صفحات

Thursday, September 5, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 16 --- 4 SEPTEMBER 2024 --- 29 SAFAR 1446H

      بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

016  دَرس--4 ستمبر 2024 | بروز: بدھ  29 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 

مراقبہ لطیفۂ نفس





سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
سورة فصلت آیت نمبر 53
مستقبل میں ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور تمھاری جانوں میں، جبتک اُن پر واضح نہ ہو جائے کہ وہ حق ہے ۔ تمھارے رب نے کہہ دیا ہے یہ کافی ہے اور وہ ہر چیز پر حاضر ہے ۔

عن ابی مسعودؓ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ما منکم من احدالا وقد و کل بہ قرینہ من الجن ، و قرینہ من الملائکتہ : قالو و ایاکہ یا رسول اللہ ؟ قال: وایای ، الا ان اللہ اعاننی علیہ ، فاسلم فلا یا مرنی الا بخیر)رواہ مسلم ، خازن 181/3)
جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو اسکے ساتھ ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے، تو صحابہ کرام نے فوراً پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپکے ساتھ بھی پیدا ہوا تھا؟ تو آپﷺ نے فرمایا! ہاں، وہ میرے ساتھ بھی پیدا ہوا تھا لیکن وہ میری صحبت کی وجہ سے پاک ہوگیا ۔

اس حدیث مبارکہ میں روشنی میں سمجھ میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ کی ذاتِ والا میں بھی نفس تھا جوکہ امام الانبیاء ہیں اور وجہہ تخلیق کائنات ہیں ۔ کوئی کائنات میں ایسا نبی، ولی، مرسل نہیں آیا کہ جس کے ساتھ لطیفہ نفس نہ پیدا ہوا ہو۔  اللہ کے مختلف جلوؤں کا جسم میں آنا جانا ہوتا ہے،کبھی مرشد کی صورتِ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی جلوہ نمائی ہے اور کبھی نبی کریم ﷺکی روحانی جلوہ نمائی ہے۔جس جہان میں ہم رہ رہے ہیں وہ عالم ناسوت ہے جو کہ اللہ نے جنات کیلئے بنایا تھا۔لطیفہ نفس کا نبیوں، ولیوں، فقیروں اور سلطان میں ہونا اس لئے ضروری ہے کہ یہاں ہم جنات کے عالم عالم ناسوت میں ہیں اور ان سے نپٹنے کیلئے ہمارا اپنا روحانی تربیت یافتہ ایک ذاتی جن ہونا چاہیے۔ ہماری روح ان سےلڑائی نہیں کر سکتی۔ جسطرح آدم صفی اللہ کے ایک ساتھ ایک کتا اُنکی حفاظت کیلئے بھیجا ہے اسی طرح یہ لطیفہ نفس ہمارے اندر ہماری حفاظت کیلئے ہے جس کو روحانی تربیت کے ذریعے طاقتور کرنا ہے تاکہ تو اسکی فطرت کو جان لے۔ اگر ہمارے اندر لطیفہ نفس نہ ہوتا تو پھر ہماری خصلت ملکوتی ہوتی اور ہر جن ہم کو بیوقوف بنا کر چلا جاتا ۔ اب جب ہمارے اندر خود اپنا جن لطیفہ نفس بستا ہے تو ہم اسکی فطرت اور مکر سے واقف ہیں ۔

کلام ۔حضرت بابا بلھے شاہ
کن فیکون جد رب فرمایا
اَسی وِی اوتھے ہا سے
”قَالُوا بَلیَ“ اسی کَنّی سُنیا
کوئی گونگے ڈورے نا سے
اصل مکاں، لا مکاں سی ساڈا
اَسی آن بُتاں وِچ پھاسے
اِس نفس پلیت، پلیت وا کیتا
کوئی اصل پلیت تے نا سے

جب اللہ تعالیٰ نے کن فیکون فرمایا تو ہم بھی وہیں تھے.. اللہ نے سب سے پوچھا "الست بربکم؟" تو سب نے جواب میں کہا ہا ں تو ہی ہمارا رب ہے یہ بات میں نے اپنے کانوں سنی کیونکہ ہم بہرے تو نہیں تھے...
اصل مکاں تو ھمارا وہ ہے جہاں سے ہم آئے ہیں لیکن ہم یہاں دنیا میں پھنس گئے آ کے..
پلید اور گندہ تو ہمیں ہمارے نفس نے کر دیا ہے ورنہ اصل میں تو پلید نہیں تھے 
 ذکر: اللہ ھو-------الف اللہ---------- اللہ
اس کی نیت یہ ہے کہ
یا الہٰی ایشان جامع کا وہ فیض جو تو نے جان کائنات کے  لطیفہ  نفس مبارک میں القا فر مایا تھا ، پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ ٔ  نفس میں القا فر ما دے۔
جب سے انسان نے اس سیارہ جسے زمین کہتے ہیں پر قدم رکھا ہے۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ ایسے سوالات جنم لیتے رہتے ہیں۔
♦  میں کون ہوں؟
♦  میری ابتدا کیا ہے؟
♦  میری انتہا کیا ہے؟
♦  میری حقیقت کیا ہے؟
♦  میری پہچان کیا ہے؟
♦  اگر مجھے تخلیق کرنے والا خالق کوئی ہے تو وہ کون ہے؟ اس کی پہچان کیا ہے؟
♦  میرا مقصدِ حیات کیا ہے؟
ان جوابات کی تلاش کے لیے انسان نے جب بھی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کے لیے ہر دور میں اور اس زمین کے ہر خطہ میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ جو انسان کو ان سوالات کے جوابات سے مطلع فرماتے رہے۔حتیٰ کہ وہ زمانہ آپہنچا جب روئے زمین کے انسان ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ دنیا کے ایک سرے پر بیٹھا ہواا نسان دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہوئے انسان سے باخبر رہنے لگا۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب، باعثِ تخلیقِ کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مبعوث فرما کر بنی نوع انسان پر اپنی راہنمائی کی حجت تمام کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری نسلِ انسانی کے لیے تا قیامِ قیامت ہادی ہیں۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے قرآنِ مجید کی صورت میں مکمل ضابطہ حیات عطا ہوا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے ۔”تو قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ احادیثِ قدسی اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت میں یہ ضابطہ حیات قیامت تک کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ جس خوش قسمت نے اس ضابطہ حیات سے رجوع کیا اُسے راہنمائی ملی اور اس نے اپنا مقصدِ حیات حاصل کر لیا ۔

اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ قدسی میں انسان کی تخلیق کا مقصد بیان فرمایا ہے:کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیًا فَاَ حْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْق ترجمہ:”میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا” اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو گیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کیسے حاصل ہو گی۔تو اللہ کی پہچان کا طریقہ اس حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ ترجمہ:” جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے ربّ کو پہچانا۔”

اسکی شرح اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو عالمِ لاھوت میں روحِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پیدا فرمایا اس مقام پر روح کو ”روحِ قدسی” کا نام دیا جاتا ہے اور یہی روح کی وہ حالت ہے’ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔” اس مقام پر ارواح اللہ تعالیٰ کے دیدار میں محوہیں۔ اور اسی عالم میں انسانی ارواح سے ”وعدہ بَلیٰ ” لیا گیا۔ سورہ الاعراف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) تمام ارواح نے جواب دیا :قَالُوْا بَلٰی(ہاں تو ہی ہمارا رب ہے۔)
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

الست از خلوت نازے کہ برخاست بلیٰ از پردۂ سازے کہ برخاست
ترجمہ: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط آواز کس کے ناز کی خلوت سے بلند ہوئی اور قَالُوْا بَلٰی کا نغمہ کس کے ساز کے سُر سے بلند ہوا؟
عالمِ لاھوت وہ عالم ہے جہاں پر انسان (انسانی روح) کے سوا تمام مخلوق کا داخلہ ممنوع ہے۔ اسی عالم کی سرحد پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے معراج کی رات فرمایا تھا کہ میں اگر اس مقام سے ذرا سا بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روح کو عالمِ جبروت میں اتارا اور اسے جبروتی لباس پہنایا کیونکہ روح جس جہان میں بھیجی جائے گی’ اُسے اس جہان کے لباس کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر روح کا نام ”روحِ سلطانی” ہوا پھر اُسے عالمِ ملکوت میں اتارا گیا اور اُسے ملکوتی لباس پہنایا گیا۔ یہاں پر روح کا نام ”روح نورانی” ہوا اور پھر اسے بشری جسم میں داخل کیا گیا اور لباسِ بشر پہنایا گیا’ جہاں پر روح کا نام ”روح جسمانی یا حیوانی” ہوا۔ اس لیے فرمایا ”روح امرِ ربی ہے ”اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ ”ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔” یعنی اس کی روح پاکیزہ اور نور سے منور ہوتی ہے اور لذتِ دنیا اور آلائشات دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوئی ہوتی۔ اب انسانی عروج یہ ہے کہ وہ روحانی طور پر ترقی کرتا ہوا اپنے اصلی وطن عالم لاھُوت کو لوٹ جائے اور اپنی اصل روح یعنی روحِ قدسی کو حاصل کرلے ، اسی مقام پر انسان کو عرفانِ نفس حاصل ہوجاتا ہے۔ اور یہی عروج انسان کا مقصدِ حیات ہے۔روحِ قدسی کو مختلف ناموں سے موسوم کیا گیا ہے:
بعض صوفیاء کرام نے انسان کے اس روحانی وجود کو ”باطن”، ”اندر کا انسان” ،روحانی انسان یا انسان کا باطنی وجود کا نام دیا ہے۔بعض احادیث میں، اور صوفیاء کرام نے بھی’ روح کو قلب’ دل یا من کا نام دیا ہے۔ دل’ قلب یا من گوشت کا وہ لوتھڑا نہیں ہے’ جو سینے کے اندر بائیں جانب رکھا ہوا ہے۔ گوشت کا یہ لوتھڑا تو جانوروں اور مُردوں کے سینے میں بھی موجود ہوتا ہے اور ظاہری آنکھ سے اسے دیکھا بھی جاسکتا ہے اور جس چیز کو ظاہری آنکھ دیکھ سکے اور اس کا تعلق ظاہری دنیا سے ہو اور جسے فنا بھی ہونا ہو اُسے عالمِ باطن کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔ روح کو یہ نام اصطلاحی طور پر دیا گیا ہے۔

اقبالؒ نے اسے ”خودی” کا نام دیا ہے اور ”عرفانِ نفس” کو آپ رحمتہ اللہ علیہ ”خودی کی پہچان” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اقبالؒ کے زیادہ تر مفسروں نے ”خودی” کو ”روح” سمجھنے کی بجائے ”اَنا” سمجھ کر بہت بڑی زیادتی اور غلطی کی ہے۔ انہیں شاید یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ”اَنا” سے انسان خدا تعالیٰ سے دور اور ”رُوح” سے قریب ہوتا ہے۔ویسے علامہ اقبالؒ نے من، دِل اور روح کی اصطلاحیں بھی استعمال کی ہیں۔

عام انسان اسے ضمیر کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ جب انسان کوئی گناہ یا غلط کام کرتا ہے’ تو روح ہی اسے ملامت کرتی ہے’ کیونکہ گناہ اس کی فطرت میں نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے۔ روح کی پہچان کو ہی اصل میں عرفانِ نفس کہا جاتاہے اور یہی دین ہے۔

” دین” کے معنی ہیں ”جو ہرِ انسان ” یعنی روح کی شناخت اور اس کی تکمیل” یعنی مرتبہ انسان کی پہچان اور اس کے حصول کا نام دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود شناسی وخودبینی وخود بانی کا نام دین ہے اور خود شناسی یہ ہے کہ انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے۔ ایک تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں اور جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اور دوسری چیز باطن ہے جسے روح’ باطن یا دل کہتے ہیں۔ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے او رنہ ہی ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا بھالا جاسکتا ہے۔ عارفوں کی اصطلاح میں انسان کے اس باطنی اور اصلی وجود کو دل، قلب، من یا روح کہتے ہیں۔ اور اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔ معرفتِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم اسی کو ہے’ ثواب وعذاب اسی کے لئے ہے’ سعادت وشقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفتِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔

موجودہ دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب علمِ باطن کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ان قرآنی آیات کو جن میں علمِ باطن کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں کچھ لوگ متشابہات کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ اور آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ”باطن” کو فراموش کردیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور یہی ہماری گمراہی کا سبب ہے کہ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ”آفاق” اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔

قرآنِ مجید میں بھی باربار انسان کے باطن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:وَ  فِیۡۤ   اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا  تُبۡصِرُوۡنَ  
ترجمہ:اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔

وَ نَحۡنُ  اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ  مِنۡ  حَبۡلِ  الۡوَرِیۡدِ    ترجمہ: اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔(سورۃ ق۔16)

 کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ    ترجمہ:  ان کے دلوں پر ایمان لکھا۔(سورۃ المجادلۃ -22) 

اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ  اِلٰـہَہٗ  ہَوٰىہُ   ترجمہ۔ (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ نے ایسے شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو ا لہٰ (معبود) بنا لیا ہے ۔(الجاثیہ۔23)

اَوَ لَمۡ  یَتَفَکَّرُوۡا فِیۡۤ   اَنۡفُسِہِمۡ  ترجمہ : کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے ۔ (سورہ الروم۔8)

حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے باطن کی طرف متوجہ کیا ہے:
لَاْ یَسْعُنِیْ اَرْضِیْ وَ لَا سَمَآئِی وَلٰکِنْ یَسْعُنِی قَلْبُ عَبْدِالْمُؤ ِمن
  ترجمہ: نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سماجاتا ہوں۔
احادیثِ نبوی ﷺمیں بھی باطن کی طرف اشارہ موجود ہے: بے شک ﷲ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اورنہ تمہارے اعمال کو بلکہ وہ تمہاری نیتوں اوردلوں کو دیکھتا ہے۔
اِنَّمَا الْعَمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ ترجمہ : عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشَ اللّٰہِ  تَعَالیٰ۔ ترجمہ: مومن کادل ﷲ تعالیٰ کا عرش ہے۔
ایسی بے شمار آیات و احادیث موجود ہیں جن میں قلب و باطن کی طرف بندہ کی توجہ دلائی گئی ہے جو تخیل و تصور کا مرکزہے اوراسی قلب وباطن میں ایمان ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ    ترجمہ:  ان کے دلوں پر ایمان لکھا۔(سورۃ المجادلۃ -22)   شیطان لعین بھی اسی باطن میں وسوسے چھوڑ تا ہے۔الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ  ترجمہ: وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (الناس۔5)

دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی شنا سائے حقیقت’ راز پنہاں سے واقف ہستی یا کوئی مفکر پیدا ہوا ہے۔ اس نے اس حقیقت کا پردہ ضرور فاش کیا ہے کہ عرفانِ نفس سے ہی اصل آگہی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس قرآنی حقیقت سے ضرور پردہ اٹھایا ہے کہ نہ صرف خدا اور اس کا تخلیق کردہ یہ عالم ہی بلکہ پوری کائنات (یعنی تمام عالمین) انسانی قلب میں لطیف صورت میں موجود ہے ۔یہ کوئی محض فلسفیانہ اصول نہیں جو ذہنی لطف یا دماغی کسرت کی تشفی کے لیے گھڑا گیا ہو یہ زندگی کی وہ حقیقت ہے جو قرآن و حدیث انبیاء کرام اور فقرائے کاملین کی تعلیمات اور تجربے کی مضبوط بنیاد پر کھڑی ہے۔

مولانا روم ؒ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے انسان سے فرماتے ہیں کہ شکل سے تو جہانِ صغیر ہے مگر حقیقت میں تو جہانِ کبیر ہے۔
بس   بصورت   عَالَمِ  صُغری  توئی پس   بمعنی    عَالَمِ کُبْری   توئی
آپؒ مزید فرماتے ہیں:

آدمی راہست حِسِ تن سِقیم لیک دو بَاطن یکے خلق عظیم
ترجمہ: انسان جسمانی حواس کے نظریہ سے حقیر و ہیچ ہے مگر باطن میں” عالمِ عظیم” ہے۔

خواجہ حافظ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یار باماست روز و شب حافظ ہمچوں جانے کہ ہست در رگ وپے
ترجمہ: اے حافظ! یار دن رات ہمارے ساتھ ہے جیسے زندگی ہماری رگ وپے میں ہے۔

حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یار در تو پس چرائی بے خبر
ترجمہ: یار تیرے اندر ہے تو کیوں بے خبر ہے۔

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ  مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ کی شرح میں فرماتے ہیں:
اے انسان! تجھ سے قریب ترین اگر کوئی چیز ہے تو تیری اپنی ہی ذات ہے اس لیے اگر تو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا تو کسی دوسرے کوکیوں کر پہچان سکے گا؟ فقط یہ جان لینا کہ ”یہ میرے ہاتھ ہیں یہ میرے پاؤں ہیں، یہ میری ہڈیاں ہیں اور یہ میرا جسم ہے” اپنی ذات کی شناخت تو نہیں ہے’ اتنی شناخت تو اپنے لیے دیگر جانور بھی رکھتے ہیں۔ یا فقط یہ جان لینا کہ بھوک لگے تو کچھ کھالینا چاہئے غصہ آجائے تو جھگڑا کر لینا چاہئے۔ شہوت کا غلبہ ہوجائے تو جماع کر لینا چاہئے یہ تمام باتیں تو جانوروں میں بھی تیرے برابر ہیں پھر تو ان سے اشرف و افضل کیوں کر ہوا؟ تیری اپنی ذات کی معرفت و پہچان کا تقاضا یہ ہے کہ تو جانے کہ تو خود کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ اور جو تو آیا ہے تو کس کام کے لئے آیا ہے؟ تجھے پیدا کیا گیا ہے تو کس غرض کے لئے پیدا کیا گیا؟ تیری نیک بختی و سعادت کیا ہے؟ اور کس چیز میں ہے؟ تیری بدبختی وشقاوت کیا ہے اور کس چیز میں ہے؟ اور یہ صفات جو تیرے اندر جمع کردی گئی ہیں اور ان میں سے بعض صفات حیوانی ہیں’ بعض وحشی درندوں کی، بعض شیطانی بعض جناتی اوربعض ملکوتی ہیں’ تو ذرا غور تو کر کہ تو ان میں سے کون سی صفات کا حامل ہے؟ تو ان میں سے کون ہے؟ تیری حقیقت ان میں سے کس کے قریب تر ہے؟ اور وہ کون کون سی صفات ہیں جن کی حیثیت تیرے باطن میں غریب واجنبی اور عارضی ہے؟ جب تک تو ان حقائق کو نہیں پہچانے گااپنی ذات کی شناخت سے محروم رہے گا۔اور اپنی نیک بختی وسعادت کا طلب گار نہیں بنے گا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی غذا علیحدہ علیحدہ ہے اورسعادت بھی الگ الگ ہے۔چوپایوں کی غذا اور سعادت یہ ہے کہ کھائیں ‘ پئیں’ سوئیں اور مجامعت میں مشغول رہیں۔ اگرتو بھی یہی کچھ ہے تودن رات اسی کوشش میں لگارہ کہ تیرا پیٹ بھرتا رہے اور تیری شہوت کی تسکین ہوتی رہے۔ درندوں کی غذا اور سعادت لڑنے بھڑنے مرنے مارنے اور غیظ وغضب میں ہے’ شیطانوں کی غذا اور سعادت شر انگیزی اور مکروحیلہ سازی میں ہے اگر تو ان میں سے ہے تو ان ہی جیسے مشاغل اختیار کرلے تاکہ تو اپنی مطلوبہ راحت ونیک بختی حاصل کرلے۔ فرشتوں کی غذا اور سعادت ذکر وتسبیح وطواف میں ہے جب کہ انسان کی غذا اور سعادت قربِ الٰہی میں ﷲ تعالیٰ کے انوارِ جمال کا مشاہدہ ہے۔ اگر تو انسان ہے تو کوشش کر کہ تو ذاتِ باری تعالیٰ کو پہچان سکے اور اس کے انوار و جمال کا مشاہدہ کر سکے اور اپنے آپ کو غصہ او ر شہوت کے ہاتھ سے رہائی دلاسکے اور تو طلب کرے تو اس ذات یکتا کو کرے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ تیرے اندران حیوانی وبہیمی صفات کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اور تجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوجائے کہ پیدا کرنے والے نے ان صفات کو تیرے اندر جو پیدا کیا ہے تو کیا اس لیے کہ وہ تجھے اپنا اسیر بنالیں اور تجھ پر غلبہ حاصل کرکے خود فاتح بن جائیں؟یا اس لیے کہ تو ان کو اپنا اسیرو مسخر بنالے اور خود ان پر غالب آجائے او راپنے ان اسیروں اور مفتوحین میں سے کسی کو اپنے سفر کا گھوڑا بنالے اور کسی کو اپنا اسلحہ بنالے تاکہ یہ چند دن جو تجھے اس منزل گاہ فانی میں گزارنا ہیں۔ ان میں سے اپنے ان غلاموں سے کام لے کر اپنی سعادت کا بیج حاصل کرسکے اور جب سعادت کا بیج تیرے ہاتھ آجائے تو تو ان کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہوا اپنی اس قرار گاہِ سعادت میں داخل ہوسکے جسے خواص کی زبان میں ”حضورِ حق ٗ’ کہا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں تیرے جاننے کی ہیں۔ جس نے ان کو نہ جانا وہ راہ دین سے دور رہا اور لامحالہ دین کی حقیقت سے حجاب میں رہا”۔ (کیمیائے سعادت )
شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”اے طالب تو پہچان اپنی ذات کو اور کون ہے تو اور کیا ہے حقیقت تیری اور کیا ہے تیری نسبت حق تعالیٰ کی طرف اورکس وجہ سے تو حق ہے اورکس وجہ سے تو عالم (جہان) ہے۔(شرح فصوص الحکم والایقان)

اک خاص مراقبہ

سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبَّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ 
جو روزانہ یہ مراقبہ کرے گا چاہے تھوڑی دیر کرے یا زیادہ کرے جتنا گُڑ ڈالے گا اتنا میٹھا ہوگا۔ وہ اس مراقبے کے بے شمار حیرت انگیز کمالات پائے گا۔ پوری دنیا سے بے نیاز ہوکر آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں اس ورد کو اس انداز سے پڑھنا کہ زبان نہ پڑھے‘ دل پڑھے اور اگر زبان حرکت میں آئے تو اس کو تالو 
سے لگالیں یا دانتوں کے نیچے دے دیں۔
یہ ورد مستقل پڑھیں اور دل ہی دل میں اس کو دہرائے چند دنوں میں اس کے اندر نورانیت پیدا ہوگی روحانیت پیدا ہوگی اور اس کے اردگرد نور کا ایک ہالہ ہوگا نور کی ایک دیوار ہوگی اور نور کا ایک سمندر ہوگا۔ اور ایسا نور کا سمندر ہوگا کہ خود اس کو پتہ نہیں ہوگا اور ہر جادو ہر جناتی طاقت اس سے دور ہوگی۔ اس کی زندگی میں سرور ہوگا‘ سکون ہوگا‘ راحت ہوگی برکت ہوگی‘ عزت ہوگی عافیت ہوگی‘ اس کے ہرکام چشم زدن میں بن جائیں گے۔ اس کی ہر مشکل‘ پریشانی دور ہوجائیگی۔ اگر یہ مزید اس کی مشق کرے گا تو کچھ عرصے کے بعد اس کو کشف شروع ہوگا‘ ہر شخص کے دل کی دنیا پڑھ لے گا اور قبروںکی دنیا پڑھ لے گا۔ جانوروں کی بولیاں سمجھ لے گا‘ کائنات کے ذرے ذرے کو دیکھ لے گا۔ کائنات کے اوپر نیچے کیا ہے اس کی نظروں کے سامنے آجائیں گے زمین کے اندر چھپے ہوئے خزانے اس پر ظاہر ہوجائیں گے۔ جانوروں کی بولیاں سمجھ لے گا پرندوں کی بولیاں سمجھ لے گا پتھر کیا ذکر کرتے ہیں اس کو سمجھ آجائے گی۔ مٹی کیا بولتی ہے اس کو سمجھ آجائے گی‘ مختلف چیزیں مختلف نظام کہاں کہاں ذکر کرتے ہیں ہر چیز اس کو سمجھ آجائے گی۔ اس کی دل کی دنیا آباد ہوگی اس کی روح کی دنیا آباد ہوگی۔ اس کے اندر کی دنیا آباد ہوگی… ہر وقت اس کا دل اس کی روح سوفیصد زندہ و تابندہ رہے گی۔ اور وہ کائنات کے راز اس کو ملیں گے جو اس نے کبھی سوچے نہیںہوں گے۔ یہ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبَّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ یہ کشف القبور کیلئے‘ کشف الصدور کیلئے بہت ہی حیرت انگیز چیز ہے۔ لاعلاج بیماریوں کو ختم کرنے کیلئے‘ ناممکن مسائل کو ختم کرنے کیلئے‘ سوچوں کو وسیع کرنے کیلئے… اور مخلوق پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے‘ سمندر کی دنیا اور جانوروں کی دنیا کو آنکھوں سے دیکھنے اور ان کی بولیاں سمجھنے کیلئے‘ کائنات کے رازوں اور اس کے نظام کو سمجھنے کیلئے اور اللہ کی عجیب و غریب کائنات میں بکھرے رازوں تک پہنچنے کیلئے یہ مراقبہ ایک حیرت انگیز مراقبہ ہے اور اس مراقبے میں بہت طاقت اور تاثیر اور اس 
مراقبے میں بہت جان ہے۔ کوئی تھوڑی سی جان مار لے‘ کوئی تھوڑی سی محنت کرلے تو بہت عجیب چیز ہے۔






No comments:

Post a Comment