بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم
002 دَرس--15 اگست 2024 | بروز:جمعرات 11 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم
002 دَرس--15 اگست 2024 | بروز:جمعرات 11 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
بسمہٖ المعلم
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ
خانقاہی درسِ نظامی
(بورڈ نظام المدارس صوفیاء)
نصاب برائے علمِ تصوف
بمقام:۔مسجدوخانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ ؒ
1…… آیاتِ بیعت (برائے حضرات+برائے خواتین+تجدید) …حفظ
2…… بیعت نامہ کی تشریح
3…… شجرہ خوانی کی ضرورت و اہمیت
4…… مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ (بحوالہ شجرہ شریف)
5 …… رابطہ مرشد
6…… ذکرومراقبہ
7…… محاسبہ یومیہ
8…… شجرۂ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ
9…… پاسداری چہار چہار
10 …… بیاضیں:(۱) بیاضِ مراقبہ(۲) بیاضِ محاسبہ(۳)میاضِ مکاشفہ(۴)بیاضِ خدمت
(۵)بیاضِ تحقیق(۶)بیاضِ تفویض
10 ……وہم+خیال+تصور
فہرست
واہمہ، خیال تصور اور احساس ………………………………………5
رابطہ مرشد/تصورِ شیخ ……………………………………………6
تصورِ شیخ اور قرآن ……………………………………………8
تصورِ شیخ اور حدیث ……………………………………………9
تصور ِ شیخ فقہا کے نزدیک …………………………………………10
شجرہ خوانی کی ضرورت اور اہمیت ……………………………………11
آیت بیعت(برائے حضرات+خواتین+اجتماعی) …………………………14
آیت بیعت(تجدید ِ بیعت +اجتماعی) …………………………………15
شجرہ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ ……………………………15
محاسبۂ یومیہ …………………………………………… 16
مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ ………………………………17
ذکر ومراقبہ … … ……………………………………………17
ذکر کے آداب ………………………………………………18
ذکر ومراقبہ کا طریقہ ……………………………………………17
پاسداری ٔ چہار چہار ……………………………………………20
قلّت ِ کلام…………………………………………………20
قلّت ِ منام…………………………………………………21
قلّت ِ عوام…………………………………………………21
قلّت ِ طعام…………………………………………………22
بیعت نامہ کی تشریح ……………………………………………23
بیاضیں …………………………………………………26
لطائفِ خمسہ …………………………………………………27
اسباق کی روشنی کے بارے میں………………………………………28
اقسامِ ارواح ………………………………………………29
دعائے فریدی………………………………………………30
اسباق و مقام ………………………………………………31
لطائف +قلب+روح+سرّی ………… … ………………………32
خفی +اخفٰی+نفس ……………………………………………33
سلطان الاذکار… ……………………………………………34
نفسِ امار+نفسِ لوامہ ……………………………………………34
نفس ملہمہ+مطمئنہ+راضیہ +مرضیہ ……………………………………35
حلقہ ذکر کی ترتیب ……………………………………………35
فکری نشت ………………………………………………36
سوال: واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟
جواب: آدمی کا ہر عمل اور زندگی کا ہر تقاضہ واہمہ، خیال، تصور اور احساس کے دائرے میں مقید ہے۔ مثلاً ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو پہلے بھوک کا ایک ہلکا خاکہ ہمارے دماغ پر وارد ہوتا ہے۔ اس خاکے میں(Dimensions) یا نقش و نگار نہیں ہوتے۔ اس کو اصطلاحی زبان میں واہمہ کہتے ہیں۔ یہ بہت ہلکا خاکہ جب کچھ زیادہ گہرا ہوتا ہے تو دماغ کے اوپر یہ اطلاع وارد ہوتی ہے کہ جسم اپنی انرجی اور طاقت بحال رکھنے کے لئے کس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس صورت کو خیال کا نام دیا گیا ہے۔ خیال میں جب گہرائی واقع ہوتی ہے تو ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ جسم کو خورد و نوش کی ضرورت ہے۔ اس نقطے پر ان تمام چیزوں کے نقوش بن جاتے ہیں جو کھانے میں کام آتی ہیں اور جس سے جسمانی نشوونما بحال ہوتی ہے۔ اب کھانے پینے کی چیزوں
کے اندر کام کرنے والی لہریں انسان کو اپنے اند رکھینچنے لگتی ہیں۔ بات ذرا لطیف ہے اور تفکر کی ضرورت ہے۔
ہم کہتے یہ ہیں کہ ہم روٹی کھاتے ہیں۔ فی الواقع بات یہ ہے کہ گندم کے اندر روشنی یا زندگی یا انرجی یا حرارت یا کشش ثقل ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جاتے ہیں تو ہمارے اندر کی بھوک گندم کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم گندم نہیں کھاتے، گندم ہمیں کھا جاتا ہے۔ اس کو دوسری طرح بیان کیا جائے تو اس کو اس طرح کہا جائے گا کہ گندم کے اندر کشش ثقل موجود ہے۔ کشش ثقل یا (Gravity) ہمیں کھینچ لیتی ہے۔ ہم کشش ثقل یا(Gravity) کو نہیں کھینچتے۔ جب ہمارے اندر یہ تقاضا پوری گہرائیوں کے ساتھ سرگرم عمل ہو جاتا ہے تو ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ احساس سے مراد یہ ہے کہ اب ہم بغیر کھانا کھائے نہیں رہ سکتے۔ اس نقطے پر کھانا مظہر بن جاتا ہے۔ اس کو آپ کوئی بھی نام دیں، کسی بھی طرح تیار کریں بہرحال وہ کھانا ہے۔
رابطہ مرشد/تصوّرِ شیخ
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،
چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
٭مکتوبات جلد سوئم مکتوب ۱۸۷؎ میں تحریر فرمایا کہ
’’ بلا تکلف تصور ِ شیخ کا حاصل ہوجانا یہ پیر ومرید کے درمیان کامل مناسبت کی نشانی ہے،جو فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ و سبب ہے،اور رسائی کا کوئی راستہ اس سے زیادہ نزدیک کانہیں ہے۔جو بڑا ہی دولتمند(طریقت) ہو اُسی کو اس سعادت کی توفیق عطافرماتے ہیں۔حضرت خواجہ احرار قدس سرہٗ نے فقرات میں ارشاد فرمایا کہ ’’ پیر کا سایہ ذکر الٰہی سے بڑھ کر ہے۔‘‘
٭مکتوبات جلد سوم ۱۹ ؎ میں ارقام فرمایا کہ
’’ اگر ذکر کے وقت پیر کی صورت بے تکلف ظاہر ہوجائے تو اس کو بھی قلب کے اندر لے جانا چاہیئے۔اور دل میں محفوظ رکھ کر ذکر کرنا چاہیئے ۔کیا توجانتا ہے کہ پیر کون ہے؟پیروہ ہے کہ تو جنابِ باری جل شانہ ٗ تک پہنچنے کا راستہ اس سے حاصل کرتاہے۔اور اس راہ میں تو اس کی امداد واعانت پاتاہے۔‘‘
مکتوبات جلد ششم مکتوب ۳۰؎ دفتر دوم مطبوعہ امرتسر میں ہے۔
’’خواجہ محمد اشرف نے تصورِشیخ کی مشق کے بارے لکھا تھا کہ اس حد تک غلبہ پاگئی ہے ،کہ نمازوں میں اس کو اپنا مسجود دیکھتا ہوں۔اور اگر بالفرض اس کو دفع(دور) کرتا ہوں تودور نہیں ہوتاہے۔میرے دوست !یہ دولت تو وہ ہے کہ طالبین اس کی تمنا کرتے ہیں،اور ہزاروں میں سے کسی ایک کو شاید ہی عطاکی جاتی ہے، جس کو یہ معاملہ پیش آئے وہ کامل مناسبت والا صاحبِ استعداد ہے۔ممکن ہے کہ شیخ مقتدا کی تھوڑی سی صحبت سے وہ اپنے شیخ کے تمام کمالات کو حاصل کرلے گا۔اور رابطہ (تصورِ شیخ) کو دفع کیوں کرتے ہو؟ وہ تو مسجود الیہ(جس سمت کو سجدہ کیا جائے)ہے۔وہ مسجودلہ(جس کو سجدہ کیا جائے)نہیں ہے۔اس قسم کی دولت سعادتمندوں کا حصہ ہے ،یہاں تک کہ وہ تمام حالتوں میں صاحب ِ رابطہ(شیخ) کو اپنا وسیلہ جانتا ہے،اور تمام اوقات میں ،اسکی طرف متوجہ رہتاہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہّٰ علیہ نے القول الجمیل میں ارشاد فرمایا:
اذاغاب الشیخ عنہ یجعل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ماتفید صحبۃ جب پیر موجود نہ ہو ۔تو اس کی صورت کا اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان محبت و تعظیم کے ساتھ خیال جمائے تو اس کی صورت سے وہی فائدہ پہنچے گا جو اس کی صحبت سے پہنچتاہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ حضرات صوفیہ کرام کا کوئی معمول بھی بال برابر شریعت کے مخالف نہیں۔لہٰذا ان بزرگوںکاتصورِ شیخ کے عمل پر اس اہتمام کے ساتھ عامل ہونا بھی ہرگز ہرگز خلافِ شریعت نہیں ہوسکتا۔
بحمدہ تعالیٰ دلائلِ عقلیہ و نقلیہ نیز اقوال ِعلماء وائمہ اس مسئلے میں اتنے کافی موجود ہیں کہ اگر اُن کو نقل کردیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے ۔لیکن ہم صرف چند دلیلیں ذکر کرتے ہیں۔واللّٰہ الھادی الی الرشاد۔
تصورِ شیخ اور قرآن
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ں کے واقعہ میں ارشاد فرمایا (یوسف ۲۴)
ولقد ھمت بہٖ وھم بھا لولا ان رابرھا ن ربہ یعنی اُس(زلیخا)نے اُن (یوسفں)کے ساتھ ارادہ کرلیا۔اور وہ یوسف ںبھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی برہان کو نہ دیکھ لیتے۔جب زلیخا حضرت یوسف ںکو خلوت میں دروازہ بندکرکے اپنے مقصد کی طالب ہوئی۔ اور قریب تھا کہ حضرت یوسف ں بھی اس طرف مائل ہوجاتے ۔مگر ناگہاں عصمت نبوت ظاہر ہوگئی۔اور ان کو برہان ِ رب کا دیدار ہوگیا جس کے سبب وہ اس ارادے سے معصوم و محفوظ رہے(عامہ تفاسیر)
اب رہایہ سوال کہ وہ برہان رب کیا چیز تھی جس نے ایسے آڑے وقت میں حضرت یوسف ںکی دستگیری کی ،اس کو حضرت ابن عباس ثکی زبان سے سنئے۔انہوں نے فرمایا:۔
مثل لہ یعقوب فضرب جت شھوتہ من انا ملہ ( صاوی)
حضرت یعقوب ں کی صورت حضرت یوسف ںکے سامنے ظاہر ہوئی جس نے آپ کے سینے پر ایک ضرب لگائی۔تو ان کی شہوت انکی انگلیوں کے پوروں سے نکل گئی۔حضرت یعقوب ںکی صورت کا حضرت یوسف ںکے روبرو ہو کر ان کی دستگیری کرنا یہی رابطہ کا ثبوت اور اس کا نافع ہونا دونوں باتیں روز روشن کی طرح ثابت ہوگئیںاور انبیاء سابقین علیہم السلام کی شریعتوں اور سنتوں کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ فِبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہٖ ط یعنی اے محمد ﷺ آپ اگلے انبیاء کی سیرتوں کی پیروی کیجئے۔اسی لیئے اسلام کا یہ اصول ہے کہ اگلے انبیاء کی ہروہ سنت جو شریعت محمدیہ ﷺ میں منسوخ نہ ہو وہ شریعت محمدیہ ﷺ کی طرح امت کیلئے قابل ِ عمل ہے۔اب اس قاعدے کی روشنی میں تصورِ شیخ جس کا سنتِ یوسف ں ہونا اس آیت سے معلوم ہوا ۔جبکہ اس کے منسوخ ہونے پر کسی آیت یا حدیث کی شہادت موجودنہیں ہے۔تویہ تمام سنن نبویہ ﷺ کے مثل یقینا اُمّت کیلئے قابل ِ عمل ہوگا۔جبکہ احادیث وآثار صحابہ ؓ سے اس کی تائید بھی ہوتی ہو۔پر تو اس کا قابل ِ عمل ہونا نورعلیٰ نور ہے۔
تصورِ شیخ اور حدیث
عن الحسن بن علی قال سئلت خالی ھند بن ابی ھالۃ وکان وصافامن حلیۃ النبی ﷺ وانا اشتھی ان یصف لی منھا شیئاً اتعلق بہ۔(مخزن المعارف)
حضرت حسن بن علی ثسے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابو ہالہ ث سے سوال کیا۔اور وہ نبی ﷺکا حلیہ بیان کرتے تھے اور میں مشتاق تھا کہ وہ میرے لیئے ،اس میں سے کچھ بیان کریں تاکہ میں اس کواپنے خیال میں محفوظ کرلوں۔
٭حضرت مُلّا علی قاری ؒ نے جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں حدیث مذکور کے تحت فرمایا:
ای اتشبت بذٰلک الوصف واجعلہ محفوظا فی خزانۃ خیالی وانما قال الحسنثذالک لان النبیﷺ توفی سن لایقتضی التامل فی الاشیاء تحفظ الاشکال و الاعضاء(مخزن المعارف)
یعنی میں اس وصف کومضبوطی کے ساتھ ذہن نشین کرکے اپنے خزانۂ خیال میں محفوظ کرلوں۔
اور حضرت حسن ثنے یہ اس لیئے فرمایا کہ حضور اکی وصال کے وقت وہ اتنی (چھوٹی) عمر کے تھے کہ اشیاء میں غور کرنے اور شکلوں اور اعضاء کویاد رکھنے کے قابل نہیں تھے۔حدیث مذکور و تصریح حضرت مُلّا علی قاری ؒ سے اظہرمن الشمس ہوگیا کہ تصورِ شیخ یعنی حضورا کی صورتِ مبارکہ کو خزانۂ خیال میں محفوظ رکھنا حضرت امام حسن ثکا معمول تھا جو اس وقت سے آج تک حضرات صوفیہ کرام کا معمول ہے۔
اس حدیث کے بارے میں شیخ الدلائل حضرت مولانا عبدالحق مہاجر مدنی ؒ کا بیان سنئے وہ روای ہیں کہ ’’ ایک دن میں مولانا شاہ عبد الغنی نقشبندی قدس سرۂ کے درسِ حدیث میں مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر حاضرتھا۔جس وقت قاری نے یہ حدیث پڑھی۔تو حضرت مولانا موصوف نے فرمایا کہ یہ حدیث تصور ِ شیخ کی دلیل ہے۔نبیﷺ کے ساتھ تعلق یہی تصور ہے۔(مخزن المعارف)
تصّورِ شیخ فقہا کے نزدیک
علامہ شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمہ نے نسیم الریاض میں فرمایا:
یفرض ذٰلک ویتمثلہ فکانہ عندہ
(روضۂ منورہ کی حاضری کے وقت)یہ فرض وملاحظہ کرے کہ یہ میں حضوری میں ہوں۔
اور صورت مقدسہ کا ایسا تصور جمائے کہ گویا حضور علیہ الصلاۃ والسلام اس کے پاس جلوہ فرماہیں۔
زفتاویٰ علمگیری میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ:
یقف عما یقف فی الصلوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ ابھیۃ کانہ نائم فی لحد علم بہ یسمع کلامہ
(روضۂ مبارکہ کے سامنے )اس طرح کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔اور حضوراکی پرنور صورت ِکریمہ کا تصور باندھے کہ گویا آپ قبرمیں آرام فرماہیں۔اور اس کو جانتے اور اسکا کلام سنتے ہیں۔
اسی طرح علامہ احمد محمدؒ مواہب لدینہ میں اور علامہ زرقانی ؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:ویمثل الزائر وجھہ الکریم علیہ الصلاۃ واسلام فی ذھنہ ویحضرقلبہ جلال رتبتہ وعلو منزلہ وعظیم حرمتہ
زیارت کرنے والا حضور ﷺ کے چہرۂ مکرم کا تصور کرے اور دل میںآپ کے مرتبہ کی بزرگی اور قدر کی بلندی اور احترمِ عظیم کا خیال جمائے۔
یہ وہ چند دلائل و شواہد ہیں جن سے تصور شیخ کا ثبوت آفتاب عالمتاب کی طرح جگمگا رہا ہے۔
؎مرشد تیرے ملنے کی تدبیر یہ سوچی ہے ہم دل میں بسا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ
مگر اس کا کیا علاج کہ ؎ گر نہ بیند بروز شپّرہ چشم چشمہ ٔ آفتاب راچہ گناہ
39س--05کتوبر 2024 | بروز: اتوار021 ربیع الثانی 1446ھ |معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
مراقبہ لاتعین
(35واں سبق)
نیت مراقبہ لا تعین
فیض می آید از ذات مطلق بیچون کہ موجود است بوجود خارجی و منزہ است از جمیع تعینات بہ ہیئت وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات مطلق باری تعالیٰ کی طرف سے جووجود خارجی کے ساتھ موجود اور تمام تعینات سے مبراء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میری ہیئت وحدانی میں فیض آتا ہے۔
وضاحت:
یہ مراقبہ لاتعین ہے۔ لاتعین مرتبہ ذات بحت(خالص) سے عبارت ہے۔لا تعین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ذات مطلق سے فیض حاصل کیا جاتا ہے جو تعینات سے مبرا اور پاک ہے یہ مقام بھی حضور سرور کائنات ﷺ سے مخصوص ہے۔ اور یہ سیرصفات ثمانیہ، ان کے وصول اور ذات بحت میں ہوتی ہے۔
لعجز عن دَرَك الذاتِ ادْرَاكَ وَالْقَوْلُ بِدَرُكَ الذَّاتِ إِشْرَاك
ذات حق کے ادراک سے عاجز ہونا ہی ادراک ہے اور ادراک ذات حق کا دعوی شرک ہے۔
یہاں سیر قدمی کی گنجائش نہیں اگر کسی پر فضل الہی ہو جائے تو سیر نظری میسر ہو گی یہ مقام بھی حضور کے خصائص میں سے ہے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرب الٰہی کے بعض لمحات ایسے بھی گزرتے تھے کہ آپ بجزذات حق کے کسی کو نہ پہچانتے تھے۔ چنانچہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ اس وقت خاص معیت اور قرب کی تجلیات میں محو تھے، غلبہ حضور مع الحق کہ یہ عالم تھا کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو پہچان نہ سکے اور دریافت فرمایا کہ من انت؟ تو کون ہے؟ عرض کیا انا عائشہ میں عائشہ ہوں۔ پھر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ پہچانا لہٰذا پھر دریافت کیا من عائشہ؟ عائشہ کون؟ عرض کیا بنت ابی بکر ابوبکر کی بیٹی پھر بھی آپ کو اس حالت میں افاقہ نہ ہوا اور دریافت فرمایا من ابوبکر؟ ابوبکر کون ہیں؟ عرض کیا ابن ابی قحافہ ابو قحافہ کے بیٹے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا من ابو قحافہ؟ ابو قحافہ کون؟ تب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر دہشت اور خوف کا غلبہ ہوا اور چپکے سے واپس ہوگئیں۔ پھر جب آپ کو اس حالت سے افاقہ ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے سب ماجرا کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لی مع اللہ وقت لا یسعنی فیہ ملک مقرب ولا نبی مرسل۔
لِي مَعَ اللَّهِ وَقْتٌ لا يَسَعُ فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ ، وَلا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ
عجلونی، کشف الخفاء، 2 : 226
’’(اے عائشہ!) مجھ پر اللہ کے قرب و معیت میں کبھی کبھی ایسا خاص وقت آتا ہے کہ اس میں نہ تو مجھ تک کسی نبی مرسل کی رسائی ہو سکتی ہے اور نہ کسی مقرب فرشتے کی۔‘‘
لى مع الله وقت لا يسعنى فيه ملك مقرب ولا نبى مرسل (اللہ تعالی کے ساتھ میرا ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی فرشتہ مقرب اورنبی مرسل کودخل نہیں اسی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کے طفیل بعض ۤپ کے امتیوں کو بھی اس خوان نعمت سے الش عطا ہوا ہے
اگر پادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن
ترجمہ: اگر بڑھیا کے در پر آئے سلطان تو اے خواجہ نہ ہو ہرگز پریشان
اس سے حضور ﷺ کی عظمت نمایا ں ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺکے نمک خوار اور الش خوار(بچا ہوا کھانا) بھی اس دولت سےمشرف ہوتے ہیں
یہ وہ مقام ہے جو بے نام و نشان اور بے وہم و گمان ہے ۔ اس مقام میں صرف ذات مطلق کی خاص تجلی جلوہ گر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ مقام ذات بحت ہی کے لیے مختص ہے اور امت محمدیﷺ کے اولیائے کاملین کو اتباع نبویﷺ کے باعث یہاں سیر نظری نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ سیر قدمی روحانی کی ممانعت ہے اس لیے سیر نظری روحانی کی اجازت ہے۔ چونکہ ذات جل شانہ کی کوئی انتہا نہیں اور بیچاری نظر محدود ہونے کے سبب حیران و سرگرداں ہے ۔ یہ مقام خاص حضور سید الکونین ﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔
اس مقام میں اس طرح مراقبہ کرتے ہیں کہ اس ذات سے فیض آ تا ہے ۔ جوتعینات سے مبرا ومنزہ ہے۔ پیرومرشد کے واسطے سے میری ہیئت وحدانی پرفیض آ رہا ہے ۔ سالک کو اس مقام سے جوفیض حاصل ہوتا ہے ۔ وہ فہم وفراست سے بالاتر ہے ۔ جب سالک کے لطائف سبعہ کا تزکیہ ہو جائے اور اس کے جسم نے روح کی مماثلت اختیار کر لی ہو اور ایک وجود سے مشرف ہو گیا ہوتو جناب رسول اللہﷺ کی کامل اتباع اور حضرت پیرومرشد کی توجہات بابرکات کے باعث ایک حد تک فیض لاتعین کے شرف سے مشرف ہوتا ہے ۔ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقام لاتعین وہ مقام محبت ہے جس میں اللہ تعالی صرف اپنی ذات سے محبت کرتا ہے ۔ اس مقام کے اعتبار سے وہ: إن الله لغنى، عن العالمين۔ ترجمہ یعنی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے غنی ہے۔
یہی کبریائی اور استغنا کا منشاء و مدعا ہے ۔اس کمال بے نیازی سے تمام مقر بین بارگاہ ذو الجلال میں ہمہ وقت لرزاں
وتر ساں رہتے ہیں ۔ سب درگاہ جلالت میں فضل و کرم کی امید پر سر تعلیم خم کیسے ہوئے ہیں ۔ بلکہ محبوب خدا ﷺ بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں آپ کا بندہ ہوں آپ کے بندہ اور بندی کا بیٹا ہوں اور میری جان آپ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اس طرح ذات لاتعین سے کسب فیض کر کے سالک اپنے آپ کو ان انوارات و تجلیات کے پرتو کی وجہ سے کائنات عالم میں لاتعین محسوس کرتا ہے۔
دادیم ترا از در مقصود نشانے : گرما نرسیدیم شاید تو مرسی
آپ کو ہم نے در مقصود کا کچھ پتہ دیدیا ہے۔ اگر ہم نہ پہنچ سکیں شاید آپ پہنچ جائیں
اللهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ وَحُبِّ مِنْ يُحْيِكَ وَحُبِّ عَمِلَ تُقَرِّبُ إِلى حُبِّکَ يَا ارحم الراحمين
اے اللہ ہمیں اپنی محبت عنایت فرما اور اُن لوگوں کی محبت ہم کو عنایت فرما جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت ہم کو عنایت فرما جو کہ تیری محبت کا ذریعہ بنے اپنی رحمت سے یا ارحم الراحمین۔
میرے مالک و مرشد کا عطاء فرمودہ ذکر
حُبًّا شَدِیْدًا
یَاحَبِیْبِیْ
یَارَبِّیْ
خاص دعا كرني هوتو يا اللہ ورنه
یَارَبِّیْ
38 دَرس--04اکتوبر 2024 | بروز: ہفتہ01 ربیع الثانی 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
مراقبہ حُبِّ صَرْفَہ
(34واں سبق)
نیت مراقبہ حب صرفہ
فیض می آید از ذات بیچون کہ منشاء حب صرفہ است بہ ہیئت وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ کی طرف سے جو حب صرفہ کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میری ہیئت وحدانی میں فیض آتا ہے۔
تشریح:
یہ مراقبہ ذاتی حب صرفہ (خالص ذات کی محبت) ہے اور حب صرفہ تعین اول ہے جسے تعین حبی بھی کہتے ہیں یعنی یہی وہ محبت ہے جو سب سے پہلے تخلیق ہوئی۔ لولاک لما خلقت الافلاک(اگر آپ نہ ہوتے تومیں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) کی حدیث قدسی اسی خاص مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی توتخلیق عالم بھی نہ ہوتی۔مرتبہ حب صرفہ و حقائق احمدی و محمدی ایک دوسرے کے بطون و ظلال ہیں اور یہ تینوں مراتب آنحضور ﷺ سے متعلق ہیں گویا آپ ہی حقیقت جامعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس مقام پر نسبت کا کمال علو اور باطن کی بے رنگی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ یہ مرتبہ اطلاق و لاتعین کے بہت قریب ہیں یہ مقام حضرت محمد ﷺ کے خاص مقامات سے ہے دوسرے انبیاء علیہم السلام کے حقائق کا یہاں نشان بھی نہیں ملتا یہی تعینات حبی اور حقیقت محمدی ﷺ ہے
یہ مقام ذات مطلق حق تعالی اور مقام لاتعین سے قریب تر ہے ۔ یہاں سالک کو سیر میں بے حد بلندی و بے رنگی آشکار ہوتی ہے ۔ ذات مطلق سے اولا جوشان ظہور پذیر ہوئی وہ یہی شان حب صرفہ ہے جس کو نورمحمدی ﷺ کہا جا تا ہے ۔ جو موجوات تھا اور یہی شان ظہور کا ئنات کا منشاء و مدعا اور تمام مخلوق کی تخلیق کا سبب بنی ۔حدیث قدسی ہے:آنا من نور الله و كل شيء من نوری ترجمہ: میں اللہ تعالی کے نور سے ہوں اور ہر چیز میرے نور سے تخلیق کی گئی ہے ۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ یہی حب صرفہ حقیقت احمدی ﷺ کا باطن ہے ۔ چنانچہ احادیث قدسی میں لو لا ك لما خلقت الافلاك ترجمہ: یعنی اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ نیز فرمایا:لو لاك لما أظهرت الربوبية – ترجمہ: اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں اپنی ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا۔ یہ مقام بھی جناب رسالت مآب ﷺ کے ساتھ مختص ہے۔ آپ ﷺ کا نورمحبت خالص ہے اور آپ ﷺ ہی مظہر رب العالمین ، رحمۃ اللعالمین اور روف رحیم ہیں ۔ حدیث قدسی ہے :من راني فقد را الحق۔ ترجمہ: یعنی جس نے مجھے دیکھا تحقیق اس نے اللہ تعالی کو دیکھا۔ کا یہی شان نزول ہے۔ کائنات کے جملہ حقائق اور موجودات کو آپ ﷺ ہی کے نور سے فیض حاصل ہوتا ہے ۔ مرتبہ حب صرفہ،حقائق احمدی ﷺ ومحمدی ﷺ ایک دوسرے کے راز ہائے مخفی اور انوار کے پرتو ہیں ۔ اور اس کی جامع حقیقت مقدسہ رسول اللہﷺ ہیں ۔ یا یوں سمجھئے کہ آنحضرت ﷺ جسم و روح کے ساتھ حقیقت محمدیﷺ کے مظہر ہیں اور آپ ﷺ کی پاکیزہ روح حقیقت احمدی ﷺ کی مظہر ہے اور آپ ﷺ کا نو ر حب صرفہ کا مظہر ہے ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس مراقبہ میں خالص ذات پاک سے کسب فیض کیا جا تا ہے ۔ یہ افعال وصفات الہی سے آگے کا مقام ہے۔ خالص ذات کی تجلیات کے نور سے سالک کومکمل فنا کا مقام نصیب ہوتا ہے ۔اس پر کائنات کے ظہور اور اسکی حقیقت کے اسرار ورموز کا کشف ہوتا ہے ۔ یہ تمام مقامات کا خلاصہ ہے اور حقائق انبیاء کا آخری مقام ہے یہ سب مقامات کا لب لباب ہے یہاں انوارات کا کشف ہوتا ہے ۔یہ انتہائی قرب خداوندی کا مقام ہے ۔اس کی انتہاء میں صحرائے انوار روشن ہوتا ہے جو مقام لامکانی ہے صوفیاء اسے مرتبہ لا تعین کہتے ہیں۔اوراس مراقبہ میں سیر قدمی نہیں بلکہ سیر نظری ہے نظر بھی عاجز ودرماندہ و سر گرداں ہے۔
ہماری نگاہ کا دامن تنگ ہے اور آپ کے حسن کے پھول بے شمار ہیں، آپ کے حسن کی بہار سے پھول چننے والے کے دامن کی تنگی کی شکایت ہے۔
36 دَرس--04اکتوبر 2024 | بروز: جمعہ 28 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
مراقبہ حقیقتِ احمدی ﷺ
(33واں سبق)
نیت مراقبہ احمدی صلی اللہ علیہ وسلم
فیض می آید از ذات بیچون کہ محبوب ذات خود است و منشاء حقیقت احمدیست علیہ السلام بہ ہیئت وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ کی طرف سے جو اپنی ذات کی خود محبوب ہے اور حقیقت احمدی علیہ السلام کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میری ہیئت وحدانی میں فیض آتا ہے۔
تشریح مراقبہ احمدیﷺ
مرتبہ مقدسہ حقیقت محمدی کے بعد وصول سالک مرتبہ حقیقت احمدی میں ہوتا ہےیہ مقام محبوبیت ہے۔ لیکن اس کا تعلق روحی ہے۔ اور اس کو دائرہ محبوبیت صرفہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پربھی درود پاک مذکورہ کی کثرت کی جائے۔
مرتبہ خلت یعنی محبوبیت صفائی کا حسن و جمال ظاہری سے تعلق ہے۔ اس مرتبہ حقیقت احمدی میں محبوبیت ذاتی کا انکشاف ہوتا ہے محبوبیت ذاتی سے یہ مراد ہے کہ محبوب کی ذات ہی ذات کمال و شدت محبت کی موجب ہو یہاں محبوبیت صفاتی کے برخلاف ذات محبوب میں وہ آن و ادا ظاہر ہوتی ہے جس پر محبوبیت صفاتی بھی فدا ہے. یہ ایک ذوقی کیفیت ہے جب تک ذوق پیدا نہ ہو یہ کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی۔
حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور پر نورﷺ کے دو مبارک نام ہیں ۔محمدﷺ اور احمدﷺ ان دونوں اسماء مبارک کی صراحت قرآن پاک میں اس طرح موجود ہے ۔محمد رسول اللہﷺ اور دوسرے مقام پر و مبشرا برسول ياتي من بعدي اسمه أحمد . ان دونوں اسمائے مبارکہ کی شان جدا جدا ہے شان محمدی ﷺ کا تعلق اگر چہ محبوبیت ہی سے ہے لیکن اس میں محبت کا امتزاج بھی ہے۔ محبوبیت خالص نہیں اور شان احمدی ﷺ اعلی و ارفع ہے شان محمدی ﷺ سے اور خالص محبوبیت کا مقام ہے ۔ اس لیے محب کو مرغوب تر ہے ۔ کہ مطلوب سے قریب تر ہے ۔محبوب محبوبیت میں جس قدر کامل ہوگا اس قدرمحب کی نظر میں زیادہ عزیز ہوگا
مزید برآں فرمایا کہ حقیقت احمدی ﷺ اور حقیقت کعبہ بعینہ ایک ہی ہیں ۔ حقیقت کعبہ کا تعلق حقائق الہیہ سے ہے اور حقیقت احمد ﷺ حقائق انبیاء علیہم السلام سے ہے۔ بزرگ اولیاء اللہ نے اس کی تصدیق یوں فرمائی ہے کہ جب سیر نظری اس مقام کی کھلی تو امام ربانی رحمہ اللہ تعالی علیہ کا بیان عالی شان درست نظر آیا۔ کیونکہ ظہور حقیقت کعبہ میں جو کبریائی اور عظمت ہے یہی خاصہ محبوبیت کا ہے اورمحبوبیت ومسجودیت دونوں آنحضرتﷺ کے شایان شان ہیں ۔ مقام خلت یعنی محبوبیت صفاتی کا تعلق ظاہری حسن و جمال سے ہے۔ حقیقت احمدی ﷺ میں محبوبیت ذاتی کا کشف ہوتا ہے ۔ محبوبیت ذاتی سے مراد یہ ہے کہ محبوب کی ذات ہی کمال و شدت محبت کا سبب ہو۔ یہاں ذات محبوب میں وہ شان وادا ظاہر ہوتی ہے جس پر محبوبیت صفاتی بھی قربان ہے ۔ یا ایک ذاتی کیفیت ہے اور ذوق کے بغیر مجھ میں نہیں آتی ۔ فناء و بقاء دوقسم کی ہے ۔ ایک وہ جو ولایت کے درجات طے کرتے ہوئے سالک کو حاصل ہوتی ہے۔ اس میں بشری صفات ختم نہیں ہوتی جبکہ حقیقت احمدی ﷺ میں سالک کو جوفناء و بقاء نصیب ہوتی ہے ۔ اس میں صفات بشری معدوم اور جسم روح کی مماثلت پیدا کر لیتا ہے ۔اس مقام پر بھی بند ہ بندہ ہی رہتا ہے ۔ البتہ ذات پاک جل شانہ کے قریب تر ہو کر معیت ذاتی سے مشرف ہو جا تا ہے ۔محبت ذاتی فناء کی علامت ہے اور فناء سے مراد غیر اللہ کا فراموش ہو جاتا ہے ۔ جب سالک مکمل فناء حاصل کر لیتا ہے تو وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے ۔ جس طرح اللہ تعالی نے حضور پاک ﷺ کو اپنی محبوبیت کے جذب سے جسد مبارک کے ساتھ معراج کرایا اسی طرح ہر سالک کواسی جذب سے اس کی حیثیت کے مطابق عروج عطا فرماتے ہیں ۔
35 دَرس--02اکتوبر 2024 | بروز: جمعرات 28 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
مراقبہ حقیقتِ محمدی ﷺ
(32واں سبق)
نیت مراقبہ حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
فیض می آید از ذات بیچون کہ محب ذات خود است و محبوب ذات خود است منشاء حقیقت محمدیست علیہ السلام بہ ہیئت وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ کی طرف سے جو اپنی ذات کی محب اور محبوب اور حقیقت محمدیہ علیہ السلام کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میری ہیئت وحدانی میں فیض آتا ہے۔
تشریح حقیقت محمدی
یہ حقائق کی اصل ہے حقیقت حقائق ہے اور دیگر حقائق خواہ انبیاء علیہم السلام کی ہوں یا ملائکہ کی حقیقت الحقائق کے سامنے ظلال کی مانند ہے اس کے اوپر کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تعین اول کے دائرہ کا یہ مرکز ہے سب سے افضل اولیاء محمدی المشرب کےسلوک کی یہ انتہاء ہے یہ جناب سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے ساتھ تعین جسدی کا مقام ہے۔ یہ مقام محبیت ومحبوبیت ہے۔اور کائنات کا ذرہ ذرہ انہی دو کے ساتھ وابستہ ہےکسی کی شان محبیت اور کسی کی شان محبوبیت کے ساتھ البتہ حقیقت محمدیہ ان سب کی جامع ہے اس مقام پر اس درود شریف کی کثرت کی جائے۔
اللهم صلي على سيدنا محمد و آله وأصحابه أفضل صلواتک عدد معلوماتک و بارك وسلم
محمدی المشرب تمام مراتب کا جامع ہے اس میں سالک متخلق باخلاق اللہ ہو جاتا ہے اس ولایت کو ولایت حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور سالک کو محمدی المشرب کہتے ہیں۔جب سالک مقام حقیقت محمدی ﷺ میں فناء و بقاء بدرجہ اتم حاصل کر لیتا ہے تو حبیب خداﷺ کے ساتھ ایک خاص قسم کی رابطہ تعلق قائم ہو جا تا ہے ۔ اور سالک بطفیل سید عالم ﷺ کامل مشابہت کے مرتبہ پر پہنچتا ہے اور تابع ومتبوع دونوں کے ایک ہی چشمہ سے سیراب ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اس مقام کے راز بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ان حالات میں آنحضرتﷺ سے ایک خاص محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اور حضرت مجدد الف ثانی کا قول واضح ہو جاتا ہے کہ خدائے عز وجل کو میں اس لیے دوست رکھتا ہوں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کا خدا ہے ۔ یہ قول حضرت مجددالف ثانی نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفور جذبات محبت میں فرمایا ہے اور اس مقام کی خصوصیات دینی اور دنیاوی معاملات میں بلکہ جملہ حرکات وسکنات میں نبی کریمﷺ کی کامل اتباع ہے ۔ صحا بہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہر شعبہ زندگی میں سید المرسلین حضور پرنورﷺ کی مکمل واکمل اتباع کیا کرتے تھے ۔اس اتباع سنت نبویﷺ کی برکت اور فیضان تھا کہ حضرت حنظلہ فرماتے ہیں آنحضرتﷺ کی مجالس مبارک میں جب جنت و دوزخ اور دیگر غائبات کا ذکر ہوتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہم ان غائبات کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔
سالک پر اس مرتبہ میں یہی کیفیات اور واردات ہوتی ہیں ۔ یہ مقام آنحضرتﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔ اور آپ ﷺ کی اتباع کامل کی بدولت عطا ہوتا ہے ۔اس مقام میں صحبیت اور محبوبیت کا امتزاج ہے اس لیے سالک سے بھی آثار فریفتگی ومحبت ظاہر ہوتے ہیں ۔محب ومحبوب خود اللہ تبارک و تعالی کی ذات سے انس و حبت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے لیے یہ مراقبہ کرایا جا تا ہے ۔ اس مراقبہ کی بدولت سا لک محب ومحبوب بن جا تا ہے ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مقام جامع حقائق انبیاء اور جامع کتب آسمانی کے اسرار کا ہے اگر میں محمد ﷺ کے معنے اس جگہ بیان کروں تو ظاہر عالم والے جن کو اس حقیقت سے حصہ نہیں ملا کیا کہیں گے ۔ اور بے علم صوفی مشرک ہو جائیں گے ۔اے دل یہ حال ہے قیل و قال نہیں اسے اندر ہی رکھ ۔اہل کو دے نااہل سے چھپا۔
اس مقام میں جس کو رسوخ ہو وہ بواسطہ اتباع پیغمبر آخر الزمان آنحضور ﷺ کے ہے ایسے لوگوں کی مجلس بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی مجلس جیسی ہوتی ہے ۔ جو رسول اللہﷺ کے اردگرد حاضر رہتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین فرماتے ہیں کہ جس وقت ہم محفل مقدس رسول اللہﷺ میں حاضر ہوتے تھے تو اس وقت ہماری یہ حالت ہوتی تھی کہ گویا ہماری آنکھیں خدا تعالی کو دیکھ رہی ہیں ۔
اس مقام کا یہ حال ہے کہ مقام بے مثل و بے مثال ہے اور کمال یہ ہے کہ اس مقام کے لیے بھی پیرومرشد ہی کی نظر باطن صفا بیک جنبش نظر مقامات طے کر اسکتی ہے ۔ الا ماشاء اللہ۔
34 دَرس--30 ستمبر 2024 | بروز: پیر 27 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
مراقبہ حقیقتِ موسوی علیہ السلام
(31واں سبق)
نیت مراقبہ حقیقت موسوی علیہ السلام
فیض می آید از ذات بیچون کہ محب ذات خود است منشاء حقیقت موسویست علیہ السلام بہ ہیئت وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ کی طرف سے جو اپنی ذات کی محب اور حقیقت موسوی علیہ السلام کا منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میری ہیئت وحدانی میں فیض آتا ہے۔
تشریح حقیقت موسوی
حضرت موسی علیہ السلام کی ایک ظاہری شکل و صورت اورایک حقیقت ہےحقیقت کا اظہارید یضاء(ہاتھ کا سورج کی طرح چمکنا) عصائے موسی علیہ السلام (اژدہا بننا)اللہ سے ہمکلام ہونا
مرتیہ حقیقت ابراہیمی( جس میں اللہ تعالیٰ کا اپنی صفات سے محنت کرنے کا ذکر تھا) کی سیر کے بعد سالک کو مرتبہ حقیقت موسوی کی سیر کرائی جاتی ہے یہ مقام محبت ذاتیہ( جس میں اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات سے محنت کرنے کا ذکر ہے) کا مقام ہے۔ اور بہت سے پیغمبران علیہم السلام حضرت موسی کلیم الله علیہ السلام کی وساطت سے اس مقام پر پہنچے ہیں۔ یہاں نیاز و بے نیازی کی اداؤں کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں پر درج ذیل درود پاک تین ہزار کی تعداد میں پڑھنا موجب اجر و برکت ہے. اللهم صل على محمد واصحابه و على جميع الأنبياء والمرسلين خصوصا على کلیمک موسی علیہ السلام
اللہ تعالی کی شان حبیت یعنی اپنی ذات سے محبت و دوستی جو حقیقت موسوی کے نام سے موسوم ہے اس مقام میں بھی عجیب وغریب کیفیات بقوت تمام سالک کے باطن پر وارد ہوتی ہیں اور سالک کو اللہ تعالی کے ساتھ کمال درجہ محبت ہوتی ہے اسی کمال محبت کا تقاضا تھا کہ جناب موسی علیہ السلام نے عرض کیا
رب ارنی أنظر إليك۔
ترجمہ: اے میرے پروردگار تو مجھے اپنی ذات کا جلوہ دکھا تا کہ میں تیری طرف دیکھوں ۔
محب صادق سید نا موسی علیہ السلام کو شوق دیدار الہی نے بے چین و بے قرار کر رکھا تھا۔ کہ کسی طرح اپنے محبوب حقیقی کا دیدار پردہ ذات مطلق کے بغیر ہونا چاہیے۔ کیونکہ انوار و شیونات کے پس پردہ اس ذات سے شرف تکلم کی وجہ سے حقیقی دیدار کا شوق تھا اور ذات باری تعالی کا ارشاد ہوتا ہے
لن ترانی۔ ترجمہ: اے موسی تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔
اس میں راز یہ تھا کہ ذات مطلق کا دیدار محبوب ذات مطلق سید المرسلین آنحضورﷺ کے لیے مختص ہو چکا تھا۔ اور ذات مطلق سے ہم کلام ہونا حضرت موسی علیہ السلام کا حصہ مقرر تھا۔ جس سے آپ علیہ السلام بہرہ ور تھے ۔ عادت اللہ کے تحت اس میں تبدیلی ممکن نہ تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام کی طرف سے مسلسل اصرار اور اظہار محبت کے جواب میں چالیس دن کو ہ طور پر گزارنے کا حکم آیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی تعمیل کے بعد اللہ تبارک وتعالی نے انگوٹھے کے پورے برابر اپنی ذات کی تجلی کوہ طور پر فرمائی جس کے دیکھتے ہی حضرت موسی علیہ السلام جذب محبت الہی میں بے ہوش ہو گئے ۔ اور کوہ طور تجلی کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ حضرت موسی علیہ السلام کی حب ذات کا ثبوت ہے ۔
ہر محبت جاں نثار پر لازم ہے کہ سوائے محبوب حقیقی کے کسی اور کے ساتھ دلی تعلق نہ بڑھائے کہ کمال محبت کا یہی تقاضا ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام مقام محب ذات خاص پر فائز ہیں جس خوش نصیب کو چاہتے ہیں یہ مقام نعمت عظمے عطا فرما دیتے ہیں اس مقام میں سالک کامل رضا و تسلیم کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔ بلکہ اسے مصائب و مشکلات میں بھی وہی لذت نصیب ہوتی ہے۔ جو آرام و آسائش میں ہوتی ہے ۔