صفحات

Sunday, September 15, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 22--- 15 SEPTEMBER 2024 --- 10 RABI UL AWAL 1446H

 

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

22  دَرس--15ستمبر 2024 | بروز: ہفتہ  10 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 


مراقبہ اسمِ باطن

(22  واں سبق)

 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ

نیت مراقبہ اسم الباطن

 فیض می آید از ذات بیچون کہ مسمی بہ اسم باطن است کہ منشاء ولایت علیا است و ولایت ملاءالاعلی است بمفہوم این آیۃ کریمہ.

 ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ. بعناصر ثلاثہ من کہ آب وباد ونار است بواسطہ پیران کباررحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو اسم باطن کے ساتھ موسوم ہے اور منشا ولایت علیا ہے جو ولایت ملا الاعلی  ہے اور اس آیہ کریمہ کے مطابق(وہی اول  وہی آخر  ظاہر و باطن ہے اور وہی ہر شے کو جاننے والا ہے )عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے  میرے  تین عناصر پانی ہوا اور آگ میں فیض  آتا ہے۔

گذشتہ نشستوں کا خلاصہ پیش خدمیت ہے کہ جن میں ہم سے یہ جانا اور مشق کی سعادتوں سے ہمکنار ہوئے ، اللہ ہمیں اپنے محبوبین کے وسیلے سے استقامت عطاء فرمائے۔ آمین۔

خلاصہ بحوالہ  (راحت القلوب فوائد الفود، شمس العارفین،عمدۃ السلوک) مراقبہ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جس کے تحت بندے کے دِل کی نگرانی ہوتی رہتی ہے۔ ہر مراقبے کا مدعا اور منشا یہ ہوتا ہے کہ غیر  ﷲ دل میں نہ آنے پائے۔ مراقبے کے باعث نفسانی اور شیطانی خطرات سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔ مراقبہ وہ ذریعہ خاص ہے جو طالب کو مولا تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے مراقبہ کو مشاہدہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مراقبہ دل کی نگہبانی کو کہتے ہیں۔ مراقبہ ایک نگہبان ہے جو غیر حق رقیب مثلاً خطراتِ نفسانی، خطراتِ شیطانی، امراضِ پریشانی اور ماسویٰ ﷲ کسی چیز کو دل میں نہیں آنے دیتا۔

مراقبہ میں انسان پرروحانی اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ صاحب ِ مراقبہ ﷲ کے نور کا مشاہدہ کرتا ہے‘ دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک لمحہ بھی تجلیاتِ ذات کے مشاہدہ اور دیدار سے نہیں رکتا۔ خواہ ظاہر میں لوگوں سے بات چیت ہی کیوں نہ کرتا ہو اور دنیاوی زندگی میں مصروف کیوں نہ رہتا ہو۔ اسے باطن میں ہمیشہ دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔

حضرت سلطان باھو  ؒ  فرماتے ہیں:

 مراقبہ خدا کی محبت کا نام ہے اور یہ مقام ’’حی ّ و قیوم لازوال‘‘ میں استغراق کا راہنما ہے اس کے ذریعہ مقامِ ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا‘‘ (موت سے قبل مر جانا) حاصل ہوتا ہے۔ مراقبہ سے آدمی صاحب ِ مشاہدہ حضورِ حال احوال اور سِرّ اسرار کی سیر سے واقف ہوتا ہے اور مجلس ِ محمد رسول اﷲ ﷺکی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

مراقبہ کا طریقہ 

مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے ذکر و فکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ ذکر قلبی اور کسی اسماء الحسنیٰ کا بھی ہو سکتا ہے اور کسی آیت کا بھی اور اسم ِ اللہ ذات کا تصور بھی ہو سکتا ہے۔ ذکر‘ فکر اور تصور اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ پھر مراقب کو آنکھیں بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ ﷲ علیہ مزید فرماتے ہیں اس سلسلہ میں فرماتے ہیں(عین الفقر):

مراقبہ کئی طرح کا ہوتا ہے مثلاً مراقبہ ذکرو فکر، مراقبہ حضور ، مراقبہ فنا فی الشیخ، مراقبہ فنا فی ﷲ،مراقبہ فنا فی ھو، مراقبہ فنا فی فقر، مراقبہ فنا فی محمد رسول ﷲ ﷺ، مراقبہ فنا فی نفس ،مراقبہ فنا فی نودنہ (99 اسماء الحسنیٰ) یہاں آپ کو حضرت بابا فریدالدین گنج شکر  ؒ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں:

ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ ایک پہاڑ پر پہنچے وہاں غیب سے آواز آئی کہ اے محمد مسعود محبّ بننا چاہتا ہے یا محبوب؟ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کِیا یا اِلٰہی محبّ کا مرتبہ زیادہ ہے یا محبوب کا؟ حکم ہُوا محبّ کا محبوب جب محبّ میں فنا پاتا ہے تو باقی محبوب ہی رہ جاتا ہے یہ درجہ کمال ہے اس واسطے میں آپ کی توفیق سے اسی درجہ میں آپ کے صراطِ مستقیم پر قدم رکھنا چاہتا ہوں، حکم ہُوا کہ اس راستہ میں اِمتحانات شدید ہوتے ہیں چانچہ اسی بارے آیت سپارہ دوم میں آ چکی ہے،  

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(پ 2 سورۃ البقرہ آیت 155)

اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سُنا ان صبر والوں کوحضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ نے عرض کی کہ بَشِّرِ الصّابِرین الزَّاھِدِین    کی خوشخبری بھی آپ ہی عطا کریں گے کیونکہ آپ کی توفیق سے صراطِ مسقیم میں قدم رکھ دیا ہے اس وقت اس پتھر کو جس پر آپ رحمتہ اللّہ علیہ کھڑے تھے حکم ہُوا کہ اس کا چمڑا گوشت سے اُتار لو چنانچہ اس پتھر کی سل نے آگے پیچھے سے چِمٹ کر تمام گوشت سے پوست اُتار لیا پِھر ہاتف سے آواز آئی اے محمد مسعود تم کو کہا ہے کہ اس راستہ میں آزمائشیں بہت ہیں اب بھی ہٹ جاؤ عرض کِیا اب تو آپ کی توفیق سے اندھوں کی مثل تھوڑا سا سوراخ ہونے پر لاٹھی کے وسیلہ کے بغیر رواں ہو گیا ہوں اور آگے ہی چلوں گا پِھر حکم ہُوا کہ اس کے گوشت میں کنکر مارو چنانچہ آپ رحمتہ اللّہ علیہ اس پر بھی صابر و شاکر رہے پِھر جانوروں کو حکم ہُوا کہ اس کے بدن کا گوشت نوچ لو چنانچہ انہوں نے سب گوشت نوچ لیا اِس پر بھی اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ رٰ جِعُونَ کے حکم سے مطمئن رہے اور اس پر کمال رحمت اور عنایت سے فردیت کے مقام اور نودنہ نام جو مشہور ہیں عطا ہونے کی خوشخبری حاصل ہوئی اور بطورِ عجز کے اس شعر کو بابا جی فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ نے اپنی آپ بیتی میں بیان کِیا ہے

؎فریدا تن سُکّا پنجر تِھیا تلیاں کُھونڈیں کاگ اجے سُ ربّ نہ بَو ہڑیو دیکھ بندّے کے بھاگ

اے فرید رحمتہ اللہ علیہ جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا ہاتھ پاؤں کے تلوؤں سے کوّا ماس نوچ رہا ہے اتنی جدوجہد اور دنیاوی لذّتوں سے دوری کے باوجود بھی اگر ربّ ساتھ نہ دے تو پھر بندّے کی قسمت ہی قصوروار ٹھہرے گی۔

(شرح دیوان فرید گنج شکر رحمتہ اللّہ علیہ المعروف فیضان الفرید رحمتہ اللّہ علیہ۔صفحہ 548-549)

تو میں بات عرض کررہا تھا کہ مراقبہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے حضرت سلطان باھو  ؒ فرماتے ہیں؛ ’’باطنی تحقیقات کی رُو سے وہ مراقبہ کہ جس میں باطل شیطانی‘ خطراتِ نفسانی اور حادثاتِ دنیا فانی سے پیدا ہونے والے وہمات نہ پائے جاتے ہوں اور ذکر و فکر و کلماتِ تسبیح کے ذریعے بالکل صحیح ہو، یہ ہے کہ 

جب طالبِ ﷲ باطن کی طرف متوجہ ہو کر تصورِ اسم ِاللہ ذات سے مراقبہ شروع کرے تو اُسے چاہیے کہ 

پہلے تین بار ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْم‘‘ 

تین بار درود شریف، 

تین بار آیۃ الکرسی، 

تین بار ’’سَلٰمٌ قف  قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِیْم‘‘

 تین بار چاروں قل شریف،

 تین بار سورۃ فاتحہ،

 تین بار استغفار، 

تین بار کلمہ ٔ تمجید اور

 تین بار کلمہ ٔ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا  ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھ لے 

اور پھر اپنی نظر اسم ِ اللہ  ذات اور اسم محمدﷺپر ٹکا دے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے مجلس انبیا و اولیا ﷲ اور معرفت اِلَّا اللّٰہ کی نیت کر لے تو مرشد کامل بے شک اپنی رفاقت میں اُسے حضورِ مجلس میں پہنچا دے گا۔ (مجالسۃ النبی خورد ) 




تشریح

اس مراقبہ میں ولایت کبری اور اسم باطن کی سیر شروع ہوتی ہے۔ اس کو ولایت علیا اور ولایت ملا ئکہ علیہم السلام بھی کہتے ہیں۔ اس مقام میں سوائے عنصرخاک کے باقی عناصریعنی پانی، ہوا اور آگ مورد فیض ہوکرتکمیل پاتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ ولایت صغری اور ولایت کبری کی سیراسم الظاھر میں تھی جبکہ ولایت علیا کی سیر اسم الباطن میں ہے۔ ان میں فرق یہ ہے کہ سیر اسم الظاھر میں تجلیات اسمائی وصفاتی ہیں۔ جبکہ سیراسم الباطن میں اگر چہ تجلیات اسماء و صفات ہی ہیں لیکن ان کے ساتھ تجلی ذات بھی پردہ ہائے اسماء و صفات میں موجود ہوتی ہے۔ اس مقام میں سالک کے اجزائے جسم پاک وصاف ہوجاتے ہیں، عناصر ثلاثہ کے رذائل صفات حمید ہ میں بدل کر منور ہوجاتے ہیں تو سالک کو پرواز کے دو پر عنایت ہوتے ہیں ۔ ایک اسم الظاھرکاجو ولایت کبری کی انتہا ہے اور دوسرا اسم الباطن کا جو ولایت علیا کی انتہا ہے۔ سالک کو اس مرتبہ میں تجلیات اسماء وصفات الہی سے گزر کر تجلیات ذات اقدس (جوحقیقی مقصود ہے) کی سیر کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مقام میں ذکر تہلیل، نوافل، قیام اور قرآت کی طوالت ترقی بخش ہوتے ہیں۔ اور رخصت شرعی کا اختیار کرنا بھی غیر مستحسن ہے۔ چونکہ یہ ولایت ملائکہ کی ہے لہذا ملکیت کے ساتھ جس قدر زیادہ مناسبت ہوگی ، اتنی جلد ترقی میسر ہوگی۔ اس ولایت سے سالک کے تمام بدن میں وسعت و فراخی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور لطیف احوال سارے جسم پر وارد ہوتے ہیں۔ خصائل رذیلہ کو دفع کرنا اور خالق عناصر کی طرف متوجہ رہ کر حصول فیض کرنا اس مراقبہ کا، ما حاصل ہے۔

ولایت صفری اور ولایت کبری اسم الظاہر کے سیر وسلوک میں تھے۔ اس کے بعد اسم الباطن میں ولایت علیاء کی سیر شروع ہوتی ہے۔ اس کا نام ولایت ملائکہ کرام علیہم السلام بھی ہے اس مقام میں عنصر خاک کے علاوہ عناصرثلا ثہ آگ ، ہوا اور پانی پر فیض کا ورود ہوتا ہے ۔ جاننا چاہیے کہ سیر اسم الظاہر تجلیات اسمائی وصفاتی تھے اور سیر اسم الباطن میں تجلیات اسماء وصفات کے ساتھ تجلی ذات بھی پردہ ہائے اسماء وصفات میں مخفی ہوتی ہے۔ ان ولایتوں، ولایت صغری ، ولایت کبری اور ولایت علیا یا ولایت ملائکہ کی مثال ظاہر و باطن جیسی ہے ۔ اگر ولایت صغری پوست ہے تو ولایت کبری مغز ہے ۔ اگر ولایت کبری پوست ہے تو ولایت علیا مغز ہے ۔اسی دائرہ میں عناصر ثلاثہ کی فنا و بقا ہوتی ہے۔اس مقام میں سالک ایسی تجلیات میں سیر کرتا ہے جواسماء وصفات وذات سے ملی ہوئی ہیں۔

سالک کے عالم امر کے لطائف ( قلب، روح ، سر،خفی ، اخفی ) متقی ہو جائیں اور عالم خلق سے نفس کا تزکیہ ہو جائے اور عناصر ثلاثہ (آگ، ہوا، پانی ) کے رذائل اوصاف حمیدہ میں تبدیل ہو کر منور ہو جائیں اور عنصر خاک کی پاکیزگی و صفائی ہو چکے کہ ہمہ وقت تمام اجزاء لطائف کے ہمراہ ہے تو اس وقت سا لک کو دو پر سیر اور پرواز کے لیے عطا ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک سیر اسم الظاہر کا ہے جو ولایت کبری کی انتہا ہے اور دوسرا سیر اسم الباطن کا ہے جو ولایت علیاء منتہی ہے۔ سالک اس مقام میں تجلیات کی سیر کے قابل ہو جا تا ہے ۔ اس مقام میں ذکر تہلیل و نوافل قیام وقرات کے طول سے ترقی پاتے ہیں ۔ اور رخصت شرعی کا اختیار کرنا غیر مستحن ہوتا ہے۔ بلکہ عزیمت پر عمل کرنا اس مقام میں ترقی بخشتا ہے راز یہ ہے کہ رخصت پرعمل کر نا بشریت کی طرف کھینچتا ہے اور عز یمت پر عمل کرنا ملکیت کے ساتھ نسبت قائم کرتا ہے کیونکہ یہ ولایت ملائکہ کرام علیہم السلام کی ہے اس لیے یہاں ملکیت کے ساتھ جس قدر مناسبت ہو گی اتنا ہی جلد ترقی حاصل ہوگی ۔

اس مقام میں سالک کا باطن اسم الباطن سے مسمی و مصداق ذات اقدس تبارک وتعالی کا مظہر بن جا تا ہے ۔ اس ولایت سے سالک کے تمام بدن میں وسعت وفراخی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور جسم پرلطیف احوال کا ورود ہوتا ہے۔ اخفا اوراسرار کے لائق رموز سالک کے ادراک میں آتے ہیں بلکہ ارباب کشف رویت ملائکہ کرام سے بھی مشرف ہوتے ہیں ۔ الغرض مراقبہ اسم الباطن بھی عناصر ثلاثہ کے اعتبار سے علم الہی سے ہے اس مراقبہ کا مقصودعناصر ثلاثہ کی کیفیات میں انانیت وریاء جیسے رذائل کو دفع کرنا اور خالق عناصر کی طرف متوجہ رہ کر فیض حاصل کرنا ہے ۔




No comments:

Post a Comment