صفحات

Tuesday, September 3, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 15 --- 3 SEPTEMBER 2024 --- 28 SAFAR 1446H

     بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

015  دَرس--3 ستمبر 2024 | بروز: منگل  28 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 




مراقبہ لطیفہ اخفٰی

اور تجلیات شان جامع کا فیض

 اس کی نیت یہ ہے کہ

یا الہی ایشان جامع کا وہ فیض جو آپ نے آنحضرت ملی ما اینم کے لطیفہ  اخفٰی مبارک میں القا فر مایا تھا ، پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ  اخفٰی میں القا فر ما دے۔ 

صفات، شیونات ، ذات، سب کے مجموعہ کو شان جامع کہتے ہیں ۔ اور یہ تجلی نبی ﷺ کو اللہ رب العزت نے عطا فرمائی ۔ چنانچہ اس سبق کے ملنے پر جن کا یہ لطیفہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے ، وہ پھر اس سے وافر فیض پاتے ہیں، ان کے اندر محبوبیت آتی ہے۔ لطیفہ سر غالب تھا تو وہ مرید تھے ، اور لطیفہ  اخفٰی غالب آ گیا تو یہ مراد بن گئے ، ان کے اندر محبوبیت آ گئی ۔ ایسے اخلاق عظیمہ آجاتے ہیں کہ انسان وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۴) " بے شک آپ اخلاق کے اعلی مقام پر فائز ہیں کانمونہ بن جاتا ہے۔ تصوف کا جو مقصود ہے کہ ذمیمہ ختم ہوں اور حمیدہ آجائیں، اس سبق پر آکر اخلاق حمیدہ کامل حاصل ہو جاتے ہیں ۔


ذکر:إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ 


حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بابا فرید سرکار رحمتہ اللہ علیہ  کی خدمت میں حاضر ہوا  تو آپ کے چہرے کارنگ متغیر تھااورسر برہنہ تھا،حجرے میں والہانہ طور پرٹہل رہے تھے اوریہ شعر پڑھ رہے تھے۔


خواہم کہ ہمیشہ دروفائے توزیم

 خاکے شوم ،وبزیر پائے  توزیم   

مقصود  خستہ  ز کونین   توئی

  از   بہر  تو  میرم  ازبہر  توزیم


ترجمہ:    میری آرزو ہے کہ ہمیشہ آپ کی وفاداری میں زندہ رہوں اورآپ کی خاک پابن کرآپ کے پاس رہوں ،اس خستہ حال کا کائنات میں مقصود صرف آپ ہیں۔آپ ہی کے لیے مرنا اور جینا ہے۔ یہ شعر پڑھ کرآ پ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیتے ،پھراٹھ کر ٹہلنا شروع کردیتے اوریہ شعر پڑھتے ہوئے پھر سجدہ ریز ہوجاتے۔(فوائدالفواد)


ایک آدمی کو بتایا گیا کہ دریا کے کنارے جو کنکریاں ہیں اور سنگریزے ہیں ، ان میں کہیں نہ کہیں "پارس" ہے اور یہ پارس جس شے کو لگتا ہے اسے سونا بنا دیتا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کے وہاں بیٹھ گیا - دریا کے کنارے سنگریزے وہ دیکھتا رہا ۔ لوہے کی ایک انگوٹھی ہاتھ میں رکھی اور ایک کنکری اسے لگاتا گیا ۔ جس کنکری سے کچھ نہ ہوتا تھا اس کو دور پھینک دیتا تھا کیونکہ وہ تو پتھر تھا ۔ وہ یہ کرتا گیا - ایک ایک کرتے کرتے وہ اتنا مکینیکل ہو گیا کہ ایک پتھر اٹھایا ، لگایا اور پھینکا - پھر پتھر اٹھایا لگایا پھینکا۔ اسی عمل میں وہ پتھر بھی پھینک بیٹھا جس سے لگ کر وہ انگوٹھی سونا ہو گئی تھی۔ تو اب وہ غلطی سے پارس کو بھی دریا میں پھینک چکا تھا۔یہ انسان کی Reject کرنے کی عادت ہے کہ بعض اوقات جو صحیح مقام ہے اسے بھی Reject کر جاتا ہے ، رد کر جاتا ہے -: جس طرح دروازے پر غلط سائل آتے ہیں کہ اللہ کے نام پر دے بابا! تو انسان کہتا ہے کہ معاف کرو بابا - پھر ایک روز اللہ کہے گا کہ میں تیرے پاس آیا تھا اور تو نے مجھے بھی جواب دے دیا، میں نے اپنے نام پہ مانگا تھا تو نے مجھے بھی کہہ دیا کہ معاف کرو۔- تو وہ کہے گا کہ مجھے کیا پتہ تھا کیونکہ میری تو عادت ہی ہو گئ تھی کہ سب کو خالی لوٹا دوں .تو آپ کہیں یہ عادت نہ بنا لیں کہ آپ سب کو Reject کرتے جائیں ، بھگاتے جائیں ۔ بلکہ قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، کوئی مقام ، غلط مقام نہیں ہوتا بلکہ ہر مقام صحیح مقام ہے ” کیونکہ صحیح آدمی ، غلط مقامات سے بھی صحیح منزل پا لے گا  “  شرط یہ ہے کہ آدمی صحیح ہونا چاہیے ۔ اگر ایک مسافر اس وادی سے نکلا ، اس وادی سے نکلا ، اِدھر سے گیا ، اُدھر سے گیا ، غلط راستے سے گیا ، گمراہی سے گیا ، بے راہ راستوں سے گیا تو چلتے چلتے ”  وہ منزل پہ کسی نہ کسی طریقے سے پہنچ جائے گا - “  وہاں جب وہ منزل کے کنارے پر ہو گا تو وہاں اس کو ایک صحیح آدمی مل جائے گا ، جو اسے اُٹھا کے اُس منزل پر بٹھا دے گا _جس کو ”صحیح منزل مل گئی اس کا سارا راستہ ہی صحیح ہے - “وہ کامیاب ہے کیونکہ اس کو ” منزل مل گئی “ اگر آپ کی بخشش ہو گئی تو ایسے سمجھیں کہ سارے گناہ بھی کامیاب ہو گئے اس لیے آپ آج سے صحیح ہو جائیں۔





No comments:

Post a Comment