صفحات

Wednesday, September 25, 2024

25 واں مراقبہ انبیاء اولوالعزم - جمعرات 26 ستمبر 2024- 21 ربیع الاوّل ۱۴۴۶ ھجری

     

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

27  دَرس--26ستمبر 2024 | بروز: جمعرات 21 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


درسِ تصوّف 


سورۃ الاحقاف ، آیت35، پارہ26

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ‎﴿٣٥﴾‏

تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں گے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ

 اگر چہ تمام انبیاء اپنے مقام پر عزم و حوصلہ کے مالک تھے، تاہم جن انبیاء کو شریعت دی گئی ہے، انہیں اولو العزم انبیا ء کہتے ہیں۔ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ ہیں۔

اغلاط نامہ
 وائس میں سورہ محمد کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ سورۃ الاحقاف آیت نمبر 35 ہے۔جس کی وائس میں سے حذف(اصلاح) کردی گئی ہے ۔ (مؤلف: خواجہ طہٰ عامر نظامی)

نیت مراقبہ کمالات انبیاء اولوالعزم

فیض می آید از ذات بیچون کہ منشاء کمالات انبیاء علیہم السلام اولوالعزم است بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

    ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو  کمالات اولو العزم  انبیاء علیہم السلام کی منشاء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔


تشریح

یہ مقام اولولعزم انبیاء سے مخصوص ہے۔ اور یہ تجلی دائمی کا تیسرا درجہ ہے۔ ذکر واذکار کی کثرت سے تجلیات ذاتیہ سےسا لک کا باطن بھر جاتا ہے۔ صاحب لیاقت احباب کو اسرار مقطعات قرآنی اور متشابہات قرآنی ظاہر ہوتے ہیں۔ اور باطن میں بے انتہا وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔

    مقام کمالات رسالت کی سیر ختم ہونے کے بعد اللہ تعالی کے فضل اور شیخ کامل واکمل کی توجہ سے بلند نصیبوں کو کمالات انبیاء اولوالعزم علیھم السلام میں سیر کرائی جاتی ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جو سالک پر کمالات رسالت کے انتہا میں کشف ہوتا ہے۔ اس مقام کے انوار و برکات و فیضان کمالات رسالت سے بھی اعلی ہوتے ہیں۔اور یہاں ذات بحت سے زیادہ قرب حاصل ہوتا ہے ۔ اس مقام کا واصل شدہ ولی ایک جماعت اولیاء کا سردار بن جا تا ہے اور طالبان حق اس کے حکم کی تعمیل کر کے فیض باطنی سے فیض یاب ہوتے ہیں ۔ جس طرح تمام مخلوقات میں انبیاء کرام علیہم السلام سب سے بہتر مخلوق ہیں ۔اسی طرح کل انبیاء کرام میں مرسلین کا درجہ بلند ہے اور ان میں بھی اولوالعزم مرسلین علیہم السلام کے مقامات تو بیان سے باہر ہیں ۔ اسی طرح اس مقام کے فیوض و برکات کا حال ہے ۔ کمالات نبوت اور رسالت اور کمالات اولوالعزم علیھم السلام کی نسبت اس قد رلطیف ہوتی ہے کہ کمال لطافت کے سبب یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی نسبت باطنی میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے ۔اس مرتبہ میں بھی بدرجہ اتم وصول ہی وصول ہے اس لیے سالک کی نظر وجدان میں نسبت باطنی نہیں آتی ۔

    اس مقام میں کشف اسرار مقطعات قرآنی اور متشابہات فرقانی کا ہوتا ہے ۔ بعض اکابرحبیب خدا ﷺ کی اتباع کی وساطت سے اسرار محبت اور محبوبوں کے اس جگہ پر حاصل کرتے ہیں ۔ اسرار حروف مقطعات بشر کی طاقت نہیں کہ تحریر کر سکے ۔البتہ سا لک کا سینہ اس کامحل اور مظہر ہوتا ہے ۔عوام الناس کی طاقت نہیں ۔ اگر یہ اسرار بیان ہو سکتے تو امام الطریقت حضرت مجددالف ثانی ہی بیان فرما دیتے اور کس کی مجال ہے ۔ اس مقام عالیہ میں سالک کو اتباع سنت نبوی ﷺ کے سبب کمال وسعت نسبت باطنی اور بے کیفی و بے مزگی اور یاس و حرماں حصہ میں آتے ہیں ۔ حالانکہ اس مقام میں سالک کا باطن کثرت تجلیات ذاتیہ و انوار لامتناہیہ کے ورود سے بھر جاتا ہے ۔ اس مقام کی نسبت سابقہ جملہ مقامات کی نسبت سے بلند تر ہے ۔ حضرت مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ اس مقام کی کمال لطافت و بے رنگی اور بے کیفی کی وجہ سے ممکن ہے ۔سا لک یہاں کی نزد یکی سے دوری پسند کرے۔

مراقبات کمالات نبوت ورسالت کے بعد یہ مراقبہ اس لیے کرایا جا تا ہے کہ سالک کی سابقہ کیفیات میں ترقی ہواور وہ ایک ممتاز کیفیت کا حامل بن جائے ۔ سلوک نقشبندیہ مجددیہ سے متعلق اولوالعزم مرسلین علیہم السلام میں حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام اور حضور سرور کائنات ﷺ ہیں ۔ جن کے حالات سے کون واقف نہیں ۔ اس مراقبہ میں سالک کوان اولوالعزم مرسلین علیھم السلام کے شامل حال بارگاہ ایز دی کے لیے انتہافضل وکرم سے بہرہ ور کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہی اس مراقبہ کا مقصود ہے۔ یہ امر شک سے بالاتر ہے کہ ہر منزل و مقام کی ترقی فضل الہی کے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن اعمال خیر ، اذکار واشغال اسباب کی مانند اور کدورت بشری کے ازالہ میں مفید و موثر ہیں لیکن اس مرتبہ سے سلوک کے اختتام تک ترقی کا معاملہ صرف خدا کے فضل اور پیرومرشد کامل واکمل کی تو جہات پر منحصر ہے۔ پھر بھی اذکار کے ساتھ تلاوت قرآن مجید و نماز بطول قیام و قرات ترقی کے لیے مددگار ہوتے ہیں ۔اور اس فیضان کا وصول مکمل طور پر شیخ کامل کی عنایات و تو جہات پر بنی ہے۔ اس لیے کہ پیر کامل کی عنایات میں حق سبحانہ تعالی کے افضال و اکرام اور الطاف بھی شامل ہوتے ہیں ۔

یک لحظ عنایت تو اے بندہ نواز بہتر ز ہزار سال تسبیح ونماز

یعنی اے بندہ نواز آپ کی ایک لمحہ کے لیے عنایت ہزارسالی تسبیح ونماز سے بہتر ہے ۔



حُروفِ مُقَطًّعہ ایک یا ایک سے زیادہ ان حروف کو کہا جاتا ہے جو قرآن کریم کے 29 سورتوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد آیا ہے۔ ان حروف کو جداجدا پڑھا جاتا ہے جیسے "الم" (الف، لام، میم) "یس" (یا، سین)، "س" (صاد) وغیرہ۔ ان حروف کو مُقَطَّعات اور فَواتحُ السُّوَر بھی کہا جاتا ہے۔

حروف مقطعہ یہ ہیں:

قرآن میں حروف مقطعہ
نمبر شمارسورت کا نامحروف مقطعہنمبر شمارسورت کا نامحروف مقطعہنمبر شمارسورت کا نامحروف مقطعہ
1بقرہالم11طہطہ21غافرحم
2آل عمرانالم12شعراءطسم22فصلتحم
3اعرافالمص13نملطس23شوریحم ، عسق
4یونسالر14قصصطسم24زخرفحم
5ہودالر15عنکبوتالم25دخانحم
6یوسفالر16رومالم26جاثیہحم
7رعدالمر17لقمانالم27احقافحم
8ابراہیمالر18سجدہالم28قق
9حجرالر19یسیس29قلمن
10مریمکہیعص20صص






No comments:

Post a Comment