بسمہٖ المعلم
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ
خانقاہی درسِ نظامی
(بورڈ نظام المدارس صوفیاء)
نصاب برائے علمِ تصوف
بمقام:۔مسجدوخانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ ؒ
1…… آیاتِ بیعت (برائے حضرات+برائے خواتین+تجدید) …حفظ
2…… بیعت نامہ کی تشریح
3…… شجرہ خوانی کی ضرورت و اہمیت
4…… مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ (بحوالہ شجرہ شریف)
5 …… رابطہ مرشد
6…… ذکرومراقبہ
7…… محاسبہ یومیہ
8…… شجرۂ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ
9…… پاسداری چہار چہار
10 …… بیاضیں:(۱) بیاضِ مراقبہ(۲) بیاضِ محاسبہ(۳)میاضِ مکاشفہ(۴)بیاضِ خدمت
(۵)بیاضِ تحقیق(۶)بیاضِ تفویض
10 ……وہم+خیال+تصور
فہرست
واہمہ، خیال تصور اور احساس ………………………………………5
رابطہ مرشد/تصورِ شیخ ……………………………………………6
تصورِ شیخ اور قرآن ……………………………………………8
تصورِ شیخ اور حدیث ……………………………………………9
تصور ِ شیخ فقہا کے نزدیک …………………………………………10
شجرہ خوانی کی ضرورت اور اہمیت ……………………………………11
آیت بیعت(برائے حضرات+خواتین+اجتماعی) …………………………14
آیت بیعت(تجدید ِ بیعت +اجتماعی) …………………………………15
شجرہ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ ……………………………15
محاسبۂ یومیہ …………………………………………… 16
مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ ………………………………17
ذکر ومراقبہ … … ……………………………………………17
ذکر کے آداب ………………………………………………18
ذکر ومراقبہ کا طریقہ ……………………………………………17
پاسداری ٔ چہار چہار ……………………………………………20
قلّت ِ کلام…………………………………………………20
قلّت ِ منام…………………………………………………21
قلّت ِ عوام…………………………………………………21
قلّت ِ طعام…………………………………………………22
بیعت نامہ کی تشریح ……………………………………………23
بیاضیں …………………………………………………26
لطائفِ خمسہ …………………………………………………27
اسباق کی روشنی کے بارے میں………………………………………28
اقسامِ ارواح ………………………………………………29
دعائے فریدی………………………………………………30
اسباق و مقام ………………………………………………31
لطائف +قلب+روح+سرّی ………… … ………………………32
خفی +اخفٰی+نفس ……………………………………………33
سلطان الاذکار… ……………………………………………34
نفسِ امار+نفسِ لوامہ ……………………………………………34
نفس ملہمہ+مطمئنہ+راضیہ +مرضیہ ……………………………………35
حلقہ ذکر کی ترتیب ……………………………………………35
فکری نشت ………………………………………………36
سوال: واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟
جواب: آدمی کا ہر عمل اور زندگی کا ہر تقاضہ واہمہ، خیال، تصور اور احساس کے دائرے میں مقید ہے۔ مثلاً ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو پہلے بھوک کا ایک ہلکا خاکہ ہمارے دماغ پر وارد ہوتا ہے۔ اس خاکے میں(Dimensions) یا نقش و نگار نہیں ہوتے۔ اس کو اصطلاحی زبان میں واہمہ کہتے ہیں۔ یہ بہت ہلکا خاکہ جب کچھ زیادہ گہرا ہوتا ہے تو دماغ کے اوپر یہ اطلاع وارد ہوتی ہے کہ جسم اپنی انرجی اور طاقت بحال رکھنے کے لئے کس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس صورت کو خیال کا نام دیا گیا ہے۔ خیال میں جب گہرائی واقع ہوتی ہے تو ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ جسم کو خورد و نوش کی ضرورت ہے۔ اس نقطے پر ان تمام چیزوں کے نقوش بن جاتے ہیں جو کھانے میں کام آتی ہیں اور جس سے جسمانی نشوونما بحال ہوتی ہے۔ اب کھانے پینے کی چیزوں
کے اندر کام کرنے والی لہریں انسان کو اپنے اند رکھینچنے لگتی ہیں۔ بات ذرا لطیف ہے اور تفکر کی ضرورت ہے۔
ہم کہتے یہ ہیں کہ ہم روٹی کھاتے ہیں۔ فی الواقع بات یہ ہے کہ گندم کے اندر روشنی یا زندگی یا انرجی یا حرارت یا کشش ثقل ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جاتے ہیں تو ہمارے اندر کی بھوک گندم کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم گندم نہیں کھاتے، گندم ہمیں کھا جاتا ہے۔ اس کو دوسری طرح بیان کیا جائے تو اس کو اس طرح کہا جائے گا کہ گندم کے اندر کشش ثقل موجود ہے۔ کشش ثقل یا (Gravity) ہمیں کھینچ لیتی ہے۔ ہم کشش ثقل یا(Gravity) کو نہیں کھینچتے۔ جب ہمارے اندر یہ تقاضا پوری گہرائیوں کے ساتھ سرگرم عمل ہو جاتا ہے تو ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ احساس سے مراد یہ ہے کہ اب ہم بغیر کھانا کھائے نہیں رہ سکتے۔ اس نقطے پر کھانا مظہر بن جاتا ہے۔ اس کو آپ کوئی بھی نام دیں، کسی بھی طرح تیار کریں بہرحال وہ کھانا ہے۔
رابطہ مرشد/تصوّرِ شیخ
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،
چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
٭مکتوبات جلد سوئم مکتوب ۱۸۷؎ میں تحریر فرمایا کہ
’’ بلا تکلف تصور ِ شیخ کا حاصل ہوجانا یہ پیر ومرید کے درمیان کامل مناسبت کی نشانی ہے،جو فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ و سبب ہے،اور رسائی کا کوئی راستہ اس سے زیادہ نزدیک کانہیں ہے۔جو بڑا ہی دولتمند(طریقت) ہو اُسی کو اس سعادت کی توفیق عطافرماتے ہیں۔حضرت خواجہ احرار قدس سرہٗ نے فقرات میں ارشاد فرمایا کہ ’’ پیر کا سایہ ذکر الٰہی سے بڑھ کر ہے۔‘‘
٭مکتوبات جلد سوم ۱۹ ؎ میں ارقام فرمایا کہ
’’ اگر ذکر کے وقت پیر کی صورت بے تکلف ظاہر ہوجائے تو اس کو بھی قلب کے اندر لے جانا چاہیئے۔اور دل میں محفوظ رکھ کر ذکر کرنا چاہیئے ۔کیا توجانتا ہے کہ پیر کون ہے؟پیروہ ہے کہ تو جنابِ باری جل شانہ ٗ تک پہنچنے کا راستہ اس سے حاصل کرتاہے۔اور اس راہ میں تو اس کی امداد واعانت پاتاہے۔‘‘
مکتوبات جلد ششم مکتوب ۳۰؎ دفتر دوم مطبوعہ امرتسر میں ہے۔
’’خواجہ محمد اشرف نے تصورِشیخ کی مشق کے بارے لکھا تھا کہ اس حد تک غلبہ پاگئی ہے ،کہ نمازوں میں اس کو اپنا مسجود دیکھتا ہوں۔اور اگر بالفرض اس کو دفع(دور) کرتا ہوں تودور نہیں ہوتاہے۔میرے دوست !یہ دولت تو وہ ہے کہ طالبین اس کی تمنا کرتے ہیں،اور ہزاروں میں سے کسی ایک کو شاید ہی عطاکی جاتی ہے، جس کو یہ معاملہ پیش آئے وہ کامل مناسبت والا صاحبِ استعداد ہے۔ممکن ہے کہ شیخ مقتدا کی تھوڑی سی صحبت سے وہ اپنے شیخ کے تمام کمالات کو حاصل کرلے گا۔اور رابطہ (تصورِ شیخ) کو دفع کیوں کرتے ہو؟ وہ تو مسجود الیہ(جس سمت کو سجدہ کیا جائے)ہے۔وہ مسجودلہ(جس کو سجدہ کیا جائے)نہیں ہے۔اس قسم کی دولت سعادتمندوں کا حصہ ہے ،یہاں تک کہ وہ تمام حالتوں میں صاحب ِ رابطہ(شیخ) کو اپنا وسیلہ جانتا ہے،اور تمام اوقات میں ،اسکی طرف متوجہ رہتاہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہّٰ علیہ نے القول الجمیل میں ارشاد فرمایا:
اذاغاب الشیخ عنہ یجعل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ماتفید صحبۃ جب پیر موجود نہ ہو ۔تو اس کی صورت کا اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان محبت و تعظیم کے ساتھ خیال جمائے تو اس کی صورت سے وہی فائدہ پہنچے گا جو اس کی صحبت سے پہنچتاہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ حضرات صوفیہ کرام کا کوئی معمول بھی بال برابر شریعت کے مخالف نہیں۔لہٰذا ان بزرگوںکاتصورِ شیخ کے عمل پر اس اہتمام کے ساتھ عامل ہونا بھی ہرگز ہرگز خلافِ شریعت نہیں ہوسکتا۔
بحمدہ تعالیٰ دلائلِ عقلیہ و نقلیہ نیز اقوال ِعلماء وائمہ اس مسئلے میں اتنے کافی موجود ہیں کہ اگر اُن کو نقل کردیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے ۔لیکن ہم صرف چند دلیلیں ذکر کرتے ہیں۔واللّٰہ الھادی الی الرشاد۔
تصورِ شیخ اور قرآن
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ں کے واقعہ میں ارشاد فرمایا (یوسف ۲۴)
ولقد ھمت بہٖ وھم بھا لولا ان رابرھا ن ربہ یعنی اُس(زلیخا)نے اُن (یوسفں)کے ساتھ ارادہ کرلیا۔اور وہ یوسف ںبھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی برہان کو نہ دیکھ لیتے۔جب زلیخا حضرت یوسف ںکو خلوت میں دروازہ بندکرکے اپنے مقصد کی طالب ہوئی۔ اور قریب تھا کہ حضرت یوسف ں بھی اس طرف مائل ہوجاتے ۔مگر ناگہاں عصمت نبوت ظاہر ہوگئی۔اور ان کو برہان ِ رب کا دیدار ہوگیا جس کے سبب وہ اس ارادے سے معصوم و محفوظ رہے(عامہ تفاسیر)
اب رہایہ سوال کہ وہ برہان رب کیا چیز تھی جس نے ایسے آڑے وقت میں حضرت یوسف ںکی دستگیری کی ،اس کو حضرت ابن عباس ثکی زبان سے سنئے۔انہوں نے فرمایا:۔
مثل لہ یعقوب فضرب جت شھوتہ من انا ملہ ( صاوی)
حضرت یعقوب ں کی صورت حضرت یوسف ںکے سامنے ظاہر ہوئی جس نے آپ کے سینے پر ایک ضرب لگائی۔تو ان کی شہوت انکی انگلیوں کے پوروں سے نکل گئی۔حضرت یعقوب ںکی صورت کا حضرت یوسف ںکے روبرو ہو کر ان کی دستگیری کرنا یہی رابطہ کا ثبوت اور اس کا نافع ہونا دونوں باتیں روز روشن کی طرح ثابت ہوگئیںاور انبیاء سابقین علیہم السلام کی شریعتوں اور سنتوں کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ فِبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہٖ ط یعنی اے محمد ﷺ آپ اگلے انبیاء کی سیرتوں کی پیروی کیجئے۔اسی لیئے اسلام کا یہ اصول ہے کہ اگلے انبیاء کی ہروہ سنت جو شریعت محمدیہ ﷺ میں منسوخ نہ ہو وہ شریعت محمدیہ ﷺ کی طرح امت کیلئے قابل ِ عمل ہے۔اب اس قاعدے کی روشنی میں تصورِ شیخ جس کا سنتِ یوسف ں ہونا اس آیت سے معلوم ہوا ۔جبکہ اس کے منسوخ ہونے پر کسی آیت یا حدیث کی شہادت موجودنہیں ہے۔تویہ تمام سنن نبویہ ﷺ کے مثل یقینا اُمّت کیلئے قابل ِ عمل ہوگا۔جبکہ احادیث وآثار صحابہ ؓ سے اس کی تائید بھی ہوتی ہو۔پر تو اس کا قابل ِ عمل ہونا نورعلیٰ نور ہے۔
تصورِ شیخ اور حدیث
عن الحسن بن علی قال سئلت خالی ھند بن ابی ھالۃ وکان وصافامن حلیۃ النبی ﷺ وانا اشتھی ان یصف لی منھا شیئاً اتعلق بہ۔(مخزن المعارف)
حضرت حسن بن علی ثسے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابو ہالہ ث سے سوال کیا۔اور وہ نبی ﷺکا حلیہ بیان کرتے تھے اور میں مشتاق تھا کہ وہ میرے لیئے ،اس میں سے کچھ بیان کریں تاکہ میں اس کواپنے خیال میں محفوظ کرلوں۔
٭حضرت مُلّا علی قاری ؒ نے جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں حدیث مذکور کے تحت فرمایا:
ای اتشبت بذٰلک الوصف واجعلہ محفوظا فی خزانۃ خیالی وانما قال الحسنثذالک لان النبیﷺ توفی سن لایقتضی التامل فی الاشیاء تحفظ الاشکال و الاعضاء(مخزن المعارف)
یعنی میں اس وصف کومضبوطی کے ساتھ ذہن نشین کرکے اپنے خزانۂ خیال میں محفوظ کرلوں۔
اور حضرت حسن ثنے یہ اس لیئے فرمایا کہ حضور اکی وصال کے وقت وہ اتنی (چھوٹی) عمر کے تھے کہ اشیاء میں غور کرنے اور شکلوں اور اعضاء کویاد رکھنے کے قابل نہیں تھے۔حدیث مذکور و تصریح حضرت مُلّا علی قاری ؒ سے اظہرمن الشمس ہوگیا کہ تصورِ شیخ یعنی حضورا کی صورتِ مبارکہ کو خزانۂ خیال میں محفوظ رکھنا حضرت امام حسن ثکا معمول تھا جو اس وقت سے آج تک حضرات صوفیہ کرام کا معمول ہے۔
اس حدیث کے بارے میں شیخ الدلائل حضرت مولانا عبدالحق مہاجر مدنی ؒ کا بیان سنئے وہ روای ہیں کہ ’’ ایک دن میں مولانا شاہ عبد الغنی نقشبندی قدس سرۂ کے درسِ حدیث میں مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر حاضرتھا۔جس وقت قاری نے یہ حدیث پڑھی۔تو حضرت مولانا موصوف نے فرمایا کہ یہ حدیث تصور ِ شیخ کی دلیل ہے۔نبیﷺ کے ساتھ تعلق یہی تصور ہے۔(مخزن المعارف)
تصّورِ شیخ فقہا کے نزدیک
علامہ شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمہ نے نسیم الریاض میں فرمایا:
یفرض ذٰلک ویتمثلہ فکانہ عندہ
(روضۂ منورہ کی حاضری کے وقت)یہ فرض وملاحظہ کرے کہ یہ میں حضوری میں ہوں۔
اور صورت مقدسہ کا ایسا تصور جمائے کہ گویا حضور علیہ الصلاۃ والسلام اس کے پاس جلوہ فرماہیں۔
زفتاویٰ علمگیری میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ:
یقف عما یقف فی الصلوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ ابھیۃ کانہ نائم فی لحد علم بہ یسمع کلامہ
(روضۂ مبارکہ کے سامنے )اس طرح کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔اور حضوراکی پرنور صورت ِکریمہ کا تصور باندھے کہ گویا آپ قبرمیں آرام فرماہیں۔اور اس کو جانتے اور اسکا کلام سنتے ہیں۔
اسی طرح علامہ احمد محمدؒ مواہب لدینہ میں اور علامہ زرقانی ؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:ویمثل الزائر وجھہ الکریم علیہ الصلاۃ واسلام فی ذھنہ ویحضرقلبہ جلال رتبتہ وعلو منزلہ وعظیم حرمتہ
زیارت کرنے والا حضور ﷺ کے چہرۂ مکرم کا تصور کرے اور دل میںآپ کے مرتبہ کی بزرگی اور قدر کی بلندی اور احترمِ عظیم کا خیال جمائے۔
یہ وہ چند دلائل و شواہد ہیں جن سے تصور شیخ کا ثبوت آفتاب عالمتاب کی طرح جگمگا رہا ہے۔
؎مرشد تیرے ملنے کی تدبیر یہ سوچی ہے ہم دل میں بسا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ
مگر اس کا کیا علاج کہ ؎ گر نہ بیند بروز شپّرہ چشم چشمہ ٔ آفتاب راچہ گناہ

%20(11).png)
%20(12).png)
%20(9).png)
%20(10).png)
%20(8).png)
%20(7).png)
%20(6).png)
%20(5).png)
%20(4).png)