صفحات

Tuesday, September 10, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 19 --- 7 SEPTEMBER 2024 --- 2 RABI UL AWAL 1446H


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

019  دَرس--7ستبمر 2024 | بروز: ہفتہ  02 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ فنافی اللہ

(  19 واں سبق)





تصوف کی ایک بہت مشہور و معروف اصطلاح ’فنا فی اللہ‘ ہے۔ اس کی تشریح انتہائی پیچیدہ اور پرخطر ہے۔ ’فنا فی اللہ‘ کی وضاحت کے لیے مختلف نظریے وجود میں آئے، جن میں   ’وحدت الوجود‘ اور ’وحدت الشہود ‘   سرِ فہرست ہیں۔

اگر فنا فی اللہ کو سادہ طریقے سے بیان کیا جائے تو یہ ذاتِ حق (اللہ تعالیٰ) کے مشاہدے میں خود کو فنا کردینے کا عمل ہے یہاں تک کہ اپنی ’خودی‘ (ذات یا نفس) فنا ہوجائے اور ہمیشہ باقی رہنے والی صرف اور صرف خدا کی ذات ہی باقی رہ جائے۔

قرآن کریم ہم کو  ’فنا للہ‘ کی تعلیم دیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے خدا کے لیے اپنی خواہشات، جذبات، شہوات، رجحانات، تعصبات اور مفادات سب کچھ قربان کردینا۔

قرآن کے مطابق اسلام کے لفظی معنی اطاعت اور سپردگی کے ہیں۔ جب کہ عبادت کا مفہوم خدا کے سامنے انتہائی عاجزی، تذلل اور پستی اختیار کرنا ہے۔ اور ان دونوں مفاہیم کا خلاصہ ہے ’فنا للہ‘۔

انسانی جسم میں موجود أرواح اور پرندے:

فنا کئی قسم کی ہے ایک فنا تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کے وجود میں بہت سے روحیں رکھی ہیں پانچ آپ کے سینہ میں اور ایک روح آپ کے دماغ میں رکھی ہے اور ایک ہے آپ کا لطیفہ نفس، ان ساری روحوں کے آگے پیچھے شیاطین کے جال ہیں اور یہ آپکا امتحان ہے کہ ان شیاطین کے جال کو ختم کر کے ان روحوں تک اللہ کا نور پہنچا کر انہیں بیدار کریں ۔ آپ کے سینے میں اللہ نے چار پرندوں کو بھی رکھا ہے ان چار پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں جو سینے کی مخلوقوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ، قرآن مجید میں ان پرندوں کے حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے

اِس واقعے کو پارہ 3 سورۃُ البقرۃ کی آیت نمبر260 میں اللہ پاک نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ-قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ-قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ-  ۳ ، البقرۃ : ۲۶۰)

اور جب ابراہیم نے عرض کی : اے میرے رب!تو مجھے دکھادے کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے فرمایا : کیا تجھے یقین نہیں؟ ابراہیم نے عرض کی : یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے اللہ نے فرمایا : تو پرندوں میں سے کوئی چار پرندے پکڑلو پھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلو پھر ان سب کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔



 کہ اللہ نے ان کے سینے کے چاروں پرندوں کو نکال کر پاک کیا ۔ مور ، کبوتر، کوا اورمرغ یہ چار پرندے ہمارے سینے کے لطائف کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالی نے مرغ کو لطیفہ قلب کے ساتھ باندھا ہوا ہے ، اللہ کے فرمان کے مطابق مرغ شہوت کا نشان ہے، لہذا آپ دیکھیں کہ مرغ کتنی رغبت سے کھایا جاتا ہے، یہ مرغ انسان کے دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے، مرشد کامل کی نظروں سے اس مرغ کی گردن کٹتی ہے پھر ہی وہ مرغ ، مرغِ بسمل کہلاتا ہے ۔امیر خسرو کے کلام میں مرغ بسمل کا ذکر ملتا ہے آپ فرماتے ہیں

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

اب اس مرغ کی آدھی گردن نور سے کٹ جاتی ہے تو وہ بسمل بن جاتا ہے یعنی تڑپتا رہتا ہے اور اس میں تڑپ محبت آجاتی ہے، نور سے پہلے یہ مرغ دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے جب گردن کٹ جائے گی تو یہ مرغ دل میں اللہ کی تڑپ ڈالتا ہے۔ اسی طرح لطیفہ سری کے ساتھ مور ہے اور ان سب پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں ، کسی کے ساتھ تکبر کسی کے ساتھ حسد، کسی کے ساتھ حرص و عناد ہے، کسی کے ساتھ بغض ہے ، یہ تمام برائیاں آپ کی شخصیت کا حصہ نہیں ہیں لیکن یہ انسان میں آئی اس لیے ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو آپ کے سینے میں امتحان کے طور پر رکھا ہے۔آپ کہیں گے میں نے تو کوئی پرندے اپنے اندر نہیں دیکھے وہ پرندے اپنے جسموں میں اڑ رہے ہیں لیکن ان کی روحوں کو اللہ نے آپ کے جسموں میں رکھا ہے، جب آپ کے لطائف تجلی کی زد میں آتے ہیں اس وقت یہ پرندے پاک ہو جاتے ہیں اور روحانی دم درود میں آپ کے مدد گار بن جاتے ہیں ۔فرض کیا کسی نے دور دراز سے دم کا کہا اگر ہم وہاں نہ جا سکیں تو ان پرندوں کو کہتے ہیں تو وہ دو چار دن اس بندے کے سینے میں رہنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور اس کی روح کو تندرست کر کے واپس آ جاتے ہیں ، یہ باقاعدہ روحانی نظام کے تحت ہوتا ہے۔انسان میں جو روحیں ہیں ان میں کوئی بری چیز نہیں ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی برابر بھی غرور ہوا وہ جنت کے لائق نہیں ہے۔ اب انسان کی فطرت میں تو یہ برائی ہے ہی نہیں ، یہ تکبر ان پرندوں کی وجہ سے دل میں آیا ہوا ہے، جو مومن بن چکا ہو گا اس کے دل سے یہ تمام چیزیں نکل چکی ہوں گی ناں ، اب وہ تکبر ایک کلو ہو یا رائی برابر ہو اس میں یہ تکبر ہوگا ہی نہیں لیکن جس نے اپنی ان روحوں کو چھیڑا ہی نہیں ، صرف جسمانی طور پر ہی عبادتوں میں لگے رہے تو اللہ کے یہاں ان کی کوئی گارنٹی ہی نہیں ہے۔جس نے روحوں کو منور کر لیا ان ہی کے یہ پرندے بھی پاک ہو گئے اور پھر جب ان کا لطیفہ نفس بھی منور ہو گیا تو لطیفہ نفس ، امارہ سے لوامہ اور لوامہ سے نفس الہامہ اور الہامہ سے مطمئنہ ہو گیا ، اس کے بعد اس نے قربانی دی تو وہ جو نفس امارہ کا ایک وجود تھا اس کے اوپر اللہ کا جلال پڑا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تو اس کو کہتے ہیں اس نے اللہ کی خاطر جان دے دی۔


“جو روحانیت سے واقف نہیں ہوتے نہ ہی اس قابل ہوتے ہیں ان کو کہتے ہیں تم حج پر جاؤ تو جانور کی قربانی دو لیکن صوفی اپنے نفس کی قربانی دیتا ہے تو جب وہ اپنے امارہ نفس کی قربانی دیتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس میں انانیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس میں تکبر نہیں رہتا۔جب لطیفہ انا پر لگے ہوئے شیطانی پردے “یاھو ” کی گرمی سے پھٹ جائیں ، جب تمام لطائف اور ان کے ساتھ چمٹے ہوئے پرندے پاک ہو جائیں ، قلب کے جالے ہٹ جائیں ، نفس قربان ہوجائے اور لطیفہ انا کے پردے ہٹ جائیں سب پاک ہو جائیں اوراب صرف نور وہاں رہ جائے تو ولیوں کے لیے یہی مقام فنا ہے”


فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مقام:

چھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ اللہ کا دیدار کر لیتے ہیں تو ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ واپس زمین پر جائیں ، جب اللہ ان کو کہتا کہ اب تو زمین پر چلا جا تو ان ولیوں کی روح میں زلزلہ سا بپا ہو جاتا ہے، روح منتشر ہونے لگتی ہے ، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ چل تو پھر ادھر آ جا اور تو اکیلا مت جا میں بھی تیرے ساتھ چلتا ہوں پھر اللہ تعالی اپنی ذات سے نکلے ہوئے عکس یا تو جثہ توفیق الہی ، یا طفل نوری کو اس ولی کے ساتھ زمین پر بھیجتا ہے ، وہ خود ادھر ہی ہے لیکن اس نے اپنا کوئی عکس اس ولی کے ساتھ نیچے بھیج دیا ۔اللہ کا وہ عکس جب جسم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے وہ تمہارے لطیفہ نفس کے جثوں کو کہتا ہے مجھ سے بغل گیر ہو تو لطیفہ نفس کے جثے اس کے جلال کی تاب نہ لا کر جل جاتے ہیں ، اب یہ نفس فنا ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کا عکس تمہارے قلب کے جثوں کو بولتا ہے کہ مجھ سے بغل گیر ہوجاؤ تو قلب کے جثے بھی تاب نا لا کر جل جاتے ہیں ۔اب اس کا قلب بھی فنا ہو گیا پھر رب کا وہ عکس تمہاری روح کے جثوں کو بولتا ہے مجھ سے گلے ملو تو وہ بھی تاب نہ لا کر جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں جب اس بندے کے سارے لطائف جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں تو وہ بندہ فنا ہو گیا اب پھراس کی روح کی جگہ وہ خود بیٹھ جاتا ہے، حدیث بھی ہے کہ


وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” إن الله تعالى قال : من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته ولا بد له منه ” . رواه البخاري

مشکوة شریف ۔ جلد دوم ۔ ذکراللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان ۔ حدیث 787

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، يَكْرَهُ المَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ(رواہ البخاری حدیث نمبر 6502)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔

یعنی میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ پھر زبان اس کی ہوگی کلام اللہ کا ہوگا ۔

 گفتہ او گفتہ اللہ بود۔۔۔۔گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود۔۔۔

 آواز بندے کے حلق سے نکلے گی لیکن اس زبان سے نکلنے والا کلام اللہ کا ہو گا ۔حضور پاک نے جب کفار کی طرف ریت پھینکی تو اللہ نے کہا یہ تیرا نہیں میرا ہاتھ ہے۔

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ(سورة الانفال آیت نمبر 17)--- اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔

حضور پاک ﷺکو یہ بھی کہا۔۔۔۔من عن ابی قتادۃ قال ،قال رسول اللہ :من رآنی فقد رأی الحق۔“یعنی :حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،آپ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :  جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا ۔“(مشکوۃ المصابیح،جلد02، صفحہ 35، مطبوعہ کراچی )

سمجھانے کے عرض کررہا ہوں۔ راعنی فقد را الحق، جا کر یہ کہہ دو کہ جس نے تجھے دیکھا اس نے مجھے دیکھا ۔

تیرے تمام لطائف کا جل جانا ہی فنا ہونا ہے،اور جب تیرے اندر کی تمام روحوں کا جل جانا اور اس کے عکس اور اس کے نقش کا تجھ پر قابض ہو جانا بقا کی منزل ہے ۔ اسی کو” بقا باللہ ” کہتے ہیں ۔علامہ اقبال نے فرمایا کہ جب تک تو مجھ میں جلوہ گر نہ ہوا تھا اس وقت تک ہی میرا وجود تھا جب تو مجھ میں جلوہ گر ہو گیا تو اب میں نہیں ہوں ۔”میں ” تو اس باطل کا نام ہے جو تیرے آنے سے پہلے تھا، جب تو آیا تو باطل مٹ گیا ، تو ہی تو ہو گیا ، یہ ہے موحد کا ہونا اور یہ ہے توحید کی روح۔

میں جب ہی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

فنا فی اللہ کے برعکس کوئی مافوق الفطرت فلسفہ نہیں بلکہ عقل و فطرت پر مبنی ایک انتہائی سادہ اور مربوط نظریہ ہے۔ انسان جب زبان سے خدا کی توحید کا اقرار کرلیتا اور خود کو اس کے سپرد کردیتا ہے تو اگلے ہی لمحے اس کے مشاہدات اور تجربات اسے بتادیتے ہیں کہ اس کا معاملہ ایک انتہائی طاقتور ہستی کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ اپنے اندر سے سرکشی کی خواہش کو فنا کردیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ خدا ہی تمام خزانوں کا مالک ہے تو وہ اپنا مال خدا کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہی خداوند تنہا کارخانۂ قدرت چلارہا ہے تو وہ بے اختیار سجدے میں گر کر اپنے فخر و تکبر کا استیصال کردیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کے گناہوں پر سزا دینے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے تو وہ اپنیاندر سے گناہوں کی خواہش کو کچل ڈالتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں کی خواہش کو خدا کی ہدایت کے تابع کرتا ہے، اپنے کانوں کی سماعت کو اس کے احکام کے تحت لاتا ہے، اپنی زبان کی گویائی کو اس کے منشا کے مطابق بناتا ہے، اپنے دماغ کے خیالات اور دل کی سوچ کو اس کی اطاعت کے تحت لاتا اور اپنی زندگی کی ہر ہر ساعت ربِ کائنات کے اشارے اور پسند پر گزارتا ہے۔

فنا للہ کا یہ عمل محدود نہیں۔ کیونکہ یہ خدا کے لیے ہے، اس لیے لامحدود ہے۔ انسان اپنی خواہشات کو فنا کرتے کرتے ارتقا کے منازل طے کرتا رہتا ہے، وہ مسلم سے مؤمن اور مؤمن سے صدیق و شہید کے درجات حاصل کرتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے خدا کے مقربین کا درجہ مل جاتا ہے۔ لیکن تب بھی وہ خود کو خدا کا غلام ابن غلام ہی سمجھتا ہے۔

’فنا فی اللہ‘ کے مدارج غیر حقیقی ہیں جب کہ ’فنا للہ‘ کے مدارج حقیقی۔ ’فنا للہ‘ کا تصور انسان میں تواضع، فروتنی، اطاعت، للٰھیت، صبر، استقامت، توکل ، تسلیم و رضا اور ہمیشہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں رہنا جیسی عمدہ صفات پیدا کرتا ہے جب کہ ’فنا فی اللہ‘ کا نظریہ انسان کا منتہائے مقصود اس کو قرار دیتا ہے کہ وہ قطرے کے سمندر میں مل جانے کی طرح خدا کی ذات میں ضم اور فنا ہوجائے۔

فنا للہ ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کی تعلیم قرآن و سنت میں بہت تفصیل سے موجود ہے۔ اور اگر کسی کو فنا للہ کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ پیغمبر عربی کی سیرت کا مطالعہ کرے۔ یہ مطالعہ بتادے گا کہ کیسے نبی برحق نے اپنی پوری زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری کی، ہمیشہ عجز و انکساری کا اظہار کیا، صبر کیا، ثابت قدم رہے، ہمیشہ خدا پر توکل اور بھروسہ کیا، ہر مشکل میں اُسی کی پناہ اور امان ڈھونڈی۔ اپنی خواہشات کو خدا کی منشا کے تابع رکھا اور خدا کی سچی بندگی کیا ہوتی ہے، پوری زندگی اس کا بہترین نمونہ بنے رہے۔


جب عارف باللہ واصل فنا فی اللہ فقیر اسم اللہ کا نقش تصور سے اپنے دل پر لکھ لیتا ہے تو وہ دیکھتاہے کہ اس کا جسم اسمِ اللہ میں غرق ہو کر غائب ہو گیا ہے اور جسم کے بجائے اسمِ اللہ ظاہر ہو گیا ہے تو وہ ظاہرو باطن کا ہر مشاہدہ اسمِ اللہ ہی سے کرتا ہے- پھر اس کے وجود میں ذکر اذکار کی لذت باقی نہیں رہتی اور نہ ہی سوزشِ اسمِ اللہ کی وجہ سے ذکر اذکار میں اُس کا دل لگتا ہے- وہ جس طرف بھی دیکھتا ہے اسے اسمِ اللہ ہی نظر آتا ہے خواہ وہ اسمِ اللہ کی طرف نہ بھی دیکھے- اسے اللہ کے سوا کوئی چیز پسند نہیں آتی - اسے ہر چیز کے مغز و پوست میں (اسمِ )اللہ ہی (اسمِ )اللہ نظر آتا ہے اور وہ کامل صاحب ِغنایت ہو جاتا ہے- اس کا نفس قلب بن جاتا ہے، قلب روح کی صورت اختیار کر لیتا ہے ، روح سرّ بن جاتی ہے، سرّ خفی بن جاتا ہے، خفی اَنا میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اَنا مخفی میں ڈھل جاتی ہے- اِسے (منازلِ سلوک میں ) توحید ِمطلق (کا مقامِ مُشاہدہ) کہتے ہیں- یہاں پر پہنچ کر ابتدا انتہا بن جاتی ہے کہ ابتدا نور ِتوحید ہے جس سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہوا- نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روح پیدا ہوئی اور روح سے نورِ روشنائی، اسم، جسم ، قلب، نفس، قالب، مطلب، مطالب اور وجودِ اربعہ عناصر پیدا ہوئے -

توحید (کے اَنوار) کا مُشاہدہ لاہوتی ہے:-

’’مشاہدہ پندرہ قسم کا ہے، چودہ قسم کا مشاہدہ ناسوت (مقامِ دنیا) کے چودہ طبقات کا مشاہد ہے اور پندرہویں قسم کا مشاہدہ دونوں جہان سے بالا تر لاھوت لامکان کا مشاہدہ ہے- لاھوت عین ذات(کے اَنوار) کا مقام ہے جہاں فقط توحید ِباری تعالیٰ ہے- ہر ایک مقام کی شرح الگ الگ ہے- چنانچہ تسبیح ِزبان و نفس و قلب و روح و چاند و سورج و جن و فرشتے و شیطان و آگ و ہوا و پانی و مٹی و صورتِ شیخ کے مشاہدہ کی یہ چودہ اقسام ناسوتی ہیں جبکہ پندرھویں قسم کا مشاہدہ مقامِ فنا فی اللہ بقا باللہ ذات کا مشاہدہ ہے جو سراسر توحید ہے- یہاں پر فقر کی تکمیل ہو جاتی ہے اور فرمایا گیا ہے -: ’’ جب فقر کامل ہو تا ہے تو اللہ ہی اللہ ہوتا ہے‘‘ (یعنی ہر طرف انوارِ الٰہی ہوتے ہیں ) -جب طالب اللہ مقامِ توحید (کے اَنوار) میں غرق ہو جاتا ہے تو ناسوت کے جملہ چودہ مقامات سے الگ ہو جاتا ہے-‘‘

توحید فنا فی اللّٰہ کو صرف اللّٰہ کی خبر ہوتی ہے:-

’’اہل ِفنا فی اللہ کا نفس نہیں ہوتا جیسا کہ لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَایَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ

یعنی میر ے لئے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مُقَرَّب فِرِشتے یا مُرْسَل نبی کی گنجائش نہیں۔

(کشفالخفاء،ج2،ص156،حدیث:2157، مدارج النبوۃ،ج 2،ص623،جواہر البحار،ج4،ص265)

اس حدیث ِنبویﷺ سے ظاہر ہے-

چنانچہ رابعہ بصری  سے پوچھا گیا-:

’’نفس و شیطان و دنیا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ آپ نے جواب دیا-:

’’ مَیں توحید ِفنا فی اللہ میں اِس قدر غرق ہوں کہ مجھے نفس کی خبر ہی نہیں اور نہ ہی مجھے شیطان و دنیا کی خبر ہے-‘‘

فنافی اللّٰہ فقیر کیسے بنتا ھے :-

’’اہل ِ مراقبہ کی انتہا دریائے ژرف کا اِستغراق ہے- دریائے ژرف کیا ہے؟ دریائے ژرف دریائے توحید ہے جو ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے موجزن رہتا ہے- جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے اس میں غوطہ لگاتا ہے وہ تارکِ دنیا فنا فی اللہ فقیر ہو جاتا ہے-‘‘

توحید فنا در فنا ہونا ہے:-

’’جب تک تو فنا در فنا نہیں ہو جاتا خدا تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا- جس طرح چینی یا شکر میں پانی ملا کر آگ پر پکا لیں تو اس کا نام حلوہ ہو جاتا ہے، پھر اس کا نام چینی و شکر یا پانی نہیں رہتا، اِسی طرح چینی یا شکر توحید کی مثل ہے، پانی بندے کی مثل ہے اور حلوہ معرفت و صاحب ِ وصال غرق فنا فی اللہ بقا باللہ فقیر کی مثل ہے-‘‘


محبتِ الٰہی کے ذریعے معاشرتی نفرتیں مٹائی جاسکتی ہیں:-

’’نقل ہے کہ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری سے خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا-:

 ’’اے رابعہ! کیا تو مجھ سے محبت رکھتی ہے؟ ‘‘

حضرت رابعہ نے عرض کی-:

’’اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی ممکن ہے کہ مَیں آپ سے محبت نہ کروں؟

ہاں البتہ میرا دل محبت الٰہی میں اِس قدر محو ہے اور مَیں توحید ِفنا فی اللہ میں اِس قدر غرق ہوں کہ مجھے دوستی و دشمنی کی خبر تک نہیں رہی-‘‘

اَنوارِ توحید میں مستغرق کو دائمی حیات نصیب ہوتی ہے:-

’’اگر بارہ ہزار صاحب ِدعوت و صاحب ِورد وظائف و تسبیح خوان جمع ہو جائیں تو ایک ذاکر کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے- اگر بارہ ہزار ذاکر جمع ہو جائیں تو ایک صاحب ِمذکور الہام کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے، اگر بارہ ہزار صاحب ِ مذکور الہام جمع ہو جائیں تو ایک صاحب ِاستغراقِ مراقبہ کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے، اگر بارہ ہزار صاحب ِاستغراقِ مراقبہ جمع ہو جائیں تو ایک فنا فی اللہ فقیر کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے کہ غرق فی التوحید مؤحِّد کو دونوں جہان میں دائمی حیات نصیب ہوتی ہے اور ...... - اللہ بس ما سویٰ اللہ ہوس- ‘‘

No comments:

Post a Comment