21 دَرس--11ستمبر 2024 | بروز: جمعرات 07 ربیع الاوّل 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
درسِ تصوّف
نشست اوّل
نشست دوئم
مراقبہ اسمِ ظاھر
(21 واں سبق)
ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ
نیت مراقبہ اسم الظاہر
فیض می آید از ذات بیچون کہ مسمّی بہ اسم ظاہر است بمفهوم این آیۃ کریمہ. ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ. خاص بلطیفہ نفسی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
ذات باری تعالیٰ کی طرف سے جو اسم ظاہر کے ساتھ موسوم ہے اور اس آیہ کریمہ کے مطابق ُوَالْاَوَّلُ وَالْاَخِرُوالظَّاھِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُ(وہی اول وہی آخر ظاہر و باطن ہے اور وہی ہر شے کو جاننے والا ہے ) عظیم مرشدین گرامی اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ سے میرے خاص لطیفہ نفسی میں فیض آتا ہے۔
تشریح
اگر چہ ولایت کبری(مرتبۂ اولیٰ میں جو ولایتِ عامہ تھی بشرطِ ایمان وہی مرتبۂ ثانیہ میں تقویٰ کی شرط سے ولایتِ خاصہ پر فائز ہو جاتی ہے، اس کو ولایتِ کبریٰ بھی کہتے ہیں) سے تزکیہ نفس حاصل ہو جاتا ہے اور تمام برائیاں اور خصائل رذیلہ نیکیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن فخروغرور اور رعونت ابھی باقی ہوتی ہے۔ ان کو یہ مراقبہ ختم کردیتا ہے اور سالک میں سیر آفاقی(سیر دو قسم پر ہے سیر آفاقی اور سیر انفسی آفاق سے مراد کائنات ہے اور انفس سے مراد اپنی ذات ہے آفاق اور انفس کے درمیان اجمال و تفصیل کا فرق ہے دونوں اللہ تعالی کی نشانیوں کے محل و منظر ہیں سلوک سیر انفسی کا نام ہے اور جذبہ سیر آفاقی کا نام ہے ) کی تکمیل کردیتا ہے۔
ولایت کبری کے مراقبات میں مزید قوت پیدا کرنے کے لیے اسم الظاہر(الظاہر اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الظاہر کے معنی ہیں ہر چیز پر غالب آنے والا ۔اس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں اللہ تعالیٰ کائنات میں اپنے وجود کے اعتبار سے سب سے زیادہ ظاہر ہے جس پر کثرت سے دلائل ہیں ) کا مراقبہ کرایا جا تا ہے ۔ کیونکہ ولایت صغری اور ولایت کبری کے تمام مراتب ظاہریت حق سبحانہ تعالی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب کے سب تجلیات اسم الظاہر کے مظاہر ہیں ۔ اس مراقبہ کا تعلق بھی علم الہی سے ہے۔
اللہ تبارک و تعالی نے جب اپنے اجمالی علوم کا ظہور دینا چاہا تو اسم الظاہر کی تجلی فرمائی اس سے کائنات ظہور میں آئی ، آثار وافعال الہیہ کے ظہور کا مقام دنیا ہے۔ ان آثار کی نفی کرنا اور ان سے ما لک آثار حقیقی کا پتہ چلا نا اس مراقبہ کا مقصود ہے۔ اس مقام میں سالک اسم الظاہر کے انوار سے منور ہو کر مظاہر الہیہ سے واقف ہوتا ہے اس مقام میں اسماء وصفات کی تجلیات کا ورود ہوتا ہے ۔ اور اس مراقبہ میں لطیف نفس مع دوائر ثلاثہ و قوس فیض کا ذریعہ ہیں ۔ سالک کو اس مراقبہ کے ذریعے سیر آفاقی کے لیے ایک پر یا بازو حاصل ہوتا ہے ۔مختصرا مراقبات لطیفہ نفس کے بعد اسم الظاہر کا مراقبہ نسبت باطنی میں بڑی قوت اور وسعت کا موجب ہوتا ہے۔
دوائر ثلاثہ کےمراقبات میں اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ غیر اللہ کی محبت دل سے دور کردے وہ ذات محبت اختیاری میں غیر کی شرکت پسند نہیں کرتی کیونکہ یہ
شرک فی المحبت ہے۔
برلبش قفل است و در دل راز ہا لب خموش و دل پر از آواز ہا
دل میں تو راز بھرے ہیں لیکن لیوں پر قفل ہے دل آوازوں سے بھرا ہوا ہے اور لب خاموش ہیں ۔
تمام اشیاء میں تجلّی اسم الظاھر کے ظہور کا مفہوم
حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
اثنائے راہ سلوک میں حق تعالیٰ اسم ظاھر کی تجلی سے اس قدر جلوہ گر ہوا کہ تمام اشیاء میں خاص تجلی کیساتھ علیحدہ علیحدہ ظاہر ہوا"
اس مضمون کو سمجھنے کیلئے درج ذیل حقائق پیشِ نظر رہنے چاہئیے!
*طریقِ سلوک میں جب سالک کا مراقباتِ اسماء و صفات سے گزر ہوتا ہے تو سالک کیلئے چار اسماء یا چار صفات کی سیر بنیادی ارکان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ
ان مراقبات میں آیتِ مبارکہ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِن ُ کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور ان اسماء و صفات پر غور و تدبر سے سالک پر ان کے اسرار و انوار منکشف ہوتے ہیں۔ خاص کر اسم ٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ سالک کے روحانی عروج کیلئے دو پر یا دو بازو ہیں جن کے ذریعے عالم قِدس کیطرف پرواز ہوتی ہے۔
صوفیاء کے نزدیک اسم ٱلظَّـٰهِرُ کی تجلیات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور محیط ہے اور ہر شے سے اسکے جلوے ظاہر ہورہے ہیں اور اسم ٱلْبَاطِنُ کی تجلیات سے یہ راز کھلتا ہے کہ وہ ہر شے کی ذات سے بھی اس شئی کے زیادہ قریب ہے ان دونوں اسموں کی سَیر سے سالک کو یقین ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اتنا ظاہر ہے کہ ہر چیز کا وجود اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے اور ذرّے سے لیکر آفتاب تک سب کچھ اسکے وجود کی شہادت دیتا ہے اور باطن اتنا ہے کہ قُرب کے باوجود ہر شے اسکے حقیقت کے اِدراک سے عاجز و قاصر ہے۔
برگِ درختانِ سبز در نظر ھوشیار ھر ورق دفتریست معرفتِ کردگار (شیخ سعدی ؒ)
(ترجمہ:سبز درختوں کے پتے بھی دانشمند کی نظر میں ایسے ہیں کہ ایک ایک پتا خدا کی معرفت کا دفتر ہے)
سیر اسماء و صفات
صوفیہ کرام کے مطابق سیرِ اسماء و صفات کے مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا(الاعراف ۱۸۰)
(ترجمہ: اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرواور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو)
اسماءِ الحُسنیٰ
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات تو لامُتناھی ہیں لیکن ان سب کا مرجع نناوے اصولِ متناہیہ کیطرف ہے انہیں اسمائے حسنیٰ سے تعبیر کیاجاتا ہے۔
امہات اسماء
اسماء حُسنیٰ کا مرجع آٹھ اصولوں کی جانب ہے جنہیں امہات اسماء کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین نتیجتاً ان تمام اسماء کا مرجع ایک اصل کی جانب ہے اور وہ اسم اللہ ہے جو جامع ہے جمیع اسماء الٰہیہ کا اور شامل ہے جمیع صفاتِ الٰہیہ کو۔
احصائے اسماء
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدً مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ اَلْجَنَّۃَ(ابن ماجہ ص ۲۷۴)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے نناوے ۹۹ اسماء ہیں جس نے انکا احصاء کرلیا وہ جنت میں داخل ہوا۔
یہاں احصائے اسماء سے مراد اسمائے حق تعالیٰ سے متحقق اور متخلق ہونا ہے صرف ان اسماء کا وظیفہ کرنا اور انکا تلفظ یا تکرار یا شمار مراد نہیں۔
دائرہ اسماء
دوائرِ محبت میں پہلا دائرہ اسماء کا ہے۔ سالک مبتدی جب مسمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تو اسم سے ہی اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے۔ اس دائرے میں سالک کو معرفتِ ذات بواسطہ اسماء کی تعلیم دی جاتی ہے۔
دائرہِ صفات
دوسرا دائرہ صفات کا ہے۔ اس دائرے میں سالک صفات کے پرتو سے فیض یاب ہوتا ہے اور کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صنعت کے نمونے اسکی صفات کے مَظہر نظر آتے ہیں۔ اس دائرے میں معرفتِ ذات بواسطہ صفات کی تربیت دی جاتی ہے۔
دائرہِ ذات
تیسرا دائرہ ذات کا ہے۔ اس دائرے کی وسعت لامحدود ہے ۔ اس میں نہ اسماء پیش نظر ہوتے ہیں نہ صفات بلکہ اس میں معرفتِ ذات بلاواسطہ اسماء و صفات کا سبق دیا جاتا ہے۔
سیرِ دوائر
حضرت امام ربّانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
سَیر در اسم الظاھر سیر در صفات است بے آنکہ درضمنِ آنھا ذات ملحوظ گردد تَعَالیٰ و تَقَدَّسَ و سَیر در اسم الْبَاطن نیز ھرچند سَیر در اسماء است اما در ضمن آنھا ذات تعالیٰ ملحوظ است و آن اسماء در رنگ سِپَر ھا اند کہ روپوش حضرت ذات تعالیٰ و تقدس گشتہ مثلاً در صفتُ العلم ذات تعالیٰ اصلاً ملحوظ نیست و در اسمُ العلیم ملحوظ ذات است تعالیٰ در پس پردہِ صفت زیراکہ علیم ذاتے است کہ مُراد را علم است۔
فَالسَّیْرُ فِی الْعِلْمِ سَیْرٌفِی الْاِسْمِ الظَّاھِرِ وَالسَّیْرُ فِی الْعَلِیْمِ سَیْرٌُُ فِی الْاِسْمِ الْبَاطِنِ وَقِسُ عَلیٰ سَائِرَ الصِّفَتِ وَالْاَسْمَاءِ
(۳۔دفتر اوّل مکتوب ۲۶۰)
ترجمہ: اسم الطاھر کی سیر صفات میں ہے بغیر اس بات کے کہ اس ضمن میں ذات ملحوظ ہو اور اسم الباطن کی سیر بھی اگرچہ اسماء میں ہے لیکن اس کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے اور یہ اسماء ڈھالوں کیطرح ہیں جو حضرت ذات کے حجابات ہیں مثلاً صفت علم میں ذات ملحوظ نہیں لیکن اس کے اسم علیم میں پردہ صفت کے پیچھے ذات ملحوظ ہے کیونکہ علیم ایک ذات ہے جس کی صفت علم ہے پس علم میں سیر اسم الظاہر کی سیر ہے اور علیم میں سیرِ اسم الباطن کی سیر ہے باقی تمام اسماء و صفات کا حال اسی قیاس پر ہے۔
مراقبہ اسم الظاھر
مراقبہ اسم الظاھِر میں منشاء فیض وہ ذات حق تعالیٰ ہے جس کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم مبارک "الظاھِرُ" ہے۔ اسکا موردِ فیض لطیفہ نفس (مع لطائفِ خمسہ) ہے۔ اس مراقبے میں سیر اسماء و صفات کی تجلیات میں ہوتی ہے بغیر ملاحظہ ذات تعالت و تقدست کے پس سالک کی سیر تجلیاتِ صفات میں مظاہر اسم الظاھر کی سیر ہے اور سالک کی سیر اسماء صفاتیہ میں مظاہر تجلیات اسم الباطن کی سیر ہے۔
تجلیّاتِ اسماء و صفات لاتعداد ہیں اور حضور سرور عالمﷺ کے مراتِب مشاہدات بھی بے شمار ہیں۔
شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ اسم الظاھِرُ کی تجلیات مشاھدہ فرماتے اور شہودِ ذات کے مرتبے میں اسم الباطِنُ کی بے کیف تجلیّات سے فیضیاب ہوتے۔ عورت کا وجود شہودِ ممکنات کا مرتبہ ہے، خوشبو اور نماز شہودِ ذات کا مرتبہ ہے، کیونکہ خوشبو روائح طیبّہ سے ہے اور اس کا تعلق نفسِ الٰہی اور ریحُ الرحمان کے ساتھ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ اِنِّیْ لَاَجِدُ نَفْسَ الرَّحْمَانِ مِنْ ھَاھُنا--(ذکرہ السیوطی فی الجامع الکبیر و اشارالی الیمن یہ روایت ان الفاظ میں بھی ملتی ہے انی لاجد نفس الرحمٰن من قبل الیمن (تفسیرِ کبیر ص۶ ج ۲۳ فتوحاتِ مکیّہ ص ۲۱۷ ج ۱) --- (ترجمہ: میں خوشبو میں رحمٰن کو پاتا ہوں)
اور نماز رویتِ الٰہی، مشاھدہ ذات اور معراج المومنین کا مقام ہے جیسا کہ حدیثِ احسان میں ہے:
اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ (بخاری ص ۱۲ ج ۱، مُسلم ص ۲۹ ج ۱)
(ترجمہ: اللہ کی ایسے عبادت کر جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے)
یہی وجہ ہے کہ شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ نے عورت کو اور شہودِ ذات کے مرتبے میں خوشبو اور نماز کو محبوب قرار دیا جب آپ شہودِ ممکنات (مشاہدہِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ) سے فارغ ہوتے تو لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتُُ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکُُ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِّیٌ مُرْسَلُ
(قال الامام السخاوی علیہ الرحمۃ (المتوفی ۹۰۴ھ) لی مع اللہ وقتُُ لایسعُ فیہ ملکٌ مُقربٌ ولانبی مرسل یذکرہ المتصوفۃ کثیراً وھو فی الرسالۃ القشیریہ لٰکن بلفظ لی وقت لایسعنی فیہ غیر ربّی۔ ویشبہ ان یکون معنیٰ ماللترمذی ولابن راھویۃ فی مسندہ عن علیٰ فی حدیث طویل کان ﷺ اذا اٰتیٰ منزلہ جزاً دخولہ ثلاثۃ اجزاء جزا لِلّٰہِ تعالیٰ و جزاَ لاھلہ و جزاً لنفسہ ثم جزاہ بینہ و بین الناس المقاصد الحسنہ ص ۲۵۸، شمائلِ ترمذی ص ۲۴)
ُ (ترجمہ: میرا اللہ کے ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی نبی مرسل کی) کے مرتبہِ شہودِ ذآت (مشاھدہ تجلیّات اسم الباطِنُ) میں مصروف ہوجاتے لیکن چونکہ آپ جامع شہودِ تجلیّات تھے لہٰذا ایک ہی وقت میں تجلیّاتِ متعددہ سے لطف اندوز رہتے۔ آپ کا ظاھِرِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ اور باطنِ تجلیّات اسم الباطِنُ سے شاد کام رہتا۔
؎اُدھر اللہ سے واصل اِدھر مخلوق میں شامل خواص اس بزرخِ کُبریٰ میں ہے حرفِ مشدّد کا
روشن بات
*حدیثِ مذکور میں حُبِّبَ (بلفظ مجہول) فرمایا گیا ہے یعنی یہ تین اشیاء میرے لئے محبوب بنائی گئیں ثابت ہوا کہ فی الحقیقت حضورﷺ کی محبت تو صرف ذاتِ حق سے ہے باقی محبتیں مصلحتًا آپ پر مسلّط کی گئیں۔
*نیز فرمایا مِنْ دُنْیَاکُمْ تمہاری دنیا سے "معلوم ہوا کہ خود حضور صﷺ حقیقت کے اعتبار سے اس دُنیا میں سے نہیں بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہیں اور یہ دُنیا آپ کے نُور سے مخلوق ہوئی جیسا کہ حدیث میں ہے۔
اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللہِ وَ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُّوْرِی (شرح قصیدہ خرپوتی)
(ترجمہ: میں خدا کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے)
اسی طرح امام ربانی قدّس سرّہ نے ارشاد فرمایال
ھرچند بدقّتِ نظر صحیفہ ممکناتِ عالم را مطالعہ نمودہ می آید وجودِ آنسرور آنجا مشہود نمی گردَّد (دفتر سوئم مکتوب ۱۰۰)
(ترجمہ: جسقدر بھی باریک نظری کے ساتھ ممکناتِ عالم کے صحیفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے حضور ﷺ کا وجودِ مبارک عالم ممکنات میں دکھائی نہیں دیتا)
اسی مکتوبِ گرامی میں چند سطور کے بعد آپ فرماتے ہیں:
وچوں وجودِ آنسرور عَلَیْہِ وَعَلَیٰ اٰلِہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ در عالم ممکنات نباشد بلکہ فوق این عالَم باشد ناچار اُورا سایہ نبود۔
(ترجمہ: جب حضور سرورِ عالم ﷺکا وجود مبارک عالمِ ممکنات میں سے نہیں بلکہ اس عالم سے بلند ہے تو لازماً آپ کے جسم مبارک کا سایہ نہیں ہوسکتا) حضرت امام ربانی قدس سرّہ نے سرورِ عالم ﷺکا سایہ نہ ہونے کی دو ۲ وجہیں بیان فرمائی ہیں۔
پہلی وجہ یہ کہ آپ کا وجود مبارک عالمِ مُمکنات سے بلند ہے اور شمس و قمر کا نظام ممکنات سے وابستہ ہے
بود برتر ز انجم و افلاک زاں نیفتاد سایہ اش بر خاک
(ترجمہ: ستارے اور آسمانوں سے اونچے تھے اسلئے انکا سایہ خاک پر نہیں پڑتا تھا)
دوسری وجہیہ ہے کہ آپ کا وجودِ مبارک نور ہونے کی بنا پر تمام ممکنات سے لطیف ہے لہٰذا آپ کے جسم مبارک کی اعلیٰ لطافت کی وجہ سے آپ کا سایہ کیسے ہوتا؟ کیونکہ سایہ جسم سے زیادہ لطیف ہوتا ہے اور آپکا جسم مبارک سائے سے بھی زیادہ لطیف تھا۔
*واضح ہو کہ آپ کے لئے دُنیا میں صرف تین ۳ چیزیں محبوب بنائی گئیں اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی ذاتِ مبارکہ مظہرِ کمالاتِ ثلاثہ ثابت و ظاہر ہوجائے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمالاتِ بشری ملکی اور حقّی کے جامع ہیں۔
عورتوں کے لباس میں آپ کے بشری کمال کا اظہار ہوا اور نماز کی صورت میں آپ کے ملکی کمال کا مظاہرہ ہوا اور خُوشبو کے رنگ میں آپ کا حِقّی کمال ظاہر کیا گیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ
رَبَّنَا لَا تُئَواخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَانَا
اسم الظَّاھِرُ کی تجلی کا ظہور کھانے ، پینے اور پہننے کی چیزوں میں الگ الگ ہوا جوعمدگی اور خوبی لذیذ و پُرتکلف کھانے میں تھی وہ کسی اور کھانے میں نہ تھی اور میٹھے پانی میں بھی دوسرے پانی (کھاری) کے مقابلہ میں یہی فرق تھا بلکہ ہر لذیذ و شیریں چیز میں خصوصیاتِ کمال میں سے اپنے اپنے درجے کے مطابق الگ الگ ایک خصوصیت تھی۔ یہ خادم اس تجلّی کی خصوصیات کو بذریعہ تحریر عرض نہیں کرسکتا۔ اگر آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو شائد عرض کرسکتا۔
شرح
کھانے پینے کی پُرتکلّف اور لذیذ اشیاء میں دوسری عام اشیائے خورد و نوش سے زیادہ تجلی اور لطافت کا معلوم ہونا اور میٹھے پانی سے لیکر پھیکے اور کڑوے پانی تک میں بھی فرق محسوس کرنا اس وجہ سے ہے کہ اشیاءِ ممکنات عدم سے ظہور میں آئی ہیں اور عدم سراسر ظلمت، کدورت اور کڑواھٹ سے متہم ہے اس لئے جب عدم نے ظلالِ صفات کے پَرتَو سے وجود کا لباس پہنا تو ان تجلیاتِ ظلالِ صفات سے اشیائے ممکنات میں حُسن و خوبی اور لذت و حلاوت کی خصوصیات پیدا ہوئیں لیکن چونکہ لذیذ کھانے اور میٹھے پانی میں اِنعکاس زیادہ تھا اور غیز لذیذ و کڑوی اشیاء میں انعکاس کی کمی یا زیادتی اور ان کے درجات و استعدادات کے اِختلاف کی بنا پر مشہود ہوئیں (واللہ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ)

No comments:
Post a Comment