا۔ آپ نے ہم سے اس دن محبت کی جب لوگ آپ کو کہتے، ‘ان ناموں سے محبت نہ کرو ، اس نام کو شائع نہ کرو۔ اوہ! تم یہ ہو ، تم وہ ہو۔ اور آپ پر لیبل لگاتے ہیں۔کہیں،میں آپ کے لیبل کی پرواہ نہیں کرتا ، میں ان کی محبت کی پرواہ کرتا ہوں۔" اس راستے میں ایک شاندار حقیقت ہے۔ کیا آپ نے ان کے دلوں ، صحابہ کرام کے دلوں ، ان اولیا اللہ کے دلوں اور اچھے لوگوں کے دلوں میں اپنا نام پایا؟ کیا آپ نے خود کو ان لوگوں اور ان نیک لوگوں کے گھیرے میں رکھا؟ کیا انہوں نے آپ کو پسند کیا؟ اور آپ سے محبت کی؟  اور یہ  اسلام ہے ، یہ  حقیقت اسلام ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں ہمارے نام پائے جو (اُسے)عزیز ہیں اور وہ اُس نام پر راضی ہو اور ہمیں مزید عطا فرمائے ،مزید عطا فرمائے، ہمیں اپنے خدائی فضل سے عطا فرمائے۔ یہ باب الرحمہ اور رحمت ہمیں  ڈھک لے، برکتوں سے نوازے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ  ہمیں مزین کرتا ہے (تو)اُن سب کو  برکت دے جن سے ہم پیار کرتے ہیں ،ہماری فیملیز، ہماری کمیونٹی اور سب جو اس دین میں ہم سے محبت کرتے ہیں یا ربی۔ ہمیں نجات اور  حفاظت عطا فرما۔ آمین ۔بحرمت محمد الرسول اللہ جانِ کائنات ﷺ۔۔۔۔ان شاء اللہ۔








No comments:

Post a Comment