صفحات

Wednesday, September 11, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 20--- 11 SEPTEMBER 2024 --- 6 RABI UL AWAL 1446H



بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

20  دَرس--11ستمبر 2024 | بروز: بدھ  06 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبۂ قوس

(  20 واں سبق) 





اپنی ذات Innerسے واقفیت حاصل کرنے اور روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے مسلسل مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہماری باطنی صلاحیتیں آہستہ آہستہ سامنے آتی ہیں اور ہم سیڑھی بہ سیڑھی چڑھتے ہوئے اپنی ذات کا عرفان حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ہم کوئی ہنر یا فن حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کسی صلاحیت کو بیدار کرنا ہمارے پیش نظر ہوتا ہے تو کسی قاعدے کلیے کے تحت اس کی مشق کرتے ہیں۔ مسلسل مشق کے نتیجے میں صلاحیت بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور بالآخر ہم اس فن میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔ مثلاً ہم مصوری سیکھنا چاہتے ہیں تو کسی استاد کی نگرانی میں کاغذ پر لکیریں بناتے ہیں اور ان لکیروں کی ترتیب سے کوئی شکل بن جاتی ہے۔ شروع شروع میں پنسل ارادے کا ساتھ نہیں دیتی۔ لکیروں کی لمبائی، چوڑائی اور قوس صحیح نہیں بنتے لیکن مشق کے نتیجے میں ہم اپنے ارادے کے مطابق متناسب خطوط بنانے پر قادر ہو جاتے ہیں۔

نیت مراقبہ دائرہ قوسی

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے  جو کہ اصل اصل اصل اصلِ اسماء و صفات  ہے اور دائرہ قوسی ہے  اور اس آیہ کریمہ کے مطابق(وہ اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ ان سے محبت  رکھتا ہے  )   مجھے دوست رکھتی ہے اور میں اسے دوست رکھتا ہوں عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے  خاص لطیفہ نفسی  میں فیض  آتا ہے۔

اس مراقبہ کا مفہوم بھی آیت مذکورہ یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہُ سے لیا گیا ہے


قوس جو اصل یا بطون ہے دائر ہ ثالث کا ، اس میں بھی سالک مراقبہ محبت مفہوم آیت شریفہ، دوست رکھتے ہیں ہم اللہ تعالی کو اور وہ دوست رکھتا ہے ہم کو، کے مفہوم کے مصداق اس طرح کرتا ہے کہ اس ذات پاک سے جو قوس ولایت کبری کا منشاء ہے بواسطہ لطیفہ نفس مع دوائر ثلا یقوس حضرت پیر ومرشد کو فیض آتا ہے ۔ پیران کبار رحمۃ اللہ یھم اجمعین سے بواسطہ پیر ومرشد سالک کو فیض حاصل ہوتا ہے ۔ اس مراقبہ میں سا لگ کا لطیفہ نفس مع دوائر ثلاش وقوس و لطائف خمسہ عالم امرفیض کا سبب ہیں ۔ اس مراقبہ میں سالک کو تمام اور مکمل نسبت حبیت حاصل ہوتی ہے اور یہ تمام عالم ارواح سے تعلق رکھتا ہے ۔ چونکہ عالم ارواح میں حضور پرنورسید المرسلین ﷺ کا اسم مبارک احمد ﷺ ہے اس لیے اس مراقبہ میں سالک مقام محبوبیت احمدی ﷺ سے مناسبت پیدا کر کے ذات باری تعالی سے فیض یاب ہوتا ہے ۔


یہ تینوں دوائر جو ایک دوسرے کے اصول یا بطون ہیں ۔ دو حقیقت حق سبحانہ تعالی کے ان اعتبارات سے تعلق رکھتے ہیں جوشیونات وصفات الہیہ کا مظہر ہیں یہ قوس نفس کا وہ مقام ہے جونفس ملہمہ کے بعد حاصل ہوتا ہے جسے نفس رحمانیہ کہا گیا ہے ۔ مراقبات ولایت کبری جوانبیاء کرام علیہم السلام کی ولایت ہے اس میں تہرے دائرے مراتب نفس لوامہ مطمئنہ ،ملہمہ کو ظاہر کرتے ہیں ۔ قوس سے یہ رمز ظاہر ہوتا ہے کہ قوس تحتانی سے مراد حضور سید المرسلین ﷺ کانفس مبارک ہے ۔ شب معراج میں جب آپ ﷺ کو کمال قرب و وصال باری تعالی نصیب ہوا تو قوس فوقانی کی تکمیل ہوکر دائر مکمل ہو گیا یہ مقام حضور پر نو ﷺ کے نفس مبارک ہی کا ہے جہاں الے کو بدرجہ کمال قرب و وصال خداوندی نصیب ہوا۔


جیسا کہ ارشاد ہے: فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى(9)سورہ النجم

 ترجمہ: پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے تو دوکمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم ۔

ولایت کبری کی سیر کے پورے ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس وقت تک فیوض و برکات کے حصول کا جواحساس سالک کو دماغ سے ہوتا تھا۔ اب سینہ سے اس کا تعلق ہو جا تا ہے ۔ اس لیے اس مراقبہ میں شرح صدر، نصیب ہوتا ہے ۔ اور قضا و قدر کے احکام بلا چون و چرا قابل قبول ہو جاتے ہیں اور سا لک مقام رضا کی طرف تیزی سے عروج کرتا ہے ۔


دل غیر سے پاک ہو تو یہی دل  انسان کا کعبہ بن جاتا ہے ۔۔۔

حکم یہ تھا کہ عبادت کرتے وقت گھر میں تصویر نہ ہو 

تو لوگوں نے اس گھر سے مراد یہ لے لیا کہ جس میں ہم رہتے ہیں۔۔۔

۔لیکن مزہ تب آیا جب جواب صوفیاء نے دیا کہ حدیث قدسی ہے کہ "میں نہ آسمانوں میں سماتا ہوں نہ زمیں میں سماتا ہوں بلکہ بندہ مومن کے دل میں سماتا ہوں " جب اللہ کی سمائی ہمارا دل ہے تو مطلب کہ اسکا گھر ہے یہ جسکے بارے میں کہا گیا کہ کوئی تصویر نہ ہو سوائے محبوب کہ۔۔۔۔۔۔

اسلیے گھر میں تصویر ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس دل میں نہ ہو


حیران ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح تم 

حا لا نکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم






No comments:

Post a Comment