بسمہٖ المعلم
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ
خانقاہی درسِ نظامی
(بورڈ نظام المدارس صوفیاء)
نصاب برائے علمِ تصوف
بمقام:۔مسجدوخانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ ؒ
1…… آیاتِ بیعت (برائے حضرات+برائے خواتین+تجدید) …حفظ
2…… بیعت نامہ کی تشریح
3…… شجرہ خوانی کی ضرورت و اہمیت
4…… مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ (بحوالہ شجرہ شریف)
5 …… رابطہ مرشد
6…… ذکرومراقبہ
7…… محاسبہ یومیہ
8…… شجرۂ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ
9…… پاسداری چہار چہار
10 …… بیاضیں:(۱) بیاضِ مراقبہ(۲) بیاضِ محاسبہ(۳)میاضِ مکاشفہ(۴)بیاضِ خدمت
(۵)بیاضِ تحقیق(۶)بیاضِ تفویض
10 ……وہم+خیال+تصور
فہرست
واہمہ، خیال تصور اور احساس ………………………………………5
رابطہ مرشد/تصورِ شیخ ……………………………………………6
تصورِ شیخ اور قرآن ……………………………………………8
تصورِ شیخ اور حدیث ……………………………………………9
تصور ِ شیخ فقہا کے نزدیک …………………………………………10
شجرہ خوانی کی ضرورت اور اہمیت ……………………………………11
آیت بیعت(برائے حضرات+خواتین+اجتماعی) …………………………14
آیت بیعت(تجدید ِ بیعت +اجتماعی) …………………………………15
شجرہ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ ……………………………15
محاسبۂ یومیہ …………………………………………… 16
مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ ………………………………17
ذکر ومراقبہ … … ……………………………………………17
ذکر کے آداب ………………………………………………18
ذکر ومراقبہ کا طریقہ ……………………………………………17
پاسداری ٔ چہار چہار ……………………………………………20
قلّت ِ کلام…………………………………………………20
قلّت ِ منام…………………………………………………21
قلّت ِ عوام…………………………………………………21
قلّت ِ طعام…………………………………………………22
بیعت نامہ کی تشریح ……………………………………………23
بیاضیں …………………………………………………26
لطائفِ خمسہ …………………………………………………27
اسباق کی روشنی کے بارے میں………………………………………28
اقسامِ ارواح ………………………………………………29
دعائے فریدی………………………………………………30
اسباق و مقام ………………………………………………31
لطائف +قلب+روح+سرّی ………… … ………………………32
خفی +اخفٰی+نفس ……………………………………………33
سلطان الاذکار… ……………………………………………34
نفسِ امار+نفسِ لوامہ ……………………………………………34
نفس ملہمہ+مطمئنہ+راضیہ +مرضیہ ……………………………………35
حلقہ ذکر کی ترتیب ……………………………………………35
فکری نشت ………………………………………………36
سوال: واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟
جواب: آدمی کا ہر عمل اور زندگی کا ہر تقاضہ واہمہ، خیال، تصور اور احساس کے دائرے میں مقید ہے۔ مثلاً ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو پہلے بھوک کا ایک ہلکا خاکہ ہمارے دماغ پر وارد ہوتا ہے۔ اس خاکے میں(Dimensions) یا نقش و نگار نہیں ہوتے۔ اس کو اصطلاحی زبان میں واہمہ کہتے ہیں۔ یہ بہت ہلکا خاکہ جب کچھ زیادہ گہرا ہوتا ہے تو دماغ کے اوپر یہ اطلاع وارد ہوتی ہے کہ جسم اپنی انرجی اور طاقت بحال رکھنے کے لئے کس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس صورت کو خیال کا نام دیا گیا ہے۔ خیال میں جب گہرائی واقع ہوتی ہے تو ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ جسم کو خورد و نوش کی ضرورت ہے۔ اس نقطے پر ان تمام چیزوں کے نقوش بن جاتے ہیں جو کھانے میں کام آتی ہیں اور جس سے جسمانی نشوونما بحال ہوتی ہے۔ اب کھانے پینے کی چیزوں
کے اندر کام کرنے والی لہریں انسان کو اپنے اند رکھینچنے لگتی ہیں۔ بات ذرا لطیف ہے اور تفکر کی ضرورت ہے۔
ہم کہتے یہ ہیں کہ ہم روٹی کھاتے ہیں۔ فی الواقع بات یہ ہے کہ گندم کے اندر روشنی یا زندگی یا انرجی یا حرارت یا کشش ثقل ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جاتے ہیں تو ہمارے اندر کی بھوک گندم کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم گندم نہیں کھاتے، گندم ہمیں کھا جاتا ہے۔ اس کو دوسری طرح بیان کیا جائے تو اس کو اس طرح کہا جائے گا کہ گندم کے اندر کشش ثقل موجود ہے۔ کشش ثقل یا (Gravity) ہمیں کھینچ لیتی ہے۔ ہم کشش ثقل یا(Gravity) کو نہیں کھینچتے۔ جب ہمارے اندر یہ تقاضا پوری گہرائیوں کے ساتھ سرگرم عمل ہو جاتا ہے تو ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ احساس سے مراد یہ ہے کہ اب ہم بغیر کھانا کھائے نہیں رہ سکتے۔ اس نقطے پر کھانا مظہر بن جاتا ہے۔ اس کو آپ کوئی بھی نام دیں، کسی بھی طرح تیار کریں بہرحال وہ کھانا ہے۔
رابطہ مرشد/تصوّرِ شیخ
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،
چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
شیخ یا شیخ الشیخ یا رسول اللّٰہ ا کی صورت مبارکہ کو اپنے خیال میں جمانا اس کو رابطہ یا تصورِ شیخ کہتے ہیں۔ تصور ِ شیخ کو صوفیہ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہاں تک کہ بعضوں کے نزدیک اسی پر ارادت و سلوک کا دارومدار ہے ۔اور مرید کی نفع رسانی میں یہ صحبت ِ شیخ کے مثل نفع بخش ہے ،چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحمن جامی ؒ نے اپنے رسالہ سرشتہ دولت میں فرمایا کہ
’’ اگر وہ عزیز(شیخ) غائب ہو،تو اس کی صورت کو خیال میں لیکر تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو اور جو خطرہ آئے اس کو دور کرے،یہاں تک کہ غیبت وبے خودی ظاہرہوجائے اور ایسا بار بار کرنے سے اس کا ملکہ (مہارت) پیدا ہوجاتا ہے اور (اللّٰہ تک رسائی کیلئے)اس سے زیادہ نزدیک کا کوئی راستہ نہیں ہے۔(معمولاتِ مظہریہ)
اس طرح حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی ؓ نے صدہا جگہ مکتوبات میں اس کی اہمیت و منفعت کا ذکر فرمایا ہے ،اور اس کی تحصیل پر تاکید ِ جمیل اور اس کے حصول پر تبشیر جلیل فرمائی ہے ذیل میں چند حوالے تحریر کیئے جاتے ہیں جو طالبِ حق کیلئے انشاء اللہ ہادی سبیل ہونگے۔
٭مکتوبات جلد سوئم مکتوب ۱۸۷؎ میں تحریر فرمایا کہ
’’ بلا تکلف تصور ِ شیخ کا حاصل ہوجانا یہ پیر ومرید کے درمیان کامل مناسبت کی نشانی ہے،جو فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ و سبب ہے،اور رسائی کا کوئی راستہ اس سے زیادہ نزدیک کانہیں ہے۔جو بڑا ہی دولتمند(طریقت) ہو اُسی کو اس سعادت کی توفیق عطافرماتے ہیں۔حضرت خواجہ احرار قدس سرہٗ نے فقرات میں ارشاد فرمایا کہ ’’ پیر کا سایہ ذکر الٰہی سے بڑھ کر ہے۔‘‘
٭مکتوبات جلد سوم ۱۹ ؎ میں ارقام فرمایا کہ
’’ اگر ذکر کے وقت پیر کی صورت بے تکلف ظاہر ہوجائے تو اس کو بھی قلب کے اندر لے جانا چاہیئے۔اور دل میں محفوظ رکھ کر ذکر کرنا چاہیئے ۔کیا توجانتا ہے کہ پیر کون ہے؟پیروہ ہے کہ تو جنابِ باری جل شانہ ٗ تک پہنچنے کا راستہ اس سے حاصل کرتاہے۔اور اس راہ میں تو اس کی امداد واعانت پاتاہے۔‘‘
مکتوبات جلد ششم مکتوب ۳۰؎ دفتر دوم مطبوعہ امرتسر میں ہے۔
’’خواجہ محمد اشرف نے تصورِشیخ کی مشق کے بارے لکھا تھا کہ اس حد تک غلبہ پاگئی ہے ،کہ نمازوں میں اس کو اپنا مسجود دیکھتا ہوں۔اور اگر بالفرض اس کو دفع(دور) کرتا ہوں تودور نہیں ہوتاہے۔میرے دوست !یہ دولت تو وہ ہے کہ طالبین اس کی تمنا کرتے ہیں،اور ہزاروں میں سے کسی ایک کو شاید ہی عطاکی جاتی ہے، جس کو یہ معاملہ پیش آئے وہ کامل مناسبت والا صاحبِ استعداد ہے۔ممکن ہے کہ شیخ مقتدا کی تھوڑی سی صحبت سے وہ اپنے شیخ کے تمام کمالات کو حاصل کرلے گا۔اور رابطہ (تصورِ شیخ) کو دفع کیوں کرتے ہو؟ وہ تو مسجود الیہ(جس سمت کو سجدہ کیا جائے)ہے۔وہ مسجودلہ(جس کو سجدہ کیا جائے)نہیں ہے۔اس قسم کی دولت سعادتمندوں کا حصہ ہے ،یہاں تک کہ وہ تمام حالتوں میں صاحب ِ رابطہ(شیخ) کو اپنا وسیلہ جانتا ہے،اور تمام اوقات میں ،اسکی طرف متوجہ رہتاہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہّٰ علیہ نے القول الجمیل میں ارشاد فرمایا:
اذاغاب الشیخ عنہ یجعل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ماتفید صحبۃ جب پیر موجود نہ ہو ۔تو اس کی صورت کا اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان محبت و تعظیم کے ساتھ خیال جمائے تو اس کی صورت سے وہی فائدہ پہنچے گا جو اس کی صحبت سے پہنچتاہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ حضرات صوفیہ کرام کا کوئی معمول بھی بال برابر شریعت کے مخالف نہیں۔لہٰذا ان بزرگوںکاتصورِ شیخ کے عمل پر اس اہتمام کے ساتھ عامل ہونا بھی ہرگز ہرگز خلافِ شریعت نہیں ہوسکتا۔
بحمدہ تعالیٰ دلائلِ عقلیہ و نقلیہ نیز اقوال ِعلماء وائمہ اس مسئلے میں اتنے کافی موجود ہیں کہ اگر اُن کو نقل کردیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے ۔لیکن ہم صرف چند دلیلیں ذکر کرتے ہیں۔واللّٰہ الھادی الی الرشاد۔
تصورِ شیخ اور قرآن
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ں کے واقعہ میں ارشاد فرمایا (یوسف ۲۴)
ولقد ھمت بہٖ وھم بھا لولا ان رابرھا ن ربہ یعنی اُس(زلیخا)نے اُن (یوسفں)کے ساتھ ارادہ کرلیا۔اور وہ یوسف ںبھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی برہان کو نہ دیکھ لیتے۔جب زلیخا حضرت یوسف ںکو خلوت میں دروازہ بندکرکے اپنے مقصد کی طالب ہوئی۔ اور قریب تھا کہ حضرت یوسف ں بھی اس طرف مائل ہوجاتے ۔مگر ناگہاں عصمت نبوت ظاہر ہوگئی۔اور ان کو برہان ِ رب کا دیدار ہوگیا جس کے سبب وہ اس ارادے سے معصوم و محفوظ رہے(عامہ تفاسیر)
اب رہایہ سوال کہ وہ برہان رب کیا چیز تھی جس نے ایسے آڑے وقت میں حضرت یوسف ںکی دستگیری کی ،اس کو حضرت ابن عباس ثکی زبان سے سنئے۔انہوں نے فرمایا:۔
مثل لہ یعقوب فضرب جت شھوتہ من انا ملہ ( صاوی)
حضرت یعقوب ں کی صورت حضرت یوسف ںکے سامنے ظاہر ہوئی جس نے آپ کے سینے پر ایک ضرب لگائی۔تو ان کی شہوت انکی انگلیوں کے پوروں سے نکل گئی۔حضرت یعقوب ںکی صورت کا حضرت یوسف ںکے روبرو ہو کر ان کی دستگیری کرنا یہی رابطہ کا ثبوت اور اس کا نافع ہونا دونوں باتیں روز روشن کی طرح ثابت ہوگئیںاور انبیاء سابقین علیہم السلام کی شریعتوں اور سنتوں کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ فِبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہٖ ط یعنی اے محمد ﷺ آپ اگلے انبیاء کی سیرتوں کی پیروی کیجئے۔اسی لیئے اسلام کا یہ اصول ہے کہ اگلے انبیاء کی ہروہ سنت جو شریعت محمدیہ ﷺ میں منسوخ نہ ہو وہ شریعت محمدیہ ﷺ کی طرح امت کیلئے قابل ِ عمل ہے۔اب اس قاعدے کی روشنی میں تصورِ شیخ جس کا سنتِ یوسف ں ہونا اس آیت سے معلوم ہوا ۔جبکہ اس کے منسوخ ہونے پر کسی آیت یا حدیث کی شہادت موجودنہیں ہے۔تویہ تمام سنن نبویہ ﷺ کے مثل یقینا اُمّت کیلئے قابل ِ عمل ہوگا۔جبکہ احادیث وآثار صحابہ ؓ سے اس کی تائید بھی ہوتی ہو۔پر تو اس کا قابل ِ عمل ہونا نورعلیٰ نور ہے۔
تصورِ شیخ اور حدیث
عن الحسن بن علی قال سئلت خالی ھند بن ابی ھالۃ وکان وصافامن حلیۃ النبی ﷺ وانا اشتھی ان یصف لی منھا شیئاً اتعلق بہ۔(مخزن المعارف)
حضرت حسن بن علی ثسے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابو ہالہ ث سے سوال کیا۔اور وہ نبی ﷺکا حلیہ بیان کرتے تھے اور میں مشتاق تھا کہ وہ میرے لیئے ،اس میں سے کچھ بیان کریں تاکہ میں اس کواپنے خیال میں محفوظ کرلوں۔
٭حضرت مُلّا علی قاری ؒ نے جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں حدیث مذکور کے تحت فرمایا:
ای اتشبت بذٰلک الوصف واجعلہ محفوظا فی خزانۃ خیالی وانما قال الحسنثذالک لان النبیﷺ توفی سن لایقتضی التامل فی الاشیاء تحفظ الاشکال و الاعضاء(مخزن المعارف)
یعنی میں اس وصف کومضبوطی کے ساتھ ذہن نشین کرکے اپنے خزانۂ خیال میں محفوظ کرلوں۔
اور حضرت حسن ثنے یہ اس لیئے فرمایا کہ حضور اکی وصال کے وقت وہ اتنی (چھوٹی) عمر کے تھے کہ اشیاء میں غور کرنے اور شکلوں اور اعضاء کویاد رکھنے کے قابل نہیں تھے۔حدیث مذکور و تصریح حضرت مُلّا علی قاری ؒ سے اظہرمن الشمس ہوگیا کہ تصورِ شیخ یعنی حضورا کی صورتِ مبارکہ کو خزانۂ خیال میں محفوظ رکھنا حضرت امام حسن ثکا معمول تھا جو اس وقت سے آج تک حضرات صوفیہ کرام کا معمول ہے۔
اس حدیث کے بارے میں شیخ الدلائل حضرت مولانا عبدالحق مہاجر مدنی ؒ کا بیان سنئے وہ روای ہیں کہ ’’ ایک دن میں مولانا شاہ عبد الغنی نقشبندی قدس سرۂ کے درسِ حدیث میں مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر حاضرتھا۔جس وقت قاری نے یہ حدیث پڑھی۔تو حضرت مولانا موصوف نے فرمایا کہ یہ حدیث تصور ِ شیخ کی دلیل ہے۔نبیﷺ کے ساتھ تعلق یہی تصور ہے۔(مخزن المعارف)
تصّورِ شیخ فقہا کے نزدیک
علامہ شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمہ نے نسیم الریاض میں فرمایا:
یفرض ذٰلک ویتمثلہ فکانہ عندہ
(روضۂ منورہ کی حاضری کے وقت)یہ فرض وملاحظہ کرے کہ یہ میں حضوری میں ہوں۔
اور صورت مقدسہ کا ایسا تصور جمائے کہ گویا حضور علیہ الصلاۃ والسلام اس کے پاس جلوہ فرماہیں۔
زفتاویٰ علمگیری میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ:
یقف عما یقف فی الصلوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ ابھیۃ کانہ نائم فی لحد علم بہ یسمع کلامہ
(روضۂ مبارکہ کے سامنے )اس طرح کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔اور حضوراکی پرنور صورت ِکریمہ کا تصور باندھے کہ گویا آپ قبرمیں آرام فرماہیں۔اور اس کو جانتے اور اسکا کلام سنتے ہیں۔
اسی طرح علامہ احمد محمدؒ مواہب لدینہ میں اور علامہ زرقانی ؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:ویمثل الزائر وجھہ الکریم علیہ الصلاۃ واسلام فی ذھنہ ویحضرقلبہ جلال رتبتہ وعلو منزلہ وعظیم حرمتہ
زیارت کرنے والا حضور ﷺ کے چہرۂ مکرم کا تصور کرے اور دل میںآپ کے مرتبہ کی بزرگی اور قدر کی بلندی اور احترمِ عظیم کا خیال جمائے۔
یہ وہ چند دلائل و شواہد ہیں جن سے تصور شیخ کا ثبوت آفتاب عالمتاب کی طرح جگمگا رہا ہے۔
؎مرشد تیرے ملنے کی تدبیر یہ سوچی ہے ہم دل میں بسا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ
مگر اس کا کیا علاج کہ ؎ گر نہ بیند بروز شپّرہ چشم چشمہ ٔ آفتاب راچہ گناہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
{شجرہ خوانی کی ضرورت اور اہمیت}
اِنَّ اَ کْرَمُکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقاکُمْ (سورۃ حجرات)
مفہوم:۔’’یقینا اللہ کے نزدیک تمہارے اہل ِتکریم وہ ہیں جو اہل تقویٰ ہیں‘‘
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے کہ
’’شجرۃ طیّبۃ اصلھا ثابت وّفرعھا فی السّمآء‘‘(سورۂ ابراھیم۔ ۲۴)مفہوم:۔ ’’ایک ایسا پاکیزہ پودا جسکی اصل یعنی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمانوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔‘‘(مزیدبحوالہ سورۂ نجم۔سدرۃالمنتہیٰ)
حضورﷺ نے اپنے شجرہ مبارک اور نسب نامے کیلئے اس کے ماہرین کو حالتِ قیام میں پڑھنے کا حکم دیا (بحوالہ حدیثِ نسّابون۔ صحیح بخاری) بایں ہمہ مندر جہ بالا آیات ہی اولیاء کرام کے سلسلوں میں شجرہ نویسی اور شجرہ خوانی کی بنیاد بنیں ۔ رسول اللہ ا کے اپنے روحانی اور ظاہری سلسلۂ نسب پر افتخار فرمانے کے عمل سے بھی جسکو تائید ملتی ہے ۔ شجرہ خوانی کا عمل ، دراصل مریدوں کے روزانہ رُوحانی معمولات ،انکی روحانی کیفیات کی بالیدگی ،انکے لیئے منازلِ سلوک کی ترقی کا پہلا زینہ ،انکے لیئے بلا ناغہ رابطہ ٔمرشد کا ذریعہ ،پھر رابطہ رسول اللہ ا کا ذریعہ اور پھر رابطۂ الٰہی کے ذریعے کو بصورت مناجات قائم رکھنے کا ایک انتہائی مؤثر وسیلہ ہے ۔
شجرہ خوانی کی رسم کئی صدیوں کے مجرب عمل کے طور پر ہر سلسلۂ عالیہ میں اسی طرح جاری وساری ہے ۔شجرہ خوانی کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضری اوریادِ الٰہی کی ایک کڑی سے دوسری کڑی ،شجرے میں شامل بزرگانِ سلسلہ کے وسیلے سے ملتی چلی جاتی ہے۔اسی لیئے شجرہ خوانی کو بعض دفعہ سلسلہ خوانی (بمعنی زنجیر) کی اصطلاح بھی حاصل ہوتی ہے۔اس طرح کہ اُن برگزیدہ ارواح کی آمین ہمارے شامل حال و دعا ہوجاتی ہے۔
علاوہ ازیں شجرہ خوانی کا ایک اور تربیتی فائدہ یہ بھی ہے کہ عام مریدوں کو روزانہ وظیفے کیلئے،ایک مختصرنصابِ روحانی بھی اپنے مرشدکی طرف سے حاصل ہوجاتا ہے ۔جبکہ حصول ِفیض کا مسلسل ذریعہ بن جانے کی وجہ سے ان عظیم روحانی ہستیوں کے صدقے میں اللہ تعالیٰ روزانہ رَدِّبلیات و آفات بھی پیشگی فرماتے رہتے ہیں۔
شجرہ خوانی کے روحانی مشغلے سے (عِنْدَذکرالذَّاکرُوْنَ تَتَنَزّل الرَّحْمَۃکے حوالے سے )
مریدین کو ان اولیاء اللہ کے ذکرکی صورت میں رحمتِ خدا وندی کے نزول کا ذریعہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ذِکْرِذاکرونایک خوشگوار طمانیتِ قلبی اورذہنی سکون اور روحانی فیوض وبرکات کو محسوس کرنے کا سرچشمہ بھی ثابت ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں نجانے کتنے ہنگامی حالات میں مریدین کو صرف شجرہ خوانی کرلینے سے ہی بطورِ کرامت ِ مشائخ مسائل کا حل ظاہر ہوتا نظر آتا ہے ۔پھر انہیں مزید کسی وظیفے یا روحانی عمل کی ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی اپنے مسئلے کا حل غیب سے مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرشدین ِ کرام نے بیعت کے وقت اپنا شجرہ ٔ طریقت بلا نا غہ پڑھنے کی تاکید کو عمل ِ بیعت کا حصہ بنا دیا ہے۔
اُصولِ حدیث کی رُو سے ، حدیث کے وہ راوی زیادہ مستند اور معتبر قرار پاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺکی ظاہری حیا تِ مبارکہ میں بذاتِ خود اُسوۂ حسنہ کا مشاہدہ کیا اور خود رسول اللہﷺ نے اپنے آغوشِ تربیت میں اُنہیں اُسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کا موقع مرحمت فرمایا ۔پھر اس دو ر ِتربیت کے بعد خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھمکے حوالے سے ان تربیت یافتہ ٔرسالت پناہ ﷺافراد نے اپنے ظاہری دورِ حیات میں کچھ معتبر روحانی ذمہ داران کو بذاتِ خود تربیت دے کر اُمّت کیلئے روشن چراغ ،سرراہِ سلوک رکھ دیئے۔اس طرح وہ تربیت یافتہ سند یافتہ اور اجازت یافتہ معتبر روحانی ذمہ داران ، اس سنتِ صحابہ ث کو قولاًاور فعلاً پورا کرتے ہوئے اور اپنی ذمہ داری نباہتے ہوئے روایت ِحدیث وتربیت کے تسلسل میںایک اورکڑی جوڑدیتے ہیں۔اس طرح کڑی سے کڑی جوڑ دینے کا یہ عمل برسوں کی ریاضت و مشقت کے بعد عملی تربیت و روایت کا ایک سنہری سلسلہ بن جاتا ہے اور ہم اُس مستند ترین خبر کو شجرہ خوانی کی صورت میں روایت کرتے ہیں ۔
جس میں ایک راوی نے دوسرے راوی کو صرف سماعت سے نہیں بلکہ تربیت اورمشق سے اللہ کے رسول ا کے قول وفعل کومریدین کیلئے باسہولت عملی نمونہ فراہم کردیا۔اسی عظیم تاریخ کو روایتاً روزانہ تلاوت کرنے کا نام ہی شجرہ خوانی ہے ۔جسے حدیثِ مصافحہ کی تعمیل میں مریدین اپنے مرشد سے رابطے اور اُن کے تَوّسل سے اپنے رسول ا سے رابطے کیلئے روزانہ مشغولِ حق ہوتے ہیں۔
اب ذرا مثال کے طور پر اپنے شجرہ طیبہ نظامیہ الجامعہ کوہی لیجیئے تو ان چند سطروں کی اُصول روایت و درایت کے تحت اتنی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے کہ ہم اُس وقت شجرہ خوانی نہیں، بلکہ یہ تاریخ رقم کررہے ہوتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیشمار احکاماتِ ربّانی اور اپنی بیشمار سنتوں کے نفاذ وعمل کو حسن ِ سلیقہ و تربیت کے ساتھ کئی برس تک مولا علی ث کو منتقل کیا۔ پھر مولا علی ث نے کئی برس تک اُسی حُسنِ سلیقہ وتربیت کے ساتھ اپنے صوفیانہ جانشین خواجہ حسن بصری ؓ کو صحبتِ مرشد عطاء فرمائی۔
پھر انہوں نے اسی نقشِ قدم پر اپنے جانشین خواجہ عبدِ واحد ابن ِ زید بصری ثکو صحبتِ مرشد عطاء فرمائی اور انہوں نے اپنے جانشین خواجہ ابن ِ عیاض ثکو اُسی طریقہ پر صحبتِ مرشد عطاء فرمائی اور سلسلہ ُرشد و ہدایت اسی طرح جاری وساری رہتے ہوئے شاہ ابراھیم ادھم بلخی ؒ پھر خواجہ حذیفہ ؒ پھر ہبیرہ بصری ؒ پھر خواجہ ممشاد ؒ پھر خواجہ ابو اسحاق ؒ قطب ِ چشتیہ پھر خواجہ ابدال ؒ پھر خواجہ ابو یوسف ؒ پھر خواجہ مودودِ حق ؒ پھر خواجہ حاجی شریف ؒ پھر خواجہ عثمان ہرونی ؒ پھر والی ٔ ہندوستان خواجہ معین الدین حسن سنجری ؒپھرقطبُ الاتقیا ء خواجہ قطب کاکی ؒ پھر شہبازِ لامکاں خواجہ گنج شکر ؒپھر محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ پھر روشن چراغِ دہلی شاہ نصیر الدین ؒ پھر کمالِ اصفیاء لامہ کمال الدین ؒ پھر سراج السالکین شاہ سراج الدین ؒ پھر عَلَمِ علم وہدیٰ شاہ علم الحق ؒپھر سرورِ دنیا ودیں خواجہ محمود راجن ؒ پھر صاحبِ صفا ء شاہ جمال الدین جمن پھر شاہ حسن محمد ؒ اور خواجہ صفا ء شاہ جمال الدین جمن ؒ پھر شاہ حسن محمد ؒ اور خواجہ شیخ محمد ؒ پھر قطبِ مدینہ یحییٰ مدنی ؒاور شاہ کلیم اللہ ولی پھر نظام الدین اورنگی ؒ اور فخر المشائخ شاہ فخر الدینؒ پھر لعلِ چشتیہ شاہ لعل محمد ؒ پھر نظام الملت شاہ نظام الدین حسین ؒ پھرعلی الخصوص حضرت خواجہ حافظ پیر سید محمد نظامی ؒ پھر شاہ علیم الدین احمدنظامی ؒ پھرشاہ سمیع الدین احمد نظامیؒ پھر مرکزی سجادہ نشینِ درگاہِ محبوب الٰہی ؒ اعلحٰضرت شمس المشائخ شاہ سید اسلام الدین نظامی بخاری سے ہوتا ہوا یہ سلسلۂ روایت ودرایت و تربیت ورشدوہدایت، جس قلب و سینۂ امانت میں منتقل ہوکر مرید و طالبین میں تقسیم ہوتا ہے وہ آخری کڑی ہیں امین ملت امین المشائخ الحاج حافظ مخدوم خواجہ محمد امین الدین نظامی زید مجدہٗ جن کی ہر ادائے سنتِ مشائخ سے راہ سلو ک کےتشنہ مسافر سیراب ہوتے ہیں(اَز مرتب)۔ اور اس طرح شجرہ خوانی کا چند لمحوں پر مشتمل یہ عمل کئی صدیوں کا جادۂ سلوک بن جاتا ہے۔ یعنی
؎ وادیٔ عشق بسے دور و دراز است، ولے طے شود جادۂ صد سالہ بہ آہے گاہے
شجرہ خوانی اپنی روحانی ضرورت و اہمیت کے علاوہ بے شمار حصولِ فیوض و برکات کا پیش خیمہ بھی ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن (سچوں کے ساتھ ہوجاؤ)اور کُوْنُوْا رَبَّانِییّن (اللہ والے ہوجاؤ)اور وَاصْبِرُنَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْ عُوْنَ رَبَّھُمْ بَالغَداوَۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہٗ(اور خود کو پابند بنا لیجئے اُن لوگوں کے ساتھ رہنے کا جو اپنے رب کو صبح وشام اُس کی توجہ حاصل کرنے کیلئےیاد کرتے ہیں)اسکے علاوہ ارشادِ ربانی ہے کہ لَایَشْقٰی جَلِیْسَھُمْ (جلیسِ اولیاء کے نصیب خالی نہیں ہوتے)۔اس طرح ہم جب بذریعہ شجرہ خوانی اولیاء اللہ کے ناموں کے وسیلے سے اللہ تعالی کی مدد مانگتے ہیں تو ہمیں اس کی رحمت سے اُمید بندھ جاتی ہے کہ وہ اپنے لاڈلوں کے طفیل ہماری ضرور سن لے گا۔اور ہماری نحوستوں کو برکتوں سے بدل دے گا ۔اورہماری بیماریوں کو شفاء سے بدل دے گا۔اور ہمارے گناہوں کو معافی سے بدل دے گا۔آمین۔
ء آیت بیعت(برائے حضرات) ء
٭ان الّذین یبایعونک ۔۔۔ فسیُؤْتیہ اجرا عظیما ( فتح آیت۹۔۱۰)
مفہوم: یقینا وہ لوگ جو آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل انکی بیعت اللہ سے ہے اللہ کا دست ِقدرت ہے انکے دست بدست ہاتھوں پر۔تو جس نے بھی اس بیعت کو توڑا تواس کا وبال خود اس کے وجود پر ہے اور جس نے اس اللہ سے کیا گیا یہ عہد وفا کیا تو پھر اللہ بھی جلد ہی اُسے عظمتیں اور اجر عطا کریگا۔
{برائے خواتین}…(سورۂ ممتحنہ آیت ۱۲ )
٭یٰٓا ایّھاالنَّبیّ اذاجائک المؤْمنٰت یبایعنک۔۔۔۔ولا یعصینک فی معروف فبا یعھنّ واستغفرلھنّ اللّٰہ انّ اللّٰہ رَؤفُ رّحیم ۃ
مفہوم:اے خبر رسانِ غیب! جب آپ کی خدمت میں اہل ِ ایمان خواتین حاضرِبیعت ہوں تو اس شرط پر کہ اللہ کی ذات میں ذرا بھی شرک نہیں کریں گی ،نہ چوری کریں گی ،نہ حرام کریں گی ،نہ اولاد کو زندہ درگور کریں گی ،نہ بہتان تراشیں گی ایسا کہ ہاتھ پیروں کے درمیان خیانت نہ ہونے دینگی اوراُمورِ معرفت میںآپ کی نافرمانی نہیں کریں گی،تو اب اُن کی بیعت لے لیںاور اللہ سے اُن کیلئے طلبِ مغفرت کریںیقینا اللہ پردہ پوشی کے ساتھ رحمت فرماتا ہے۔
برائے تجد ید بیعت/اجتماعی بیعت
٭وَعْدًا عَلَیْہِ حَقّ ۔۔۔۔بایعتم بہ وذلک ھو الفوز العظیم(توبہ ۔111)
یہ وہ عہد ہے جو اُس نے ان بیعت کرنے والوں کا حق بنا کر توریت ،انجیل اور قرآن میںشامل کردیا۔اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اِس عہد کو وفا کرنے والاہو؟تو خوشیاں مناؤ اِ س بیعت کی جو تم نے اُس سے باندھ لی او ر یہ ہے وہ کامیابی جو بڑی عظمتوں والی ہے۔
شجرہ نظامیہ کے ساتھ منت ماننے کا طریقہ
٭ 2 رکعت تحیۃ الوضو +2رکعت تہجد( سورۃ اخلاص۱۱ مرتبہ+ آیت الکرسی ایک مرتبہ)
٭درود چشتی… (100 مرتبہ){صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّد}
٭اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ (100 مرتبہ)٭ شجرہ نظامیہ…(3 مرتبہ)
٭پھر 3 مرتبہ یہ دُعاء :
یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ یَااَللّٰہٗ ،یَارَحْمٰنُ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ، یَانُوْرُ السّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ،
یَابَدِیْعُ السّمٰوَاتِ وَالْاَرْض،یَا اِلٰہَ الْاَوَّلِیْنَ الْاٰخِرِیْنَ۔اِقْضِ حَاجَتِیْ بِحَقِّ حَبِیْبِکَ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ وَبِحَقِّ ھٰٓؤُلَآئِ الْاَوْلِیَآئِ الْکِرَامِ وَالصُّلَحَآئِ الْعُظَّامِ عَلَیْہِ الرَّحْمَتُ وَالرِّضْوَانِ۔
٭اب سجدے میں جاکر منت ماننے کی دعا کریں’’اے اللہ میں نے تیری نذر مانی کہ اس پریشانی سے بخیریت مجھے نکال دے ۔تاکہ میں شکرانے میں روزانہ ۲ رکعت تہجد کا ثواب شجرہ نظامیہ کے ایک ایک ولی کو ایصال کروں اور تیرے نام کاصدقہ کروں‘‘٭کام ہوجانے پر ایک فطرہ بھر اناج یا ہفت دام (7روپے)اللہ نام پر صدقہ کر کے بزرگانِ نظامیہ کو ثواب پہنچائیں۔
٭نوٹ: یہ عمل 11 روز تک کریں۔وقت: بعد ظہر یا تہجد۔
محاسبۂ یومیہ
٭آج ِ پانچوں نمازیںبروقت ادا ہوگئیں؟
٭آجکی اشراق،چاشت،اوابین،تہجد؟
۱۔آج کے اسباقِ ذکر اور عمل ِ توبہ ؟
۲۔آج کی شجرہ خوانی کرلی ؟
۳۔آج مرشد سے روحانی رابطہ لیا ؟
۴۔آج صبح استغفارکم ازکم70 مرتبہ ؟
۵۔آج درود شریف کم از کم 80 مرتبہ ؟
۶۔ آج سارا دن اور سوتے وقت باوضو ؟
۷۔آجکی تلاوت ۔کم از کم 66 آیات ؟
۸۔ آجکی دعوتِ ذکر ومراقبہ۔کتنے افراد؟
۹۔ آج کس کتاب کا روحانی مطالعہ کیا ؟
۱۰۔آجکی صاف خوراک و پوشاک ؟
۱۱۔آج روزگارکا حق اورحقوق العباد؟
۱۲۔آج دفاع مرشد کاحق ادا کیا؟
۱۳۔آجکی روحانی خدمت ِ خلق ؟
۱۴۔آج سرپوش/باحجاب رہے؟
مرید ہونے کے بعد تربیتی درجاتِ نظامیہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭اہل تبرک: دَم کرنے کی تربیت لینا۔
٭اہلِ امانت: روحانی نسخہ جات جمع کرنا
٭مجازِ حلقہ: اسباقِ ذکرومراقبہ کی تربیت لینا۔
٭نائب امیر حلقہ: انتظامی تربیت لینا۔
٭امیر حلقہ : حلقہ جات کی مسندی تربیت لینا۔
٭امین سلسلہ: روحانی مطالعات مکمل کرنا۔
٭نامزد امین سلسلہ: خلافت کی تربیت لینا ۔
٭خواتین مجازمحترمہ: خواتین کاتزکیہ و تربیت
٭خلفائے صغیر: روحانی خدمتِ خلق سکھانا۔
٭خلفائے مجاز: شرائطِ خلافت کی تعمیل کرانا۔
٭نائب مرشد: 101 فرائضِ نیابت ۔
٭سجادۂ مرشد: 101مرشدانہ فرائض ۔
ذکرومراقبہ
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒنے فرمایا، ہر وہ سانس جو باہر آتا ہے ،وہ ایسا گوہرِ نفیس ہے کہ قیامت تک اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔رات دن ،مہینے اور سال گزرجاتے ہیں، ہمیں اس پر غور کرنا چاہیئے کہ ہم نے اتنے کثیر دنوں اور راتوں میں کیا کام کیئے، لیکن عام آدمی جب ہمہ تن مستغرق ہوکر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں تو اُکتا جاتے ہیں اور یہی اُکتا جانا عبادت سے بے رغبتی کا سبب ہوتا ہے، لیکن اسی نیت کے ساتھ اگر صاحب ِ ورد اپنی عبادت کو کچھ ہلکا کرے اور کسی سے تھوڑی دیرکیلئے ہم نشینی کرے تو اس کا یہ عمل اور وقت بھی عبادت میں شمار ہوگا، لیکن اگر نیت یہ نہ تو اس کے دونوں عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔(سیرالاولیاء)
{مراقبۂ قلب}سلطان المشائخ ؒنے فرمایا ، اصل کام دل کا مراقبہ ہے کہ وہ اعضاء کی تمام عبادتوں پر راجع (کارگر)اور مؤثر ہے۔مراقبہ مشائخ ِ طریقت کی اصطلاح میں دل میں جمالِ حق کو دیکھنا ہے اور قلب کا عمل مخفی ہوتا ہے۔چنانچہ وہی جانتا ہے کہ میں کیا کررہا ہوں اور کیا دیکھ رہا ہوں۔لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے کار ہے،لیکن حقیقت میں وہ کام میں لگا ہواہے۔(سیرالاولیاء)
{ذکرِ خفی}پھر فرمایا کہ ذکرِ خفی ،مراقبے سے70 درجے بالاتر ہے، کیونکہ بزرگوں نے کہاہے کہ مراقبہ دل سے جمالِ حق کو دیکھنا ہے،لیکن ذکرِ خفی حق تعالیٰ کا علم ہے جو بندے کے ظاہر وباطن پر طلوع ہوتاہے۔ اور اس عالم میں بندے کو شعور ہوتاہے، اس دیکھنے کا اور علم کا،لیکن جب یہ رؤیت (دیکھنا)اور علم بندے کے دل پر غالب آجاتے ہیںتو شعور سے بے شعور ہوجاتاہے، اس کو ذکر خفی کہتے ہیں۔
قاضی محی الدین کاشانی ؒ نے سلطان المشائخ ؒ سے پوچھا کہ مرید کو حق تعالیٰ ،جناب پیغمبر ﷺ اور اپنے پیر (مرشد/شیخ)کا مراقبہ علیحدہ علیحدہ کرنا چاہیئے یا اکٹھے؟فرمایا کہ ان کو جمع بھی کیا جاسکتا ہے اور علیحدہ علیحدہ بھی۔جب و ہ ان سب کو اکٹھا کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ سمجھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے اور پیغمبر ﷺ اس کے دائیں جانب اور بائیں جانب اُس کے پیر (مرشد/شیخ) اور جو حرکات و سکنات اس سے ظاہر ہو رہی ہیں اور جو خطرہ (شک ،وسوسہ)اس کے دل میں گزر رہاہے، حق تعالیٰ د اس کو دیکھتا اور جانتا ہے۔(سیرالاولیاء)
…ذکر کے آداب…
حضرت شیخ نصیر الدین محمود ؒ نے فرمایا کہ ذکر کے وقت دونوں ہاتھ دونوں زانوؤں پر رکھے اور کہے لا الہ الا اللہ۔ لا الہ الا اللہ کہتے وقت سر کو ہلائے پھر لا الٰہ کہنے کے وقت بائیں جانب سر کو لے جائے اور یہ تصور کرے کہ جو چیز سوائے حق تعالیٰ کے ہے اُسے میں نے اپنے دل سے باہر نکال دیا ہے، پھر سر کو دا ہنی طرف لے جائے اور الااللہ کہے اور تصور کرے کہ میں دل سے حق تعالیٰ کا اثبات کررہاہوں اور اس طریقے پر ذکر اس وقت تک کرتارہے کہ اپنے دل کے ذکر کی آواز اپنے کان سے سنے۔
بعض درویش ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کی زبان خاموش رہتی ہے اور اُن کا دل ذکرِ حق میں مشغول رہتا ہے، جسے وہ اپنے کان سے سنتے ہیں۔
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ نے فرمایا کہ ذکر کے وقت پہلے 3 بار
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہے۔ چوتھی مرتبہ مُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہ ۔
پانچویں بار لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ۔ چھٹی بارمُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہ۔
نویں بار لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ۔ دسویں بار مُحَمَّدَ رَّسُوْلَ اللّٰہکہے۔
حضرت خواجہ امیر خورد کرمانی ؒ نے سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ مشائخ کے نزدیک پسندیدہ ذکر لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور اَللّٰہ ہے، لیکن ہمارے مشائخ نے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو پسند کیا ہے،اور شیخ ابو سعید ابن الخیر ؒ نے صرف اَللّٰہ کو پسند کیاہے۔
…ذکرومراقبہ کا طریقہ…
ذکر جہر کا مناسب وقت تہجد ہی ہے لیکن آبادیوں کے وَسط میں دوسروں کی نیند میں خَلل سے بچنے کیلئے پَست آواز میں کرنا چاہیئے ورنہ جہاں یہ اندیشہ نہ ہو وہاں پوری آواز سے ذکرِ جہر کے حقیقی فوائد اور اثرات جلد مُرتّب ہوتے ہیں۔البتہ حلقہ کی صورت میں مناسب اوقات میں مضائقہ نہیں۔
ذکر بالجہر کی درج ذیل ترتیب میں بھی رموز ہیں اور اس کے مخصوص طریقے اور ضَربات واشارات ہیں اس لیئے ان کو ذاتی طور پر عملی تربیت کے بغیر نہیں کرنا چاہیئے:۔
٭لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔(دوبار) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہَ 200 بار
٭اِلَّا اللّٰہُ ۔(دوبار) اِلَّا اللّٰہَ 400 بار
٭اَللّٰہُ اَللّٰہ 400 بار
٭اَللّٰہ 200 بار
٭یَا حَقْ یَاحَقْ 100 بار
بعدہٗ تادیر مراقبہ کریں اور پھر دُرود شریف پڑھ کر دعا کریں۔
٭ذکر خفی:یہی ذکر آتی سانس جاتی سانس ،زبان تالوپر، آنکھیں اور منہ بند کرکے دل کی طرف توجہ کرکے بے آواز جاری کریں۔
نوٹ:مرشد ِ گرامی سے 6,666قسم کے ذکر سیکھئے اورسکھایئے۔
…پاسداریٔ چہار چہار…
اہل ِ صدق کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹتا،سالک اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے(مقصودو مطلوب کوپانے)میں کوشش کرتا رہتاہے ۔اسی کوشش کا تذکرہ کلامِ الٰہی میں( سورۂ العنکبوت)ارشاد ہوتا ہے کہ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُ وْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا
ترجمہ:جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم اپنے راستے ان کو خود دیتے ہیں۔
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے فرمایا کہ انسانوں کا کمال چار چیزیں ہیں، کم کھانا(قلّت ِ طعام)،کم بولنا(قلّت کلام)،کم سونا(قلّت ِ منام)،اور لوگوں سے میل جول کم رکھنا((قلّت ِ عوام)۔
1۔ قلّتِ کلام (یعنی زبان کو فضول ولغو بات سے روکنا)ء
زبان کو ہر ناشائستہ کلام سے دور رکھے اور بیہودہ بات نہ کرے،اور نا کہنے والی بات سے توبہ کرے۔کلامِ الٰہی ہے’’ رحمن کے بندوں سے جب کوئی جاہل مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ بس لام‘‘(الفرقان)وہیں حدیث ِ مبارکہ میں آیا ہے کہ :جب صبح ہوتی ہے توساتوں اعضا ء بدن زبان سے کہتے ہیں۔کہ اے زبان!اگر تواپنے آپ کومحفوظ نہ رکھے گی تو ہم ہلاک ہوجائیں گے۔‘‘(صحاحِ ستہ)
ہمارے مشائخ قلتِ کلام کیلئے اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے 2 رکعت نفل نماز تازہ وضو سے اداکرے،اور پھر قبلہ رُخ بیٹھ کر یہ دعا کرے کہ یااللہ!میری اس زبان کو برا کہنے سے توبہ عنایت کر اور اپنے ذکر کے سواء کسی اور بات کے کہنے پر اسے جاری نہ کر۔اور جن باتوں میں تیری رضا نہیں۔اس کے بیان کرنے سے باز رکھ۔
محبوبِ الٰہی ؒ نے فرمایا’’ اُم المومینن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے منقول ہے کہ ملکوت کا دروازہ ۜبھوک اور پیاس سے کھٹکھٹا سکتے ہیں‘‘۔جب تک انسان تنگی نہیں اُٹھاتا ،راحت نہیں پاتا ،زیادہ کھانے اور زیادہ سونے سے کام آگے نہیں بڑھتا۔
…2۔ قلّتِ منام (یعنی کم سونا )…
سالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ رات کے کچھ حصے میں نیند لے اور رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے۔کلام الٰہی میں سورۂ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میںان الفاظ سے فرمایا کہ ’’اور راتوں کو ہمارے حضور حالتِ سجدہ اور قیام میں ہوتے ہیں‘‘وہ ہی رحمن کے خاص بندے ہیں۔علاوہ ازیں سورۂ بنی اسرائیل میں فائز ِ مقام محمود (بلند مقام) کا مژدہ بھی عطاء کیا گیا یہی نہیں بلکہ اللہ نے اپنے بندوں کیلئے اُن کی عزت لوگوں کے دلوں میں جانگزیں کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
کم سونا بہتر اور زیادہ سونا بُرا ہے،بہتر سونا دا ہنی کروٹ پر ہے۔کیوں کہ اس ہیئت میں کھانا بہتر انداز میں قرار پکڑتا ہے ۔سب سے بُرا سونا چہرے کے بل یعنی اوندھے لیٹنا ہے،کیوں کہ یہ دوزخیوں کی علامت ہے،نیز اس طرح لیٹنے سے پیٹ کی تکالیف کے علاوہ اختلاط عقل کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔(مفید الطالبین )۔آج میڈیکل سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان زیادہ سونے کے سبب سست روی کا شکار ہوجاتا ہے ،جس کے سبب وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتاہے۔
3۔قلّتِ عوام( یعنی لوگوں سے زیادہ میل جول سے بچنا)
مرید کے جائز نہیںکہ وہ مقاماتِ تقصیر میں گھرے یعنی تقصیروکوتاہی سے بچے ان لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہ رکھے جو اسلا م وایمان کے تو داعی ہیں لیکن عمل میںکوتاہی کرتے ہیں،ناکارہ ہیں محض باتیں بناتے ہیں،اعمال و احکام کے مخالف ہیں ایسے ہی لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتَابَ اَفَلَا تِعْقِلُوْنَ۔
ترجمہ:کیا تم دوسروں کونیکی کامشورہ دیتے ہواور اپنی جانوں کو فراموش کردیتے ہو حالانکہ تم اللہ کی کتاب پڑھتے ہوکیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے(کہ دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اورخود نہ کرنا بری بات ہے)۔(سورۃ البقرہ، آیت44 ، پارہ1)
حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری ؒ نے فرمایا کہ جس طرح دنیا آخرت کا حجاب ہے اور شیطان دین کا حجاب،نفس اللہ تعالیٰ سے حجاب ہے اور خلق (مخلوق) عبادت کیلئے حجاب و رکاوٹ ہے تو مرید کو چاہیئے کہ خلوت نشینی اس کی تمام مہمات میں نہایت ہی اہم ہے تاکہ عبادت کرسکے اوراپنے کام میں مشغول رہ سکے،دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرسکے۔جیسا کہ ایک شخص نے خواجہ ابوبکر ورّاق ؒ سے کہا مجھے کوئی وصیت کیجئے فرمایا دنیا اور آخرت کی بھلائی تنہائی اختیار کرنے میں ہے اور یہ تنہائی لوگوں میں میں نے کم پائی،دنیا و آخرت کی برائی لوگوں سے میل جول میں ہے اور لوگوں میں یہ میں نے بکثرت پائی۔
(مکتوب ِ دوصدی ۔مکتوب نمبر۱۷۳)
لہٰذا سالک کو چاہیئے کہ خلوت (تنہائی)میں اپنے وقتوں کو لا الہ الااللہ کے ذکر سے معمور رکھے اس درجہ ذکر کرے کہ ذکر زبان سے گذر کر دل تک پہنچ جائے اور دل پر ذکر کاغلبہ ہوجائے ایسا کہ اگر چہ زباں ساکت ہوتوبھی دل ذکرمیں رہے۔
…4۔قلّتِ طعام یعنی بے جا کھانے سے بچنا …
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ نے فرمایاکہ ایک بزرگ کا قول ہے کہ بھوک سے ایک لقمہ کم کھاؤں اور تمام رات سوتا رہوں،یہ اُس سے بہتر ہے کہ میں پیٹ بھر کر کھاؤں اور تمام رات جاگتا رہوں۔نیز فرمایا کہ شیطان کہتا ہے جو پیٹ بھر کر کھانا کھا کر نماز میں مشغول ہوتا ہے،میں اُس سے معانقہ کرتا ہوں(گلے لگنا)۔یہ پیٹ بھرا جب نماز سے فارغ ہوچکتا ہے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ میرا اِس پر کس قدر غلبہ ہوگا۔اسی طرح جب بھوکا سو رہتا ہے ۔میںاس سے بھاگتا ہوں،جب یہ بھوکا نماز میں ہوتا ہے تو جان لینا چاہیئے کہ میری نفرت اس سے کس قدر بڑھی ہوئی ہوگی۔(باب ہفتم۔سیر الاولیاء)
حدیث میں ہے کہ ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اُسے زیادہ کھانے سے بچاتا ہے‘‘اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’بھوکے کا ہنسنا پیٹ بھرے کے رونے سے بہتر ہے۔‘‘
٭ایک صحابی ؓ کا قول ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے اپنے گھر میں ایک دن اورایک رات کے ۜکھانے کی اشیاء کا ذخیرہ کبھی نہیں کیا اور کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا،کیوں کہ پیٹ بھر کر کھانا کفر کی طرف لے جاتا ہے۔
٭شیخ شیوخ العالم حضرت فرید الحق والدین قَدَّسَ اللّٰہٗ سِرَّ ہٗ الْعَزِیْز فرماتے ہیں۔
ان ار ذل الناس من اشتغل بالا کل واللباس
سب سے زیادہ رذیل آدمی وہ ہے جو کھانے اور لباس میں مشغول رہے۔(باب ہفتم:سیر الاولیاء)
٭جبکہ ابتدائی تربیت میںپاسداریٔ چہار چہار یعنی چار ترک ( شرک+غیبت+ جھوٹ+نفاق) اور چار اختیارات ( یعنی قلتِ کلام+قلتِ طعام+ قلتِ منام+قلتِ عوام)اور چار واجبات ( یعنی نمازِ پنجگانہ مع تہجد/ اوابین+ خدمت والدین+ خدمتِ خلق+لقمۂ حلال) اور چار حقوق ( یعنی عینان+ زبان+کان اوردھیان کو آلودگی سے بچانا) شامل ہیں۔
(واضح رہے کہ خواجہ بزرگ ؒ کے مقرر کردہ چہار ترک اس پاسداری چہار چہار میں شامل ہیں جبکہ چار ترک اور چار اختیارات صرف لفظی اور اصطلاحی فرق میں پڑھیں جائیں نہ کہ تعمیلی اور معنوی فرق میں){نظام رنگ2006}
بیعت نامہ کی تشریح
مرشد و مرید کے درمیان بیعت کا عظیم الشان رشتہ جو ہمیشہ قائم و دائم رہنا والا ہے،جس دن نہ بیٹا،باپ کے کام آئے گا نہ ماںبیٹے کے کام آئے گی ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا یہ ہی بیعت کا رشتہ بخشش کا سبب بنے گا ۔کلام ِ الٰہی سورۂ بنی اسرائیل میں گواہی دیتا ہے کہ ’’بروز حشر تمھیں تمہارے مرشدوں(امام) کے ساتھ طلب کریں گے‘‘۔وہیں کلامِ الٰہی میں سورۂ الفتح میں یہ نوید دی گئی کہ ’’ان( بیعت لینے والوں)کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘ یعنی کہ دارین میں رحمت ِ الٰہی گر حاصل کرنی ہوتو مرشد کے دامن سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔کیونکہ اُس کی صحبت ،قربِ الٰہی سبب بنتی ہے۔
اسی صحبت میں رہنے کیلئے مرشدین ،تربیتی مراحل سے مرید کو گزارتے ہیں۔تاکہ مرید اپنے خالق ِ حقیقی اور اپنے رسول کریم ﷺ کی معرفت حاصل کرسکے۔جہاں لوگوںکے مخلف مزاج ہوتے ہیں وہاں مرشد بھی اپنے مریدوں کے مزاج کے مطابق تربیت دیتا ہے۔ہمارے ہاں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ میں جب کوئی مرید ہونے کے ارادے سے مرشد برحق امین ملت امین المشائخ حضرت حافظ خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی کے دست حق ِ رحمت پر بیعت ہوتاہے تو اُس کو (مرید)ایک بیعت نامہ جاری کیاجاتا ہے جس میں اُس کا نام،عمر ،تاریخ بیعت کے ساتھ٭ مشائخ کے حسب ِ روایت ورسوم ِخانقاہی جیسے رسمِ چراغاں،رسمِ چادر،حضورِمرشد جانےکے آداب،ایامِ عرس مشائخ کی فاتحہ جات،حاضریٔ مزار شریف وغیرہ۔
٭تزکیہ نفس:مرشد اپنے مرید کے نفس کی اصلاح کیلئے اُس کو مختلف قسم کے مجاہدے سے گزارتاہے،تاکہ اُس کے آخرت سنور جائے اور بارگاہِ ایزدی میں قرب ومقام حاصل ہوجائے۔
٭ فکر ِ آخرت :مرید کے ہر عمل میں یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ وہ جو کام کر رہا ہے اُس کے بارے بروزِ حشر بازپرس ہوگی،لہٰذا وہ ہرطرح اپنے رب کو منانے کیلئے تقویٰ اختیار کرنے کی کوشش کرتارہتا ہے۔
٭تربیت ِ اُمورِ شرعی:روز مرہ زندگی میں جو واقعات و حوادث پیش آتے ہیں چاہے وہ والدین کے حقوق ہوں یا حقوق زوجین ہوں یا معاش کے طریقے ہو ں وغیرہ اُن میں شریعت اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے طریقے شامل ہیں۔
٭توبہ ٔ ماضی: مطلب یہ کہ ماضی میں جو لغزشیں و نافرمانیاں سرزد ہوئی ہیں مرشد بیعت کے وقت مرید سے یہ عہدو پیمان لیتا ہے کہ آئندہ وہ تمام لغزشیں نہ کرنے کی کوشش کروں گا۔(مزید ملاحظہ کیلئے دعائے عکاشہ دیکھئے)
٭روحانی نصابِ ستہ:میں مرید کو آیاتِ شفاء،طریقۂ ذکر،مراقباتی علاج،نقش،حصار اور ختم شریف کی تربیت {بدرجۂ عاملینِ ستہ (اہلِ تبرک تا سجادۂ مرشد)}دی جاتی ہے۔تاکہ مرید منصب رُشد و ہدایت کو اپنا کر حق سلسلہ ادا کرسکے ۔جو کے اس کے آخرت سنورنے کا سبب ہے۔
٭ثقافتِ نظامیہ کا تحفظ اور عروسیات و تعزیات میں رسومات کا اسلامی متبادل ہمارے نظام ِ تربیت کا عملی حصہ ہے۔( مثلاً عروسی اعتکاف بجائے مایوں ، رسمِ حناء بجائے مہندی ، حصارِ فاطمی بجائے امام ضامن ،خِطبہ بجائے منگنی،عندیہ بجائے رشتہ طلبی،رسمِ وداع بجائے رُخصتی مع ولیمہ و نکاح ) جبکہ تعزیات میں تجہیز وتکفین اور بعد ِتدفین ایصالِ ثواب کے اجتماعات میںشرعی تقاضے پورے ہونے کی نگرانی کی جاتی ہے۔
٭علمِ ترتیل:میں ترتیلی ابوابِ ستّہ:۔
1۔مخارج …………(الفاظ کی آوازیں)۔
2۔وقوف…………(آیت کے ٹہراؤ)۔
3۔اشباع…………(الفاظ کی حرکات)۔
4۔شد ّو مد………(الفاظ کی شدت اور کھنچاؤ)۔
5۔جہرو خفی ………(آیات کا لہجہ)۔
6۔حقِ آیات………(آیات کا لہجہ)
کی تربیت باقاعدہ عملی و مشقی امتحان کے مراحل سے گزار کر سندِ ترتیل دی جاتی ہے۔
٭تعارفی درسِ نظامی :میں بورڈ نظام المدارس صوفیاء کے تحت درج
ذیل علوم کی ابتدائی ،ثانوی اوراعلٰی تربیت مرید کو دی جاتی ہے۔
1۔علمِ ترتیل 2 ۔علمِ صرف ونحو 3۔علمِ تفسیر
4۔علمِ حدیث 5۔علمِ فقہ 6۔علمِ تصوف
7۔علمِ خدمت 8۔علمِ ادیان 9۔علمِ میراث
جیسے علوم شامل ہیں۔
٭ حلقۂ ذکر مراقبہ کی نظری و عملی تربیت سے گذارنے کیلئے مرشد ،مرید کو حلقہ ذکر میں شرکت اور تمام تر آداب کے ساتھ عملی مشق کراتاہے،جس کے سبب اُس کا باطن روشن ہوکر فیض ِ یزدانی کا سبب بنتاہے۔
٭زندگی کے ہر شعبے میں اعداد و شمار کی بڑی اہمیت وافادیت ہے،لہٰذا سنت ِ رسول ﷺ پر عمل پیراہوتے ہوئے مرشد اپنے مریدین کی تعدادکا ریکارڈ اپنے پاس بھی اور بیعت شدہ مرید کو بھی بتاتاہے جسمیں مرید کا شمارِ بیعت و توثیق شجرہ پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مرید کو ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد روحانی ذمہ داری سونپی جاتی ہے ،جس کو خلافت نامہ کہا جاتاہے۔
بیاضیں
انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان نے کس طرح لکھنے کا آغاز کیا ،کبھی اشاروں سے کبھی پتھروں پر مختلف قسم کی اشکال بناکر تو کبھی درختوں کے پتوں یا چھال پر ،بہرحال اس لکھنے کی جستجو نے انسان کو اپنے اندر ترقی کرنے کے احساس کو جنم لیا۔
حضرت آدم ؑ کے زمین پر تشریف لانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اپنے اسماء کا علوم بتا دیا،جس کی برکت سے انسان نے لکھنے کا آغاز کیا۔کیونکہ اس لکھنے کی تربیت ہمیں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ کی تشبیہہ دے کر تو کبھی موسٰی ؑ پر وحی کی صورت میںبھی عطاء کی ۔ رسولِ مکرمﷺ نے قرآن کو لکھوانے کی اپنے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو تربیت دی تاکہ آنے والی اُمت زندگی کزارنے کے کے سلیقے سیکھ سکے۔یہی نہیں بلکہ آپ انے صحابہ کو اپنے الفاظ مبارکہ لکھنے کی اجازت بھی دی جن کو حدیث کے نام سے موسوم کیاجاتاہے۔
مشاہدات و تجربات کے مجموعے کو بیاض کہتے ہیں۔بیاضیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔انہیں مشاہدات کے ایک مجموعے کو حضرت سعد بن ابی وقاص ص نے حضور ﷺکی خدمت میں پیش کیاتو آپ ﷺنے اُس کو ملاحظہ فرماتے ہوئے
’’صاد قہ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا۔(التشرف)
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ میںبیاض لکھنے کی تربیت کا اہتمام برس ہا برس سے مشائخ کی سنت رہاہے۔اور تربیت کا یہ لازمی جز ہے کہ اپنے مشاہدات و معمولات کو مرید رقم بیاض کرے،یہ بیاضیں مختلف ناموں سے موسوم ہیں ۔جو نجویٰ وار ملاحظات ِ مرشد پیش کی جاتی ہیں ، جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔
1۔بیاضِ مراقبہ… (برائے کیفیات و تجزیۂ روحانی )
2۔ بیاض محاسبہ …( برائے محاسبۂ نفس ومعمولاتِ ستّہ )
3۔بیاض مکاشفہ…( برائے اندراجِ کیفیات ومکاشفات )
4۔بیاض خدمت… (برائے خدمتِ خلق )
5۔بیاض تحقیق … ( برائے علمی تحقیق)
6۔بیاض تفویض… ( مرشد کے عطاء فرمودموضوع پر ذاتی تحقیقی کام )
ژتربیتِ مرید کیلئے اِن کے علاوہ بیاضیں درج ذیل ہیں۔
۷۔ بیاضِ اَمر و نہی(برائے اَمرونہی ستّہ)
۸۔ بیاضِ حقوق(برائے حقوق اللہ+حقوق العباد +حقوق النفس)
۹۔ بیاضِ تزکیۂ
۱۰۔ بیاضِ تنقیہ
۱۱۔ بیاضِ تہدیہ
یہ بیاض لکھنے کا ہی فیض ہے کہ ہم تک اسلام کی تمام تر ظاہری وباطنی احکامات جو آج بھی روزِ روشن کی طرح اُجاگر ہیں ،جن کی مدد سے ہم اپنی زندگی کو طاعت الٰہی میں گزار کر اُس کے قرب کے مستحق قرار پارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں دو جہاں کی نعمتیں عطاء فرمائے اور ہمیں علم نافع عطاء فرمائے ۔آمین بجاہ النبی امین ﷺ
ء23رجب 1416 ہجری بمطابق 17 دسمبر 1995
بوقت بعد نمازِ مغرب،بمقام خیابانِ نظامی5A 9/10ناظم آباد کراچی پاکستانء
دولت ِ قدمبوسی عطاء ہوئی۔گفتگو لطائفِ خمسہ کے حوالے ہورہی تھی کہ
1-قلب :اس مقام کی کیفیت یہ کہ سالک پر گریہ وزاری کی کیفیت رہتی ہے اور چلتے پھرتے ،چپکے چپکے اپنے رب کے حضور اپنے گناہوںکی توبہ کرتا رہتا ہے،اور اس کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کی روحِ مبارک سے ہوتا ہے جن کی صفت تھی گریہ وزاری۔
2-روح: اس مقام پر سالک کے اندر دعوتِ ذکر و مراقبہ کی عنصر غالب رہتا وہ اللہ کی مخلوق کو دعوت الیٰ اللہ کی طرف بلاتا ،اور اس سبق کا تعلق بیک وقت دو انبیاکرام علیہ السلام اجمعین کی ارواح پاک سے ہوتاہےجن کی صفت کی دعوت کا عمل ۔
3سری: اس مقام پر سالک اس کائنات کے اسرار و رموز سے واقفیت پاتا ہے۔اور اس سبق کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روحِ مبارکہ سے ہوتا ہے۔جن کی صفت اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی تھی آپ ؑ کلیم اللہ ہیں۔
4خفی:اس مقام پر سالک کے اندر شفائی عنصر ترقی پاتا جو جس پر بھی اپنا ہاتھ رکھ کر دم کرتا اللہ کے حکم سے شفا عطا ہوتی ہے۔اس کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحِ مبارکہ سے ہوتا ہے۔اور آپ کی صفت شفا یابی ہے۔
5اخفی:یہ وہ مقام جہاں پر ایک سالک اپنے نبی کریم جانِ کائنات ﷺ کی ذات اطہر ہر دم اُٹھتے بیٹھے درود و سلام پیش خدمت کرتا رہتا ہے کہ یعنی سالک سراپا درود بن جاتا اور جانِ کائنات ﷺ کے اداؤں کو(سنتوں) اپنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
ژپھر ان اسباق کی روشنی کے بارے میں بتایا کہ
٭جب مقام قلب روشن ہوتا ہے تو زرد روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭جب مقام روح روشن ہوتا ہے تو سُرخی مائل روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭اسی طرح مقام سری پر سفید روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭اور اسی طرح مقام خفی پر سبز روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭مقام اخفیٰ پر جامنی روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭مقامِ نفس پر نیلی روشنی وارد ہوتی ہے۔
٭اور سلطان الاذکار یعنی ساتویں سبق پر گولڈن روشنی وارد ہوتی ہے۔
پھر فرمایاکہ قلب صنوبری کی کیفت عام آدمی کے لیے ہے۔
٭قلب سلیم کی کیفت میں نیکی اور بدی کی تمیز سمجھ آجاتی ہے، یہ ذکر کی ابتدا ہوتی ہے۔
٭قلب منیب کی کیفت رب کی طرف رُخ مڑنا ہے یعنی دل برائی سے روک سکتا ہے مگر صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا۔
٭قلب شہید کی کیفت تجلیات ِ الٰہی کا گرنا ہے یعنی شکستہ دل اور شکستہ قبر پر اللہ کی رحمت پڑتی ہے۔
٭حضرت نے فرمایاکہ مولاعلی کرم اللہ وجہہٗ کا فرمان کہ قلب 3ہیں ۔سلیم، منیب اور شہید۔
٭ایک سلیم: وہ جس میں اللہ کی معرفت کے سوا کچھ نہیں۔
٭دوسرا منیب:وہ جو ہر چیز سے توبہ کر کے اللہ کی طرف لوٹ آیا ہو۔
٭تیسرا شہید:وہ جس نے اللہ کا مشاہدہ کیا ہو۔
پھر اقسام ارواح کا ذکر فرمایا کہ
٭روح جمادی:نطفۂ انسانی کے بعد خون کو اکٹھا کرنے کیلئے کام کرتی ہے۔
٭روح نباتی: اس کے ذریعہ پرورش ہوتی ہے ماں کے پیٹ میں۔
٭ارضی ارواح: 4ماہ سے 6ماہ کے بعد روح حیوانی جسم میں داخل کی جاتی ہے۔جس کے ذریعہ بچہ پیٹ میں حرکت کرتا ہے۔
٭سماوی ارواح: پیدائش کے بعد روح انسانی دوسری مخلوقات کے ساتھ آتی ہے ان کو سماوی ارواح کہتے ہیں۔
؎ صحبت کو ہے تاثیر ،نہیں اس میں کوئی شک اصحاب نبی میں نہ کیوں ہوخوئے محمدﷺ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دعائے فریدی
یَادَائِمَ الْفَضْلِ عَلَی الْبَرِیَّۃِ ط یَابَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالْعَطِیَّۃِ ط
وَیَاصَاحِبَ الْمَوَاھِبَ السَّنِیَّۃِ ط یَادَافِعَ الْبَلَآئِ وَالْبَلِیَّۃَ ط
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہِ الْبَرَرَۃِ النَّقِیَّۃِ وَاغْفِرْلَنَابِالْعِشَائِ وَالْعَشِیَّۃِ ط
رَبَّنَا تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ط وَالْحِقْنَابِالصَّالِحِیْنَ ط وَصَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیآئِ وَالْمُرْسَلِیْنَ ط وَعَلَی الْمَلَآ ئِکَتِہِ الْمُقَرَّبِیْنَ ط وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً کَثِیْرًا کَثِیْرًا ط
بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط
اَللّٰھُمَّ آمِین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَسَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ﷺ
اَمَّا بَعَدْاَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ کَمَاتُحِبُّ وَتَرْضَیٰ بِاَنْ تُصَلِّیْ عَلَیْہِ
ء17شوّال 1415 ہجری بمطابق 18 مارچ 1995
بوقت بعد نمازِ مغرب۔بمقام خیابانِ نظامی5A 9/10ناظم آباد کراچی پاکستانء
طہٰ ۔۔۔جی ہاں یہ نام حضور امین المشائخ امین الاسلام امین الملت نشانیٔ محبوبِ الٰہی الحاج حافظ خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے مجھ ناقص و ناچار کا یہ نام رکھا تھا، کیونکہ میرا نام عبدالعامر غلط اندراج ہونے کی وجہ سے میری شناختی علامت بن چکا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے معنی تو کچھ نہیں ،تو کوئی بات نہیں، ہم تمہارا نام رکھیں گے۔آپ نے یہ نام طٰہٰ رکھا۔اور ہاں ایک خاص بات کہ آپ نے فرمایا تھا چاند کی اُترتی تاریخوں میں تمھارا نام تجویز کروںگاچڑھتی تاریخوں میں نام تجویز نہیں کرتے۔فرمایا کہ اس کے معنی ہیں طیب اور ھادی۔فرمایا کہ دو رکعت شکرانےکے ادا کرلینا۔کیونکہ نام کا اَثر شخصیت پر پڑتاہے۔
یہ وہ وقت تھا جب حلقہ ذکر مالک و مرشد کے دولت ِ کدہ پر ہوا کرتا تھا۔پھر آپ نے سالک کو اللہ کا قرب کیسے حاصل ہوتا ہے اس کے بارے میں گفتگو بیان فرمائی۔کہ لطائف ستہ کیا ہیں اورپھر اس کےبارے کچھ اس طرح تربیت دی۔ جو کہ درج ذیل ہے۔(تحریری نوک پلک کے ساتھ اسباق ومقام کو یہاں درج کیاگیا۔راقم الحروف)۔
اسباق و مقام
دولت ِ قدمبوسی کا شرف عطا ہوا۔اسباق سبق کی جمع ہے ۔ راہِ سلوک میں طالبِ حق اللہ کا قرب حاصل کرنے کی جستجو میں جب تک مقام یعنی اللہ کی ذات کو نہیں پالیتا اس وقت تک جتنے بھی کام وہ کررہا ہوتا ہے (اعمال) وہ سب اسباق کہلاتے ہیں ۔ہر لطیفہ سب سے پہلے روشن ہوتا ہے پھر جاری ہوتا ہے اور پھر راسخ ہوتاہے۔
روشن:یعنی سالک کو اپنے دل پر اللہ کے انوار و تجلیات کی روشنی مشاہدہ میں آتی ہے۔
جاری:یعنی سالک اس مقام پر ہوتا ہے کہ ہر لمحہ وہ اپنے رب کی یاد میں مستغرق رہتا ہے یعنی حدیث احسان پر عمل کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔
راسخ:یعنی سالک کے پاس بیٹھنے والا بھی ان انور و تجلیات سے مستفیض ہوجاتاہے بمصدق لا یشقا جلیس ھم
لطائف
لفظ لطائف اللہ کے صفاتی نام لطیف سے نکلا ۔ جس کے معنی ہیں بڑا لطف و کرم کرنے والا اور باریک بین۔
لطیفۂ قلب (مقام قلب)
لطائفِ ستّہ انسان کے جسم میں دل کا مقام بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے ۔ اس کا تعلق حضرت آدم ں کی روحِ پاک سے ہوتا ہے ۔ اس کی خاصیت ہے کہ طالبِ حق میں گریہ و ذاری کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔
لطیفۂ روح(مقام روح)
اس کا مقام دائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے ۔ اس کا تعلق حضرت ابراھیمں اور حضرت نوحں کی ارواحِ مبارکہ سے ہوتا ہے۔ یہ لطیفہ بھی لطیفہ قلب کی طرح ذکر سے جاری ہوجاتا ہے ۔ اور جو کیفیت ذکرِ قلبی میں حاصل ہوتی ہے ان میں زیادتی ہو جاتی ہے اور غصہ و شدت جو پہلے سے طبیعت میں موجود ہوتا ہے اس کی اصلاح ہو کر وہ شریعت کے تابع ہو جاتا ہے ۔ اس کی خاصیت کہ طالبِ حق میں تبلیغ کا عنصر بڑھ جاتا ہے ۔اُس زبان پُر اَثر ہوجاتی ہے۔
لطیفۂ سری(مقام سرّی)
یہ مقام قلب سے اوپر چار انگشت کے فاصلے پر قائم ہے ۔ اس لطیفہ کے اپنی اصل میں پہنچنے کی علامت یہ ہے کہ یہ لطیفہ بھی لطیفہ قلب اور روح کی طرح ذکر سے جاری ہو جاتا ہے اور کیفیات میں مزید ترقی ہو جاتی ہے ۔ اس کا تعلق حضرت موسیٰ ں کی روحِ پاک سے ہے ۔ اس کی خاصیت ہے کہ طالبِ حق میں اپنے رب سے کلام کرنے کی اور دیدار کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ خوب تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے غوروفکر کرتا ہے اور کائنات کے اسرارورموز سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
لطیفۂ خفی(مقام خفی)
یہ مقام روح سے اوپر چار انگشت کے فاصلے پر قائم ہے ۔ اس کے اپنی اصل میں پہنچنے کی علامت کہ اس میں ذکر جاری ہو جاتا ہے۔ اس کا تعلق حضرت عیسٰیں کی روحِ پاک سے ہوتا ہے کہ طالبِ حق میں شفا کا عنصر بڑھ جاتا ہے یعنی کہ خدمتِ خلق کا جذبہ بڑھ جاتا ہے ۔
لطیفۂ اخفی (مقام اخفیٰ)
اس کا مقام وسطِ سینہ ہے ۔(سینے کے بیچوں بیچ) یعنی کہ چاروں مقامات کے بیچ میں یہ قائم ہے ۔ اس لطیفہ کے اپنی اصل میں پہنچنے کی علامت یہ ہے کہ اس میں ذکر جاری ہو جاتا ہے ۔ اس کا تعلق جانانِ کائنات ﷺ کی روحِ مبارکہ سے ہوتا ہے ۔ اس مقام کی خاصیت یہ ہے کہ طالبِ حق اپنے پیارے آقا حضورِ اکرم جانِ کائناتﷺ پر کثرت سے درود س و سلام کرنے لگتا ہے ۔ لطیفہ اخفیٰ کا مقام تمام مقامات سے اعلیٰ ہے اگرچہ ہر لطیفہ کے ذکر میں قربِ حضور ﷺ اور جمعیت حاصل ہوتی ہے ۔
لطیفۂ نفس(مقام نفس)
اس لطیفہ پر سلسلوں کا اختلاف پایا جاتا ہے (اختلافِ امتی فی رحمۃ یعنی میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے)بعض کے نزدیک ناف کے نیچے دو انگشت کے فاصلے پر اس کی بنیاد بناتا ہے اور کوئی دو بھنوئوں کے درمیان کو ۔ سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے تحت ناف سے لیکر دونوں بھنوئوں کے مقام تک کو مقامِ نفس کہا جاتا ہے، یعنی کہ پیشانی پر اس کا سر اور زیریں ناف اس کا دھڑ ہے ۔ ہر سلسلہ کا منشا بس ایک نقطہ رحمت پر قائم ہے وہ یہ ہے کہ اصلاحِ نفس ہوسکے ۔ اس لطیفہ کی اپنی اصل میں پہنچنے کی علامت یہ ہے کہ نفس سرکشی کے بجائے ذکر کی لذت سے سرشار ہوجاتا ہے اور ذکر میں ذوق و شوق برھ جاتا ہے ۔
سلطان الازکار
یہ دونوں بھنوئوں کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اس لطیفہ کو تمام لطائف کا مجموعہ کہا جاتا ہے ۔ اس کے حصول کی علامت یہ ہے کہ روئیں روئیں سے ذکر جاری ہوجاتا ہے (سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں کے انگوٹھے تک) سالک کے جسم کا گوشت پھڑکنے لگتا ہے ۔ کبھی بازو کبھی ٹانگ کبھی جسم کے کسی حصے میں اور کبھی جسم کے کسی حصے میں حتّی کہ کبھی کبھی تمام جسم ذکر سے حرکت کرنے لگتا ہے اور سالک ایک عجیب کیفیت و ذوق محسوس کرتا ہے جو بیان سے باہر ہے ۔اس کے بعد آپ نے نفس کی اقسام کے بارے بتایا تھا۔
فرمایا کہ نفس کی اقسام6 اقسام ہیں
1۔امارہ ، 2۔لوامہ ،
3۔مطمئنہ ، 4۔راجعہ ،
5۔راضیہ ، 6۔مرضیہ
ژ1۔ نفس امارہ
وَمَا اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِاالسُّوٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ (سورۂ یوسف آیت نمبر 53 ،13واں پارہ)
نفس امارہ پہلا نفس ہے یہ سب سے زیادہ گناہوں کی طرف مائل کرنے والا اور دنیاوی رغبتوں کی جانب کھینچ لے جانے والا ہے۔ ریاضت اور مجاہدہ سے اس کی برائی کے غلبہ کو کم کر کے جب انسان نفس امارہ کے دائرہ سے نکل آتا ہے تو لوامہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے۔
2۔ نفس لوامہ:جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے جب نفس لوامہ کا حامل انسان کسی گناہ یا زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس کا نفس اسے فوری طور پر سخت ملامت کرنے لگتا ہے اسی وجہ سے اسے لوامہ یعنی سخت ملامت کرنے والا کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس نفس کی قسم کھائی ہے :
وَلَا اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِO’’اور میں نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘( القيامة، 75 : 2)
3۔ نفس ملھمہ:تیسرا نفس نفس ملہمہ ہے۔ جب بندہ ملہمہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو اس کے
داخلی نور کے فیض سے دل اور طبعیت میں نیکی اور تقوی کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے ۔
4۔ نفس مطمئنہ:چوتھا نفس مطمئنہ ہے جو بری خصلتوں سے بالکل پاک اور صاف ہو جاتا ہے اور حالت سکون و اطمینان میں آجاتا ہے۔یہ نفس بارگاہ الٰہی میں اسقدر محبوب ہے کہ حکم ہوتا ہے :
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُO
’’اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔‘‘(آیت نمبر 27سورۃ الفجرپارہ نمبر30)
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔
5۔ نفس راضیہ:ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً(آیت نمبر28سورۃ الفجرپارہ نمبر30)
6۔ نفس مرضیہ:ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًO
اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں اس مقام پر بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًO(آیت نمبر 27سورۃ الفجرپارہ نمبر30)
’’اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ ،اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو۔‘‘
(آیت نمبر 28 سورۃ الفجرپارہ نمبر30)
اس کے بعد آپ نے حلقہ ٔ ذکر کچھ اس ترتیب سے کرایا۔
۱۔لاالہ الااللہ۔ ۲۔الااللہ۔ ۳۔اللہ ۔۴۔اللہ ھو۔
۵۔اللہ ھو صل اللہ۔ ۶۔صل اللہ صل اللہ۔
۷۔ الف اللہ۔ ۸۔یا سلطان یا اللہ
صلوٰۃ وسلام پڑھا گیاپھر دعا کی گئی۔خلق خدا رُخصت
ہوئی اورخواجہ ذکر اللہ بالخیر پھر یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے۔
فکری نشت
نوٹ: میرے مالک ومرشد حضور امین الاولیاءخوجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی کو عطاء فرمودہ درود
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَبِیْٓبِ الْحَبِیْبِ وَاٰلِہٖ وَسَلِّمْ
جیسا کہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺنے طریقۂ اذکار سکھائے کہ کیسے ( اوراد پڑھنے ہیں ) ، اُس (بارگاہِ)حضور میں کیسے تسبیح کی جائے اور داخل ہوا جائے۔ (اُن کی نمازیں ) ہماری نماز جیسی (محض) تقلیدی نہیں، اُن کی نمازیں اُن کی پوری روحانیت کے ساتھ خدا کے حضور، زمان و مکاں کے سمندروں سے ہوتی ہوئیں، نور کے سمندروں میں داخل ہوتی ہوئیں، سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکے ، قلب و روح میں داخل ہوتی ہیں۔ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک سے بارگاہِ الہٰی میں داخل ہوتی ہیں۔
ان کے اوراد میں سے سب کچھ (سب وظائف ) جسکی تلاوت کی جاتی ہے اس درجہ سے ہیں ۔ جب ہم محض ان کی پیروی( تقلید) ہی کرتے ہیں تو ہمیں اسی درجے کی ان ساری برکتوں سے نوازا جاتا ہے ۔اسی لیے ہم کہتے ہیں ، "یا ربی میں کچھ بھی نہیں ہوں ، میری کوئی اوقات نہیں ، مجھے اپنے شیوخ کا لباس لینے دیجئے انھوں نے مجھے جو اوراد و وظائف دیے ہیں مجھے اُن کی نیت میں رہنے دیجیئے۔ میں کیا نیت کر سکتا ہوں؟ میں تو کچھ بھی نہیں سمجھتا یاربی میں اُن کی نیت کی بنیاد پر (عمل) کر رہا ہوں۔ جو اُن کی نیت تھی، اِن اذکار، اِن اوراد ، اِن آداب کی ، یا ربی مجھے اُس کا لباس پہنا دیجیے۔
جس وقت آپ مرشد کا عطا کردہ ذکر حق اللہ الصمد اور اللہ ھو صل اللہ پر آتے ہیں تو یہاں ایک محمدی لباس ہے جو روح کو پہنایا جا رہا ہے جو ہمیں اس محمدی جنت میں لے جاتا ہے۔ اور ہمیں محمدی شکل دے رہا ہے کہ ایک ایسی شکل ہے جس میں آپ سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکی صورت اور شبیہہ میں ہیں۔ یہ خدمت جو اولیاءاللہ کرتے ہیں ، وہ یہ نہیں مانگتے کہ یا ربی ہم صرف یہی خدمت کریں گے بلکہ ہم ہمیشہ دائمی خدمت میں رہنے کا سوال کرتے ہیں کہ جب ہماری ملازمت اور ہمارا کام اس زمین پر ختم ہوگا ، تو اولیا اللہ نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب اُن کو سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺکی یہ شکل اور یہ شبیہ عطا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی تخلیق شدہ تمام کائناتوں میں سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی حقیقت کی نمائندگی کرنے کیلئے بھیجے گا۔ تاکہ ، وہ ہمیشہ پیارے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی خدمت میں رہیں۔یعنی ہماری یہ زندگی اور ہماری ہستی،یہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔یہ درجات کبھی ختم نہیں ہوتے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لامحدود طور پر کھولے(ظاہر کرے) گا، وہ ناقابل تصور چیز ہے۔
صرف اپنے اسلام کو (قبول کرنا) ہی منزل نہ رکھنا کہ اوہ میں نے یہ راستہ قبول کر لیا۔ نہیں ، نہیں۔ یہ اسلام کنڈرگارٹنkindergarten (بچوں کی کلاس ) تھی ۔ یوں کہو ، یاربی مجھے ایمان تک پہنچنا ہے اور مقام الایمان یہ ہے کہ آپ نے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺسےاپنی ذات سے بڑھ کر محبت کرنی ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ اسلام کی منزل سے نہیں بلکہ مقام الایمان سے تعلیم دیتے ہیں۔کہ آپ کو ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں آپ نبی کریم جانِ کائنات ﷺسے اپنی ذات سے بڑھ کر محبت کرتے ہوں۔ تب ان تمام حدیثوں کی سمجھ آتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ’میں نہ جنت میں ہوں ،نہ میں زمین پر ہوں ، میں اپنے بندے کے دل میں ہوں۔میری زمین اور میرے آسمان مجھے اپنے اندر نہی سمو سکتے ، لیکن میرے مومن بندے کا دل مجھے اپنے اندر سمو لیتا ہے۔"(حدیث قدسی ، امام الغزالی کی الاحیاء)
عبدیت(بندگی) کو حاصل کرنے والی صرف سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی حقیقت اور روح ہے۔لہٰذا ، جب ہم اپنی ذات سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں تو اس طرح (محبت) حاصل ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا کہ ، "ہم رسول اللہ ﷺکی محبت کو کیسے حاصل کریں گے؟" درود شریف پڑھ کر۔ آپ ﷺسے محبت کر کے۔اس مقام کو کیسے حاصل کیا جائے؟ بہت آسان ہے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺسے محبت کر کے۔
اگر آپ جانِ کائنات محمد الرسول اللہ ﷺسے محبت کرتے ہیں تو آپ حضور ﷺکی نعت پڑھنا ،نبی اکرمﷺ پر درود شریف پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوچنے لگتے ہیں کہ میں ایک (محفلِ) میلاد کیسے مناؤں گا ، میں کیسے میلاد شریف میں مدد کر سکتا ہوں۔ میں اپنی زندگی میں (سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺ کیلئے ) کیا کچھ کروں گا جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا، میری سانسوں کو (کیسے سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں استعمال کروں گا) ، یا ربی ، ابھی مجھے مرنے کی ضرورت نہیں ، میرے پاس ابھی بھی کچھ کرنے کی صلاحیت ہے کہ اس عظیم مقام تعظیمِ نبیﷺکے اظہار کیلئے کچھ کر سکوں، دنیا کو بتانے کیلئے کہ اس بے حد عظیم خوبصورت ذاتﷺ کی شان کیا ہے جسے آپ نے تخلیق کیا ہے، یاربی ، مجھے ایسا کرنے کیلئے زندگی عطا کیجئے اور اپنی زندگیوں میں اس مشن کو مکمل کرنے کیلئے۔ یہی (مشن) ہماری ساری زندگی کو میٹھا کر دیتا ہے ۔یہ خوبصورت کام کر کے ، اب وہ رسول اللہﷺ کاقُرب اور نظر حاصل کر رہے ہیں۔ جب آپ یہ درود پڑھ رہے ہیں اور یہ عمل کر رہے ہیں تو نبی کریمﷺ دیکھ رہے ہیں۔ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی نظرِ کرم اور نگاہِ عنایت ہی ہمارے وجود کی مٹھاس ہے۔
اگر آپ مراقبہ کر رہے ہیں اور اگر آپ ذکر میں ہیں ، تفکر میں ڈوبے ہیں اور آپ رونے لگتے ہیں تو ، یہ رونا اس لئے ہے کہ نبی کریمﷺ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ رونا اس لئے ہے کہ نبی کریمﷺ آپ کی طرف نظر فرما رہے ہیں۔ جب بھی نبی اکرم ﷺ کی نظر روح پر پڑتی ہے ، روح بے انتہا اشک(آنسو) بہاتی ہے۔ ایک (وجہ ) اسکا عشق اور محبت ہے کہ وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی شاہی توجہ اس پر نگاہ ڈال رہی ہیں۔
اور دوسری (وجہ) اس کی ناکامی ہے۔ میں شرمسار ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میں نے ابھی تک وہ سب کچھ نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے اور جو کچھ میں کر سکتا ہوں۔ اور اس حقیقت میں بے حد افسوس اور رنج ہے۔ تو ، یہ ایک خوبصورت رونا ہے ، یہی وہ خوبصورت عشق ہے جس کو وہ ان تمام نعتوں اور ان تمام نشیدوں میں بیان کرتے ہیں۔ یہ نعتیں ان تعلیمات کی تصدیق کے لئے تھیں۔ ان کی ساری زندگی اس حسن کو ظاہر (تشہیر) کرنا تھا۔ اس خوبصورتی سے ملبوس ہونے، اس حُسْنْ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے تو پھر وہ نبی اکرمﷺ کے اس سمندر میں بہہ رہے ہیں۔
آپﷺ کی نظر اِن پر ہے ، انھیں سجاتی ہے ، برکت دیتی ہے ،ان کی روحوں کو اُس نور میں کھینچتی ہے۔ جب ان کی روحیں نور میں داخل ہو رہی ہیں اللہ تعالیٰ صورت کی طرف نہیں دیکھتا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی شکل و شباہت کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ مومن کے دل کی طرف دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طریقت (روحانی سلسلے)آتے ہیں اور دلوں کے بارے میں بات کرتے ییں۔ کوئی سوچتا ہے ، ’’ اوہ ، میں غم کے ان اوقات میں اللہ سے دعا نہیں کر سکتا۔ ’’ جو چاہے دعا کریں، آپ جس کو چاہیں پکار سکتے ہیں۔ اللہ دل کی طرف دیکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے اولیاء اللہ آ کر کامل ہونا سکھاتے ہیں۔
اگر آپ کو ایسی کوئی دعا چاہئے جو (بارگاہِ الہٰی میں) مقبول ہو تو آپ کا کسی ایسے دل میں ہونا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اہم ہے۔ جب اللہ تعالیٰ، سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک پر نگاہ فرماتا ہے تو ، کیا آپ کا نام وہاں ہے؟ کیا آپ نے ایسا کچھ کیا جس پر سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکی توجہ حاصل ہوئی ، صرف چاول کا ایک دانہ ہی کیوں نہ ہو، وہ خلق العظیمﷺ ہیں ، یہاں تک کہ سرسوں کے ایک بیج کو بھی بے حساب نہیں چھوڑتے۔ کیا آپ اس محبت کے لئے چاول کا ایک دانہ ، اس محبت کے لئے پانی کا ایک قطرہ لے کر آئے ہیں؟ تب آپ کو دیا جائے گا ۔آپکا نام قلب(میں)، قلبِ محمدی (ﷺ)میں لکھا ہوا ہے۔
میرے تمامی یارانِ طریقت ،اگر آپ وہاں نہیں پہنچے تو ، کیا آپ نے محمدیون(اولیاء اللہ) کے دل میں کچھ کیا ہے؟ وہ جن کے نام نبی کریمﷺ کے قلبِ مبارک میں نقش ہیں۔ اور سیدنا محمد الرسول اللہ ﷺنے انھیں زمین پر پھیلا دیا کہ یہ میرے اولی الامر ہیں۔یہ میرے عاشقین ہیں ، یہ میرے احباب ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات کو بہت سے نام(القاب) عطا کیے ہیں۔ وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ وہ عاشقین ہیں ، تمام محبت کرنے والے ہیں ، کچھ اُولُو الاَلْباب(صاحبان عقل، عقل رکھنے والے، دانا لوگ)۔ دروازے والے،دربان۔ ان کے پاس اس دروازے کی حقیقت کی چابی ہے جب نبی کریمﷺ بیان فرماتے ہیں کہ میں (ﷺ)شہر ہوں اور علی علیہ السلام بابُ ھُو ۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلَىٌ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ مِنْ بَاْبُهَا۔’’میں علم کا شہر ہوں اور امام علی علیہ السلام اس کا دروازہ / دربان ہیں ، لہذا جو شخص شہر سے (کچھ)چاہتا ہے وہ اسکے دروازے / دربان سے لے جائے‘‘۔ (صحیح حدیث امام ترمذی کی الاوسط سے)
تو ، مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس یہ تمام مختلف القابات ہیں۔ کیا آپ کا نام ان کے دلوں میں سے کسی پر لکھا ہے؟اعمالِ حسنہ اور نیک اعمال اور اچھی خصوصیات کی وجہ سے؟ اور یہی طروق(روحانی سلاسل) کا راز بن گیا۔کہ اپنا نام کسی اچھے مقام پر لکھے جانے کے لیے کچھ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ دل/قلب کی طرف دیکھتا ہے ، وہ اپنے بندوں کی شکل و صورت کی طرف نہیں دیکھتا۔وہ ان کے دل/قلب کی طرف دیکھتا ہے۔ کہیے میں صرف یہ نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کی طرف نگاہ فرمائے۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرا نام سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے قلبِ مبارک میں دیکھےگا،اور اگر یہ آہستہ آہستہ سیدنا محمدالرسول اللہ ﷺکے دل میں (لکھا)جا رہا ہے۔
تو میں چاہتا ہوں کہ یہ سارے اہل بیتِ اطہار کے دل میں رہے کہ ہم ان کے لئےعقیدتوں کے پھول لائے۔ ہم نے ان سے محبت کا اظہار کیا۔ ہم ایک ایسے دن میں ان کا نام(ذکر) بلند کرتے ہیں جس میں(لوگ) اِن کے نام بھول چکے ہیں۔ ہم ان کے نام(اسمائے گرامی)کو عام اور شائع کرتے ہیں کہ ان ناموں کو فراموش نہ کرو۔ یہ وہ نام ہیں جو آپ کو جہنم اور یوم المحشر سے بچاتے ہیں جب ہمارے پاس پکارنے کو کوئی نہیں ہوگا ، یا ربی! میں ایک عقیدت کا پھول لایا ، میں ایک عقیدت کا پھول لایا ہوں، میں ایک عقیدت کا پھول لایا ہوں، کہ میں اپنی نماز کے ساتھ نہیں کرسکتا ،میری نماز پھینک دی گئی ہے یا ربی میں ان کیلئے عقیدت کا پھول لایا۔ جب وہ دعا مانگتے ہیں ، تو وہ پکارتے ہیں ، کہتے ہیں ، ‘میں مشکل میں ہوں اور میں بیمار ہوں ، میں ٹھیک نہیں ہوں۔ براہِ کرم مجھ تک پہنچیں ، مجھے نجات عطا کریں۔ میں کسی بھی چیز کے قابل نہیں ہوں لیکن میں ایک عقیدت کا پھول لے کر آیا ہوں۔ میں نے آپ کے نام کی اشاعت اور تشہیر عزت و محبت کے جھنڈے کی طرح کی تاکہ یہ کبھی بھی زوال پذیر نہ ہو(بےتوقیر نہ ہو) کیونکہ نبی کریم ﷺاِن سے پیار کرتے ہیں۔ ہم خود سے زیادہ ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہم کم سے کم کیا کر سکتے ہیں؟ ان کا نام محبت کے ساتھ پھیلائیں اور وہ آپ تک پہنچیں گے، وہ آپ تک پہنچیں گے اور وہ کہتے ہیں کہ اس محبت کی وجہ سے ہم آپ سے ہر مشکل کو دور کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں اس دن یاد کیا جب کوئی یاد نہیں رکھتا تھا۔ آپ نے ہم سے اس دن محبت کی جب لوگ آپ کو کہتے، ‘ان ناموں سے محبت نہ کرو ، اس نام کو شائع نہ کرو۔ اوہ! تم یہ ہو ، تم وہ ہو۔ اور آپ پر لیبل لگاتے ہیں۔کہیں،میں آپ کے لیبل کی پرواہ نہیں کرتا ، میں ان کی محبت کی پرواہ کرتا ہوں۔" اس راستے میں ایک شاندار حقیقت ہے۔ کیا آپ نے ان کے دلوں ، صحابہ کرام کے دلوں ، ان اولیا اللہ کے دلوں اور اچھے لوگوں کے دلوں میں اپنا نام پایا؟ کیا آپ نے خود کو ان لوگوں اور ان نیک لوگوں کے گھیرے میں رکھا؟ کیا انہوں نے آپ کو پسند کیا؟ اور آپ سے محبت کی؟ اور یہ اسلام ہے ، یہ حقیقت اسلام ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں ہمارے نام پائے جو (اُسے)عزیز ہیں اور وہ اُس نام پر راضی ہو اور ہمیں مزید عطا فرمائے ،مزید عطا فرمائے، ہمیں اپنے خدائی فضل سے عطا فرمائے۔ یہ باب الرحمہ اور رحمت ہمیں ڈھک لے، برکتوں سے نوازے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مزین کرتا ہے (تو)اُن سب کو برکت دے جن سے ہم پیار کرتے ہیں ،ہماری فیملیز، ہماری کمیونٹی اور سب جو اس دین میں ہم سے محبت کرتے ہیں یا ربی۔ ہمیں نجات اور حفاظت عطا فرما۔ آمین ۔بحرمت محمد الرسول اللہ جانِ کائنات ﷺ۔۔۔۔
ان شاء اللہ۔
دعاگو:
خواجہ طہ عامر نظامی امینی (نائب امین ملت )
مرشد کیوں ضروری ہے؟ بیعت مرشد ، کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں۔
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ -سورہ بنی اسرائیل ۔آیت 71
جس دن ہم ہرجماعت کو اس کےامام (پیر) کے ساتھ بلائیں گئے۔
وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيّاً مُّرْشِداً – الكهف17
اور جو گمراہ ہوجائے آپ اس کا کوئی ولی اور مرشد نہیں پائیں گے۔
لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿١٨﴾
آلقران ۔ سورہ فتح ۱۸
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿سورہ فتح ۱۰﴾
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا ۔
أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ – آلقران ۔ سورہ یونس ۱۰
سن لو بے شک ﷲ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ھے نہ کچھ غم۔
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَ الْعَشِیِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه‘ط وَ لَا تَعْدُ عَيْنَاکَ عَنْهُمْ – الکهف، – 28
(اے میرے بندے) تو اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں، اُس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں (اُس کی دِید کے متمنی اور اُس کا مکھڑا تکنے کے آرزومند رہتے ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں اُن سے نہ ہٹیں۔
وَ لَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِکْرِنَا – الکهف، – 28
اور تو اُس شخص کی اِطاعت بھی نہ کر جس کے دِل کو ہم نے اپنے ذِکر سے غافل کر دِیا ہے۔
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا – الکهف، – 65
تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوںاور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اورجب میں (اللہ تعالیٰ) اس سے محبت کرتا ہوں تو میں
اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے
اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے
اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے
اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے
اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں“۔
(البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696.)
★★★ مُرشدِ کامل کے اوصاف ★★★
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عام مسلمانوں کو اپنے خواص یعنی فقرا کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے :
سورة لقمان آیت نمبر 15 : ★ وَّاتَّبِعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَىَّ ترجمہ : اور پیروی کرو اس شخص کے راستہ کی جو مائل ہوا میری طرف۔
سورۃ الانبيا آیت نمبر 7 : ★ فَاسْأَلُوا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ترجمہ : پس اہل ذکر سے پوچھ لو اللہ کے بارے میں اگر تم نہیں جانتے۔
سورۃ الفرقان آیت نمبر 59 : ★ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡئَـــلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ترجمہ : وہ رحمن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے۔
سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے والوں کو مرشد کامل کی رفاقت کا حکم دیتے ہیں :
★ الرفيق ثم الطريق ترجمہ : پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کامل مرشد کی نشانیاں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : ★ ایسے عالم کے پاس بیٹھو جو پانچ چیزوں سے منع کرے اور پانچ چیزوں کی طرف مائل کرے۔
ا) جہالت سے نکال کر دین کا علم سکھائے۔ ۲) دنیا کی طرف رغبت کرنے سے منع کرے اور زہد و تقویٰ کی طرف بلائے۔ ۳) ریا سے روکے اور اخلاص کی طرف راغب کرے۔ ۴) غرور سے روکے اور انکساری پر آمادہ کرے۔ ۵) لا پرواہی اور سستی سے بچائے اور نیک عمل کرنے کی نصیحت کرے۔
حدیث مبارکہ ہے : ★ الشيخ في قومه كتبي في أمته ترجمہ : شیخ (یعنی مرشدِ کامل) اپنی قوم (یعنی مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے کہ ایک نبی اپنی امت میں۔
سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ★ تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں ہے کہ تم اس کی اتباع کرو، پس جب تم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مُتبعیّن (یعنی مرشد کامل) کی اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم ہیں تو گویا تم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔ الفتح الربانی مجلس نمبر 14
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید فرمایا کہ : ★ مرشد کامل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ولایت کا حامل ہوتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّتِ باطن کا جزو ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اس ولی کامل کے پاس امانت ہوتی ہے۔ سر الاسرار فصل نمبر 5
★ حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ انسان کامل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : چونکہ اسم اللہ ذات جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات و رب الارباب کہلاتا ہے اور اس کا مظہر عین ثانیہ ہوگا وہ عبداللہ عین الاعیان ہوگا۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے۔ اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں۔ وہ بالکل بے ارادہ تحت امر و قرب فرائض میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اس کے توسط سے کرتا ہے۔ فصوص الحکم
سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ★ ائے اللہ کے بندے! تو اولیاء کرام کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تو اس کو (روحانی) زندگی عطا کر دیتے ہیں اگر چہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ شخص مسلمان ہوتا ہے تو اس کے ایمان، یقین اور استقامت میں زیادتی ہوتی ہے۔ ملفوظات غوثیہ
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید فرمایا کہ : ★ اولیاء کرام کی یہ شان ہوتی ہے کہ دنیا اور آخرت ان کے دلوں اور آنکھوں سے غائب ہو چکی ہوتی ہے اور انہوں نے اپنے پروردگار کو دیکھ لیا ہوتا ہے۔ پس اگر وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نفع پہنچاتے ہیں۔ اور ولی کامل جب خشک زمین کو دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زندگی دے دیتا ہے اور اس میں سبزہ اگا دیتا ہے۔ ملفوظات غوثیہ
★ مرشد کامل خدا کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور اس کا باطن خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اس کا حسن راز حق سے آشنا آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے اور اس انسان کامل کی جڑ کائنات کے روح میں ہے۔ یعنی وہ کائنات کے ہر راز سے آگاہ ہوتا ہے۔
حدیث شریف ہے کہ : ★ شیخ کامل ہی زندہ کرنے والا اور شیخ کامل ہی مارنے والا ہے، شیخ کامل مرید کے مردہ دل کو اللہ کے ذکر سے زندہ کرتا ہے۔
حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ★ جان لو کہ معرفت و حقیقت کے مدارج و مراتب مرشد کامل کی تربیت کے بغیر حاصل ہو ہی نہیں سکتے۔
جیسا کہ فرمان حق تعالی ہے سورۃ الفتح آیت نمبر 46 میں : ترجمہ: ان پر تقویٰ کا کلمہ لازم کیا۔
اور کلمۂ تقویٰ ہی کلمہ توحید ہے یعنی لااله الااللہ ہے بشرطیکہ یہ کلمہ کسی ایسے قلب سے اخذ کیا جائے جو صاحبِ تقویٰ کا ہو (یعنی مرشد کامل) کا ہو اور جس میں ذاتِ الٰہی کے سوا کچھ موجود نہ ہو۔ اس سے مراد وہ کلمہ نہیں جو عوام کی زبانوں پر ہے۔ بیشک کلمے کے الفاظ ایک ہی ہیں لیکن دونوں معانی میں فرق پایا جاتا ہے۔ اور جب توحید کا یہ پیج زندہ دل مرشد کامل سے اخذ کیا جائے تو یہ قلب کو زندہ کرتا ہے۔ سر الاسرار
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید فرمایا کہ : ★ تم کسی ایسے شیخ کامل کی صحبت اختیار کرو جو حکم الٰہی اور علم لدنی کا واقف کار ہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔ جو کسی فلاح والے کو نہ دیکھے گا فلاح نہیں پا سکتا۔ تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ الفتح الربانی مجلس نمبر 61
★ اہل اللہ کے پاس بیٹھنا نعمت ہے اور اغیار کے پاس بیٹھنا جو کہ جھوٹے اور منافق ہیں ایک عذاب ہے۔ الفتح الربانی مجلس نمبر 61
★ ائے راہِ دنیا کے مسافر، قافلے، رہبر اور رفیقوں سے جدا نہ ہو، ورنہ تیرا مال بھی برباد ہو جائے گا اور جان بھی۔ ائے راہِ آخرت کے مسافر، تو ہمیشہ مرشد کامل کے ساتھ رہ یہاں تک کہ وہ تجھے منزل تک پہنچا دے، راستے میں اس کا خادم بنا رہ اور اس کے ساتھ حسنِ ادب سے پیش آ، اس کی رائے سے باہر مت ہو، وہ تجھے علم سکھا کر اللّٰہ کے قریب کر دے گا، پھر تیری شرافت، سچائی اور دانائی دیکھ کر تجھے راستے میں اپنا قائم مقام کر دے گا، پس وہ راستے میں امیر اور راہ چلنے والوں کا حاکم بنا دے گا، اپنے لشکر کا خلیفہ و جانشین کر دے گا، پس تو اسی حالت پر قائم رہے گا کہ وہ مرشد تجھے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں لا کر آپ ﷺ کے سپرد کر دے گا۔ پس آپ ﷺ کی آنکھیں تجھ سے ٹھنڈی ہوں گی۔ اس کے بعد حضور نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تجھے اپنا نائب مقرر فرمائیں گے۔ الفتح الربانی
★ مرشدانِ کامل کی مجالس اختیار کرو کیونکہ ان کی مجالس میں شرکت سے حلاوت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے اور ان کی نورانی صحبت اور مجلس میں انسانوں کے قلوب کے اندر اللہ تعالیٰ کی خالص محبّت کے چشمے جاری کئے جاتے ہیں جن کی قیمت وہی جانتے ہیں جن کو ذکرِ خفی کی توفیق حاصل ہو

No comments:
Post a Comment