صفحات

Saturday, August 31, 2024

DARS E TASSWUF CLASS 13 --- 30 AUGUST 2024 --- 24 SAFAR 1446H

   بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

013  دَرس--30 اگست 2024 | بروز: جمعہ  24 صفر 1446ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

درسِ تصوّف 




 



نیتِ مراقبہ سرّی
 الہی سرّی  من بمقابل سرّی نبی علیہ السلام آں فیض تجلائے صفات سلبیہ خود کہ از سرّی نبی علیہ السلام بہ سرّی موسیٰ علیہ السلام رسانیدہ بہ سرّی من نیز برسانی بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین
اے اللہ  میرا لطیفہ سرّی  رسول کریم ﷺ کے لطیفہ سرّی کے سامنے اس فیض کا منتظر ہے ،جو تونے اپنی صفات سلبیہ کی تجلی  نبی کریم ﷺ کے لطیفہ سرّی سے حضرت موسیٰ  علیہ السلام کے لطیفہ سرّی  تک پہنچائی عظیم مرشدین گرامی  اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے میرے لطیفہ سرّی تک پہنچا۔

مراقبۂ سری
اس لطیفہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فیض ہوتا ہے۔ اس کے انورات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ سالک جس کا لطیفہ قلب اس کے ذاتِ باری پر ایمان اور یقین سے لبریز ہو چکا تھا، اب لطیفہ رُوح نے روشن ہو کر استقامت عطا کر دی تو لطیفہ ٔ سری کے منور ہونے سے اب لذتِ دیدار کا طالب ہو جاتا ہے۔


 خاص لمحات اور  اللہ کی تجلیات :
منصور حلاج میں ایک تجلی ٹھہر گئی تھی جس تجلی کا سفر پانچوں لطیفوں میں نہیں ہوسکا بلکہ ایک جگہ ٹھہر گئی ، تجلی قلب سے ہو کر پانچوں لطیفوں سے گزرتی ہے۔ منصور حلاج کے تجلی قلب پر آئی پھر سرّ ی سے ہو کر اخفی پر اٹک گئی تب زبان بولنے لگی انا الحق انا الحق۔ اگر تجلی اخفٰی سے آگے نکل جاتی تو زبان کیسے بولتی انا الحق انا الحق۔ اخفٰی پر ٹھہر گئی تب ہی انا الحق نکلا۔ ہوتا یہ ہے کہ جو تجلی پڑی ہے وہ جائے، رکے نہیں ادھر وہ گزری نہیں اٹک گئی تکرار ہوتی رہی انا الحق انا الحق۔ لوگ یہ ہی سمجھتے رہے کہ کتنا مقرب ہو گا اس نے انا الحق کہہ دیا۔ ادھر حضوؐر نے بھی کہا من راعنی فقد را الحق۔ یہ بات بھی حضورﷺکےلطیفہ اخفٰی نے کہی تھی جب وہ تجلی ان کے لطیفہ اخفٰی پر پڑی انکی تو نبوت ہی اخفٰی کی تھی، تجلی کا زیادہ زور اخفیٰ کی طرف ہی ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ بی بی عائشہ حضورﷺ کے پاس آئیں اور آواز دی تو حضورﷺنے فرمایا کون! تو انہوں نے کہا عائشہ حضور پاکﷺ نے فرمایا کون عائشہ؟ تو انہوں نے کہا ابو بکر کی بیٹی عائشہ ،حضور پاک ﷺنے پھر فرمایا ابو بکر کون ہے تو بی بی عائشہ نے کہا ابن آقا کا بیٹا تو حضور ﷺ نے فرمایا اچھا یہ ابن آقا کون ہے تو اب بی بی عائشہ سمجھ گئیں کہ کوئی اور معاملہ ہے اور وہ وہاں سے چلی گئیں۔جب حضور ﷺ اپنے روحانی وقت سے فارغ ہوئے تو بی بی عائشہ نے کہا آج تو آپﷺ نے مجھے پہچانا نہیں تو حضورﷺ نے پوچھا اچھا ؟ ایسا کیا ہوا تھا؟ کہا میں آئی تھی اور آپ ﷺنے یہ فرمایا تھا، تو حضور پاکﷺ نے فرمایا کچھ وقت میرا اور اللہ کا ہے اُس وقت بیچ میں کوئی نہیں آ سکتا ہم کسی کو نہیں پہچانتے وہ وقت وہی ہےاُس وقت تجلی حضور ﷺکے لطیفہ اخفٰی کا طواف کرتی تھی۔ (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 226)



No comments:

Post a Comment