بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم
25 دَرس--22ستمبر 2024 | بروز: اتوار 17 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
معراج العاشقین
(تیسرا)
بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم
24 دَرس--21ستمبر 2024 | بروز: ہفتہ 16 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں قبول ہو۔
22ویں مراقبہ الباطن
کے بارے میں گفتگو جاری ہے ۔
حضرت بابا فریدالدین گنج شکر نے یوں بیان فرمائی کہ زکوٰۃ تین قسم کی ہوتی ہے:
1۔ زکوٰۃِ شریعت
2۔ زکوٰۃِ طریقت
3۔زکوٰۃِ حقیقت
شریعت کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اگر دو سو درہم ہوں تو ان میں سے پانچ درہم زکوٰۃ راہِ خدا میں خرچ کرے۔ طریقت کی زکوٰۃ یہ ہے کہ دو سو میں سے پانچ اپنے پاس رکھے اور باقی دراہم راہِ خدا میں خرچ کردے اور حقیقت کی زکوٰۃ یہ ہے کہ پانچ درہم بھی اپنے پاس نہ رکھے بلکہ تمام کے تمام راہِ خدا میں تقسیم کردے۔ اس واسطے کہ درویشی خود فروشی ہے۔ (راحۃ القلوب، ملفوظات بابا فریدالدین گنج شکر مرتبہ محبوب الہٰیؒ، ص6)
طبعیت ناسازی کی وجہ سے نثری نشست کررہاہوں۔ کھانسی ہے۔ دعا کی التماس آپ سب سے
تذکرۃ الا ولیاء
میں ہے خواجہ جنید بغدادی رح فرماتے ہیں کہ
توحید خدا کو جاننے کا نام ہے اور انتہائے توحید یہ ہے کہ جس حد تک بھی توحید کا علم ہو اس کو یہی تصور کرے کہ توحید اس سے بھی بالاتر ہے۔
آج ایک باطنی نقطہ سمجھنا ہے اور یہ کہ
*دل کو اگر خانہءخدا بنانا ہے تو اس سے کدورت نکال دو
کدورت کا معنیٰ؟ ناپسندیدہ انسان ،
ناپسندیدہ شے ،
ناپسندیدہ جگہ ۔
: یہ نہ کہنا کہ یہ کیا جگہ ہے ، یہ تو وہی چیز سامنے آ گئ جو ہمیں پسند نہیں ۔
: اگر آپ اپنے آپ کو افلاطون سمجھنا چھوڑ دو تو سکون آ جائے گا ۔
: اپنے آپ کو بہت پسندیدہ اور اپنے آپ کو اپنے خیال میں وی آئی پی بنانا چھوڑ دیا جائے تو سکون مل جاتا ہے ۔
: تو دل سے کدورت نکال دو ، یہ سکونِ قلب کا خاص نسخہ ہے ۔
: سکون کا اس سے بھی آسان اور خوبصورت نسخہ یہ ہے کہ
دوسروں کو سکون پہنچانا شروع کر دو، آپ کو سکون ملتا جائے گا ۔
: سکون اس کو ملتا ہے جو سکون دیتا ہے ۔
: لہذٰا سکون حاصل کرنے کی تمنا عبث ہے ،
: سکون دینے کا اہتمام ہونا چاہیے ۔
: سکون اس کو ملے گا جس نے سکون پہنچایا
جب انسان یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ
: ایسا ہو کہ نہ ہو ، میرا سایہ میرے ساتھ چلے گا کہ نہیں چلے گا ، میں نے اس کو ساتھ لینا ہے کہ نہیں لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
: تو اس وقت سکون غائب ہو جاتا ہے ۔
تمہارے تذبذب کے عالم میں تمہارے ہاتھوں سے جو پہلی چیز اڑ جاتی ہے وہ سکون ہے ۔
: تذبذب جو ہے یہ تمہارا سکون اڑا دے گا ۔
: تذبذب کا مطلب ہے کہ To be or not to be ۔ تو یہ تذبذب سکون ختم کر دے گا ۔
: اگر کوئی آدمی ناپسندیدہ ہے تو فیصلہ کر لو ، جدا ہو جاوء ، تو سکون خراب نہیں ہو گا ۔
: تو سکون جو ہے وہ سکون پہنچانے کا نام ہے
: اور سکون جو ہے وہ کدورت کے نکالنے کا نام ہے۔.
امید کرتا ہوں بات سمجھ آرہی ہوگی ۔
آج رَنگ ہے رِی مَارَنگ ہے رِی
خواجہ قُطبؒ کے گھررَنگ ہےرِی
14 ربیع الاول حضرت خواجہ سید قطب الدین بختیار کاکی علیہ رحمتہ اللہ علیہ کے عرس پاک منایا گیا
سلسلہ ء عاليه چشتیہ کے عظیم بزرگ، حضرت خواجه غريب نواز معين الدين چشتي حسن سنجري رح کي خليفه اول اور حضرت بابا فريد الدين مسعود گنجِ شکر رح کي پير و مرشد حضرت سیدنا خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ رحمہ کا وصال سماع کی حالت میں ہوا تھا ' اس وقت قوال ' حضرت شیخ احمد جام چشتی علیہ رحمہ کے کلام سے یہ شعر سنا رہا تھا '
کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زمان از غیب جان دیگر است ۔۔
جو لوگ تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل کردئیے گئے ' ان پر کبھی موت طاری نہیں ہوتی ' وہ ہر زمانے میں زندہ رہتے ہیں اور انہیں غیب سے نئی زندگی بخش دی جاتی ہے ۔۔
"جن لوگوں پر حضور اکرم ﷺ کا فیض ہو ، جب وہ نعت کہتے ہیں تو ، وہ اور ہی نعت ہوتی ہے ۔
شیخ سعدی تین دن تک یہ تین مصرعے لے کر پھرتے رہے ۔
بلغ العلٰی بکمالہ
کشف الدجٰی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
اس سے آگے کوئی مصرعہ نہیں بنتا تھا ۔ وہ روتے رہے اور پھرتے رہے ۔
پھر آپ کو حضور پاکﷺ کا مشاہدہ ہوا ، دیدار ہوا ۔ آپﷺ نے فرمایا ، آگے لکھو ۔
صلُّو ا علیہ و اٰلہ
تو یہ ہوتی ہے محبت کی بات ۔ یہ الگ بات ہوتی ہے ۔ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ۔ یہ عطا ہوتی ہے ۔
اگر اللّٰہ مہربان ہو جائے تو حضور پاکﷺ کی محبت مل جاتی ہے اور اگر حضور پاکﷺ کی مہربانی ہو جائے تو ، عبادت ملنا شروع ہو جاتی ہے ۔
پس ان دونوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔ زمین سے اللّٰہ کی طرف پیغام جاتا ہے لا الہ الا اللّٰہ ، اور اوپر سے آواز آتی ہے محمد الرسول اللّٰہ ۔
حضورپاکﷺ کے پاس جائیں تو لا الہ الا اللّٰہ ، اور اللّٰہ کے پاس جائیں تو محمد الرسول اللّٰہ ۔
سارا کھیل یہیں ہے ۔ یہ دوجگ کا کلمہ ہے ۔
توحید صرف اس کو سمجھ آئے گی ، جس کو بات رسالت سے سمجھ آئے گی ۔ رسالت اس کو سمجھ آئے گی ، جس کو توحید نے بتایا .
اپنی آنکھ سے دیکھا تو آپ ہی آپ نظر آیا ، تیری آنکھ سے تُجھے دیکھا تو ، تُو ہی تُو نظر آیا ۔
اللّٰہ کی آنکھ حضورﷺ کی آنکھ ہے ۔ اور اللّٰہ کو دیکھنا ہو تو حضورپاکﷺ کی آنکھ سے دیکھو ۔ پھر آپ کو بات سمجھ آنا شروع ہو جائے گی ۔
اٙلصّلٰوۃُ وٙالسّٙلاٙمُ عٙلٙیْکَ یٙا سٙیّدِی یَارَسُوْلٙ اللّٰہ
اٙلصّلٰوةُ والسّلٙامُ عٙلٙیْکٙ یٙا سٙیّدِی یٙا حٙبِیْبٙ اللّٰہ
آج کا مراقبہ ہی یہی ہے
لاالہ الااللہ
محمد الرسول اللہ
امید کرتا ہوں آپ سمجھ گئے ہیں۔
اس کا مراقبہ کیجیے اور مشاہدات شئیر کیجئے ۔
بہت ساری دعائیں ۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
No comments:
Post a Comment