صفحات

Friday, September 6, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 18 --- 6 SEPTEMBER 2024 --- 1 RABI UL AWAL 1446H


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

018  دَرس--6ستمبر 2024 | بروز: جمعہ  01 ربیع الاوّل  1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ فنافی الرسول ﷺ

(  18 واں سبق)




سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں قبول ہو۔

18واں مراقبہ فنافی الرسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم 

کے بارے آج کی گفتگو ہے ۔

حضور کوئی نہیں آپ کے سوا میرا

حضور کوئی نہیں ہے، حضور دیکھیں ناں

صلوا علیہ وآلہ 

صلوا علیہ وآلہ 

صلوا علیہ وآلہ 

صلوا علیہ وآلہ 

صلوا علیہ وآلہ 

صلوا علیہ وآلہ


جانِ کائنات ﷺکی رسالت تمام عالموں پر محیط ہے۔ جو عالم جس شکل و صورت میں ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس عالم میں اُسی شکل و صورت میں موجود ہوں گے۔آپﷺ کی رسالت کی بنیاد لاالٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ  پر ہے کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کلمہ طیب میں اللہ تعالیٰ نے زمانہ حال کا صیغہ یعنی present tense استعمال کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے نورِ محمد جدا فرمایا اُس وقت بھی آپ رسول تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آنے والے تمام انبیا کرامؑ کے زمانوں میں آپﷺ رسول تھے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے بھی آپﷺ رسول تھے اور آج بھی آپﷺ رسول ہیں۔ قیامِ قیامت اور اس کے بعد بھی آپ ﷺکی رسالت ایسے ہی قائم رہے گی۔ غرضیکہ آپ ﷺکی رسالت لامحدود وقت کے لیے ہے اور لامحدود جہانوں کے لیے ہے جس کا عقلِ انسانی سے ادراک ممکن نہیں۔ آپؐ ہر زمانہ میں اس زمانہ کے مطابق اپنی بشریت تبدیل کرتے رہتے ہیں جس کی بنیاد اس چیز پر ہے کہ جب کوئی انسان عشقِ رسولﷺ سے سرشار ہو جاتا ہے تو آپﷺ اس انسان کو اپنی ذات مبارکہ میں فنا کر دیتے ہیں اور وہ انسان فنافی الرسول کے مقام پر پہنچ جاتاہے اور اس پر تلقین و ارشاد فرض ہوجاتی ہے اور وہ انسانِ کامل اور مرشد کامل اکمل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ اب جس بشری صورت میں نبی کریمﷺ اپنی رسالت کا اظہار فرماتے ہیں اس تک پہنچنا اور اسکی معرفت کا حصول ہی اس زمانہ کے انسانوں کی فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہر زمانہ میں آپ ﷺ ازل سے لیکر ابد تک اپنا لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت پر حضور علیہ الصلوٰۃ 

والسلام ہی جلوہ نما ہوتے ہیں۔

جو آدمی مراتب ِ فنا فی الرّسول پر پہنچ جاتا ہے وہ ظاہر و باطن میں دم بھر کے لئے بھی مجلس ِمحمدی (ﷺ) سے جدا نہیں ہوتا اورجو آدمی مراتب ِفنا فی اللہ پر پہنچ جاتا ہے اُس کا ہر عمل اللہ کی خاطر ہوتا ہے یعنی اُس کا نفس فنا اور قلب و روح بقا ہوتی ہے اور وہ ہر وقت مشاہدۂ نور حضور ِذات میں غرق مشرفِ لقا رہتا ہے - جو اِن تین مراتب کو نہیں جانتا وہ احمق و خود نما ہے کہ دعوت پڑھتا ہے - بعض مرشد وہ ہیں جو خود دُور رہتے ہیں اور اپنے طالبوں کو توجہ دے کر مجلس ِمحمدی (ﷺ) کی حضوری میں پہنچادیتے ہیں -بعض مرشد وہ ہیں جو خود تو ہر وقت حضوری میں رہتے ہیں مگر اپنے طالبوں کو حضوری میں منظور نہیں کرا سکتے - بعض مرشد وہ ہیں کہ جن کے طالب صاحب ِحضور ہوتے ہیں لیکن نگاہِ خَلق میں حضوری سے بعید و دُور ہوتے ہیں - جو آدمی باطن کے یہ تین مراتب نہیں جانتا وہ احمق ہے کہ دعوت پڑھتا ہے کیونکہ اہل ِدعوت جب دعوت پڑھتا ہے اور کلامِ ربانی کا وِرد شروع کرتا ہے تو روحانی سے ہم کلام ہو کر اُس سے سوال جواب کرتا ہے - جو آدمی اِس طرح دعوت پڑھنا نہیں جانتا دعوت اُسے خراب کرتی ہے -

فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور بقا باللہ 

فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور بقا باللہ سلوک کے وہ منازل ہیں کہ ہزاروں اللہ کے بندے ان کے حصول کے لئے کوشاں رہے، مجاہدے اور ریاضتیں کرتے رہے اور یہی آرزولے کر دنیا سے رخصت ہوئے، ان منازل کے حصول کے لئے سچی تڑپ انسان کی سعادت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مگر یہ منازل صرف زبانی اورادو وظائف سے حاصل نہیں ہوئے۔ یہ قلب اور روح کا معاملہ ہے اور صرف ذکر لسانی سے تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن نہیں ہو پاتا، بلکہ ان منازل کے حصول کے لئے دوسری شراط ہیں، سب سے پہلے اصلاح قلب کی ضرورت ہے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذکر قلبی کثرت سے کیا جائے اتباع شریعت اور اتباع سنت کا اہتمام کیا جائے۔ اصلاح قلب ایسا کمال ہے جو شیخ کامل کی رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا: 

مولوی ہر گزنشد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نشد

اور: 

کیمیا پید اکن از مشت گلے بوسہ زن بر آستان کاملے 

ہست محبوبے نہں اندر ولت چشم اگر داری بیا بنمائمت 

شیخ کامل کی رہنمائی میسر آجائے تو اتباع سنت کا اہتمام لازمی طور پر کیا جائے۔ 

محال است سعدی کہ راہ صفا تواں رفت جز درپے مصطفی

شیخ کامل اس راہ پر اس ترتیب سے چلاتا ہے کہ سب سے پہلے لطائف کراتا ہے۔ جب وہ منور ہو جاتے ہیں تو مراقبہ احدیت کراتا ہے۔ جب یہ رابطہ خوب مضبوط ہو جائے تو شیخ اپنی روحانی قوت سے مراقبہ معیت پھر اقربیت کراتا ہے، پھر دوائر ثلاثہ پھر مراقبہ اسم الظاہر و الباطن۔ یہ مراقبات عالم ملکوت سے گزار کر شیخ کامل کراتا ہے۔ پھر مراقبہ سیر کعبہ، پھر سیر صلوٰۃ، پھر سیر قرآن۔ اس کے بعد مراقبہ فنا فی الرسول کراتا ہے اور دربار نبوی میں حاضری ہوتی ہے۔

فنا فی الرسول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حضور اکرم ﷺ کی محبت اور آپ کی سیرت میں فنا ہو جائے۔ پھر شیخ کامل توجہ روحانی سے فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مراقبہ کراتا ہے۔ یہ ذکر لسانی سے حاصل نہیں ہو سکتیں بلکہ شیخ کامل کی توجہ سے ذکرقلبی کرنے سے یہ مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ مراقبہ فنا بقا میں عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ سالک کا وجود زمین پر ہوتا ہے اور روحانی طور پر یوں محسوس کرتا ہے کہ عرش بریں پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہے اور سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم کہہ رہا ہے، عرش معلی اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار تجلیات کا مہبط ہے۔ وہ انوار و تجلیات سرخ سنہری معلوم ہوتے ہیں۔ کائنات کی کیفیت یوں معلوم ہوتی کہ ہر 

چیز شجر، حجر، حیوان، ملائکہ سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم پکار رہے ہیں۔ ایک گونج اٹھتی ہے اور سالک پر سب چیزوں سے غفلت طاری ہو جاتی ہے۔

 

حضرت شاہ بو علی قلند رحمۃاللہ علیہ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃاللہ علیہ کا زمانہ ایک تھا۔حضرت شاہ بو علی قلندر رحمۃاللہ علیہ کے ہاں ہر جمعرات کو محفل ہوا کرتی تھی۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃاللہ علیہ نے اپنے مرید خاص حضرت امیر خسرو رحمۃاللہ علیہ سے فرمایا کہ حضرت شاہ بو علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں ہر جمعرات کو جو محفل ہوتی ہے وہاں جا کر بیٹھا کرو۔

ایک وقت گزر گیا۔۔۔ ایک روز حضرت بو علی شاہ قلندر ؒ نے فرمایا :

خسرو ھم نے تمہارے شیخ کو حضور ﷺکی کچہری مبارک میں کبھی نہیں دیکھا

یہ بات سن کر حضرت امیر خسرو ؒ  کا دل ٹوٹ گیا

انہوں نے محفل میں آنا تو نہیں چھوڑا لیکن اسکے بعد بجھے بجھے سے خاموش رہنے لگے

جب حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے ہاں جاتے تو تب بھی خاموش اور پریشان حال سے لگتے

اپنے اندر کی کیفیت ، پریشانی ، اضطراب کا اظہار نہیں کرتے تھے

کئی دن گزر گئے حضرت نظام الدین اولیاء ؒ جو انکے شیخ تھے انہوں نے بھانپ لیا اور پوچھا

خسرو کیا بات ہے کیوں پریشان یو ، کئی دنوں سے پریشان دیکھتا ہوں تمہیں

جب آپ نے اصرار کیا تو حضرت خواجہ امیر خسرو ؒ نے بیان کر دیا

کہ آپ کے حکم سے میں جہاں بیٹھتا تھا اور ابھی بھی جاتا ہوں

حضرت بو علی شاہ قلندر ؒ نے فرمایا تھا :

خسرو ھم نے تمہارے شیخ کو حضور ﷺکی کچہری مبارک میں کبھی نہیں دیکھا

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ الہ علیہ نے فرمایا خسرو اس میں پریشانی کی کیا بات ھے تم ذکر کر دیتے

آپ نے فرمایا کہ تم حضرت بو علی شاہ قلندر سے کہنا کہ آپ مجھے حضور ﷺکی کچہری مبارک میں پہنچا دیں میں خود اپنے شیخ کو ڈھونڈ لوں گا

انکو حوصلہ ہو گیا

ایک دن پھر حضرت بو علی شاہ قلندر نے یہ بات خود چھیڑی کہ خسرو تم نے بات نہیں کی تھے اپنے شیخ سے جو بات ھم نے کہی تھی ( وہ دراصل انہیں انکے شیخ کا مقام دکھانا چاہتے تھے )

حضرت خواجہ امیر خسرو نے فرمایا کی تھی بات انہوں نے فرمایا

تم حضرت بو علی شاہ قلندر سے کہنا کہ آپ مجھے حضور ﷺکی کچہری مبارک میں پہنچا دیں میں خود اپنے شیخ کو ڈھونڈ لوں گا

حضرت بو علی شاہ قلندر نے فرمایا ٹھیک ہے آنکھیں بند کرو

انکے سینے پر ہاتھ رکھا اور حضرت خواجہ امیر خسرو کو حضور ﷺکی کچہری مبارک میں پہنچا دیا

دیکھا کچہری لگی ہے اولیاء بیٹھے ہیں یہ دروازے پر کھڑے ہیں اور ایک ایک ولی کے چہرے کو تک رہے ہیں کہ میرے شیخ کہاں ہیں

کچھ دیر آقا ﷺبھی دیکھتے ریے خاموش رہے

کچھ دیر گزری انکو اپنے شیخ نظر نہیں آئے آقا ﷺنے پوچھا

خسرو کسے دیکھتے ہو کیا تلاش کرتے ہو۔۔؟؟

فرمایا

آقا ﷺاپنے شیخ کو تلاش کررہا ہوں

آقا ﷺنے فرمایا

اس سے اوپر کی کچہری میں جاؤ

اوپر پہنچے تو پھر آقا ﷺتشریف فرما ہیں اور اس سے اونچے درجے کے اولیاء موجود ہیں

پھر دروازے پہ کھڑے ہو کے دیکھ رہے ہیں

آقا ﷺنے پوچھا

خسرو کسے دیکھتے ہو کیا تلاش کرتے ہو۔۔؟؟

یا رسول الله ﷺاپنے شیخ کو تلاش کررہا ہوں پر نہیں نظر آئے

آقا ﷺنے فرمایا

اس سے اوپر کی کچہری میں جاؤ

اوپر تیسری کچہری میں پہنچے تو پھر آقا ﷺتشریف فرما ہیں اور اس سے اونچے درجے کے اولیاء موجود ہیں

پھر دیکھتے ہیں حضرت نظام الدین اولیاء نظر نہیں آئے

آقا ﷺنے پوچھا

خسرو کسے دیکھتے ہو

یا رسول الله ﷺاپنے شیخ کو تلاش کررہا ہوں پر نہیں نظر آئے

آقا ﷺنے فرمایا

اس سے اوپر کی کچہری میں جاؤ

اوپر پہنچے تو پھر آقا ﷺتشریف فرما ہیں اور اس سے اونچے درجے کے اولیاء موجود ہیں

اسطرح چوتھی میں گئے

پانچویں میں گئے

چھٹی میں گئے

وہاں بھی نہیں ملے تو پریشان ہو گئے ، دل ڈوبنے لگا

آقا ﷺنے فرمایا

آخرے کچہری میں جاؤ ساتویں کچہری میں جاؤ

اور ساتویں میں پہنچ گئے

دیکھتے رہے دیکھتے رہے وہاں بھی نظر نہیں آئے

بہت پریشان ہو گئے کہ یہ تو آخری کچہری تھی

آقا ﷺنے پوچھا

خسرو کسے دیکھتے ہو

یا رسول الله ﷺاپنے شیخ کوڈھونڈ رہا ہوں اور آخری کچہری میں پہنچ گیا پر نہیں نظر آئے

ایک بزرگ پردہ ڈال کر سر نیچے کر کے آقا ﷺکے قریب سب سے آگے بیٹھے تھے

آقا ﷺنے فرمایا

کبھی پردہ ہٹا کر پیچھے بھی دیکھ لیا کرو

جب انہوں نے پردہ ہٹایا مڑ کر دیکھا تو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ تھے

اور ایک بزرگ پردہ ڈال کراوپر آقا ﷺکے پہلو میں سب سے آگے بیٹھے تھے

آقا ﷺنے فرمایا

آپ بھی پردہ ہٹا دیں

پردہ ہٹایا

تو حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضوان اللہ علیہ تھے

جب حضرت خواجہ امیر خسرو نے اپنے شیخ کو دیکھا تو لپکے اپنی شیخ کے قدموں میں گرنے کے لیے

بس لپکے ہی تھے تو حضرت شاہ بو علی قلندر نے سینے سے ہاتھ اٹھا لیا

آنکھ کھل گئی تو وہیں حضرت شاہ بو علی قلندر کی محفل میں بیٹھے تھے وجد میں آ گئے

پھر چل پڑے واپس اپنے شیخ کو ملنے

وجد کی کیفیت میں فارسی کا کلام لکھا

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

پر ی پیکر نگاری ، سرو قد ، لالہ رخساری

سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم

رقیباں گوش بر آواز ، او در ناز من ترساں

سخن گفتن، چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو

محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم۔۔



تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام

کامل مرشد کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد الرّسول اللہﷺ کی نسبت سے فیضیاب ہو اور اس کو حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی طرز فکر حاصل ہو۔ چنانچہ جب کوئی شاگرد اپنے روحانی استاد میں فنا ہو جاتا ہے توا س کی طرز فکر اور افتاد طبیعت وہی ہو جاتی ہے جو استاد کی ہے اور وہ روحانی طور پر حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی ذات میں جذب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس نسبت کو قوی کرنے کے لئے شاگرد سے ’’تصور رسول‘‘ کرایا جاتا ہے تا کہ روحانی ربط مضبو ط ہو اور شاگرد انوار نبوت سے فیض یاب ہوتا رہے۔ حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی رحمت اور نظرِ عنایت سے شاگرد اپنی ہمت اور سکت کے مطابق ان انوارِ قدسی کا مشاہدہ کرتا ہے جن کا مشاہدہ نور ِنبوت کے فیضان سے ممکن ہے۔ جب نورِ نبوت سے شاگرد کے لطائف حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام رنگین ہو جاتے ہیں تو وہ فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔


مدارج کے اعتبار سے تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے کئی طریقے ہیں:

مراقبہ میں مسجد نبوی یا گنبد خضرا کا تصور کیا جاتا ہے۔

شاگرد یہ تصور کرتا ہے کہ مدینہ المنورۃ سے انوار اس کے اندر جذب ہو رہے ہیں۔

شاگرد کے قلب پر اسم محمد علیہ الصلوٰۃ والسّلام نورانی الفاظ میں لکھا ہوا ہے اور اس کے انوار سے قلب روشن ہے۔

حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ  والسّلام تخت نبوت پر جلوہ فرما ہیں اور آپ کے قلب مبارک سے انوار و تجلیات شاگرد کے قلب میں منتقل ہو رہے ہیں۔

شاگرد یہ تصور کرتا ہے کہ وہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے قریب موجود ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں۔

جس طرح مسلمان حضرت محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام کو اللہ تعالیٰ اور اپنے درمیان میڈیم یا رسول مانتے ہیں اسی طرح مختلف طبقہ فکر کے لوگ دیگر مقدس ہستیوں کو خدا اور اپنے درمیان رابطے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہودی حضرت موسیٰ ؑ پر، عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ پر، ہندو کرشن جی یا رام چندر جی پر، پارسی جناب زرتشت پر یقین رکھتے ہیں۔ بدھ مت کے پیروکار مہاتما بدھ کو نجات دھندہ تصور کرتے ہیں۔ اسی یقین کی روشنی میں ان لوگوں کے ہاں گرو کے تصور کے بعد ان مقدس ہستیوں کا تصور کیا جاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment